• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15- بَاب فِي الإِشْعَارِ
۱۵- باب: اِشعا ر کا بیان​

1752- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ دَعَا بِبَدَنَةٍ فَأَشْعَرَهَا مِنْ صَفْحَةِ سَنَامِهَا الأَيْمَنِ، ثُمَّ سَلَتَ عَنْهَا الدَّمَ، وَقَلَّدَهَا بِنَعْلَيْنِ، ثُمَّ أُتِيَ بِرَاحِلَتِهِ فَلَمَّا قَعَدَ عَلَيْهَا وَاسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَائِ أَهَلَّ بِالْحَجِّ۔
* تخريج: م/الجج ۳۲ (۱۲۴۳)، ت/الحج ۶۷ (۹۰۶)، ن/الحج ۶۴ (۲۷۷۶)، ۶۷ (۲۷۸۴)، ۷۰ (۲۷۹۳)، ق/المناسک ۹۶ (۳۰۹۷)، ( تحفۃ الأشراف: ۶۴۵۹)، وقد أخرجہ: خ/الحج ۲۳ (۱۵۴۹)، حم (۱/۲۱۶، ۲۵۴، ۲۸۰، ۳۳۹، ۳۴۴، ۳۴۷، ۳۷۳)، دي/المناسک ۶۸ (۱۹۵۳) (صحیح)

۱۷۵۲- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذی الحلیفہ میں ظہر پڑھی پھرآپ نے ہدی کا اونٹ منگایا اور اس کے کوہان کے داہنی جانب اِشعار۱؎ کیا، پھر اس سے خون صاف کیا اور اس کی گردن میں دو جوتیاں پہنا دیں، پھر آپ ﷺ کی سواری لائی گئی جب آپ اس پر بیٹھ گئے اور وہ مقام بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ ﷺ نے حج کا تلبیہ پڑھا۔
وضاحت۱؎: ہدی کے اونٹ کی کوہان پر داہنے جانب چیر کر خون نکالنے اور اسے اس کے آس پاس مل دینے کا نام اشعار ہے، یہ بھی ہدی کے جانوروں کی علامت اور پہچان ہے۔
وضاحت۲؎ : اشعار مسنون ہے، اس کا انکار صرف امام ابو حنیفہ نے کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ’’یہ مثلہ ہے جو درست نہیں‘‘، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ مثلہ نہیں ہے، مثلہ ناک کان وغیرہ کاٹنے کو کہتے ہیں، اشعار فصد یا حجامت کی طرح ہے، جو صحیح حدیث سے ثابت ہے۔

1753- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى؛ عَنْ شُعْبَةَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَى أَبِي الْوَلِيدِ، قَالَ: ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ بِيَدِهِ.
قَالَ أَبودَاود : رَوَاهُ هَمَّامٌ . قَالَ: سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا بِأُصْبُعِهِ.
قَالَ أَبودَاود : هَذَا مِنْ سُنَنِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ الَّذِي تَفَرَّدُوا بِهِ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۶۴۵۹) (صحیح)

۱۷۵۳- اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث ابو الولید کے روایت کے مفہوم کی طرح مروی ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: ’’ثُمَّ سَلَتَ الدَّمَ بِيَدِهِ‘‘ (آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے خون صاف کیا)۔
ابو داود کہتے ہیں: ہمام کی روایت میں ’’سَلَتَ الدَّمَ عَنْهَا بِأصْبِعِهِِ‘‘ کے الفاظ ہیں۔
ابو داود کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف اہل بصرہ کی سنن میں سے ہے جو اس میں منفرد ہیں۔

1754- حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ؛ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانُ [بْنُ الْحَكَمِ] أَنَّهُمَا قَالا: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَلَمَّا كَانَ بِذِي الُحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ۔
* تخريج: خ/الحج ۱۰۶(۱۶۹۴)، والمغازي ۳۶ (۴۱۵۷، ۴۱۵۸)، ن/الحج ۶۲ (۲۷۷۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۵۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/ ۳۲۳، ۳۲۷، ۳۲۸، ۳۳۱) (صحیح)

۱۷۵۴- مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما اور مروان دونوں سے روایت ہے، وہ دونوں کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ حدیبیہ کے سال نکلے جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو ہدی۱؎ کو قلادہ پہنایا اور اس کا اشعار کیا اور احرام باندھا۔
وضاحت۱؎: ’’ہدی‘‘ اس جانور کو کہتے ہیں جو حج تمتع یا حج قران میں مکہ میں ذبح کیا جاتا ہے، نیز اس جانور کو بھی ’’ہدی‘‘ کہتے ہیں جس کو غیر حاجی حج کے موقع سے مکہ میں ذبح کرنے کے لئے بھیجتا ہے۔

1755- حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ وَالأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَهْدَى غَنَمًا مُقَلَّدَةً۔
* تخريج: خ/الحج ۱۰۶ (۱۷۰۱)، م /الحج ۶۴ (۱۳۲۱)، ت/الحج ۷۰ (۹۰۹)، ن/الحج ۶۹ (۲۷۸۹)، ق/المناسک ۹۵ (۳۰۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۴۴، ۱۵۹۹۵)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۱، ۴۲، ۲۰۸) (صحیح)

۱۷۵۵- ام المومنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بہت سی بکریاں قلادہ پہنا کر ہدی میں بھیجیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- بَاب تَبْدِيلِ الْهَدْيِ
۱۶- باب: ہدی تبدیل کرنے کا بیان​

1756- حَدَّثَنَا [عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ] النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِالرَّحِيمِ -قَالَ أَبودَاود: أَبُو عَبْدِالرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، خَالُ [مُحَمَّدٍ يَعْنِي] ابْنَ سَلَمَةَ، رَوَى عَنْهُ حَجَّاجُ ابْنُ مُحَمَّدٍ- عَنْ جَهْمِ بْنِ الْجَارُودِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَهْدَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ [بَخْتِيًّا] فَأُعْطِى بِهَا ثَلاثَ مِائَةِ دِينَارٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَهْدَيْتُ بَخِتيًا، فَأُعْطِيْتُ بِهَا ثَلاثَ مِائَةِ دِينَارٍ، أَفَأَبِيعُهَا وَأَشْتَرِي بِثَمَنِهَا بُدْنًا؟ قَالَ: < لا، انْحَرْهَا إِيَّاهَا >.
قَالَ أَبو دَاود: هَذَا لأَنَّهُ كَانَ أَشْعَرَهَا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۶۷۴۸)، وقد أخرجہ: (حم (۲/۱۴۵) (ضعیف)
(ایک تو’’جہم‘‘ لین الحدیث ہیں، دوسرے’’سالم‘‘ سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے)
۱۷۵۶- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک بختی اونٹ ہدی کیا پھر انہیں اس کی قیمت تین سو دینار دی گئی تو وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میں نے بختی اونٹ ہدی کیا اس کے بعد مجھے اس کی قیمت تین سو دینار مل رہی ہے، کیا میں اسے بیچ کر اس کی قیمت سے (ہدی کے لئے) ایک اونٹ خرید لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں اسی کو نحر کرو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ ممانعت (نہی) اس لئے تھی کہ وہ اس کا اِشعار کر چکے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
17- بَاب مَنْ بَعَثَ بِهَدْيِهِ وَأَقَامَ
۱۷- باب: ہدی بھیج کر خود مقیم رہنے کا بیان​

1757- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ؛ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِيَدِي، ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْئٌ كَانَ لَهُ حِلا۔
* تخريج: خ/الحج ۱۰۶ (۱۶۹۶)، ۱۰۷(۱۶۹۸)، ۱۰۸ (۱۶۹۹)، ۱۰۹ (۱۷۰۰)، ۱۱۰ (۱۷۰۱)، والوکالۃ ۱۴ (۲۳۱۷)، والأضاحي ۱۵ (۵۵۶۶)، م/الحج ۶۴ (۱۳۲۱)، ن/الحج ۶۲ (۲۷۷۴)، ۶۸ (۲۷۸۵)، ق/المناسک ۹۴ (۳۰۹۴)، ۹۶ (۳۰۹۸)، وانظر أیضا حدیث رقم : (۱۷۵۵)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۳۳)، وقد أخرجہ: ت/الحج ۶۹ (۹۰۸)، ط/الحج ۱۵(۵۱)، حم (۶/۳۵، ۳۶، ۷۸، ۸۵، ۹۱، ۱۰۲، ۱۲۷، ۱۷۴، ۱۸۰، ۱۸۵، ۱۹۱، ۲۰۰) (صحیح)

۱۷۵۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ ﷺ کی ہدی کے لئے قلادے بٹے پھر آپ نے انہیں اِشعار کیا اور قلادہ۱؎ پہنایا پھر انہیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور خود مکہ میں مقیم رہے اور کوئی چیز جو آپ ﷺ کے لئے حلال تھی آپ پر حرام نہیں ہوئی۲؎ ۔
وضاحت۱؎: قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ یا رسی وغیرہ لٹکانے کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ لوگ ان جانوروں کو اللہ کے گھر کے لئے خاص جان کر ان سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔
وضاحت۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مقیم کے لئے بھی ہدی بھیجنا درست ہے اور صرف ہدی بھیج دینے سے وہ محرم نہیں ہو گا، اور نہ اس پر کوئی چیز حرام ہو گی جو محرم پر ہوتی ہے، جب تک کہ وہ احرام کی نیت کرکے احرام پہن کر خود حج کو نہ جائے، اور بعض لوگوں کی رائے ہے کہ وہ بھی مثل محرم کے ہو گا اس کے لئے بھی ان تمام چیزوں سے اس وقت تک بچنا ضروری ہو گا جب تک کہ ہدی قربان نہ کر دی جائے، لیکن صحیح جمہور کا مذہب ہی ہے، جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے۔

1758- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ [الْهَمَدَانِيُّ] وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ أَنَّ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَهُمْ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِالرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُهْدِي مِنَ الْمَدِينَةِ فَأَفْتِلُ قَلائِدَ هَدْيِهِ ثُمَّ لا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ۔
* تخريج: خ/الحج (۱۶۹۸)، م/الحج ۶۴ (۱۳۲۱)، ن/الحج ۶۵ (۲۷۷۷)، ق/الحج ۹۴ (۳۰۹۴)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۸۲، ۱۷۹۲۳)، وقد أخرجہ: (۶/۶۲) (صحیح)

۱۷۵۸- عروہ اور عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت ہے کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ سے ہدی بھیجتے تو میں آپ کی ہدی کے قلادے بٹتی اس کے بعد آپ کسی چیز سے اجتناب نہیں کرتے جس سے محرم اجتناب کرتا ہے۔

1759- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ، زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهُمَا جَمِيعًا، وَلَمْ يَحْفَظْ حَدِيثَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ هَذَا، وَلا حَدِيثَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ هَذَا، قَالا: قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْهَدْيِ فَأَنَا فَتَلْتُ قَلائِدَهَا بِيَدِي مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدَنَا، ثُمَّ أَصْبَحَ فِينَا حَلالا يَأْتِي مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ۔
* تخريج: خ/الحج (۱۷۰۵)، م/الحج ۶۴ (۱۳۲۱)، ن/الحج ۶۵ (۲۷۷۸)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۱۸، ۱۷۴۶۶) (صحیح)

