• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
29- بَاب فِي الإِقَامَةِ
۲۹-باب: اقامت (تکبیر) کا بیان​


508- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ ابْنِ عَطِيَّةَ (ح) وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُمِرَ بِلالٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَيُوتِرَ الإِقَامَةَ، زَادَ حَمَّادٌ فِي حَدِيثِهِ: إِلا الإِقَامَةَ ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱ (۶۰۳)، ۲ (۶۰۵)، ۳ (۶۰۶)، م/الصلاۃ ۲ (۳۷۸)، ت/الصلاۃ ۲۷ (۱۹۳)، ن/الأذان ۲ (۶۲۸)، ق/الأذان ۶ (۷۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۳)، حم (۳/۱۰۳، ۱۸۹)، دي/الصلاۃ ۶ (۱۲۳۰، ۱۲۳۱) (صحیح)

۵۰۸- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان دہری اور اقامت اکہری کہیں۔
حماد نے اپنی روایت میں: ’’إلا الإقامة‘‘ کا اضافہ کیا ہے ۔

509- حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَنَسٍ مِثْلَ حَدِيثِ وُهَيْبٍ قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ فَقَالَ: إِلا الإِقَامَةَ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۳) (صحیح)

۵۰۹- اس طریق سے بھی انس رضی اللہ عنہ سے وہیب کی حدیث کے مثل حدیث مروی ہے، اسماعیل کہتے ہیں: میں نے اسے ایوب سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: ’’إلا الإقامة‘‘ (یعنی سوائے ’’قد قامت الصلاة‘‘ کے) ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ پوری اقامت اکہری (ایک ایک بار) ہو گی البتہ ’’قد قامت الصلاة‘‘ کو دو بار کہا جائے گا۔

510- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْمُثَنَّى؛ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: إِنَّمَا كَانَ الأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، وَالإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، فَإِذَا سَمِعْنَا الإِقَامَةَ توَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلاةِ.
قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ أَسْمَعْ مِنْ أَبِي جَعْفَرٍ غَيْرَ هَذَا الْحَدِيثِ ۔
* تخريج: ن/الأذان ۲ (۶۲۹)، ۲۸ (۶۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۵۵)، حم (۲/۸۷) (حسن)

۵۱۰- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات سوائے: ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ‘‘ کے ایک ایک بار کہے جاتے تھے، چنانچہ جب ہم اقامت سنتے تو وضو کرتے پھر صلاۃ کے لئے آتے تھے۱؎ ۔
شعبہ کہتے ہیں: میں نے ابو جعفر سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث نہیں سنی۔
وضاحت۱؎: یہ کبھی کبھی کا معاملہ تھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت لمبی ہوا کرتی تھی تو پہلی رکعت پا لینے ک ایقین رہتا تھا۔

511- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ -يَعْنِى [الْعَقَدِيَّ] عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو- حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ الْعُرْيَانِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُثَنَّى مُؤَذِّنَ مَسْجِدِ الأَكْبَرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۵۵) (حسن)

۵۱۱- مسجد عریان ۱؎ کے مؤذن ابو جعفر کہتے ہیں کہ میں نے بڑی مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ کو کہتے سنا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ہے، پھر انہوں نے اوپر والی حدیث پوری بیان کی۔
وضاحت ۱؎ : عریان کوفہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
30- بَاب فِي الرَّجُلِ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ آخَرُ
۳۰-باب: ایک شخص اذان دے اور دوسرا اقامت (تکبیر) کہے یہ جائز ہے​


512- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: أَرَادَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم فِي الأَذَانِ أَشْيَاءَ لَمْ يَصْنَعْ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: فَأُرِيَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الأَذَانَ فِي الْمَنَامِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: < أَلْقِهِ عَلَى بِلالٍ > فَأَلْقَاهُ عَلَيْهِ، فَأَذَّنَ بِلالٌ، فَقَالَ عَبْدُاللَّهِ: أَنَا رَأَيْتُهُ، وَأَنَا كُنْتُ أُرِيدُهُ، قَالَ: < فَأَقِمْ أَنْتَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۱۰)، حم (۴/۴۲) (ضعیف)

