• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
280- بَاب إِذَا أَقَامَ بِأَرْضِ الْعَدُوِّ يَقْصُرُ
۲۸۰- باب: دشمن کے علاقہ میں قیام کرنے پر قصر کرنے کا بیان​

1235- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِتَبُوكَ عِشْرِينَ يَوْمًا يَقْصُرُ الصَّلاةَ.
قَالَ أَبودَاود: غَيْرُ مَعْمَرٍ [يُرْسِلُهُ] لا يُسْنِدُهُ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۲۵۸۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۹۵) (صحیح)

۱۲۳۵- جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تبوک میں بیس دن قیام فرمایا اور صلاۃ قصر کرتے رہے۔
ابو داود کہتے ہیں: معمر کے علاوہ سبھی اسے مرسل روایت کرتے ہیں، کوئی اسے مسند روایت نہیں کرتا ہے۔



* * * * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
{281-بَاب صَلاةِ الْخَوْفِ }
۲۸۱- باب: صلاۃِ خوف کے احکام ومسائل کا بیان۱؎

[مَنْ رَأَى أَنْ يُصَلِّي بِهِمْ وَهُمْ صَفَّانِ، فَيُكَبِّرُ بِهِمْ جَمِيعًا، ثُمَّ يَرْكَعُ بِهِمْ جَمِيعًا، ثُمَّ يَسْجُدُ الإمَامُ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَالآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ، فَإِذَا قَامُوا سَجَدَ الآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا خَلْفَهُمْ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ إِلَى مَقَامِ الآخَرِينَ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الأَخِيرُ إِلَى مَقَامِهِمْ، ثُمَّ يَرْكَعُ الإِمَامُ وَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ يَسْجُدُ وَيَسْجُدُ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَالآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، فَإِذَا جَلَسَ الإمَامُ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ سَجَدَ الآخَرُونَ، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا. قَالَ أَبو دَاود: هَذَا قَوْلُ سُفْيَانَ]
ان لوگوں کی دلیل جن کا کہنا ہے کہ امام صلاۃ پڑھائے اور مصلیان کی دو صفیں ہوں، پھر وہ سب کے ساتھ تکبیر تحریمہ کہے، پھر سب کے سا تھ رکوع کرے۔ پھر امام اور اس کے قریب کی صف سجدہ کرے، اور دوسری صف کے لوگ کھڑے مصلیوں کی نگرانی کریں جب یہ لوگ سجدہ سے اٹھ کر کھڑے ہو جائیں تو دوسری صف کے لوگ سجدہ کریں، پھر امام کے قریب والی صف پیچھے جا کر دوسری صف کی جگہ کھڑی ہو جائے اور دوسری صف آگے آکر ان کی جگہ پر کھڑی ہو جائے، پھر امام رکوع کرے اور سبھی رکوع کریں پھر امام سجدہ کرے اور اس کے قریب کی صف سجدہ کرے اور دوسرے لوگ ان کی نگرانی کریں، پھر جب امام اور اس کے قریب والی صف کے لوگ سجدہ کر کے بیٹھ جائیں تو دوسری صف کے لوگ سجدہ کریں، پھرسب ایک ساتھ بیٹھیں اورایک ساتھ سلام پھیریں۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ سفیان کا قول ہے۔
وضاحت۱؎: بطن نخلہ، عسفان، ذی قرد اور ذات الرقاع ان چاروں جگہوں میں رسول اللہ ﷺ سے صلاۃ الخوف کی متعدد صورتیں منقول ہیں، موقع کی نزاکت کا لحاظ کرتے ہوئے یہ سبھی صورتیں درست اور جائز ہیں بغیر اس میں پڑے کہ راجح کون ہے اور مرجوح کون؟۔

1236- حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِالْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِعُسْفَانَ، وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَصَلَّيْنَا الظُّهْرَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَقَدْ أَصَبْنَا غِرَّةً، لَقَدْ أَصَبْنَا غَفْلَةً، لَوْ كُنَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ وَهُمْ فِي الصَّلاةِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْقَصْرِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، وَالْمُشْرِكُونَ أَمَامَهُ، فَصَفَّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ صَفٌّ وَصَفَّ بَعْدَ ذَلِكَ الصَّفِّ صَفٌّ آخَرُ، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ، وَقَامَ الآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ فَلَمَّا صَلَّى هَؤُلاءِ السَّجْدَتَيْنِ وَقَامُوا سَجَدَ الآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا خَلْفَهُمْ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ إِلَى مَقَامِ الآخَرِينَ، وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الأَخِيرُ إِلَى مَقَامِ الصَّفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَقَامَ الآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ سَجَدَ الآخَرُونَ، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا، فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا، فَصَلاهَا بِعُسْفَانَ، وَصَلاهَا يَوْمَ بَنِي سُلَيْمٍ.
قَالَ أَبودَاود: رَوَى أَيُّوبُ وَهِشَامٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ هَذَا الْمَعْنَى عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ حُصَيْنٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَكَذَلِكَ عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ، وَكَذَلِكَ قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ حِطَّانَ عَنْ أَبِي مُوسَى، فِعْلَهُ، وَكَذَلِكَ عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ وَكَذَلِكَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ۔
* تخريج: ن/صلاۃ الخوف (۱۵۵۰، ۱۵۵۱ )، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۸۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۵۹، ۶۰) (صحیح)