۱۷۵۹- ام المومنین (عائشہ) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہدی روانہ کئے تو میں نے اپنے ہاتھ سے اس اون سے ان کے قلادے بٹے جو ہمارے پاس تھی پھر آپ ﷺ نے حلال ہو کر ہم میں صبح کی آپ نے وہ تمام کام کئے جو ایک حلال (غیر مُحرم) آدمی اپنی بیوی سے کرتا ہے۔
 
Last edited:

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
18- بَاب فِي رُكُوبِ الْبُدْنِ
۱۸- باب: ہدی کے اونٹوں پر سوار ہونے کا بیان​

1760- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ رَأَى رَجُلا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ: < ارْكَبْهَا > قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، فَقَالَ: <ارْكَبْهَا وَيْلَكَ > فِي الثَّانِيَةِ، أَوْ [فِي] الثَّالِثَةِ۔
* تخريج: خ/الحج ۱۰۳ (۱۶۸۹)، والوصایا ۱۲ (۲۷۵۵)، والأدب ۹۵ (۶۱۶۰)، م/الحج ۶۵ (۱۳۲۲)، ن/الحج ۷۴ (۲۸۰۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۳۸۰۱)، وقد أخرجہ: ق/المناسک ۱۰۰ (۳۱۰۳)، ط/الحج ۴۵ (۱۳۹)، حم (۲/۲۵۴، ۲۷۸، ۳۱۲، ۴۶۴، ۴۷۴، ۴۷۸) (صحیح)

۱۷۶۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہدی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس پر سوار ہو جاؤ‘‘، وہ بولا: یہ ہدی کا اونٹ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اس پر سوار ہو جاؤ، تمہارا برا ہو‘‘۱؎، یہ آپ ﷺ نے دوسری یا تیسری بار میں فرمایا۔
وضاحت۱؎: یہ آپ ﷺ نے بطور زجر و توبیخ کے فرمایا، کیوں کہ سواری کی اجازت آپ ﷺ پہلے دے چکے تھے، اور آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ یہ ہدی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہدی کے جانور پر سواری درست ہے، بعض لوگوں نے کہا کہ بوقت ضرورت و حاجت جائز ہے، اور بعض لوگوں نے کہا کہ جب جی چاہے سوار ہو سکتا ہے، خواہ حاجت ہو یا نہ ہو، اور بعض نے سوار ہونے کو واجب کہا ہے، کیوں کہ اس میں زمانہ جاہلیت کے طریقہ کی مخالفت ہے، وہ لوگ ایسے جانوروں کی ان کے درجہ سے زیادہ قدر و منزلت کرتے تھے۔

1761- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللَّهِ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ؛ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا، حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا >۔
* تخريج: م/الحج ۶۵ (۱۳۲۴)، ن/الحج ۷۶ (۲۸۰۴)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۸۰۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۱۷، ۳۲۴، ۳۲۵، ۳۴۸) (صحیح)

۱۷۶۱- ابو زبیرکہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ہدی پر سوار ہونے کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے، جب تم اس کے لئے مجبور کر دیئے جاؤ تو اس پر سوار ہو جاؤ بھلائی کے ساتھ یہاں تک کہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے امام ابو حنیفہ کے مذہب کی تائید ہوتی ہے، جنہوں نے سوار ہونے کے لئے حاجت و ضرورت کی قید لگائی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
19- بَاب فِي الْهَدْيِ إِذَا عَطِبَ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ
۱۹- باب: ہدی کا جانور اپنے مقام (مکہ) پر پہنچنے سے پہلے ہلاک ہو جائے تو کیا کیا جائے؟​

1762- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَاجِيَةَ الأَسْلَمِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَعَثَ مَعَهُ بِهَدْيٍ فَقَالَ: < إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَيْئٌ فَانْحَرْهُ؛ ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ؛ ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ >۔
* تخريج: ت/الحج ۷۱ (۹۱۰)، ن/الکبری /الأطعمۃ (۶۶۳۹)، ق/المناسک ۱۰۱ (۳۱۰۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۸۱)، وقد أخرجہ: ط/الحج ۴۷(۱۴۸)، حم (۴/۳۳۴)، دي/المناسک ۶۶ (۱۹۵۰) (صحیح)

۱۷۶۲- ناجیہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ ہدی بھیجا اور فرمایا: ’’اگر ان میں سے کوئی مرنے لگے تو اس کو نحر کر لینا پھر اس کی جوتی اسی کے خون میں رنگ کر اسے لوگوں کے واسطے چھوڑ دینا‘‘۔

1763- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ (ح) وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ؛ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فُلانًا الأَسْلَمِيَّ، وَبَعَثَ مَعَهُ بِثَمَانِ عَشْرَةَ بَدَنَةً، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ أُزْحِفَ عَلَيَّ مِنْهَا شَيْئٌ؟ قَالَ: < تَنْحَرُهَا ثُمَّ تَصْبُغُ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ اضْرِبْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا، وَلا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ > أَوْ قَالَ: < مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ >.
[قَالَ أَبودَاود: الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَوْلُهُ: < وَلا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِكَ >]، وَقَالَ فِي حَدِيثِ عَبْدِالْوَارِثِ: < [ثُمَّ] اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا > مَكَانَ <اضْرِبْهَا >.
[قَالَ أَبودَاود: سَمِعْت أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ: إِذَا أَقَمْتَ الإِسْنَادَ وَالْمَعْنَى، كَفَاكَ ]۔
* تخريج: م/الحج ۶۶ (۱۳۲۵)، ن/الکبری /الحج (۴۱۳۶)، وانظر أیضا ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۶۵۰۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۱۷، ۲۴۴، ۲۷۹) (صحیح)

۱۷۶۳- عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں اسلمی کو ہدی کے اٹھارہ اونٹ دے کر بھیجا تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کوئی (چلنے سے) عاجز ہو جائے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم اسے نحر کر دینا پھراس کے جوتے کو اسی کے خون میں رنگ کر اس کی گردن کے ایک جانب چھاپ لگا دینا اور اس میں سے کچھ مت کھانا۱؎ اور نہ ہی تمہارے ساتھ والوں میں سے کوئی کھائے، یا آپ ﷺ نے یوں فرمایا: ’’من أهل رفقتك‘‘ (یعنی تمہارے رفقاء میں سے کوئی نہ کھائے)۔
ابو داود کہتے ہیں: عبد الوارث کی حدیث میں ’’اضْرِبْهَا‘‘ کے بجائے ’’ثمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا‘‘ ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: میں نے ابو سلمہ کو کہتے سنا: جب تم نے سند اور معنی درست کر لیا تو تمہیں کافی ہے۔
وضاحت۱؎: تاکہ یہ الزام نہ آئے کہ ہدی کے جانور کو کھانا چاہتا تھا، اس لئے نحر (ذبح) کر ڈالا۔

1764- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَيَعْلَى ابْنَا عُبَيْدٍ قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه قَالَ: لَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بُدْنَهُ، فَنَحَرَ ثَلاثِينَ بِيَدِهِ، وَأَمَرَنِي فَنَحَرْتُ سَائِرَهَا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۲۱) (منکر)
(یہ روایت صحیح مسلم کی روایت کے خلاف ہے جس میں ہے کہ آپ ﷺ نے (۶۳) اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کئے، باقی علی رضی اللہ عنہ نے کئے)
۱۷۶۴- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی ہدی کے اونٹوں کا نحر کیا تو اپنے ہاتھ سے تیس اونٹ نحر کئے پھر مجھے حکم دیا تو باقی سارے میں نے نحر کئے۔

1765- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى (ح) وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، وَهَذَا لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُحَيٍّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ قُرْطٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < إِنَّ أَعْظَمَ الأَيَّامِ عِنْدَاللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ، ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ > قَالَ عِيسَى: قَالَ ثَوْرٌ]: وَهُوَ الْيَوْمُ الثَّانِي، وَقَالَ: وَقُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَدَنَاتٌ خَمْسٌ، أَوْ سِتٌّ، فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ، فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا، قَالَ: فَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَّةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا، فَقُلْتُ: مَا قَالَ؟ قَالَ: < مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۸۹۷۷)، وقد أخرجہ: ن/الکبری/الحج (۴۰۹۸)، حم (۴/۳۵۰) (صحیح)
۱۷۶۵- عبد اللہ بن قرط رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ’’اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک سب سے عظیم دن یوم النحر ہے پھر یوم القر ہے۱؎ ‘‘، اس دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے پانچ یا چھ اونٹنیاں لائی گئیں، تو ان میں سے ہر ایک آگے بڑھنے لگی کہ آپ نحر کی ابتدا اس سے کریں جب وہ گر گئیں تو آپ نے آہستہ سے کچھ کہا جو میں نہ سمجھ سکا تو میں نے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو چاہے اس میں سے گو شت کاٹ لے‘‘۔
وضاحت۱؎: عیسیٰ کہتے ہیں: ثور نے کہا: وہ دوسرا دن ہے، یعنی گیارہویں ذی الحجہ کا دن۔

1766- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الأَزْدِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ غُرْفَةَ بْنَ الْحَارِثِ الْكِنْدِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأُتِيَ بِالْبُدْنِ، فَقَالَ: < ادْعُوا لِي أَبَا حَسَنٍ > فَدُعِيَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِي اللَّه عَنْه، فَقَالَ [لَهُ]: <خُذْ بِأَسْفَلِ الْحَرْبَةِ> وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِأَعْلاهَا، ثُمَّ طَعَنَا بِهَا [فِي] الْبُدْنِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَكِبَ بَغْلَتَهُ، وَأَرْدَفَ عَلِيًّا رَضِي اللَّه عَنْه۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۱۹) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’عبد اللہ بن حارث کندی ازدی‘‘ لین الحدیث ہیں)
۱۷۶۶- عرفہ بن حارث کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا، ہدی کے اونٹ لائے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ابو الحسن (علی کی کنیت ہے) کو بلاؤ‘‘، چنانچہ آپ کے پاس علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر لایا گیا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’تم برچھی کا نچلا سرا پکڑو‘‘، اور رسول اللہ ﷺ نے اوپر کا سرا پکڑا پھر اونٹوں کو نحر کیا جب فارغ ہو گئے تو اپنے خچر پر سوار ہوئے اور علی کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
20- بَاب كَيْفَ تُنْحَرُ الْبُدْنُ؟
۲۰- باب: اونٹ کیسے نحر کئے جا ئیں؟​

1767- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا يَنْحَرُونَ الْبَدَنَةَ مَعْقُولَةَ الْيُسْرَى، قَائِمَةً عَلَى مَا بَقِيَ مِنْ قَوَائِمِهَا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۲۸۶۸) (صحیح)

۱۷۶۷- جابر سے روایت ہے (ابن جریج کہتے ہیں: نیز مجھے عبد الرحمن بن سابط نے (مرسلا) خبر دی ہے) کہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام اونٹ کا بایاں پاؤں باندھ کر اور باقی پیروں پر کھڑا کر کے اسے نحر کرتے۱؎ ۔
وضاحت۱ ؎: اونٹ کو سینہ پر مار کرذبح کرتے ہیں اس لیے نحرکا لفظ استعمال ہوا۔

1768- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ بِمِنًى، فَمَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَنْحَرُ بَدَنَتَهُ وَهِيَ بَارِكَةٌ، فَقَالَ: ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ مُحَمَّدٍ ﷺ۔
* تخريج: خ/الحج ۱۱۸ (۱۷۱۳)، م/الحج ۶۳ (۱۳۲۰)، ن/الکبری/ الحج (۴۱۳۴)، ( تحفۃ الأشراف: ۶۷۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳، ۸۶، ۱۳۹) دي/المناسک ۷۰ (۱۹۵۵) (صحیح)