(اس کے راوی ’’محمد بن عمرو انصاری‘‘ لین الحدیث ہیں)
۵۱۲- عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے سلسلہ میں کئی کام کرنے کا (جیسے ناقوس بجانے یا سنکھ میں پھونک مارنے کا) ارادہ کیا لیکن ان میں سے کوئی کام کیا نہیں۔
محمد بن عبد اللہ کہتے ہیں: پھر عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب میں اذان دکھائی گئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے بلال کو سکھا دو‘‘، چنانچہ عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اسے بلال رضی اللہ عنہ کو سکھا دیا، اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، اس پر عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے میں نے دیکھا تھا اور میں ہی اذان دینا چاہتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تو تم تکبیر کہہ لو‘‘۔

513- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ [الْقَوَارِيرِيُّ]، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ؛ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ عَمْرٍو [شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنَ الأَنْصَارِ] قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ: كَانَ جَدِّي عَبْدُاللَّهِ بْنُ زَيْدٍ [يُحَدِّثُ ] بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ : فَأَقَامَ جَدِّي۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۳۶۵۳) (ضعیف)

(محمد بن عمرو انصاری کے سبب سے یہ حدیث ضعیف ہے)
۵۱۳- عبد اللہ بن محمد کہتے ہیں میرے دادا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تھے، اس میں ہے:’’ تو میرے دادا نے اقامت کہی‘‘۔

514- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ -يَعْنِي الأَفْرِيقِيَّ- أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيّ، قَالَ: لَمَّا كَانَ أَوَّلُ أَذَانِ الصُّبْحِ أَمَرَنِي -يَعْنِي النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم - فَأَذَّنْتُ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أُقِيمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَشْرِقِ إِلَى الْفَجْرِ، فَيَقُولُ: <لا> حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ نَزَلَ فَبَرَزَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيَّ وَقَدْ تَلاحَقَ أَصْحَابُهُ -يَعْنِي فَتَوَضَّأَ- فَأَرَادَ بِلالٌ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < إِنَّ أَخَا صُدَائٍ هُوَ أَذَّنَ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ > قَالَ: فَأَقَمْتُ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۳۲ (۱۹۹)، ق/الأذان ۳ (۷۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۳۶۵۳)، حم (۴/۱۶۹) (ضعیف)
(اس کے راوی عبد الرحمن افریقی ضعیف ہیں)
۵۱۴- زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب صبح کی پہلی اذان کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (اذان دینے کا) حکم دیا تو میں نے اذان کہی، پھر میں کہنے لگا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اقامت کہوں؟ تو آپ مشرق کی طرف فجر کی روشنی دیکھنے لگے اور فرما رہے تھے: ’’ابھی نہیں (جب تک طلوع فجر نہ ہو جائے)‘‘، یہاں تک کہ جب فجر طلوع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور وضو کیا، پھر میری طرف واپس پلٹے اور صحابہ کرام اکھٹا ہو گئے، تو بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’صدائی نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی تکبیر کہے‘‘۔
زیاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے تکبیر کہی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
31- بَاب رَفْعِ الصَّوْتِ بِالأَذَانِ
۳۱-باب: بلند آواز سے اذان کہنے کا بیان​


515- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: <الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَى صَوْتِهِ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَشَاهِدُ الصَّلاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ صَلاةً، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا >۔
* تخريج: ن/الأذان ۱۴ (۶۴۶)، ق/الأذان ۵ (۷۲۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۶۶)، حم (۲/۴۲۹، ۴۵۸) (صحیح)
(شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ مؤلف کی سند میں’’ابو یحییٰ‘‘ مجہول راوی ہیں، بعض لوگ کہتے ہیں: یہ ’’ابو یحییٰ اسلمی‘‘ ہیں، اگر ایسا ہے تو یہ ’’حسن‘‘ کے مرتبہ کے راوی ہیں)
۵۱۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مؤذن کی بخشش کر دی جاتی ہے، جہاں تک اس کی آواز جاتی ہے ۱؎، اور اس کے لئے تمام خشک و تر گواہی دیتے ہیں، اور جو شخص صلاۃ میں حاضر ہوتا ہے اس کے لئے پچیس صلاۃ کا ثواب لکھا جاتا ہے اور ایک صلاۃ سے دوسری صلاۃ کے درمیان جو کوتاہی سرزد ہوئی ہو وہ مٹا دی جاتی ہے‘‘ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی اس کے اتنے گناہ بخش دیے جاتے ہیں جو اتنی جگہ میں سما سکیں۔

516- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: <إِذَا نُودِيَ بِالصَّلاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاةِ أَدْبَرَ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ، حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، وَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَضِلَّ الرَّجُلُ أَنْ يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى >۔
* تخريج: خ/الأذان ۴ (۶۰۸)، ن/الأذان ۳۰ (۶۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۸۱۸)، ط/السہو ۱ (۱)، حم (۲/۳۱۳، ۴۶۰، ۵۲۲)، وقد أخرجہ: م/الصلاۃ ۸ (۳۸۹)، ت/الصلاۃ ۱۷۵ (۳۹۹)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۳۵ (۱۲۱۷)، ویأتي برقم (۱۰۳۰) (صحیح)


۵۱۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب صلاۃ کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے یہاں تک کہ (وہ اتنی دور چلا جاتا ہے کہ) اذان نہیں سنتا، پھر جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے، لیکن جوں ہی تکبیر شروع ہوتی ہے وہ پھر پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو شیطان دو بارہ آجاتا ہے اور مصلی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے،کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں بات یاد کرو، ایسی باتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہیں تھیں یہاں تک کہ اس شخص کو یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
32- بَاب مَا يَجِبُ عَلَى الْمُؤَذِّنِ مِنْ تَعَاهُدِ الْوَقْتِ
۳۲-باب: مؤذن پر اذان کے اوقات کی پابندی ضروری ہے​


517- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : <الإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الأَئِمَّةَ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۲۹)، حم (۲/۲۳۲، ۳۸۲، ۴۱۹، ۵۲۴)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۳۹ (۲۰۷) (صحیح)
(مؤلف کی سند میں’’رجل‘‘ مبہم راوی ہے، اگلی سند بھی ایسی ہی ہے، البتہ دیگر بہت سے مصادر میں یہ حدیث ثقہ راویوں سے مروی ہے، اعمش نے بھی خود براہ راست ابو صالح سے یہ حدیث سنی ہے (دیکھیے : ارواء الغلیل حدیث نمبر : ۲۱۷)
۵۱۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’امام (مقتدیوں کی صلاۃ کا) ضامن ۱؎ اور کفیل ہے اور مؤذن امین ہے ۲؎، اے اللہ! تو اماموں کو راہ راست پر رکھ ۳؎ اور مؤذنوں کو بخش دے ۴؎ ‘‘۔
وضاحت ۱؎ : یعنی مقتدیوں کی صلاۃ کی صحت و درستگی امام کی صلاۃ کی صحت و درستگی پر موقوف ہے؛ اس لئے امام طہارت وغیرہ میں احتیاط برتے اور صلاۃ کے ارکان و واجبات کو اچھی طرح ادا کرے۔
وضاحت ۲؎: یعنی لوگ مؤذن کی اذان پر اعتماد کر کے صلاۃ پڑھ لیتے اور صیام رکھ لیتے ہیں، اس لئے مؤذن کو وقت کاخیال رکھنا چاہئے، نہ پہلے اذان دے نہ دیر کرے۔
وضاحت ۳؎ : یعنی جو ذمہ داری اماموں نے اٹھا رکھی ہے اس کا شعور رکھنے اور اس سے عہدہ برآ ہونے کی انہیں توفیق دے۔
وضاحت ۴؎ : یعنی اس امانت کی ادائیگی میں مؤذنوں سے جو کوتاہی اور تقصیر ہوئی ہو اسے معاف کر دے۔

518- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ قَالَ: نُبِّئْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: وَلا أُرَانِي إِلا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِثْلَهُ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۲۹) (صحیح)

۵۱۸- اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے گذشتہ حدیث کے مثل مرفوع روایت آئی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
33- بَاب الأَذَانِ فَوْقَ الْمَنَارَةِ
۳۳-باب: مینار پر اذان دینے کا بیان​


519- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْر، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَالَتْ: كَانَ بَيْتِي مِنْ أَطْوَلِ بَيْتٍ حَوْلَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ بِلالٌ يُؤَذِّنُ عَلَيْهِ الْفَجْرَ، فَيَأْتِي بِسَحَرٍ فَيَجْلِسُ عَلَى الْبَيْتِ يَنْظُرُ إِلَى الْفَجْرِ، فَإِذَا رَآهُ تَمَطَّى، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ وَأَسْتَعِينُكَ عَلَى قُرَيْشٍ أَنْ يُقِيمُوا دِينَكَ، قَالَتْ: ثُمَّ يُؤَذِّنُ، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُهُ كَانَ تَرَكَهَا لَيْلَةً وَاحِدَةً [تَعْنِي ] هَذِهِ الْكَلِمَاتِ۔
* تخريج: تفرد به ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۷۸)(حسن)

۵۱۹- قبیلہ بنی نجار کی ایک عورت کہتی ہے: مسجد کے اردگرد گھروں میں سب سے اونچا میرا گھر تھا، بلال رضی اللہ عنہ اسی پر فجر کی اذان دیا کرتے تھے، چنانچہ وہ صبح سے کچھ پہلے ہی آتے اور گھر پر بیٹھ جاتے اور صبح صادق کو دیکھتے رہتے، جب اسے دیکھ لیتے تو انگڑائی لیتے، پھر کہتے: ’’اے اللہ! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں اور تجھ ہی سے قریش پر مدد چاہتا ہوں کہ وہ تیرے دین کو قائم کریں‘‘، وہ کہتی ہے: پھر وہ اذان دیتے، قسم اللہ کی، میں نہیں جانتی کہ انہوں نے کسی ایک رات بھی ان کلمات کو ترک کیا ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
34- بَاب فِي الْمُؤَذِّنِ يَسْتَدِيرُ فِي أَذَانِهِ
۳۴-باب: اذان میں مؤذن دائیں بائیں گھومے اس کے حکم کا بیان​


520- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ -يَعْنِي ابْنَ الرَّبِيعِ- (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، جَمِيعًا عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم بِمَكَّةَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، فَخَرَجَ بِلالٌ فَأَذَّنَ، فَكُنْتُ أَتَتَبَّعُ فَمَهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ بُرُودٌ يَمَانِيَةٌ قِطْرِيٌّ، وَقَالَ مُوسَى: قَالَ: رَأَيْتُ بِلالاً خَرَجَ إِلَى الأَبْطَحِ فَأَذَّنَ، فَلَمَّا بَلَغَ: < حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ > لَوَى عُنُقَهُ يَمِينًا وَشِمَالاً وَلَمْ يَسْتَدِرْ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ الْعَنَزَةَ، وَسَاقَ حَدِيثَهُ۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۴۷ (۵۰۳)، ت/الصلاۃ ۳۰ (۱۹۷)، ن/الأذان ۱۳ (۶۴۴)، والزینۃ ۱۲۳ (۵۳۸۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۰۶، ۱۱۸۱۷)، حم (۴/۳۰۸)، دي/الصلاۃ ۸ (۱۲۳۴)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۱۵ (۶۳۴)، ق/الأذان ۳ (۷۱۱) (صحیح)

۵۲۰- ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مکّہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ چمڑے کے ایک لال خیمہ میں تھے، بلال رضی اللہ عنہ باہر نکلے پھر اذان دی، میں انہیں اپنے منہ کو ادھر ادھر پھیرتے دیکھ رہا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپ یمنی قطری چادروں ۱؎ سے بنے سرخ جوڑے پہنے ہوئے تھے، موسی بن اسماعیل اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ ابو حجیفہ نے کہا: میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ابطح کی طرف نکلے پھر اذان دی، جب ’’حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ‘‘ پر پہنچے تو اپنی گردن دائیں اور بائیں جانب موڑی اور خود نہیں گھومے ۲؎ ، پھر وہ اندر گئے اور نیزہ نکالا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
وضاحت۱؎: مکہ سے یمن جنوب میں ہے، اور قطر احساء اور بحرین کے درمیانی علاقہ کا ایک مقام ہے، مذکورہ چادر ان جنوبی علاقوں میں بن کر ’’یمنی قطری چادروں‘‘ کے نام سے مشہور تھی۔
وضاحت ۲؎: اس سلسلہ میں روایتیں مختلف آئی ہیں بعض میں ہے ’’إنه كان يستدير‘‘ اور بعض میں ہے’’لم يستدر‘‘ ان دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جس نے گھومنے کا ذکر کیا ہے اس نے سر کا گھمانا مراد لیا ہے، اور جس نے نفی کی ہے اس نے جسم کے گھمانے کی نفی کی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
35- بَاب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ
۳۵-باب: اذان اور اقامت کے درمیان دعا کرنے کا بیان​


521- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < لا يُرَدُّ الدُّعَاءُ بَيْنَ الأَذَانِ وَالإِقَامَةِ >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۴۴ (۲۱۲)، الدعوات ۱۲۹ (۳۵۹۴، ۳۵۹۵)، ن/الیوم اللیلۃ (۶۸، ۶۹، ۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۴)، وقد أخرجہ : حم (۳/۱۱۹) (صحیح)

۵۲۱- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
36- بَاب مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ؟
۳۶-باب: آدمی جب مؤذن کی آواز سنے تو کیا کہے؟​


522- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: <إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ >۔
* تخريج: خ/الأذان ۷ (۶۱۱)، م/الصلاۃ ۷ (۳۸۳)، ت/الصلاۃ ۴۰ (۲۰۸)، ن/الأذان ۳۳ (۶۷۴)، ق/الأذان ۴ (۷۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۵۰)، ط/الصلاۃ ۱(۲)، حم (۳/۶، ۵۳، ۷۸)، دي/الصلاۃ ۱۰ (۱۲۳۷) (صحیح)

۵۲۲- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’جب تم اذان سنو تو ویسے ہی کہو جیسے مؤذن کہتا ہے‘‘۔

523- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، وَحَيْوَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: <إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ لِيَ الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لاتَنْبَغِي إِلا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ تَعَالَى، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ>۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۷ (۳۸۴)، ت/المناقب ۱ (۳۶۱۴)، ن/الأذان ۳۷ (۶۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۷۱)، حم (۲/۱۶۸) (صحیح)

۵۲۳- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے سنا: ’’جب تم مؤذن کی آواز سنو تو تم بھی وہی کہوجو وہ کہتا ہے، پھر میر ے اوپر درود بھیجو، اس لئے کہ جو شخص میرے اوپر ایک بار درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار اپنی رحمت نازل فرمائے گا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے میرے لئے وسیلہ طلب کرو، وسیلہ جنت میں ایک ایسا مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے ایک بندے کے علاوہ کسی اور کو نہیں ملے گا، مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا، جس شخص نے میرے لئے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کیا اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گئی‘‘۔

524- حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حُيَيٍّ، عَنْ أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ -يَعْنِي الْحُبُلِيَّ- عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ الْمُؤَذِّنِينَ يَفْضُلُونَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : <قُلْ كَمَا يَقُولُونَ، فَإِذَا انْتَهَيْتَ فَسَلْ تُعْطَهْ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۵۴)، حم (۲/۱۷۲) (حسن صحیح)

۵۲۴- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مؤذنوں کو ہم پر فضیلت حاصل ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم بھی اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتے ہیں (یعنی اذان کا جواب دو)، پھر جب تم اذان ختم کر لو تو (اللہ تعا لی سے) مانگو، تمہیں دیا جائے گا‘‘۔

525- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: <مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَ[أَشْهَدُ] أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولا، وَبِالإِسْلامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ>۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۷ (۳۸۶)، ت/الصلاۃ ۴۲ (۲۱۰)، ن/الأذان ۳۸ (۶۸۰)، ق/الأذان ۴ (۷۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۷۷)، حم (۱/۱۸۱) (صحیح)

۵۲۵- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے مؤذن کی اذان سن کر یہ کلمات کہے: ’’وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَ[أَشْهَدُ] أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولا، وَبِالإِسْلامِ دِينًا‘‘ (اور میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے، اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں) تو اسے بخش دیا جائے گا‘‘۔

526- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يَتَشَهَّدُ قَالَ: < وَأَنَا وَأَنَا >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۱۲۲)(صحیح)