۱۲۳۶- ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مقام عسفان میں تھے، اس وقت مشرکوں کے سردار خالد بن ولید تھے، ہم نے ظہر پڑھی تو مشرکین کہنے لگے: ہم سے چوک ہو گئی، ہم غفلت کا شکارہو گئے، کاش! ہم نے دورانِ صلاۃ ان پر حملہ کر دیا ہوتا، چنانچہ ظہر اورعصرکے درمیان قصر کی آیت نازل ہوئی۱؎ پھر جب عصر کا وقت ہوا تو رسول اللہ ﷺ قبلہ رخ ہو کر کھڑے ہوئے، مشرکین آپ کے سامنے تھے، لوگوں نے آپ کے پیچھے ایک صف بنائی اور اس صف کے پیچھے ایک دوسری صف بنائی تو آپ ﷺ نے ان سب کے ساتھ بیک وقت رکوع کیا، لیکن سجدہ آپ نے اور صرف اس صف کے لوگوں نے کیا جو آپ سے قریب تر تھے اور باقی (پچھلی صف کے) لوگ کھڑے نگرانی کرتے رہے، پھر جب یہ لوگ سجدہ کر کے کھڑے ہو گئے تو باقی دوسرے لوگوں نے جو ان کے پیچھے تھے، سجدے کئے، پھر قریب والی صف پیچھے ہٹ کر دوسری صف کی جگہ پر چلی گئی، اور دوسری صف آگے بڑھ کر پہلی صف کی جگہ پر آگئی، پھر سب نے مل کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رکوع کیا، اس کے بعد سجدہ صرف آپ اور آپ سے قریب والی صف نے کیا اور بقیہ لوگ کھڑے نگرانی کرتے رہے، جب رسول اللہ ﷺ اور قریب والی صف کے لوگ بیٹھ گئے تو بقیہ دوسروں نے سجدہ کیا، پھر سب ایک ساتھ بیٹھے اور ایک ساتھ سلام پھیرا، آپ نے عسفان میں اسی طرح صلاۃ پڑھی اور بنی سلیم سے جنگ کے روزبھی اسی طرح صلاۃ پڑھی۔
ابو داود کہتے ہیں: ایوب اور ہشام نے ابو الزبیر سے ابوالزبیر نے جا بر سے اسی مفہوم کی حدیث نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کی ہے۔
اسی طرح یہ حدیث داود بن حصین نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔
اسی طرح یہ حدیث عبد الملک نے عطا سے، عطاء نے جا بر سے روایت کی ہے۔
اسی طرح قتادہ نے حسن سے، حسن نے حطان سے، حطان نے ابو موسی رضی اللہ عنہ سے یہی عمل نقل کیا ہے۔
اسی طرح عکرمۃ بن خالد نے مجاہد سے مجاہد نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
اسی طرح ہشام بن عروہ نے اپنے والد عروہ سے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے اور یہی ثوری کا قول ہے۔
وضاحت: نسائی کی روایت میں ہے ’’فنزلت، يعني صلاة الخوف‘‘ دونوں روایتوں میں اختلاف نہیں ہے کیونکہ آیت قصر ہی آیت خوف ہے۔

282- بَاب مَنْ قَالَ: يَقُومُ صَفٌّ مَعَ الإِمَامِ وَصَفٌّ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، [فَيُصَلِّي بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ يَقُومُ قَائِمًا حَتَّى يُصَلِّيَ الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ فَيَصُفُّونَ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَتَجِيئُ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَيُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً وَيَثْبُتُ جَالِسًا، فَيُتِمُّونَ لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُسَلِّمُ بِهِمْ جَمِيعًا]
۲۸۲- باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ ایک صف امام کے سا تھ کھڑی ہو اور دوسری صف دشمن کے سامنے ہو، امام ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ہوں، ایک رکعت پڑھائے، پھر وہ یوں ہی کھڑا رہے یہاں تک کہ جو لوگ اس کے ساتھ ہیں دوسری رکعت پوری کر لیں۔ پھر وہ واپس جا کر دشمن کے سامنے صف بستہ ہو جائیں اور دوسری ٹکڑی آئے تو وہ امام کے ساتھ ایک رکعت ادا کرے، اور امام یو نہی بیٹھا رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی دوسری رکعت بھی مکمل کر لیں پھر امام ان سب کے ساتھ سلام پھیرے​

1237- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَانِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي خَوْفٍ، فَجَعَلَهُمْ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ قَامَ، فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ خَلْفَهُمْ رَكْعَةً، ثُمَّ تَقَدَّمُوا وَتَأَخَّرَ الَّذِينَ كَانُوا قُدَّامَهُمْ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ ﷺ رَكْعَةً، ثُمَّ قَعَدَ حَتَّى صَلَّى الَّذِينَ تَخَلَّفُوا رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ۔
* تخريج: خ/المغازي ۳۲ (۴۱۳۱)، م/المسافرین ۵۷ (۸۴۱و۸۴۲)، ت/الصلاۃ ۲۸۱ (الجمعۃ ۴۶) (۵۶۶)، ن/صلاۃ الخوف (۱۵۳۷)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۵۱ (۱۲۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۴۵)، وقد أخرجہ: ط/الصلاۃ ۱ (۲)، حم (۳/۴۴۸)، دي/الصلاۃ ۱۸۵(۱۵۶۳) (صحیح)
۱۲۳۷- سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کے ساتھ حالت خوف میں صلاۃ ادا کی تو اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں پھر جو آپ سے قریب تھے ان کو ایک رکعت پڑھائی، پھر کھڑے ہو گئے اور برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ ان لوگوں نے جو پہلی صف کے پیچھے تھے، ایک رکعت ادا کی، پھر وہ لوگ آگے بڑھ گئے اور جو لوگ دشمن کے سامنے تھے، آپ کے پیچھے آگئے، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی پھرآپ بیٹھے رہے یہاں تک کہ جولوگ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے ایک رکعت اور پڑھی پھر آپ نے سلام پھیرا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
283- بَاب مَنْ قَالَ إِذَا صَلَّى رَكْعَةً وَثَبَتَ قَائِمًا أَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمُوا ثُمَّ انْصَرَفُوا فَكَانُوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَاخْتَلَفَ فِي السَّلامِ
۲۸۳- باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ایک رکعت پڑھ کر کھڑا رہے اور لوگ خود سے اپنی دوسری رکعت پوری کر کے سلام پھیر دیں، پھر لوٹ کر دشمن کے سامنے جائیں، سابقہ صورت اور اس صورت میں صرف سلام میں اختلاف ہے​