۱۷۶۸- یونس کہتے ہیں مجھے زیاد بن جبیرنے خبر دی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں منیٰ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ ان کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو اپنا اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا انہوں نے کہا: کھڑا کر کے (بایاں پیر) باندھ کر نحر کرو، یہی محمد ﷺ کا طریقہ تھا۔

1769- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ -يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ- عَنْ عَبْدِالْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْه قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَقْسِمَ جُلُودَهَا وَجِلالَهَا، وَأَمَرَنِي أَنْ لاأُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا شَيْئًا، وَقَالَ: < نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا >۔
* تخريج: خ/الحج ۱۲۰ (۱۷۱۶)، ۱۲۱(۱۷۱۷)، م/الحج ۶۱ (۱۳۱۷)، ن/ الکبری/ الحج (۴۱۴۶، ۴۱۴۷)، ق/المناسک ۹۷ (۳۰۹۹)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۱۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/ ۷۹، ۱۲۳، ۱۳۲، ۱۴۳، ۱۵۴، ۱۵۹)، دي/المناسک ۸۹ (۱۹۸۳) (صحیح)

۱۷۶۹- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے ہدی کے اونٹوں کے پاس کھڑا ہو کر ان کی کھالیں اور جھولیں تقسیم کروں اور مجھے حکم دیا کہ اس میں سے قصاب کو کچھ بھی نہ دوں اور فرمایا: اسے ہم اپنے پاس سے (اجرت) دیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21- بَاب فِي وَقْتِ الإِحْرَامِ
۲۱- باب: احرام کے وقت کا بیان​

1770- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ -يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ- حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي خُصَيْفُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الْجَزَرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِاللَّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ! عَجِبْتُ لاخْتِلافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي إِهْلالِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حِينَ أَوْجَبَ، فَقَالَ: إِنِّي لأَعْلَمُ النَّاسِ بِذَلِكَ، إِنَّهَا إِنَّمَا كَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَجَّةً وَاحِدَةً، فَمِنْ هُنَاكَ اخْتَلَفُوا، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَاجًّا، فَلَمَّا صَلَّى فِي مَسْجِدِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْهِ أَوْجَبَ فِي مَجْلِسِهِ، فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَحَفِظْتُهُ عَنْهُ، ثُمَّ رَكِبَ فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا كَانُوا يَأْتُونَ أَرْسَالا فَسَمِعُوهُ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ يُهِلُّ، فَقَالُوا: إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ، ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَلَمَّا عَلا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ، وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَقَالُوا: إِنَّمَا أَهَلَّ حِينَ عَلا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَوْجَبَ فِي مُصَلاهُ وَأَهَلَّ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ وَأَهَلَّ حِينَ عَلا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ سَعِيدٌ: فَمَنْ أَخَذَ بِقَوْلِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَهَلَّ فِي مُصَلاهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۵۵۰۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۶۰) (ضعیف الإسناد)
(اس کے راوی ’’خصیف‘‘ کا حافظہ کمزورتھا، مگر حدیث میں مذکور تفصیل صحیح ہے)
۱۷۷۰- سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: ابوا لعباس! مجھے تعجب ہے کہ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کے احرام باندھنے کے سلسلے میں اختلاف رکھتے ہیں کہ آپ نے احرام کب باندھا؟ تو انہوں نے کہا: اس بات کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، چونکہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ہی حج کیا تھا اسی وجہ سے لوگوں نے اختلاف کیا ہے، رسول اللہ ﷺ حج کی نیت کر کے مدینہ سے نکلے، جب ذی الحلیفہ کی اپنی مسجد میں آپ نے اپنی دو رکعتیں ادا کیں تو اسی مجلس میں آپ ﷺ نے احرام باندھا اور دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد حج کا تلبیہ پڑھا، لوگوں نے اس کو سنا اور میں نے اس کو یاد رکھا، پھرآپ ﷺ سوار ہوئے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا، بعض لوگوں نے اس وقت آپ ﷺ کو تلبیہ پڑھتے ہوئے پایا، اور یہ اس وجہ سے کہ لوگ الگ الگ ٹکڑیوں میں آپ کے پاس آتے تھے، تو جب آپ ﷺ کی اونٹنی آپ کو لے کر اٹھی تو انہوں نے آپ کو تلبیہ پکارتے ہوئے سنا تو کہا: آپ نے تلبیہ اس وقت کہا ہے جب آپ کی اونٹنی آپ کو لیکر کھڑی ہوئی پھر رسول اللہ ﷺ چلے، جب مقام بیداء کی اونچائی پر چڑھے تو تلبیہ کہا تو بعض لوگوں نے اس وقت اسے سنا تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے اسی وقت تلبیہ کہا ہے جب آپ بیداء کی اونچائی پر چڑھے حالاں کہ اللہ کی قسم آپ نے وہیں تلبیہ کہا تھا جہاں آپ نے صلاۃ پڑھی تھی، پھر آپ ﷺ نے اس وقت تلبیہ کہا جب اونٹی آپ کو لے کر سیدھی ہوئی اور پھر آپ نے بیداء کی اونچائی چڑھتے وقت تلبیہ کہا۔
سعید کہتے ہیں: جس نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کو لیا تو اس نے اس جگہ پر جہاں اس نے صلاۃ پڑھی اپنی دونوں رکعتوں سے فارغ ہو نے کے بعد تلبیہ کہا۔

1771- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَيْدَاؤُكُمْ هَذِهِ الَّتِي تَكْذِبُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِيهَا، مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ، يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ۔
* تخريج: خ/الحج ۲ (۱۵۱۵)، ۲۰ (۱۵۴۱)، والجھاد ۵۳ (۲۸۶۵)، م/الحج ۳، ۴ (۱۱۸۶)، ت/الحج ۸ (۸۱۸)، ن/الحج ۵۶ (۲۷۵۸)، وانظر أیضا ما بعدہ، ( تحفۃ الأشراف: ۷۰۲۰)، وقد أخرجہ: ق/المناسک ۱۴ (۲۹۱۶)، ط/الحج ۹ (۳۰)، حم (۲/۱۰، ۱۷، ۱۸، ۲۹، ۳۶، ۳۷، ۶۶، ۱۵۴)، دي/المناسک ۸۲ (۱۹۷۰) (صحیح)

۱۷۷۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ یہی وہ بیداء کا مقام ہے جس کے بارے میں تم لوگ رسول اللہ ﷺ سے غلط بیان کرتے ہو کہ آپ نے تو مسجد یعنی ذی الحلیفہ کی مسجد کے پاس ہی سے تلبیہ کہا تھا۔

1772- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمَنِ ! رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا، قَالَ: مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ ؟ قَالَ: رَأَيْتُكَ لا تَمَسُّ مِنَ الأَرْكَانِ إِلا الْيَمَانِيَّيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْهِلالَ وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى كَانَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، فَقَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَمَّا الأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَمَسُّ إِلا الْيَمَانِيَّيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعْرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَصْبُغُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا، وَأَمَّا الإِهْلالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ۔
* تخريج: خ/الوضوء ۳۰ (۱۶۶)، والحج ۲۸ (۱۵۵۲) (مختصرا) ۵۹ (۱۶۰۹) (مختصرا)، واللباس ۳۷ (۵۸۵۱)، م/الحج ۵ (۱۱۸۷)، ت/الشمائل ۱۰ (۷۴)، ن/الطھارۃ ۹۵ (۱۱۷)، ق/اللباس ۳۴ (۳۶۲۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۷۳۱۶)، وقد أخرجہ: ط/الحج ۹(۳۱)، حم (۲/۱۷، ۲۶،۱۱۰) (صحیح)

۱۷۷۲- عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ابو عبدالرحمن! میں نے آپ کو چار کام ایسے کرتے دیکھا ہے جنہیں میں نے آپ کے اصحاب میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا ہے؟ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہیں ابن جریج؟ وہ بولے: میں نے دیکھا کہ آپ صرف رکن یمانی اور حجر اسود کو چھوتے ہیں، اور دیکھا کہ آپ ایسی جوتیاں پہنتے ہیں جن کے چمڑے میں بال نہیں ہوتے، اور دیکھا آپ زرد خضاب لگاتے ہیں، اور دیکھا کہ جب آپ مکہ میں تھے تو لوگوں نے چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لیا لیکن آپ نے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کے آنے تک احرام نہیں باندھا، تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رہی رکن یمانی اور حجر اسود کی بات تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو صرف انہیں دو کو چھوتے دیکھا ہے، اور رہی بغیر بال کی جوتیوں کی بات تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسی جوتیاں پہنتے دیکھی ہیں جن میں بال نہیں تھے اور آپ ان میں وضو کرتے تھے، لہٰذا میں بھی انہی کو پہننا پسند کرتا ہوں، اور رہی زرد خضاب کی بات تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو زرد رنگ کا خضاب لگاتے دیکھا ہے، لہٰذا میں بھی اسی کو پسند کرتا ہوں، اور احرام کے بارے میں یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت تک لبیک پکارتے نہیں دیکھا جب تک کہ آپ کی سواری آپ کو لے کر چلنے کے لئے کھڑی نہ ہو جاتی۔

1773- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَصَلَّى الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ بَاتَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ حَتَّى أَصْبَحَ، فَلَمَّا رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَاسْتَوَتْ بِهِ أَهَلَّ۔
* تخريج: خ/الحج ۲۴ (۱۵۴۶)، م/المسافرین ۱ (۶۹۰)، ن/الصلاۃ ۱۱ (۳۷۸، ۴۷۰)، ت/الصلاۃ ۲۷۴ (۵۴۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۳۷، ۳۷۸) (صحیح)

۱۷۷۳- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں ظہر چار رکعت اور ذی الحلیفہ میں عصر دو رکعت ادا کی، پھر ذی الحلیفہ میں رات گزاری یہاں تک کہ صبح ہو گئی ، جب آپ ﷺ اپنی سواری پر بیٹھے اور وہ آپ کو لے کر سیدھی ہو گئی تو آپ نے تلبیہ پڑھا۔

1774- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ،عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ؛ فَلَمَّا عَلا عَلَى جَبَلِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ۔
* تخريج: ن/الحج ۲۵ (۲۶۶۳)، ۵۶ (۲۷۵۶)، ۱۴۳ (۲۹۳۴)، ( تحفۃ الأشراف: ۵۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۰۷)، دي/الحج ۱۲ (۱۸۴۸) (صحیح لغیرہ)
(اس حدیث کے روای حسن بصری ہیں جو مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اس کی اصل سابقہ حدیث نمبر : (۱۷۷۳) ہے، اس سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
۱۷۷۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر پڑھی، پھر اپنی سواری پربیٹھے جب بیداء کے پہاڑ پر چڑھے تو تلبیہ پڑھا۔

