- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
29- بَاب فِي الإِقَامَةِ
۲۹- باب: اقامت (تکبیر) کا بیان
۲۹- باب: اقامت (تکبیر) کا بیان
508- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ ابْنِ عَطِيَّةَ (ح) وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُمِرَ بِلالٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ، زَادَ حَمَّادٌ فِي حَدِيثِهِ: إِلا الإِقَامَةَ ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱ (۶۰۳)، ۲ (۶۰۵)، ۳ (۶۰۶)، م/الصلاۃ ۲ (۳۷۸)، ت/الصلاۃ ۲۷ (۱۹۳)، ن/الأذان ۲ (۶۲۸)، ق/الأذان ۶ (۷۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۳)، حم (۳/۱۰۳، ۱۸۹)، دي/الصلاۃ ۶ (۱۲۳۰، ۱۲۳۱) (صحیح)
۵۰۸- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان دہری اور اقامت اکہری کہیں۔
حماد نے اپنی روایت میں: ’’إلا الإقامة‘‘ کا اضافہ کیا ہے۔
509- حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَنَسٍ مِثْلَ حَدِيثِ وُهَيْبٍ قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ فَقَالَ: إِلا الإِقَامَةَ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۳) (صحیح)
۵۰۹- اس طریق سے بھی انس رضی اللہ عنہ سے وہیب کی حدیث کے مثل حدیث مروی ہے، اسماعیل کہتے ہیں: میں نے اسے ایوب سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: ’’إلا الإقامة‘‘ (یعنی سوائے ’’قد قامت الصلاة‘‘ کے)۱؎ ۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ پوری اقامت اکہری (ایک ایک بار) ہو گی البتہ ’’قد قامت الصلاة‘‘ کو دو بار کہا جائے گا۔
510- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى؛ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَالإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، فَإِذَا سَمِعْنَا الإِقَامَةَ توَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلاةِ.
قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ أَسْمَعْ مِنْ أَبِي جَعْفَرٍ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ ۔
* تخريج: ن/الأذان ۲ (۶۲۹)، ۲۸ (۶۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۵۵)، حم (۲/۸۷) (حسن)
۵۱۰- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات سوائے: ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ‘‘ کے ایک ایک بار کہے جاتے تھے، چنانچہ جب ہم اقامت سنتے تو وضو کرتے پھر صلاۃ کے لئے آتے تھے۱؎ ۔
شعبہ کہتے ہیں: میں نے ابو جعفر سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث نہیں سنی۔
وضاحت۱؎: یہ کبھی کبھی کا معاملہ تھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت لمبی ہوا کرتی تھی تو پہلی رکعت پا لینے کا یقین رہتا تھا۔
511- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ -يَعْنِى [الْعَقَدِيَّ] عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو- حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ الْعُرْيَانِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُثَنَّى مُؤَذِّنَ مَسْجِدِ الأَكْبَرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۵۵) (حسن)
۵۱۱- مسجد عریان ۱؎ کے مؤذن ابو جعفر کہتے ہیں کہ میں نے بڑی مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ کو کہتے سنا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ہے، پھر انہوں نے اوپر والی حدیث پوری بیان کی۔
وضاحت ۱؎ : عریان کوفہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