1238- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَمَّنْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ، وَطَائِفَةً وِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا، وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ انْصَرَفُوا، وَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، وَجَائَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى، فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلاتِهِ، ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا، وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ.
قَالَ مَالِكٌ : وَحَدِيثُ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۴۵) (صحیح)
۱۲۳۸- صالح بن خوات ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں، جس نے ذات الرقاع کے غزوہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صلاۃِ خوف ادا کی وہ کہتے ہیں: ایک جماعت آپ کے ساتھ صف میں کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے سامنے، آپ ﷺ نے اپنے ساتھ والی جماعت کے ساتھ ایک رکعت ادا کی پھر کھڑے رہے اور ان لوگوں نے (اس دوران میں) اپنی صلاۃ پوری کر لی (یعنی دوسری رکعت بھی پڑھ لی) پھر وہ واپس دشمن کے سامنے صف بستہ ہو گئے اور دوسری جماعت آئی تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ اپنی رکعت ادا کی پھر بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے اپنی دوسری رکعت پوری کی، پھرآپ ﷺ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔
مالک کہتے ہیں: یزید بن رومان کی حدیث میری مسموعات میں مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔

1239- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ ابْنِ خَوَّاتٍ الأَنْصَارِيِّ أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ الأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ صَلاةَ الْخَوْفِ: أَنْ يَقُومَ الإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، فَيَرْكَعُ الإِمَامُ رَكْعَةً، وَيَسْجُدُ بِالَّذِينَ مَعَهُ، ثُمَّ يَقُومُ فَإِذَا اسْتَوَى قَائِمًا ثَبَتَ قَائِمًا، وَأَتَمُّوا لأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ، ثُمَّ سَلَّمُوا وَانْصَرَفُوا وَالإِمَامُ قَائِمٌ، فَكَانُوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ يُقْبِلُ الآخَرُونَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا، فَيُكَبِّرُونَ وَرَاءَ الإِمَامِ فَيَرْكَعُ بِهِمْ وَيَسْجُدُ بِهِمْ، ثُمَّ يُسَلِّمُ، فَيَقُومُونَ فَيَرْكَعُونَ لأَنْفُسِهِمُ الرَّكْعَةَ الْبَاقِيَةَ، ثُمَّ يُسَلِّمُونَ.
قَالَ أَبودَاود: وَأَمَّا رِوَايَةُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ نَحْوَ رِوَايَةِ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ إِلا أَنَّهُ خَالَفَهُ فِي السَّلامِ، وَرِوَايَةُ عُبَيْدِاللَّهِ نَحْوَ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: وَيَثْبُتُ قَائِمًا۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۱۲۳۷)، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۴۵)
(صحیح) (یہ حدیث موقوف ہے اوراس سے پہلے والی مرفوع ہے، پہلی میں جو صورت مذکور ہے وہی زیادہ صحیح ہے، یعنی دوسری جماعت کا امام کے ساتھ سلام پھیرنا)
۱۲۳۹- صالح بن خوّات انصاری کہتے ہیں کہ سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ صلاۃ خوف اس طرح ہو گی کہ امام (صلاۃ کے لئے) کھڑا ہو گا اور اس کے ساتھیوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ ہو گی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے کھڑی ہو گی، امام اور جو اس کے ساتھ ہوں گے رکوع اور سجدہ کریں گے پھر امام کھڑا ہو گا، جب پورے طور سے سیدھا کھڑا ہو جائے گا تو یونہی کھڑا رہے گا یہاں تک کہ لوگ اپنی باقی (دوسری) رکعت بھی ادا کر لیں گے، پھر وہ لوگ سلام پھیر کر واپس چلے جائیں گے اور امام کھڑا رہے گا، اب یہ دشمن کے سامنے ہوں گے اور جن لوگوں نے صلاۃ نہیں پڑھی ہے، وہ آئیں گے اور امام کے پیچھے تکبیر (تحریمہ) کہیں گے پھر وہ ان کے ساتھ رکوع اور سجدہ کرکے اپنی دوسری رکعت پوری کرے گا پھر سلام پھیر دے گا، اس کے بعد یہ لوگ کھڑے ہو کر اپنی باقی رکعت ادا کریں گے پھر سلام پھیریں گے۔
ابو داود کہتے ہیں: رہی قاسم سے مروی یحییٰ بن سعید کی روایت تو وہ یزید بن رومان کی روایت ہی کی طرح ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے سلام میں اختلاف کیا ہے اور عبید اللہ کی روایت یحییٰ بن سعید کی روایت کی طرح ہے اس میں ہے کہ ’’(امام) کھڑا رہے گا۔‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
284-بَابٌ مَنْ قَالَ: يُكَبِّرُونَ جَمِيعًا، وَإِنْ كَانُوا مُسْتَدْبِرِي الْقِبْلَةِ، ثُمَّ يُصَلِّي بِمَنْ مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ يَأْتُونَ مَصَافَّ أَصْحَابِهِمْ، وَيَجِيئُ الآخَرُونَ فَيَرْكَعُونَ لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ يُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ تُقْبِلُ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ فَيُصَلُّونَ لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً وَالإِمَامُ قَاعِدٌ ثُمَّ يُسَلِّمُ بِهِمْ كُلِّهِمْ جَمِيعًا
۲۸۴- باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ سارے لوگ ایک ساتھ تکبیر (تحریمہ) کہیں گرچہ ان کی پیٹھ قبلہ کی طرف ہو پھر امام اپنے ساتھ کے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائے اور یہ لوگ اپنے ساتھیوں (جو دشمن کے سامنے ہیں) کی جگہ پر چلے جائیں، اور دوسرا گروہ امام کے پیچھے آ جائے اور خود سے ایک رکعت پڑھے پھر امام انہیں ایک رکعت پڑھائے پھر وہ گروہ آئے جو دشمن کے مقابل میں تھا (اور امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ چکا تھا) خود سے ایک رکعت ادا کرے اور امام بیٹھا رہے پھر اکٹھا سب کے ساتھ سلام پھیرے​