۵۲۶- امّ المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کو: ’’أشهد أن لا إله إلا الله، أشهد أن محمدًا رسول الله‘‘ کہتے ہوئے سنتے تو فرماتے: ’’اور میں بھی (اس کا گواہ ہوں) اور میں بھی (اس کا گواہ ہوں)‘‘۔


527- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ إِسَافٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِي اللَّه عَنْه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ أَحَدُكُمُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، فَإِذَا قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَإِذَا قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ، قَالَ: لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ، قَالَ: لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، قَالَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ >۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۷ (۳۸۵)، ن/الیوم واللیلۃ (۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۴۷۵) (صحیح)

۵۲۷- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب مؤذن: ’’اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ‘‘ کہے تو تم میں سے جو (اخلاص کے ساتھ)’’اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ‘‘ کہے، پھر جب وہ ’’أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ‘‘ کہے تو یہ بھی ’’أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ‘‘ کہے، اور جب وہ’’أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ‘‘ کہے تو یہ بھی ’’أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ‘‘ کہے، جب وہ’’حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ‘‘ کہے تو یہ ’’لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ‘‘ کہے، جب وہ ’’حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ‘‘ کہے تو یہ ’’لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ‘‘ کہے، پھر جب وہ ’’اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ‘‘ کہے تو یہ بھی ’’اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ‘‘ کہے، اور جب وہ ’’لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ‘‘ کہے تو یہ بھی ’’لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ‘‘ کہے تو وہ جنت میں جائے گا‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
37- بَاب مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الإِقَامَةَ؟
۳۷-باب: آدمی جب اقامت (تکبیر) سنے تو کیا کہے؟​


528- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَوْ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّ بِلالاً أَخَذَ فِي الإِقَامَةِ فَلَمَّا أَنْ قَالَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلاةُ، قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : <أَقَامَهَا اللَّهُ وَأَدَامَهَا>، وَقَالَ فِي سَائِرِ الإِقَامَةِ كَنَحْوِ حَدِيثِ عُمَرَ رَضِي اللَّه عَنْه فِي الأَذَانِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۸۸) (ضعیف)

(اس کے راوی ’’محمد بن ثابت‘‘ اور ’’شہر‘‘ ضعیف ہیں اور دونوں کے درمیان ایک مبہم راوی ہے)
۵۲۸- ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے یا بعض صحابہ کرام سے روایت ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت شروع کی، جب انہوں نے ’’قد قامت الصلاة‘‘ کہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: ’’أَقَاْمَهَا الله وَأَدَاْمَهَا‘‘ (اللہ اسے قائم رکھے اور اس کو دوام عطا فرمائے) اور باقی اقامت کے جواب میں وہی کہا جو اذان کے سلسلے میں عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
38- بَاب مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ عِنْدَ الأَذَانِ
۳۸-باب: اذان کے بعد کی دعا کا بیان​


529- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : <مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، إِلا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ>۔
* تخريج: خ/الأذان ۸ (۶۱۴)، تفسیر الإسراء ۱۱ (۴۷۱۹)، ت/الصلاۃ ۴۳ (۲۱۱)، ن/الأذان ۳۸ (۶۸۱)، ق/الأذان ۴ (۷۲۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۰۴۶)، حم (۳/۳۵۴) (صحیح)

۵۲۹- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: ’’اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ‘‘ (اے اللہ! اس کامل دعاء اور ہمیشہ قائم رہنے والی صلاۃ کے رب! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ۱؎ اور فضیلہ۲؎ عطا فرما اور آپ کو مقام محمود ۳؎ پر فائز فرما جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے) تو قیامت کے دن اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو جائے گی‘‘۔
وضاحت۱؎: وسیلہ جنت کے درجات میں سے ایک اعلیٰ درجہ کا نام ہے۔
وضاحت ۲؎: فضیلہ وہ اعلیٰ مرتبہ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصیت کے ساتھ تمام مخلوقات پر حاصل ہو گا، اور یہ بھی احتمال ہے کہ وسیلہ ہی کی تفسیر ہو۔
وضاحت ۳؎: یہ وہ مقام ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائے گا اور اسی جگہ آپ وہ شفاعت عظمیٰ فرمائیں گے جس کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب ہو گا۔
 
Top