1775- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ -يَعْنِي ابْنَ جَرِيرٍ- قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ (مُحَمَّدَ) بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَتْ: قَالَ سَعْدُ (بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ): كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ إِذَا أَخَذَ طَرِيقَ الْفُرْعِ أَهَلَّ إِذَا اسْتَقَلَّتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، وَإِذَا أَخَذَ طَرِيقَ أُحُدٍ أَهَلَّ إِذَا أَشْرَفَ عَلَى جَبَلِ الْبَيْدَاءِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۳۹۵۶) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’ابن اسحاق‘‘ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
۱۷۷۵- عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص کہتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ اللہ کے نبی اکرم ﷺ جب فرع کا راستہ (جو مکہ کو جاتا ہے) اختیار کرتے تو جب آپ ﷺ کی سواری آپ کو لے کر سیدھی ہو جاتی تو آپ تلبیہ پڑھتے اور جب آپ احد کا راستہ اختیار کرتے تو بیداء کی پہاڑی پر چڑھتے وقت تلبیہ پڑھتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
22- بَاب الاشْتِرَاطِ فِي الْحَجِّ
۲۲- باب: حج میں شرط لگانے کا بیان​

1776- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ أَشْتَرِطُ؟ قَالَ: < نَعَمْ > قَالَتْ: فَكَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ: < قُولِي: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، وَمَحِلِّي مِنَ الأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي >۔
* تخريج: ت/الحج ۱۷ (۹۴۱)، ن/الحج ۶۰ (۲۷۶۷)، ( تحفۃ الأشراف: ۵۷۵۴، ۶۲۱۴، ۶۲۳۲)، وقد أخرجہ: م/الحج ۱۵ (۱۲۰۸)، ق/المناسک ۲۴ (۲۹۳۶)، حم (۱/۳۳۷، ۳۵۲)، دي/المناسک ۱۵ (۱۸۵۲) (حسن صحیح)

۱۷۷۶- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں حج میں شرط لگانا چاہتی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں، (لگا سکتی ہو)‘‘، انہوں نے کہا: تو میں کیسے کہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو! ’’لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، وَمَحِلِّي مِنَ الأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي‘‘ (حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں، اور میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
23- بَاب فِي إِفْرَادِ الْحَجِّ
۲۳- باب: حج افراد کا بیان​

1777- حَدَّثَنَا (عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ) الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَفْرَدَ الْحَجَّ۔
* تخريج: م/الحج ۱۷ (۱۲۱۱)، ت/الحج ۱۰ (۸۲۰)، ن/الحج ۴۸ (۲۷۱۶)، ق/المناسک ۳۷ (۲۹۶۴)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۱۷)، وقد أخرجہ: ط/الحج ۱۱(۳۷)، حم (۶/۲۴۳)، دي/المناسک ۱۶ (۱۸۵۳) (صحیح الإسناد)

۱۷۷۷- ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حج افراد۱؎ کیا۔
وضاحت۱؎ : حج کے مہینے میں میقات سے صرف حج کی نیت سے احرام باندھنے کو افراد کہتے ہیں، نبی کریم ﷺ کے بارے میں صحیح یہ ہے کہ آپ نے حج قِران کیا تھا، اس لئے کہ آپ ﷺ کے ساتھ ہدی کے جانور تھے، ورنہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا تھا کہ جن کے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہو وہ عمرہ پورا کر کے احرام کھول دیں، یعنی حج قران کو حج تمتع میں بدل دیں، دیکھئے حدیث نمبر: (۷۹۵)۔

1778- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ (ح) وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ- (ح) وَحَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مُوَافِينَ هِلالَ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَالَ: < مَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ >، قَالَ مُوسَى فِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ: < فَإِنِّي لَوْلا أَنِّي أَهْدَيْتُ لأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ >، وَقَالَ فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ: < وَأَمَّا أَنَا فَأُهِلُّ بِالْحَجِّ فَإِنَّ مَعِي الْهَدْيَ > ثُمَّ اتَّفَقُوا: فَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: < مَا يُبْكِيكِ؟ > قُلْتُ: وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ خَرَجْتُ الْعَامَ، قَالَ: < ارْفِضِي عُمْرَتَكِ، وَانْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي >، قَالَ مُوسَى: < وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ >، وَقَالَ سُلَيْمَانُ: < وَاصْنَعِي مَا يَصْنَعُ الْمُسْلِمُونَ فِي حَجِّهِمْ > فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الصَّدَرِ أَمَرَ -(يَعْنِي) رَسُولَ اللَّهِ ﷺ- عَبْدَالرَّحْمَنِ فَذَهَبَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ زَادَ مُوسَى: فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِهَا، وَطَافَتْ بِالْبَيْتِ، فَقَضَى اللَّهُ عُمْرَتَهَا وَحَجَّهَا قَالَ هِشَامٌ: وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْئٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْيٌ .
(قَالَ أَبو دَاود) زَادَ مُوسَى فِي حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ: فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْبَطْحَاءِ طَهُرَتْ عَائِشَةُ، رَضِي اللَّه عَنْهَا۔
* تخريج: حدیث سلیمان بن حرب عن حماد بن زید قد أخرجہ: ن/الحج ۱۸۵ (۲۹۹۳)، ۱۸۶ (۲۹۹۴)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۶۳، ۱۶۸۸۲)، وحدیث موسی بن اسماعیل عن حماد بن سلمۃ وموسی بن اسماعیل عن وہیب، قد تفرد بہما أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۲۹۵) ، وقد أخرجہ: خ/الحیض ۱ (۲۹۴)، ۷ (۳۰۵)، ۱۵(۳۱۶)، ۱۶ (۳۱۷)، ۱۸ (۳۱۹)، الحج/۳۱ (۱۵۵۶)، ۳۳ (۱۵۶۰)، ۳۴ (۱۵۶۲)، ۷۷ (۱۶۳۸)، ۱۱۵ (۱۷۰۹)، ۱۲۴ (۱۷۲۰)، ۱۴۵ (۱۷۵۷)، العمرۃ ۷ (۱۷۸۶)، ۹ (۱۷۸۸)، الجھاد ۱۰۵ (۲۹۵۲)، المغازي ۷۷ (۴۳۹۵)، م/الحج ۱۷ (۱۲۱۱)، ن/الطھارۃ ۱۸۳ (۲۹۱) ق/الحج ۳۶ (۲۹۶۳) (صحیح)

۱۷۷۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ذی الحجہ کا چاند نکلنے کو ہوا تو ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، جب آپ ذی الحلیفہ پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو حج کا احرام باندھنا چاہے وہ حج کا احرام باندھے، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا باندھے‘‘۔
موسیٰ نے وہیب والی روایت میں کہا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر میں ہدی نہ لے چلتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا‘‘۔
اور حماد بن سلمہ کی حدیث میں ہے: ’’رہا میں تو میں حج کا احرام باندھتا ہوں کیونکہ میرے ساتھ ہدی ہے‘‘ ۔
آگے دونوں راوی متفق ہیں (ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں) میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں تھی، آپ ابھی راستہ ہی میں تھے کہ مجھے حیض آگیا، آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، میں رو رہی تھی، آپ ﷺ نے پوچھا: ’’کیوں رو رہی ہو؟‘‘، میں نے عرض کیا: میری خواہش یہ ہو رہی ہے کہ میں اس سال نہ نکلتی (تو بہتر ہوتا)، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اپنا عمرہ چھوڑ دو، سر کھول لو اور کنگھی کر لو‘‘۔
موسیٰ کی روایت میں ہے: ’’اور حج کا احرام باندھ لو‘‘، اور سلیمان کی روایت میں ہے:’’ اور وہ تمام کام کرو جو مسلمان اپنے حج میں کرتے ہیں‘‘۔
تو جب طواف زیارت کی رات ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے عبد الرحمن کو حکم دیا چنانچہ وہ انہیں مقام تنعیم لے کرگئے۔
موسیٰ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے اس عمر ے کے عوض (جو ان سے چھوٹ گیا تھا) دوسرے عمرے کا احرام باندھا اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس طرح اللہ نے ان کے عمرے اور حج دونوں کو پورا کر دیا۔
ہشام کہتے ہیں: اور اس میں ان پر اس سے کوئی ہدی لازم نہیں ہوئی۔
ابو داود کہتے ہیں: موسی نے حماد بن سلمہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے کہ جب بطحاء۱؎ کی رات آئی تو عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں۔
وضاحت۱؎: بطحاء سے مراد منیٰ ہے، یعنی قیام منیٰ کے ایام کی کسی رات میں وہ پاک ہو گئیں، علامہ عینی کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا حیض تین ذی الحجہ بروز سنیچر مقام سرف میں شروع ہوا تھا، اور دسویں ذی الحجہ کو سنیچر کے روز پاک ہوئیں۔

1779- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ (عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ) عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، وَأَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْحَجِّ، فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَلَمْ يُحِلُّوا حَتَّى كَانَ يَوْمَ النَّحْرِ.
* تخريج: خ/البخاری ۳۴ (۱۵۶۲)، المغازی ۷۸ (۴۴۰۸)، م/الحج ۱۷ (۱۲۱۱)، ن/الحج ۴۸ (۲۷۱۷)، ق/ الحج ۳۷ (۲۹۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۸۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۶، ۱۰۴، ۱۰۷، ۲۴۳) (صحیح)

۱۷۷۹- ام المومنین عا ئشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے ہم میں کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا، اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا، اور کچھ ایسے تھے جنہوں نے صرف حج کا احرام باندھا، رسول اللہ ﷺ نے حج کا احرام باندھا، چنانچہ جن لوگوں نے حج کا یا حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا انھوں نے یوم النحر (یعنی دسویں ذی الحجہ) تک احرام نہیں کھولا۔

1780- حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ زَادَ: < فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَحَلَّ >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۸۹) (صحیح)

۱۷۸۰- اس سند سے بھی ابو الاسود سے اسی طریق سے اسی کے مثل مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: ’’رہے وہ لوگ جنہوں نے صرف عمرے کا احرام باندھا تھا تو ان لوگوں نے (عمرہ کر کے) احرام کھول دیا‘‘۔

1781- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ: ثُمَّ لايَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا > فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَلابَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: < انْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ، وَدَعِي الْعُمْرَةَ >، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَعَ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ: < هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ > قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، وَأَمَّا الَّذِينَ كَانُوا جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَمَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرُوا طَوَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِعُمْرَةٍ وَطَوَافَ الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ۔
* تخريج: خ/ الحج ۳۱ (۱۵۵۶)، ۷۷ (۱۶۳۸)، م/الحج ۱۷ (۱۲۱۱)، ن/ الحج ۵۸ (۲۷۶۵)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۹۱)، وقد أخرجہ: ط/الحج ۷۴ (۲۲۳)، حم (۶/۳۵، ۱۷۷) (صحیح)