1240- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِالرَّحْمَانِ الْمُقْرِءُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ وَابْنُ لَهِيعَةَ، قَالا: أَخْبَرَنَا أَبُو الأَسْوَدِ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ: هَلْ صَلَّيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ صَلاةَ الْخَوْفِ؟ قَالَ أَبُوهُرَيْرَةَ: نَعَمْ، قَالَ مَرْوَانُ: مَتَى؟ فَقَالَ أَبُوهُرَيْرَةَ: عَامَ غَزْوَةِ نَجْدٍ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى صَلاةِ الْعَصْرِ، فَقَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ، وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، وَظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَكَبَّرُوا جَمِيعًا: الَّذِينَ مَعَهُ، وَالَّذِينَ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ رَكْعَةً وَاحِدَةً، وَرَكَعَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ، وَالآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَقَامَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ، فَذَهَبُوا إِلَى الْعَدُوِّ، فَقَابَلُوهُمْ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ، فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا، وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَائِمٌ كَمَا هُوَ، ثُمَّ قَامُوا فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ رَكْعَةً أُخْرَى وَرَكَعُوا مَعَهُ، وَسَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلِي الْعَدُوِّ، فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَاعِدٌ وَمَنْ [كَانَ] مَعَهُ، ثُمَّ كَانَ السَّلامُ، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَسَلَّمُوا جَمِيعًا، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ رَكْعَتَانِ، وَلِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ ۔
* تخريج: ن/الخوف ۱۸(۱۵۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۰۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۲۰) (صحیح)

۱۲۴۰- مروان بن حکم سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صلاۃِ خوف پڑھی ہے؟ ابو ہریرہ نے جواب دیا: ہاں، مروان نے پوچھا: کب؟ ابو ہریرہ نے کہا: جس سال غزوۂ نجد پیش آیا، رسول اللہ ﷺ عصر کے لئے کھڑے ہوئے تو ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوئی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے تھی اور ان کی پیٹھیں قبلہ کی طرف تھیں، رسول اللہ ﷺ نے تکبیر تحریمہ کہی تو آپ کے ساتھ والے لوگوں نے اور ان لوگوں نے بھی جو دشمن کے سامنے کھڑے تھے (سبھوں نے) تکبیر تحریمہ کہی، پھر رسول اللہ ﷺ نے رکوع کیا اور آپ کے ساتھ کھڑی جماعت نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا اور آپ کے قریب والی جماعت نے بھی سجدہ کیا، اور دوسرے لوگ دشمن کے بالمقابل کھڑے رہے، پھر رسول اللہ ﷺ اٹھے اور وہ جماعت بھی اٹھی جو آپ کے ساتھ تھی اور جا کر دشمن کے سامنے کھڑی ہو گئی، پھر وہ جماعت، جو دشمن کے سامنے کھڑی تھی (امام کے پیچھے) آ گئی اور اس نے رکوع اور سجدہ کیا، اور رسول اللہ ﷺ اسی طرح کھڑے رہے جیسے تھے، پھر جب وہ جماعت (سجدہ سے) اٹھ کھڑی ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی، اور ان لوگوں نے آپ کے ساتھ رکوع اور سجدہ کیا پھر جو جماعت دشمن کے سامنے جا کھڑی ہوئی تھی آ گئی اور اس نے رکوع اور سجدہ کیا، اور رسول اللہ ﷺ اور وہ لوگ جو پہلے سے آپ کے ساتھ موجود تھے بیٹھے رہے، پھر سلام پھیرا گیا تو رسول اللہ ﷺ اورسبھی لوگوں نے مل کر سلام پھیرا اس طرح رسول اللہ ﷺ کی دو رکعتیں ہوئیں اور دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک کی ایک ایک رکعت۔

1241- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِلَى نَجْدٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ [نَخْلٍ لَقِيَ] جَمْعًا مِنْ غَطَفَانَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَلَفْظُهُ عَلَى غَيْرِ لَفْظِ حَيْوَةَ، وَقَالَ فِيهِ: حِينَ رَكَعَ بِمَنْ مَعَهُ وَسَجَدَ، قَالَ: فَلَمَّا قَامُوا مَشَوُا الْقَهْقَرَى إِلَى مَصَافِّ أَصْحَابِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرِ اسْتِدْبَارَ الْقِبْلَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۱۶۴) (صحیح)

۱۲۴۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نجد کی طرف نکلے یہاں تک کہ جب ہم ذات الرقاع میں تھے تو غطفان کے کچھ لوگ ملے، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی لیکن اس کے الفاظ حیوۃ کے الفاظ سے مختلف ہیں اس میں ’’حين ركع بمن معه وسجد‘‘ کے الفاظ ہیں، نیز اس میں ہے ’’فلمَّا قاموا مشوا القهقرى إلى مصاف أصحابهم‘‘ (یعنی جب وہ اٹھے تو الٹے پاؤں پھرے اور اپنے سا تھیوں کی صف میں آکھڑے ہوئے)، اس میں انہوں نے استدبار قبلہ (قبلہ کی طرف پیٹھ کرنے) کا ذکر نہیں کیا ہے۔

1242- قَالَ أَبودَاود: وَأَمَّا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ سَعْدٍ فَحَدَّثَنَا، قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحاَقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَتْ كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَفُّوا مَعَهُ ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ جَالِسًا ثُمَّ سَجَدُوا لأَنْفُسِهِمُ الثَّانِيَةَ ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ وَجَائَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَقَامُوا فَكَبَّرُوا ثُمَّ رَكَعُوا لأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَسَجَدُوا مَعَهُ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَسَجَدُوا لأَنْفُسِهِمُ الثَّانِيَةَ ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا فَصَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَرَكَعَ فَرَكَعُوا ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا ثُمَّ عَادَ فَسَجَدَ الثَّانِيَةَ وَسَجَدُوا مَعَهُ سَرِيعًا كَأَسْرَعِ الإِسْرَاعِ جَاهِدًا لا يَأْلُونَ سِرَاعًا ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَسَلَّمُوا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَقَدْ شَارَكَهُ النَّاسُ فِي الصَّلاةِ كُلِّهَا۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۸۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۷۵) (حسن)

۱۲۴۲- عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے یہی واقعہ بیان کیا اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے تکبیر تحریمہ کہی اور اس جماعت نے بھی جو آپ کے ساتھ صف میں کھڑی تھی تکبیر تحریمہ کہی، پھر آپ نے رکوع کیا تو ان لوگوں نے بھی رکوع کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی اٹھایا، اس کے بعد آپ بیٹھے رہے اور وہ لوگ دوسرا سجدہ خود سے کر کے کھڑے ہوئے اور ایٹریوں کے بل پیچھے چلتے ہوئے الٹے پاؤں لوٹے، یہاں تک کہ ان کے پیچھے جا کھڑے ہوئے، اور دوسری جماعت آکر کھڑی ہوئی، اس نے تکبیر کہی پھر خود سے رکوع کیا اب رسول اللہ ﷺ نے اپنا دوسرا سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ ان لوگوں نے بھی سجدہ کیا اس کے بعد رسول اللہ ﷺ تو اٹھ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے اپنا دوسرا سجدہ کیا، پھر دونوں جماعتیں ایک ساتھ کھڑی ہوئیں اور دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صلاۃ پڑھی، آپ نے رکوع کیا (ان سب نے بھی رکوع کیا)، پھر آپ نے سجدہ کیا تو ان سب نے بھی ایک ساتھ سجدہ کیا، پھر آپ نے دوسرا سجدہ کیا اور ان لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ جلدی جلدی سجدہ کیا، اور جلدی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی، پھر رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا، اور لوگوں نے بھی سلام پھیرا، پھر آپ صلاۃ سے فارغ ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اس طرح لوگوں نے پوری صلاۃ میں آپ کے ساتھ شرکت کر لی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
285-بَاب مَنْ قَالَ: يُصَلِّي بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً ثُمَّ يُسَلِّمُ فَيَقُومُ كُلُّ صَفٍّ فَيُصَلُّونَ لأنْفُسِهِمْ رَكْعَةً
۲۸۵- باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ہر ٹکڑی کو ایک رکعت پڑھائے پھر وہ سلام پھیر دے اس کے بعد ہر صف کے لوگ کھڑے ہوں اور خود سے اپنی اپنی ایک رکعت ادا کریں​

1243- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ ؛ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَلَّى بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً، وَالطَّائِفَةُ الأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَقَامُوا فِي مَقَامِ أُولَئِكَ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَامَ هَؤُلاءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ، وَقَامَ هَؤُلاءِ فَقَضَوْا رَكْعَتَهُمْ.
قَالَ أَبودَاود: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ نَافِعٌ وَخَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، وَكَذَلِكَ قَوْلُ مَسْرُوقٍ وَيُوسُفُ بْنُ مِهْرَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَكَذَلِكَ رَوَى يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُ فَعَلَهُ۔
* تخريج: خ/الخوف ۱ (۹۴۲)، المغازي ۳۱ (۴۱۳۳)، م/المسافرین ۵۷ (۸۳۹)، ت/الصلاۃ ۲۸۱ (الجمعۃ ۴۶) (۵۶۴)، ن/الخوف ۱۸ (۱۵۳۹)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۵۱ (۱۲۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۶۹۳۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۴۷) (صحیح)

۱۲۴۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے رہی پھر یہ جماعت جا کر پہلی جماعت کی جگہ کھڑی ہو گئی اور وہ جماعت (نبی اکرم ﷺ کے پیچھے) آگئی تو آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر یہ لوگ کھڑ ے ہوئے اور اپنی رکعت پوری کی اور وہ لوگ بھی (جو دشمن کے سامنے چلے گئے تھے) کھڑے ہوئے اورانہوں نے اپنی رکعت پوری کی۔
ابو داود کہتے ہیں: اسی طرح یہ حدیث نافع اور خالد بن معدان نے ابن عمررضی اللہ عنہما سے ابن عمر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
اور یہی قول مسروق اور یوسف بن مہران ہے جسے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، اسی طرح یونس نے حسن سے اور انہوں نے ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ آپ نے ایسا ہی کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
286- بَاب مَنْ قَالَ: يُصَلِّي بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً ثُمَّ يُسَلِّمُ فَيَقُومُ الَّذِينَ خَلْفَهُ فَيُصَلُّونَ رَكْعَةً ثُمَّ يَجِيئُ الآخَرُونَ إِلَى مَقَامِ هَؤُلاءِ فَيُصَلُّونَ رَكْعَةً
۲۸۶- باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ہر جماعت کوا یک ایک رکعت پڑھائے پھر سلام پھیر دے، پھر جو لوگ امام کے پیچھے ہیں وہ کھڑے ہوں اوردوسری رکعت ادا کریں پھر دوسرے گروہ کے لوگ پہلے کی جگہ آکر دوسر ی رکعت ادا کریں​