۱۷۸۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس کے ساتھ ہدی ہو تو وہ عمرے کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے پھر وہ حلال نہیں ہو گا جب تک کہ ان دونوں سے ایک ساتھ حلال نہ ہو جائے‘‘، چنانچہ میں مکہ آئی، میں حائضہ تھی، میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور نہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، لہٰذا میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: ’’اپنا سر کھول لو، کنگھی کر لو، حج کا احرام باندھ لو، اور عمرے کو ترک کر دو‘‘، میں نے ایسا ہی کیا، جب میں نے حج ادا کر لیا تو مجھے رسول اللہ ﷺ نے (میرے بھائی) عبد الرحمن بن ابی بکرکے ساتھ مقام تنعیم بھیجا (تو میں وہاں سے احرام باندھ کر آئی اور) میں نے عمرہ ادا کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’ یہ تمہارے عمرے کی جگہ پر ہے‘‘، ام المومنین عائشہ کہتی ہیں: چنانچہ جنہوں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، پھر ان لوگوں نے احرام کھول دیا، پھرجب منیٰ سے لوٹ کر آئے تو حج کا ایک اور طواف کیا، اور رہے وہ لوگ جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا۱؎۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے ابراہیم بن سعد اورمعمرنے ابن شہاب سے اسی طرح روایت کیا ہے انہوں نے ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے عمرہ کے طواف کا احرام باندھا، اور ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا ذکر نہیں کیا۔
وضاحت۱؎: اسی طرح حج افراد کا احرام باندھنے والوں نے بھی ایک ہی طواف کیا، واضح رہے کہ مفرد ہو یا متمتع یا قارن سب کے لئے طوافِ زیارت فرض ہے، اور متمتع پر صفا و مروہ کی دو سعی واجب ہے، جب کہ قارن کے لئے صرف ایک سعی کافی ہے، خواہ طواف قدوم (یا عمرہ) کے وقت کر لے یا طواف زیارت کے بعد، یہی مسئلہ مفرد حاجی کے لئے بھی ہے، واضح رہے کہ بعض حدیثوں میں ’’سعی‘‘ کے لئے بھی ’’طواف ‘‘ کا لفظ وارد ہوا ہے۔

1782- حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: < مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ؟ > فَقُلْتُ: حِضْتُ لَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ حَجَجْتُ، فَقَالَ: < سُبْحَانَ اللَّهِ!! إِنَّمَا ذَلِكَ شَيْئٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ >، فَقَالَ: < انْسُكِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنْ لا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ >، فَلَمَّا دَخَلْنَا مَكَّةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ شَاءَ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً، فَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً إِلا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ >، قَالَتْ: وَذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ نِسَائِهِ الْبَقَرَ يَوْمَ النَّحْرِ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْبَطْحَاءِ، وَطَهُرَتْ عَائِشَةُ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَرْجِعُ صَوَاحِبِي بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِالْحَجِّ؟ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَذَهَبَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فَلَبَّتْ بِالْعُمْرَةِ۔
* تخريج: م/الحج ۱۷ (۱۲۱۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۱۹) (صحیح)
(لیکن یہ جملہ’’من شاء أن يجعلها...الخ‘‘ صحیح نہیں ہے جو اس روایت میں ہے، صحیح جملہ یوں ہے ’’اجعلوها عمرة‘‘ یعنی حکم دیا کہ عمرہ بنا ڈالو)
۱۷۸۲- ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا یہاں تک کہ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آگیا، رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: ’’عا ئشہ! تم کیوں رو رہی ہو؟‘‘، میں نے کہا: مجھے حیض آگیا کاش میں نے (امسال) حج کا ارادہ نہ کیا ہوتا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’اللہ کی ذات پاک ہے، یہ تو بس ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے واسطے لکھ دی ہے‘‘، پھر فرمایا:’’ تم حج کے تمام مناسک ادا کرو البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ۱؎ کرو‘‘ پھر جب ہم مکہ میں داخل ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جو اسے عمرہ بنانا چاہے تو وہ اسے عمرہ بنا لے۲؎ سوائے اس شخص کے جس کے ساتھ ہدی ہو‘‘، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: اور رسول اللہ ﷺ نے یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو اپنی ازواج مطہرات کی جانب سے گائے ذبح کی۔
جب بطحاء کی رات ہوئی اور عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پا ک ہو گئیں تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میرے ساتھ والیاں حج و عمرہ دونوں کر کے لوٹیں گی اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی؟! تو رسول اللہ ﷺ نے عبد الرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا وہ انہیں لے کر مقام تنعیم گئے پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہ نے وہاں سے عمرہ کا تلبیہ پڑھا۔
وضاحت۱؎: طواف ایک ایسی عبادت ہے جس میں طہارت شرط ہے اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو طواف سے روک دیا، طواف کے علاوہ حائضہ حج کے تمام ارکان ادا کرے گی۔
وضاحت۲؎: جیسا کہ مذکور ہوا یہ جملہ جو اس روایت میں ہے صحیح نہیں ہے، صحیح جملہ یوں ہے: ’’تم اپنے حج کوعمرہ بنا ڈالو سوائے اس شخص۔۔۔الخ‘‘

1783- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (وَ)لاَ نَرَى إِلا أَنَّهُ الْحَجّ، فَلَمَّا قَدِمْنَا تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يُحِلَّ، فَأَحَلَّ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ۔
* تخريج: خ/ الحج ۳۴ (۱۵۶۱)، م/ الحج ۱۷ (۱۲۱۱)، ن/ الکبری، الحج (۳۷۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۸۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۸۹، ۱۹۱، ۱۹۲، ۲۱۰) (صحیح)

۱۷۸۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم (مکہ) آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جو اپنے ساتھ ہدی نہ لایا ہو وہ حلال۱؎ ہو جائے، چنانچہ وہ تمام لوگ حلال ہو گئے جو ہدی لے کر نہیں آئے تھے۔
وضاحت۱؎ : یعنی اپنا احرام کھول دے۔

1784- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ (الذُّهَلِيّ)ُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَااسْتَدْبَرْتُ لَمَّا سُقْتُ الْهَدْيَ > قَالَ مُحَمَّدٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: < وَلَحَلَلْتُ مَعَ الَّذِينَ أَحَلُّوا مِنَ الْعُمْرَةِ > قَالَ: أَرَادَ أَنْ يَكُونَ أَمْرُ النَّاسِ وَاحِدًا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۷۴۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۴۷) (صحیح)

۱۷۸۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر مجھے پہلے یہ بات معلوم ہو گئی ہوتی جو اب معلوم ہوئی ہے تو میں ہدی نہ لاتا‘‘، محمد بن یحییٰ ذہلی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے کہا: ’’اور میں ان لوگوں کے ساتھ حلال ہو جاتا جو عمرہ کے بعد حلال ہو گئے‘‘، آپ ﷺ نے چاہا کہ سب لوگوں کا معاملہ یکساں ہو۱؎ ۔
وضاحت۱؎: کہ جو حج کا احرام باندھ کر آئے اور ہدی ساتھ نہ لائے تو وہ طواف اور سعی کر کے احرام کھول دیں، نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع میں لوگوں کی آسانی کے لئے ایسا حکم فرمایا تاکہ اس سے مشرکین کی مخالفت ہو، بعض لوگوں کو اس میں تردد ہوا تو آپ ﷺ ان پر ناراض ہوئے، اس حدیث کی بنا پر بعض ائمہ کے یہاں حج تمتع ہی واجب اور افضل ہے، (ملاحظہ ہو: زاد المعاد) ۔

1785- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَقْبَلْنَا مُهِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِالْحَجِّ مُفْرَدًا، وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ مُهِلَّةً بِعُمْرَةٍ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِسَرِفَ عَرَكَتْ، حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْكَعْبَةِ، وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، قَالَ: فَقُلْنَا: حِلُّ مَاذَا؟ فَقَالَ: <الْحِلُّ كُلُّهُ > فَوَاقَعْنَا النِّسَاءَ، وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ، وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا، وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلا أَرْبَعُ لَيَالٍ، ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ، ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى عَائِشَةَ فَوَجَدَهَا تَبْكِي، فَقَالَ: < مَا شَأْنُكِ؟ > قَالَتْ: شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ، وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلُلْ، وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ، وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَى الْحَجِّ الآنَ، فَقَالَ: < إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ > فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتِ الْمَوَاقِفَ حَتَّى إِذَا طَهُرَتْ طَافَتْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ قَالَ: < قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ جَمِيعًا > قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حِينَ حَجَجْتُ، قَالَ: < فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَالرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ >، وَذَلِكَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ۔
* تخريج: م/الحج ۱۶ (۱۲۱۰)، ۱۷ (۱۲۱۳)، ن/الحج ۵۸ (۲۷۶۴)، ق/المناسک ۱۲ (۲۹۱۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۹۰۸)، وقد أخرجہ: ط/الحج ۴۱(۱۲۶)، حم (۳/۳۹۴)، دي/المناسک ۱۱ (۱۸۴۵) (صحیح)

۱۷۸۵- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج افراد کا احرام باندھ کر آئے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا عمرے کا احرام باندھ کر آئیں، جب وہ مقام سرف میں پہنچیں تو انہیں حیض آگیا یہاں تک کہ جب ہم لوگ مکہ پہنچے تو ہم نے کعبۃ اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جن کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول دیں، ہم نے کہا: کیا کیا چیزیں حلال ہوں گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہر چیز حلال ہے‘‘، چنانچہ ہم نے عورتوں سے صحبت کی، خوشبو لگائی، اپنے کپڑے پہنے حالاں کہ عرفہ میں صرف چار راتیں باقی تھیں، پھر ہم نے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو احرام باندھا، پھر رسول اللہ ﷺ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہیں روتے پایا، پوچھا: ’’کیا بات ہے؟‘‘، وہ بولیں: مجھے حیض آگیا لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن میں نے نہیں کھولا اور نہ میں بیت اللہ کا طواف ہی کر سکی ہوں، اب لوگ حج کے لئے جا رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ (حیض) ایسی چیز ہے جسے اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لئے لکھ دیا ہے لہٰذا تم غسل کر لو پھر حج کا احرام باندھ لو‘‘، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اور سارے ارکان ادا کئے جب حیض سے پاک ہو گئیں تو بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا:’’ اب تم حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو گئیں‘‘‘، وہ بولیں: اللہ کے رسول! میرے دل میں خیال آتا ہے کہ میں بیت اللہ کا طواف (قدوم) نہیں کر سکی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’عبد الرحمن! انہیں لے جاؤ، اور تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ‘‘، یہ واقعہ حصبہ۱؎ کی رات کا تھا ۔
وضاحت۱؎: یعنی ذی الحجہ کی چودہویں رات کو، جس رات کو محصب میں اترتے ہیں یا تیرہویں رات کو اگر بارہویں تاریخ کو منیٰ سے واپسی ہو، محصب: ایّام تشریق کے بعد منیٰ سے لوٹتے وقت راستے میں مکہ سے قریب ایک مقام کا نام ہے۔

1786- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُوالزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا قَالَ: (دَخَلَ النَّبِيُّ ﷺ عَلَى عَائِشَةَ) بِبَعْضِ هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَال عِنْدَ قَوْلِهِ: < وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ > ثُمَّ حُجِّي وَاصْنَعِي مَا يَصْنَعُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاتَطُوفِي بِالْبَيْتِ وَلا تُصَلِّي۔
* تخريج: م/ الحج ۱۷ (۱۲۱۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۸۱۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۰۹) (صحیح )

۱۷۸۶- ابو الزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آگے اسی قصہ کا کچھ حصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ اپنے قول’’وَاَهِلِّيْ بِالْحَجِِّ‘‘ (یعنی حج کا احرام باندھ لو) کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: ’’پھر حج کرو اور وہ تمام کام کرو جو ایک حاجی کرتا ہے البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا اور صلاۃ نہ پڑھنا‘‘۔