1244- حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: صَلَّى [بِنَا] رَسُولُ اللَّهِ ﷺ صَلاةَ الْخَوْفِ، فَقَامُوا صَفًّا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، وَصَفٌّ مُسْتَقْبِلَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ رَكْعَةً، ثُمَّ جَاءَ الآخَرُونَ فَقَامُوا مَقَامَهُمْ،وَاسْتَقْبَلَ هَؤُلاءِ الْعَدُوَّ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ ﷺ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ هَؤُلاءِ فَصَلَّوْا لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمُوا ثُمَّ ذَهَبُوا، فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ مُسْتَقْبِلِي الْعَدُوِّ، وَرَجَعَ أُولَئِكَ إِلَى مَقَامِهِمْ فَصَلَّوْا لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمُوا ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۰۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۷۵، ۳۷۶، ۴۰۹) (ضعیف)
(’’ابوعبیدہ‘‘ کا اپنے والد ’’ابن مسعود رضی اللہ عنہ‘‘ سے سماع نہیں ہے)
۱۲۴۴- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے صلاۃِ خوف پڑھائی تو ایک صف رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اور دوسری صف دشمن کے مقابل کھڑی ہوئی، آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر دوسری جماعت آئی اور ان کی جگہ کھڑی ہوئی اور یہ جماعت دشمن کے سامنے چلی گئی، اب نبی اکرم ﷺ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر یہ جماعت کھڑی ہوئی، اس نے دوسری رکعت ادا کر کے سلام پھیرا اور جا کر ان کی جگہ کھڑی ہو گئی، جو دشمن کے سامنے تھے، اب وہ لوگ ان کی جگہ آ گئے اور انہوں نے اپنی دوسری رکعت ادا کی پھرسلام پھیرا۔

1245- حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ -يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ- عَنْ شَرِيكٍ؛ عَنْ خُصَيْفٍ -بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ-، قَالَ: فَكَبَّرَ نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ وَكَبَّرَ الصَّفَّانِ جَمِيعًا.
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۰۷) (ضعیف)
1245/م- قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ بِهَذَا الْمَعْنَى عَنْ خُصَيْفٍ، وَصَلَّى عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ هَكَذَا إِلا أَنَّ الطَّائِفَةَ الَّتِي صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ مَضَوْا إِلَى مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، وَجَاءَ هَؤُلاءِ فَصَلَّوْا لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ فَصَلَّوْا لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً.
[قَالَ أَبودَاود]: حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُمْ غَزَوْا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، كَابُلَ فَصَلَّى بِنَا صَلاةَ الْخَوْفِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۰۷) (ضعیف)
(عبد الصمد اور ان کے والد حبیب دونوں مجہول راوی ہیں)
۱۲۴۵- اس طریق سے بھی خصیف سے سابقہ سند سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے تکبیر (تحریمہ) کہی اور دونوں صف کے سارے لوگوں نے بھی۔
ابو داود کہتے ہیں: ثوری نے بھی خصیف سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اور عبد الرحمن بن سمرہ نے اسی طرح یہ صلاۃ ادا کی، البتہ اتنا فرق ضرور تھا کہ وہ گروہ جس کے ساتھ آپ نے ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر دیا ، اپنے ساتھیوں کی جگہ واپس چلا گیا اور ان لوگوں نے آکر خود سے ایک رکعت پوری کی۔ پھر وہ ان کی جگہ واپس چلے گئے اور اس گروہ نے آ کر اپنی باقی ماندہ رکعت خود سے ادا کی۔
۱۲۴۵/م- ابو داود کہتے ہیں: ہم سے یہ حدیث مسلم بن ابراہیم نے بیان کی، مسلم کہتے ہیں: ہم سے عبد الصمد بن حبیب نے بیان کی، عبد الصمد کہتے ہیں: میرے والد نے مجھے بتایا کہ لوگوں نے عبد الرحمن بن سمرہ کے ساتھ کابل کا جہاد کیا تو انہوں نے ہمیں صلاۃِ خوف پڑھائی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
287- بَاب مَنْ قَالَ يُصَلِّي بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً وَلا يَقْضُونَ
۲۸۷- باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ہر جماعت کو ایک رکعت پڑھا ئے گا اور لوگ دوسری رکعت پوری نہیں کریں گے​


1246- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي الأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ الأَسْوَدِ ابْنِ هِلال، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ فَقَامَ فَقَالَ: أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ صَلاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا، فَصَلَّى بِهَؤُلاءِ رَكْعَةً وَبِهَؤُلاءِ رَكْعَةً وَلَمْ يَقْضُوا.
قَالَ أَبودَاود: وَكَذَا رَوَاهُ عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ وَمُجَاهِدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، وَيَزِيدُ الْفَقِيرُ وَأَبُو مُوسَى. [قَالَ أَبودَاود: رَجُلٌ مِنَ التَّابِعِينَ لَيْسَ بِالأَشْعَرِيِّ] جَمِيعًا عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، وَقَدْ قَالَ بَعْضُهُمْ [عَنْ شُعْبَةَ] فِي حَدِيثِ يَزِيدَ الْفَقِيرِ: إِنَّهُمْ قَضَوْا رَكْعَةً أُخْرَى، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: فَكَانَتْ لِلْقَوْمِ رَكْعَةً [رَكْعَةً] وَلِلنَّبِيِّ ﷺ رَكْعَتَيْنِ ۔
* تخريج: ن/صلاۃ الخوف (۱۵۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۰۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۸۵، ۳۹۹) (ضعیف)

۱۲۴۶- ثعلبہ بن زہدم کہتے ہیں کہ ہم لوگ سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان میں تھے، وہ کھڑے ہوئے اور پوچھا: تم میں کس نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صلاۃ خوف ادا کی ہے؟ تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے (پھر حذیفہ نے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی، اور دوسرے کو ایک رکعت) اور ان لوگوں نے (دوسری رکعت کی) قضا نہیں کی۔
ابو داود کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے عبید اللہ بن عبد اللہ اور مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ سے اور عبد اللہ بن شفیق نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اورابو ہریرہ نے نبی اکرم ﷺ سے، اور یزید فقیر اور ابو موسی نے جابر رضی اللہ عنہ سے اور جابر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: ابو موسیٰ تابعی ہیں، ابو موسیٰ اشعری نہیں ہیں۔
یزید الفقیر کی روایت میں بعض راویوں نے شعبہ سے یوں روایت کی ہے کہ انہوں نے دوسری رکعت قضا کی تھی۔
اسی طرح اسے سماک حنفی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ابن عمرنے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔
نیز اسی طرح اسے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: لوگوں کی ایک ایک رکعت ہوئی اور نبی اکرم ﷺ کی دو رکعتیں ہوئیں۔

1247- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَرَضَ اللَّهُ تَعَالَى الصَّلاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ ﷺ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً۔
* تخريج: م/المسافرین ۱ (۶۸۷)، ن/الصلاۃ ۳ (۴۵۷)، وتقصیر الصلاۃ ۱ (۲۵۴، ۳۵۵)، والخوف ۱ (۱۵۳۳)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۷۳ (۱۰۶۸)، (تحفۃ الأشراف: ۶۳۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳۷، ۲۴۳) (صحیح)

۱۲۴۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ نے نبی اکرم ﷺ کی زبان سے تم پر حضر میں چار رکعتیں فرض کی ہیں اور سفر میں دو رکعتیں، اور خوف میں ایک رکعت۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
288- بَاب مَنْ قَالَ: يُصَلِّي بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ
۲۸۸- باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ہر جماعت کو دو دو رکعتیں پڑھائے


1248- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ ﷺ فِي خَوْفٍ الظُّهْرَ فَصَفَّ بَعْضُهُمْ خَلْفَهُ وَبَعْضُهُمْ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى [بِهِمْ] رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَانْطَلَقَ الَّذِينَ صَلَّوْا مَعَهُ فَوَقَفُوا مَوْقِفَ أَصْحَابِهِمْ، ثُمَّ جَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّوْا خَلْفَهُ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَرْبَعًا، وَلأَصْحَابِهِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، وَبِذَلِكَ كَانَ يُفْتِي الْحَسَنُ.
قَالَ أَبودَاود: وَكَذَلِكَ فِي الْمَغْرِبِ: يَكُونُ لِلإِمَامِ سِتُّ رَكَعَاتٍ، وَلِلْقَوْمِ ثَلاثٌ ثَلاثٌ.
قَالَ أَبودَاود: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ وَكَذَلِكَ قَالَ سُلَيْمَانُ الْيَشْكُرِيُّ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ۔
* تخريج: ن/الخوف۱۸ (۱۵۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۹، ۴۹) (صحیح)

۱۲۴۸- ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خوف کی حالت میں ظہر ادا کی تو بعض لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی اور بعض دشمن کے سامنے رہے، آپ نے انہیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا، تو جو لوگ آپ کے ساتھ صلاۃ میں تھے، وہ اپنے ساتھیوں کی جگہ جا کر کھڑے ہو گئے اور وہ لوگ یہاں آ گئے پھر آپ کے پیچھے انہوں نے صلاۃ پڑھی تو آپ نے انہیں بھی دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا، اس طرح رسول اللہ ﷺ کی چار رکعتیں اورصحابہ کرام کی دو دو رکعتیں ہوئیں، اور حسن بصری اسی کا فتویٰ دیا کرتے تھے۔
ابو داود کہتے ہیں: اور اسی طرح مغرب میں امام کی چھ، اور دیگر لوگوں کی تین تین رکعتیں ہوں گی۔
ابو داود کہتے ہیں: اسی طرح اسے یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ سے، ابو سلمہ نے جا بر رضی اللہ عنہ سے اور جابر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور اسی طرح سلیمان یشکری نے ’’عن جابر عن النبي ﷺ‘‘ کہا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
289- بَاب صَلاةِ الطَّالِبِ
۲۸۹- باب: تعاقب کرنے والے کی صلاۃ کا بیان​