1787- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِالْحَجِّ خَالِصًا لايُخَالِطُهُ شَيْئٌ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَطُفْنَا وَسَعَيْنَا، ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ نُحِلَّ وَقَالَ: < لَوْلا هَدْيِي لَحَلَلْتُ > ثُمَّ قَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ مُتْعَتَنَا هَذِهِ (أَ)لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلأَبَدِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < بَلْ هِيَ لِلأَبَدِ> قَالَ الأَوْزَاعِيُّ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا فَلَمْ أَحْفَظْهُ، حَتَّى لَقِيتُ ابْنَ جُرَيْجٍ فَأَثْبَتَهُ لِي۔
* تخريج: ق/الحج ۴۱ (۲۹۸۰)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۴۲۶، ۲۴۵۹)، وقد أخرجہ: م/الحج ۱۷ (۱۲۱۶)، ن/الحج ۷۷ (۲۸۰۷) (صحیح)

۱۷۸۷- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صرف حج کا احرام باندھا اس میں کسی اور چیز کوشامل نہیں کیا، پھر ہم ذی الحجہ کی چار راتیں گزرنے کے بعد مکہ آئے تو ہم نے طواف ک یا ، سعی کی، پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم دے دیا اور فرمایا: ’’اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا‘‘، پھر سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! یہ ہمارا متعہ (حج کا متعہ) اسی سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’(نہیں) بلکہ یہ ہمیشہ کے لئے ہے‘‘ ۱؎ ۔
اوزاعی کہتے ہیں: میں نےعطا بن ابی رباح کو اسے بیان کرتے سنا تو میں اسے یا د نہیں کر سکا یہاں تک کہ میں ابن جریج سے ملا تو انہوں نے مجھے اسے یاد کرا دیا۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے امام احمد کے اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ جو حج کا احرام باندھ کر آئے اور ہدی ساتھ نہ لائے وہ طواف اورسعی کرکے احرام کھول سکتا ہے، یعنی حج کو عمرہ میں تبدیل کر سکتا ہے۔

1788- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ (أَبِي رَبَاحٍ)، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَصْحَابُهُ لأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَلَمَّا طَافُوا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <اجْعَلُوهَا عُمْرَةً إِلا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيَ > فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ قَدِمُوا فَطَافُوا بِالْبَيْتِ، وَلَمْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۲۴۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۶۲) (صحیح)

۱۷۸۸- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ذی الحجہ کی چار راتیں گزرنے کے بعد (مکہ) آئے، جب انھوں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ تم سب اسے عمرہ بنا لو سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی ہو‘‘، پھر جب یوم الترویہ (آٹھواں ذی الحجہ) ہوا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا، جب یوم النحر (دسواں ذی الحجہ) ہوا تو وہ لوگ (مکہ) آئے اور انھوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی نہیں کی۱؎ ۔
وضاحت۱؎: کیونکہ پہلی سعی کافی تھی البتہ جو شخص حج سے پہلے سعی نہ کرسکا ہو اس کو طواف زیارت کے بعد سعی کرنا ضروری ہو گا۔

1789- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ -يَعْنِي الْمُعَلِّمَ- عَنْ عَطَائٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَهَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ، وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ هَدْيٌ، إِلا النَّبِيَّ ﷺ وَطَلْحَةَ وَكَانَ عَلِيٌّ رَضِي اللَّه عَنْه قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ (وَ)مَعَهُ الْهَدْيُ فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَإِنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَجْعَلُوهَا عُمْرَةً: يَطُوفُوا، ثُمَّ يُقَصِّرُوا، وَيُحِلُّوا، إِلا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَالُوا: أَنَنْطَلِقُ إِلَى مِنًى وَذُكُورُنَا تَقْطُرُ؟ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: < لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَاأَهْدَيْتُ وَلَوْلا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لأَحْلَلْتُ >۔
* تخريج: خ/الحج ۸۱ (۱۶۵۱)، ( تحفۃ الأشراف: ۲۴۰۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۰۵) (صحیح)

۱۷۸۹- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام نے حج کا احرام باندھا ان میں سے اس دن نبی اکرم ﷺ اور طلحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے پاس ہدی کے جانور نہیں تھے اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے ساتھ ہدی لے کر آئے تھے تو انہوں نے کہا: میں نے اسی کا احرام باندھا ہے جس کا رسول اللہ ﷺ نے باندھا ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ حج کو عمرہ میں بدل لیں یعنی وہ طواف کر لیں پھر بال کتروا لیں اور پھر احرام کھول دیں سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی ہو، تو لوگوں نے عرض کیا: کیا ہم منیٰ کو اس حال میں جائیں کہ ہمارے ذکر منی ٹپکا رہے ہوں، رسول اللہ ﷺ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ’’اگر مجھے پہلے سے یہ معلوم ہوتا جو اب معلوم ہوا ہے تو میں ہدی نہ لا تا، اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تومیں بھی احرام کھول دیتا‘‘۔

1790- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: < هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ هَدْيٌ ، فَلْيُحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ، وَقَدْ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ #.
قَالَ أَبو دَاود : هَذَا مُنْكَرٌ ، إِنَّمَا هُوَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ۔
* تخريج: م/الحج ۳۱ (۱۲۴۱)، ن/الحج ۷۷ (۲۸۱۷)، ( تحفۃ الأشراف: ۶۳۸۷)، وقد أخرجہ: خ/تقصیرالصلاۃ ۳ (۱۰۸۵)، والحج/۲۳ (۱۵۴۵)، ۳۴ (۱۵۶۴)، والشرکۃ ۱۵ (۲۵۰۵)، ومناقب الأنصار ۲۶ (۳۸۳۲)، ت/الحج ۸۹ (۹۳۲)، حم (۱/۲۳۶، ۲۵۳، ۲۵۹، ۳۴۱)، دي/المناسک ۳۸ (۱۸۹۸) (صحیح)

۱۷۹۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’یہ عمرہ ہے، ہم نے اس سے فائدہ اٹھایا لہٰذا جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ پوری طرح سے حلال ہو جائے، اور عمرہ حج میں قیامت تک کے لئے داخل ہو گیا ہے‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ (مرفوع حدیث) منکر ہے، یہ ابن عباس کا قول ہے نہ کہ نبی اکرم ﷺ کا۱؎ ۔
وضاحت۱؎: ابو داود کا یہ قول صحیح نہیں ہے، اس کو کئی راویوں نے مرفوعا روایت کیا ہے جن میں امام احمد بن حنبل بھی ہیں (منذری)۔

1791- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا النَّهَّاسُ، عَنْ عَطَائٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < إِذَا أَهَلَّ الرَّجُلُ بِالْحَجِّ ثُمَّ قَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَدْحَلَّ، وَهِيَ عُمْرَةٌ >.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ (عَنْ رَجُلٍ) عَنْ عَطَائٍ: < دَخَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ ﷺ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ خَالِصًا، فَجَعَلَهَا النَّبِيُّ ﷺ عُمْرَةً >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۵۹۶۵) (صحیح)

۱۷۹۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:’’ جب آدمی حج کا احرام باندھ کر مکہ آئے اور بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لے تو وہ حلال ہو گیا اور یہ عمرہ ہے ‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ایک شخص سے انہوں نے عطا سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے صحابہ خالص حج کا احرام باندھ کر مکہ میں داخل ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے اسے عمرہ سے بدل دیا۔

1792- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ شَوْكَرٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ (قَالَ ابْنُ مَنِيعٍ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، الْمَعْنَى) عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ ﷺ بِالْحَجِّ، فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ. وَقَالَ ابْنُ شَوْكَرٍ: وَلَمْ يُقَصِّرْ، ثُمَّ اتَّفَقَا: وَلَمْ يُحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْهَدْيِ، وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ، وَأَنْ يَسْعَى وَيُقَصِّرَ ثُمَّ يُحِلَّ، -زَادَ ابْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ :- أَوْ يَحْلِقَ ثُمَّ يُحِلَّ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۶۴۲۹)، وقد أخرجہ: (حم ۱/۲۴۱، ۳۳۸) (صحیح)

۱۷۹۲- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے حج کا احرام باندھا جب آپ (مکہ) آئے تو آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی (ابن شوکر کی روایت میں ہے کہ) آپ ﷺ نے بال نہیں کتروائے (پھر ابن شوکر اور ابن منیع دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ) آپ ﷺ نے ہدی کی وجہ سے احرام نہیں کھولا، اور حکم دیا کہ جو ہدی لے کر نہ آیا ہو طواف اور سعی کر لے اور بال کتروالے پھر احرام کھول دے، (ابن منیع کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے): یاسر منڈوالے پھر احرام کھول دے۔

1793- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُوعِيسَى الْخُرَاسَانِيُّ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمسَيِّبِ أَنَّ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِي اللَّه عَنْه، فَشَهِدَ عِنْدَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ يَنْهَى عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۸۲) (ضعیف)
(سعید بن مسیب کا سماع عمر فاروق سے ثابت نہیں، نیز یہ حدیث صحیح احادیث کے خلاف ہے)
۱۷۹۳- سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے صحابۂ کرام میں سے ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے ان کے پاس گواہی دی کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو مرض الموت میں حج سے پہلے عمرہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا۔

1794- حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ -خَيْوَانَ بْنِ خَلْدَةَ مِمَّنْ قَرَأَ عَلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ- أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ لأَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ: هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنْ كَذَا وَكَذَا، وَ(عَنْ) رُكُوبِ جُلُودِ النُّمُورِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؟ فَقَالُوا: أَمَّا هَذَا فَلا، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهَا مَعَهُنَّ، وَلَكِنَّكُمْ نَسِيتُمْ۔
* تخريج: ن/الحج ۵۰ مختصراً (۲۷۳۵)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۵۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۹۲، ۹۵، ۹۸، ۹۹)، (ضعیف)
(اس کی سند میں اضطراب ہے، نیز صحیح روایات کے خلاف ہے)
۱۷۹۴- ابو شیخ ہنائی خیوان بن خلدہ (جو اہل بصرہ میں سے ہیں اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں) سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے صحابۂ کرام سے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں فلاں چیز سے روکا ہے اور چیتوں کی کھال پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، پھر معاویہ نے پوچھا: تو کیا یہ بھی معلوم ہے کہ آپ ﷺ نے (قران) حج اور عمرہ دونوں کو ملانے سے منع فرمایا ہے؟ لوگوں نے کہا: رہی یہ بات تو ہم اسے نہیں جانتے، تو انہوں نے کہا: یہ بھی انہی (ممنوعات) میں سے ہے لیکن تم لوگ بھول گئے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: قران بعض علماء کے نزدیک افضل ہے، پھر تمتع، پھر افراد، اور بعض کے نزدیک افراد سب سے افضل ہے، پھر قران پھر تمتع، اور صحیح قول یہ ہے کہ تمتع سب سے افضل ہے، امام ابن قیم اور علامہ البانی کے بقول تمتع کے سوا حج کی دونوں قسمیں (یعنی افراد اور قران) منسوخ ہیں، کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا ’’جو بات مجھے اب معلوم ہوئی ہے وہ اگر پہلے معلوم ہوتی تو میں بھی ہدی کے جانور لے کر نہیں آتا، (تاکہ میں بھی اپنے حج کو عمرہ بنا دیتا)‘‘، تو اب امت کے لئے یہ پیغام ملا کہ آئندہ کوئی ہدی لے کر آئے ہی نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24- بَاب فِي الإِقْرَانِ
۲۴- باب: حج قران کا بیان ۱؎​