1249- حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى خَالِدِ ابْنِ سُفْيَانَ الْهُذَلِيِّ، وَكَانَ نَحْوَ عُرَنَةَ وَعَرَفَاتٍ، فَقَالَ: اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ وَحَضَرَتْ صَلاةُ الْعَصْرِ، فَقُلْتُ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَا إِنْ أُؤَخِّرِ الصَّلاةَ، فَانْطَلَقْتُ أَمْشِي وَأَنَا أُصَلِّي أُومِئُ إِيمَائً نَحْوَهُ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُ قَالَ لِي: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، بَلَغَنِي أَنَّكَ تَجْمَعُ لِهَذَا الرَّجُلِ، فَجِئْتُكَ فِي ذَاكَ، قَالَ: إِنِّي لَفِي ذَاكَ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي عَلَوْتُهُ بِسَيْفِي حَتَّى بَرَدَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۴۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۹۶) (حسن)
(اس کے راوی ’’ابن عبد اللہ بن انیس‘‘ لین الحدیث ہیں، لیکن اس حدیث کی تصحیح ابن خزیمہ (۹۸۲)اور ابن حبان (۵۹۱) نے کی ہے، اور ابن حجرنے حسن کہا ہے (فتح الباری ۲/۴۳۷)، البانی نے بھی اسے صحیح ابی داود میں رکھا ہے۔ (۱۱۳۵/م) نیز ملاحظہ ہو: (الصحیحۃ ۳۲۹۳)
۱۲۴۹- عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے خالد بن سفیا ن ہذلی کی طرف بھیجا اور وہ عرنہ وعرفات کی جانب تھا تو فرمایا:’’جاؤ اور اسے قتل کر دو‘‘، عبد اللہ کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھ لیا عصر کا وقت ہو گیا تھا تو میں نے (اپنے جی میں) کہا اگر میں رک کر صلاۃ میں لگتا ہوں تو اس کے اور میرے درمیان فا صلہ ہو جائے گا، چنانچہ میں اشاروں سے صلاۃ پڑھتے ہوئے مسلسل اس کی جانب چلتا رہا، جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے مجھ سے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: عرب کا ایک شخص، مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس شخص (یعنی محمد ﷺ سے مقابلے) کے لئے تم (لوگوں کو) جمع کر رہے ہو۱؎ تو میں اسی سلسلے میں تمہارے پاس آیا ہوں، اس نے کہا: ہاں میں اسی کوشش میں ہوں، چنانچہ میں تھوڑی دیر اس کے ساتھ چلتا رہا، جب مجھے مناسب موقع مل گیا تو میں نے اس پر تلوا رسے وار کر دیا اور وہ ٹھنڈا ہو گیا۔
وضاحت: یہ ذومعنی کلام ہے لیکن اللہ کا دشمن خالد بن سفیان ہذلی، عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے اس توریہ کو سمجھ نہیں سکا۔



* * * * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
290-بَاب تَفْرِيعِ أَبْوَابِ التَّطَوُّعِ وَرَكَعَاتِ السُّنَّةِ
۲۹۰- باب: نفل صلاۃ کے ابواب اور سنت کی رکعات کا بیان​


1250- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعًا بُنِيَ لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ>۔
* تخريج: م/المسافرین ۱۵ (۷۲۸)، ن/قیام اللیل ۵۷ (۱۸۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۶۰)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۱۹۳ (۴۱۵)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۰۰ (۱۱۴۱)، حم (۶/۴۲۶، ۳۲۷)، دي/الصلاۃ ۱۴۴ (۱۴۷۸) (صحیح)

۱۲۵۰- ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص ایک دن میں بارہ رکعتیں نفل پڑھے گا تواس کے بدلے اس کے لئے جنت میں گھر بنا یا جائے گا‘‘۔

1251- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ (ح) وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ [الْمَعْنَى]؛ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنَ التَّطَوُّعِ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فِي بَيْتِي، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمُ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلا طَوِيلا قَائِمًا، وَلَيْلا طَوِيلا جَالِسًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ، رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلاةَ الْفَجْرِ ﷺ ۔
* تخريج: م/المسافرین ۱۶ (۷۳۰)، ت/الصلاۃ ۱۶۳ (۳۷۵)، ۴۱۰ (۴۳۶)، ن/قیام اللیل ۱۸ (۱۶۴۷، ۱۶۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۰۷)، وقد أخرجہ: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۴۰ (۱۲۲۸)، حم (۶/۳۰، ۲۱۶) (صحیح)

۱۲۵۱- عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی نفل صلاۃ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو صلاۃ پڑھاتے، پھر واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، اور مغرب لوگوں کے ساتھ ادا کر تے اور واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ انہیں عشاء پڑھاتے پھرمیرے گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات میں آپ نو رکعتیں پڑھتے، ان میں وتر بھی ہوتی، اور رات میں آپ کبھی تو دیر تک کھڑے ہو کر صلاۃ پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر اور جب کھڑے ہو کر قرأت فرماتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قرأت کرتے تو رکوع و سجود بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو فجر پڑھاتے۔


1252- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، وَبَعْدَ صَلاةِ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ لا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ۔
* تخريج: خ/الجمعۃ ۳۹ (۹۳۷)، م/الجمعۃ ۱۸ (۸۸۲)، ن/الجمعۃ ۴۲ (۱۴۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۴۳)، وقد أخرجہ: ط/قصر الصلاۃ ۲۳ (۶۹)، حم (۲/۳۴) (صحیح)

۱۲۵۲- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور جمعہ کے بعد کچھ نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ فارغ ہو کر گھر واپس آ جاتے پھر دو رکعتیں پڑھتے۔

1253- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ لا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْر وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاةِ الْغَدَاةِ۔
* تخريج: خ/التھجد ۳۴ (۱۱۸۲)، ن/قیام اللیل ۴۷ (۱۷۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۹۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۳، ۶۳، ۱۴۸) (صحیح)

۱۲۵۳- امّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ظہر (کی فرض صلاۃ) سے پہلے چار رکعتیں اور صبح کی (فرض صلاۃ) سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔
 
Top