1795- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَعَبْدُالْعَزِيزِ ابْنُ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُمْ سَمِعُوهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا يَقُولُ: < لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا >۔
وضاحت۱؎: حج کے مہینے میں میقات سے حج اور عمرہ دونوں کی نیت سے ایک ساتھ احرام باندھنے کو حج قِران کہتے ہیں۔
* تخريج: م/الحج ۳۴ (۱۲۵۱)، ن/الحج ۴۹ (۲۷۳۰)، ( تحفۃ الأشراف: ۷۸۱، ۱۶۵۳)، وقد أخرجہ: خ/الجہاد ۱۲۶(۲۹۸۶)، والمغازي ۶۱ (۴۳۵۳)، ت/الحج ۱۱(۸۲۱)، ق/المناسک ۱۴ (۲۹۱۷)، ۳۸ (۲۹۶۸، ۲۹۶۹)، حم (۳/۹۹، ۲۸۲)، دي/المناسک ۷۸ (۱۹۶۴) (صحیح)

۱۷۹۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے انہیں کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھتے سنا آپ فرما رہے تھے:’’لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا‘‘۔


1796- حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ بَاتَ بِهَا، يَعْنِي بِذِي الُحُلَيْفَةِ، حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ رَكِبَ، حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ حَمِدَ اللَّهُ وَسَبَّحَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهِمَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَ النَّاسَ فَحَلُّوا، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، وَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ سَبْعَ بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا۔
قَالَ أَبودَاود: الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ يَعْنِي أَنَسًا مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ بَدَأَ بِالْحَمْدِ وَالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ۔
* تخريج: خ/الحج ۲۴ ، (۱۵۴۷)، ۲۵ (۱۵۴۸)، ۲۷ (۱۵۵۱)، ۱۱۹ (۱۷۱۵)، الجہاد ۱۰۴ (۲۹۵۱)، ۱۲۶ (۲۹۸۶)، م/صلاۃ المسافرین ۱ (۶۹۰)، ن/الضحایا ۱۳ (۴۳۹۲)، ویأتي ہذا الحدیث برقم (۲۷۹۳)، ( تحفۃ الأشراف: ۹۴۷) (صحیح)

۱۷۹۶- انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے رات ذی الحلیفہ میں گزاری، یہاں تک کہ صبح ہو گئی پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سواری آپ کو لے کر بیداء پہنچی تو آپ ﷺ نے اللہ کی تحمید، تسبیح اور تکبیر بیان کی، پھر حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا، اور لوگوں نے بھی ان دونوں کا احرام باندھا، پھر جب ہم لوگ (مکہ) آئے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو (احرام کھولنے کا) حکم دیا، انہوں نے احرام کھول دیا، یہاں تک کہ جب یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) آیا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ ﷺ نے سات اونٹنیاں کھڑی کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کیں۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: جو بات اس روایت میں منفرد ہے وہ یہ کہ انہوں نے (یعنی انس رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ آپ ﷺ نے پہلے ’’الحمدلله، سبحان الله والله أكبر‘‘ کہا پھر حج کا تلبیہ پکارا۔
وضاحت۱؎: اور باقی اونٹوں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ذبح (نحر) کیا، کل سو اونٹ تھے، جو ذبح کئے گئے۔

1797- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ حِينَ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلَى الْيَمَنِ، قَالَ: فَأَصَبْتُ مَعَهُ أَوَاقِيَ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، قَالَ: وَجَدْتُ فَاطِمَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَدْ لَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا، وَقَدْ نَضَحَتِ الْبَيْتَ بِنَضُوحٍ فَقَالَتْ: مَا لَكَ؟ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَدْ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَحَلُّوا؟ قَالَ: قُلْتُ لَهَا: إِنِّي أَهْلَلْتُ بِإِهْلالِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ لِي: <كَيْفَ صَنَعْتَ؟ > فَقَالَ: قُلْتُ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلالِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: <فَإِنِّي قَدْ سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ >، قَالَ: فَقَالَ لِي: <انْحَرْ مِنَ الْبُدْنِ سَبْعًا وَسِتِّينَ، أَوْ سِتًّا وَسِتِّينَ، وَأَمْسِكْ لِنَفْسِكَ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، أَوْ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ، وَأَمْسِكْ لِي مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ مِنْهَا بَضْعَةً>۔
* تخريج: ن/الحج ۵۲ (۲۷۴۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۲۶)، وقد أخرجہ: خ/المغازي ۶۱ (۴۳۵۴) (صحیح)

۱۷۹۷- براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر مقرر کر کے بھیجا، میں ان کے ساتھ تھا تو مجھے ان کے ساتھ (وہاں) کئی اوقیہ سونا ملا، جب آپ یمن سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہیں، اور گھر میں خوشبو بکھیر رکھی ہے، وہ کہنے لگیں: آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام کو حکم دیا تو انہوں نے احرام کھول دیا ہے، علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے فاطمہ سے کہا: میں نے وہ نیت کی ہے جو نبی اکرم ﷺ نے کی ہے، میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا تو آپ نے مجھ سے پوچھا: ’’تم نے کیا نیت کی ہے؟‘‘، میں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا ہے جو نبی اکرم ﷺ کا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور میں نے قِران کیا ہے‘‘، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ’’تم سڑسٹھ ۱؎ یا چھیاسٹھ اونٹ (میری طرف سے) نحر کرو اور تینتیس یا چونتیس اپنے لئے روک لو، اور ہر اونٹ میں سے ایک ایک ٹکڑا گوشت میرے لئے رکھ لو‘‘۔
وضاحت۱؎: ابو داود کی روایت میں اسی طرح وارد ہے جو وہم سے خالی نہیں، قیاس یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم (۶۷) یا (۶۶) اونٹ میری طرف سے نحر کرو اور باقی اپنی طرف سے کرنے کے لئے روک لو، اس معنی کے اعتبار سے علی رضی اللہ عنہ سارے اونٹوں کے نحر کرنے والے ہوں گے، حالانکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ ان میں سے اکثر کو خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے نحر کیا تھا، لہٰذا ’’تم نحر کرو‘‘ کے معنی یہ ہوں گے کہ انہیں نحر کے لئے تیار کرو اور انہیں منحر میں لے چلو تاکہ میں اپنے ہاتھ سے انہیں نحر کروں۔

1798- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ: أَهْلَلْتُ بِهِمَا مَعًا، فَقَالَ عُمَرُ: هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ ﷺ۔
* تخريج: ن/الحج ۴۹ (۲۷۲۰، ۲۷۲۱، ۲۷۲۲)، ق/المناسک ۳۸ (۲۹۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۴۶۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۴، ۲۵، ۳۴، ۳۷، ۵۳) (صحیح)

۱۷۹۸- ابو وائل کہتے ہیں کہ صبی بن معبد سے کہا: میں نے (حج و عمرہ) دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں اپنے نبی کی سنت پر عمل کی توفیق ملی۔

1799- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ أَعْيَنَ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ (الْمَعْنَى) قَالا: حَدَّثَنَا جَرِيرُ ابْنُ عَبْدِالْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ: كُنْتُ رَجُلا أَعْرَابِيًّا نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمْتُ، فَأَتَيْتُ رَجُلا مِنْ عَشِيرَتِي يُقَالُ لَهُ هُذَيْمُ بْنُ ثُرْمُلَةَ، فَقُلْتُ (لَهُ): يَا هَنَاهْ، إِنِّي حَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ، وَإِنِّي وَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَكْتُوبَيْنِ عَلَيَّ، فَكَيْفَ لِي بِأَنْ أَجْمَعَهُمَا؟ قَالَ: اجْمَعْهُمَا وَاذْبَحْ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، فَأَهْلَلْتُ بِهِمَا مَعًا، فَلَمَّا أَتَيْتُ الْعُذَيْبَ لَقِيَنِي سَلْمَانُ ابْنُ رَبِيعَةَ وَزَيْدُ بْنُ صُوحَانَ وَأَنَا أُهِلُّ بِهِمَا (جَمِيعًا) فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ: مَا هَذَا بِأَفْقَهَ مِنْ بَعِيرِهِ، قَالَ: فَكَأَنَّمَا أُلْقِيَ عَلَيَّ جَبَلٌ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي كُنْتُ رَجُلا أَعْرَابِيًّا نَصْرَانِيًّا، وَإِنِّي أَسْلَمْتُ، وَأَنَا حَرِيصٌ عَلَى الْجِهَادِ، وَإِنِّي وَجَدْتُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ مَكْتُوبَيْنِ عَلَيَّ، فَأَتَيْتُ رَجُلا مِنْ قَوْمِي فَقَالَ (لِي): اجْمَعْهُمَا وَاذْبَحْ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ، وَإِنِّي أَهْلَلْتَ بِهِمَا مَعًا، فَقَالَ (لِي) عُمَرُ رَضِي اللَّه عَنْه: هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ ﷺ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۴۶۶) (صحیح)

۱۷۹۹- ابو وائل کہتے ہیں کہ صبی بن معبد نے عرض کیا کہ میں ایک نصرانی بدو تھا میں نے اسلام قبول کیا تو اپنے خاندان کے ایک شخص کے پاس آیا جسے ہذیم بن ثرملہ کہا جاتا تھا میں نے اس سے کہا: ارے میاں! میں جہاد کا حریص ہوں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ حج و عمرہ میرے اوپر فرض ہیں، تو میرے لئے کیسے ممکن ہے کہ میں دونوں کو ادا کر سکوں، اس نے کہا: دونوں کو جمع کر لو اور جو ہدی میسر ہو اسے ذبح کرو، تو میں نے ان دونوں کا احرام باندھ لیا، پھر جب میں مقام عُذیب پر آیا تو میری ملاقات سلما ن بن ربیعہ اور زید بن صوحان سے ہوئی اور میں دونوں کا تلبیہ پکار رہا تھا، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: یہ اپنے اونٹ سے زیادہ سمجھ دار نہیں، تو جیسے میرے اوپر پہاڑ ڈال دیا گیا ہو، یہاں تک کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے ان سے عرض کیا: امیر المومنین! میں ایک نصرانی بدو تھا، میں نے اسلام قبول کیا، میں جہاد کا خواہش مند ہوں لیکن دیکھ رہا ہوں کہ مجھ پر حج اورعمرہ دونوں فرض ہیں، تو میں اپنی قوم کے ایک آدمی کے پاس آیا اس نے مجھے بتایا کہ تم ان دونوں کو جمع کر لو اور جو ہدی میسر ہو اسے ذبح کرو، چنانچہ میں نے دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تمہیں اپنے نبی اکرم ﷺ کی سنت پر عمل کی توفیق ملی۔

1800- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ عِنْدِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ >، قَالَ: وَهُوَ بِالْعَقِيقِ، وَقَالَ: < صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ، وَقَالَ: عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ >.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِالْوَاحِدِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ الأَوْزَاعِيِّ: وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ.
قَالَ أَبودَاود: وَكَذَا رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ: < وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ >۔
* تخريج: خ/الحج ۱۶ (۱۵۳۴)، ق/المناسک ۴۰ (۲۹۷۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۵۱۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۴) (صحیح)
۱۸۰۰- عمر بن خطا ب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ’’آج رات میرے پاس میرے رب عزوجل کی جانب سے ایک آنے والا (جبریل) آیا (آپ اس وقت وادی عقیق۱؎ میں تھے) اور کہنے لگا: اس مبارک وادی میں صلاۃ پڑھو، اور کہا: عمرہ حج میں شامل ہے‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: ولید بن مسلم اور عمر بن عبد الواحد نے اس حدیث میں اوزاعی سے یہ جملہ ’’وقل عمرة في حجة‘‘ (کہو! عمرہ حج میں ہے) نقل کیا ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: اسی طرح اس حدیث میں علی بن مبارک نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ’’وقل عمرة في حجة‘‘ کا جملہ نقل۲؎ کیا ہے۔
وضاحت۱؎: ’’عقيق‘‘: مدینہ سے چار میل کی دوری پر ایک وادی ہے، اور اب شہر میں داخل ہے۔
وضاحت۲؎: یہ جملہ احادیث میں تین طرح سے وارد ہوا ہے، مسکین کی روایت میں جسے انہوں نے اوزاعی سے روایت کیا ہے’’قال عمرة في حجة‘‘ ماضی کے صیغہ کے ساتھ، اور ولید بن مسلم اور عبدالواحد کی روایت میں ’’قل عمرة في حجة‘‘ امر کے صیغہ کے ساتھ، اور بخاری کی روایت میں ’’وقل عمرة وحجة‘‘ ہے ’’عمرة‘‘ اور ’’حجة‘‘ کے درمیان واو عاطفہ کے ساتھ۔

1801- حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَتَّى إِذَا كَانَ بِعُسْفَانَ قَالَ لَهُ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلَجِيُّ، يَا رَسُولَ اللَّهِ! اقْضِ لَنَا قَضَاءَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، فَقَالَ: < إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ أَدْخَلَ عَلَيْكُمْ فِي حَجِّكُمْ هَذَا عُمْرَةً، فَإِذَا قَدِمْتُمْ فَمَنْ تَطَوَّفَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَدْ حَلَّ، إِلا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۳۸۱۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۰۴)، دي/المناسک ۳۸ (۱۸۹۹)، (صحیح)
۱۸۰۱- سبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم عسفان میں پہنچے تو آپ سے سراقہ بن مالک مدلجی نے کہا: اللہ کے رسول! آج ایسا بیان فرمائیے جیسے ان لوگوں کو سمجھاتے ہیں جو ابھی پیدا ہوئے ہوں (بالکل واضح) تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالی نے تمہارے لئے عمرہ کو تمہارے حج میں داخل کر دیا ہے لہٰذا جب تم مکہ آجاؤ تو جو بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لے تو وہ حلال ہو گیا سوائے اس کے جس کے ساتھ ہدی کا جانور ہو‘‘۔

1802- حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا أَبُوبَكْرِ ابْنِ خَلادٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، الْمَعْنَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ قَالَ: قَصَّرْتُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِمِشْقَصٍ عَلَى الْمَرْوَةِ، أَوْ رَأَيْتُهُ يُقَصِّرُ عَنْهُ عَلَى الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ.
(قَالَ ابْنُ خَلادٍ: إِنَّ مُعَاوِيَةَ لَمْ يَذْكُرْ < أَخْبَرَهُ >)۔
* تخريج: خ/الحج ۱۲۷ (۱۷۳۰) (إلی قولہ: ’’بمشقص‘‘)، م/الحج ۳۳ (۱۲۴۶)، ن/الحج ۵۰ (۲۷۳۸)، ۱۸۳ (۲۹۹۰)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۹۶، ۹۷، ۹۸، ۱۰۲) (صحیح)

۱۸۰۲- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: میں نے مروہ پر نبی اکرم ﷺ کے بال تیر کی دھار سے کاٹے، (یا یوں ہے) میں نے آپ کو دیکھا کہ مروہ پر تیر کے پیکان سے آپ کے بال کترے جا رہے ہیں۱؎ ۔
وضاحت۱؎: صحیح بخاری میں صرف اتنا ہے کہ ’’میں نے آپ ﷺ کے بال تیر کی دھار سے کاٹے‘‘، اس جملے سے کوئی اشکال نہیں پیدا ہوتا، مگر صحیح مسلم و دیگر کے الفاظ ’’مروہ پر‘‘ سے یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ آپ ﷺ قارن تھے توعمرہ کے بعد مروہ پر بال کاٹنے کا کیا مطلب؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معاملہ عمرۂ جعرانہ کا ہے نہ کہ حجۃ الوداع کا، جیسا کہ علماء نے تصریح کی ہے۔

1803- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ (وَمَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ) وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، الْمَعْنَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ: لَهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِمِشْقَصِ أَعْرَابِيٍّ، عَلَى الْمَرْوَةِ، زَادَ الْحَسَنُ (فِي حَدِيثِهِ) لِحَجَّتِهِ۔ * تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۲۳) (صحیح) (’’لحجته‘‘ کا لفظ صحیح نہیں بلکہ منکر ہے)
۱۸۰۳- عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تمہیں نہیں معلوم کہ میں نے مروہ پر رسول اللہ ﷺ کے بال ایک اعرابی کے تیر کی پیکان سے کترے۔
حسن کی روایت میں ’’لحجته‘‘ (آپ کے حج میں) ہے۔

1804- حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، أَخْبَرَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَهَلَّ النَّبِيُّ ﷺ بِعُمْرَةٍ وَأَهَلَّ أَصْحَابُهُ بِحَجٍّ۔
* تخريج: م/الحج ۳۰ (۱۲۳۹)، ن/الحج ۷۷ (۲۸۱۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۶۴۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۴۰) (صحیح)
۱۸۰۴- مسلم قری سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ نے عمرہ کا تلبیہ پکارا اور آپ کے صحابۂ کرام نے حج کا۔

1805- حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَأَهْدَى وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجّ، وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَكَانَ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْيَ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَكَّةَ قَالَ لِلنَّاسِ: < مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لايَحِلُّ لَهُ مِنْ شَيْئٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ > وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ: فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْئٍ، ثُمَّ خَبَّ ثَلاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا، فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعَةَ أَطْوَافٍ، ثُمَّ لَمْ يُحْلِلْ مِنْ شَيْئٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ، وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْئٍ حَرُمَ مِنْهُ، وَفَعَلَ النَّاسُ مِثْلَ (مَا) فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنَ النَّاسِ۔
* تخريج: خ/الحج ۱۰۴ (۱۶۹۱)، م/الحج ۲۴ (۱۲۲۷)،ن/الحج ۵۰ (۲۷۳۳)، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۷۸)، وقد أخرجہ: ت/الحج ۱۲(۸۲۴)، ق/المناسک ۱۴ (۲۹۱۶)، حم (۲/۱۳۹)، دي/المناسک ۸۴ (۱۹۷۲) (صحیح) (وبدأ رسول الله ﷺ فأهل بالعمرة ثم أهل بالحج)
یہ جملہ ابن قیم، ابن حجر، اور البانی کے یہاں شاذ ہے، (ملاحظہ ہو: فتح الباری، وزاد المعاد، وصحیح ابی داود ۶؍ ۶۸)
۱۸۰۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں عمرے کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا تو آپ نے ہدی کے جانور تیار کئے، اور ذی الحلیفہ سے اپنے ساتھ لے کر گئے تو پہلے رسول اللہ ﷺ نے عمرے کا تلبیہ پکارا پھر حج کا (یعنی پہلے ’’لبيك بعمرة‘‘ کہا پھر ’’لبيك بحجة‘‘ کہا)۱؎ اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لوگوں نے بھی عمرے کو حج میں ملا کر تمتع کیا، تو لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے ہدی تیار کیا اور اسے لے گئے، اور بعض نے ہدی نہیں بھیجا، جب رسول اللہ ﷺ مکہ پہنچے تو لوگوں سے فرمایا: ’’تم میں سے جو ہدی لے کر آیا ہو تو اس کے لئے (احرام کی وجہ سے) حرام ہوئی چیزوں میں سے کوئی چیز حلال نہیں جب تک کہ وہ اپنا حج مکمل نہ کر لے، اور تم لوگوں میں سے جو ہدی لے کر نہ آیا ہو تو اسے چاہئے کہ بیت اللہ کا طواف کرے، صفا و مروہ کی سعی کرے، بال کتروائے اور حلال ہو جائے، پھر حج کا احرام باندھے اور ہدی دے جسے ہدی نہ مل سکے تو ایام حج میں تین صیام رکھے اور سات صیام اس وقت جب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر آجائے‘‘، اور رسول اللہ ﷺ جب مکہ آئے تو آپ نے طواف کیا، سب سے پہلے آپ ﷺ نے حجر اسود کا استلام کیا، پھر پہلے تین پھیروں میں تیز چلے اور آخری چار پھیروں میں عام چال، بیت اللہ کے طواف سے فارغ ہو کر آپ ﷺ نے مقام ابراہیم پر دو رکعتیں پڑھیں، پھر سلام پھیرا اور پلٹے تو صفا پر آئے اور صفا و مروہ میں سات بار سعی کی، پھر (آپ کے لئے محرم ہو نے کی وجہ سے) جو چیز حرام تھی وہ حلال نہ ہوئی یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنا حج پورا کر لیا اور یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو اپنا ہدی نحر کر دیا، پھر لوٹے اور بیت اللہ کا طواف (افاضہ) کیا پھر ہر حرام چیز آپ کے لئے حلال ہو گئی اور لوگوں میں سے جنہوں نے ہدی دی اور اسے ساتھ لے کر آئے تو انھوں نے بھی اسی طرح کیا جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا۔
وضاحت۱؎: رسول اکرم ﷺ کے حج کے بارے میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے متعدد بیانات ہیں، ان کے درمیان تطبیق کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے شروع میں صرف حج کا احرام باندھا، پھر وحی آگئی توعمرہ کو بھی شامل کر لیا، اگر آپ ﷺ ہدی ساتھ لے کر نہیں گئے ہوتے تو پہلے عمرہ کرتے پھر حلال ہو کر حج کرتے (یعنی حج تمتع کرتے) جیسا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا، خلاصہ یہ کہ آپ ﷺ نے حج قران کیا تھا جیسا کہ دسیوں صحابہ کا بیان ہے، اس تفصیل کے مطابق ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا کہ ’’آپ ﷺ نے پہلے عمرہ کا احرام پھر حج کا احرام باندھا‘‘ خلاف واقعہ ہے جو ان کے اپنے علم کے مطابق ہے (ابتدائے امر کے مطابق ہے)، یا پھر ان کے بیان کی وہی تاویل ہے جو ترجمہ سے ظاہر ہے یعنی: یہاں تمتع سے مراد لغوی تمتع ہے نہ کہ اصطلاحی۔

1806- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا شَأْنُ النَّاسِ قَدْ حَلُّوا وَلَمْ تُحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ فَقَالَ: < إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلا أُحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ (الْهَدْيَ) >۔
* تخريج: خ/الحج ۳۴ (۱۵۶۶)، والمغازي ۷۷ (۴۳۹۸)، واللباس ۶۹ (۵۹۱۶)، م/الحج ۲۵ (۱۲۲۹)، ن/الحج ۴۰ (۲۶۸۱)، ق/المناسک ۷۲ (۳۰۴۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۰۰)، وقد أخرجہ: ط/الحج ۵۸ (۱۸۰)، حم (۶/۲۸۳، ۲۸۴، ۲۷۵) (صحیح)

۱۸۰۶- ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن آپ نے اپنے عمرے کا احرام نہیں کھولا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے اپنے سر میں تلبید کی تھی اور ہدی کو قلادہ پہنایا تھا تو میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہدی نحر نہ کر لوں‘‘۔
 
Top