45- بَاب دُخُولِ مَكَّةَ
۴۵- باب: مکہ میں داخل ہونے کا بیان
1865- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ بَاتَ بِذِي طَوًى حَتَّى يُصْبِحَ وَيَغْتَسِلَ، ثُمَّ يَدْخُلَ مَكَّةَ نَهَارًا، وَيَذْكُرُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ فَعَلَهُ۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۸۹ (۴۸۴)، والحج ۳۸ (۱۵۷۳)، ۳۹ (۱۵۷۴)، ۱۴۸(۱۷۶۷)، ۱۴۹(۱۷۶۹)، م/الحج ۳۸ (۱۲۵۹)، ن/الحج ۱۰۳ (۲۸۶۲)، ( تحفۃ الأشراف: ۷۵۱۳)، وقد أخرجہ: ت/الحج ۳۱ (۸۵۴)، ق/المناسک ۲۶ (۲۹۴۰)، ط/الحج ۲(۶)، حم (۲/ ۸۷)، دي/المناسک ۸۰ (۱۹۶۸) (صحیح)
۱۸۶۵- نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ آتے تو ذی طوی میں رات گزارتے یہاں تک کہ صبح کرتے اور غسل فرماتے، پھر دن میں مکہ میں داخل ہو تے اور نبی اکرم ﷺ کے بارے میں بتاتے کہ آپ نے ایسے ہی کیا ہے ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ افضل یہ ہے کہ مکہ میں دن میں داخل ہو، مگر یہ قدرت اور امکان پر منحصر ہے۔
1866- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَرْمَكِيُّ، حَدَّثَنَا مَعِنٌ، عَنْ مَالِكٍ (ح) وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَابْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ يَحْيَى (ح) وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ (جَمِيعًا) عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا (قَالا عَنْ يَحْيَى: إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنْ كَدَاءَ مِنْ ثَنِيَّةِ الْبَطْحَاءِ)، وَيَخْرُجُ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى، زَادَ الْبَرْمَكِيُّ: يَعْنِي ثَنِيَّتَيْ مَكَّةَ (وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَتَمُّ)۔
* تخريج: خ/الحج ۴۰ (۱۵۷۶)، ۴۱ (۱۵۷۷)، م/الحج ۳۷ (۱۲۵۷)، ن/الحج ۱۰۵ (۲۸۶۶)، ( تحفۃ الأشراف: ۷۸۶۹، ۸۱۴۰، ۸۳۸۰)، وقد أخرجہ: ت/الحج۳۰ (۸۵۳)، ق/المناسک ۲۶ (۲۹۴۰)، حم (۲/۱۴، ۱۹)، دي/المناسک ۸۱ (۱۹۶۹) (صحیح)
۱۸۶۶- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مکّہ میں ثنیہ علیا (بلند گھاٹی) سے داخل ہوتے، (یحییٰ کی روایت میں اس طرح ہے کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں ثنیہ بطحاء کی جانب سے مقام کداء سے داخل ہوتے) اور ثنیہ سفلی (نشیبی گھاٹی) سے نکلتے۔
برمکی کی روایت میں اتنا زائد ہے یہ مکہ کی دو گھاٹیاں ہیں اور مسدد کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
1867- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَخْرُجُ مِنْ طَرِيقِ الشَّجَرَةِ وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَرَّسِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف: ۷۸۷۰)، وقد أخرجہ: م/الحج ۳۷ (۱۲۵۷)، حم (۲/۲۹-۳۰) (صحیح)
۱۸۶۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ شجرہ (جو ذی الحلیفہ میں تھا) کے راستے سے (مدینہ سے) نکلتے تھے اور معرس (مدینہ سے چھ میل پر ایک موضع ہے) کے راستہ سے (مدینہ میں) داخل ہوتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث کی باب سے مناسبت یہ ہے کہ جب مکہ میں داخل ہونے اور اس سے نکلنے کی بات آئی تو مدینہ سے نکلنے اور داخل ہونے کی بابت بھی ایک حدیث باب میں ذکر کر دیا، اوراس سے یہ بھی مستنبط کرنا ہے کہ مدینہ ہی نہیں کسی بھی بستی میں داخل ہونے یا اس سے نکلنے کے راستے میں فرق کرنا چاہئے، جیسا کہ اس حدیث پر امام نووی نے صحیح مسلم میں باب باندھا ہے۔
1868- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ، وَدَخَلَ فِي الْعُمْرَةِ مِنْ كُدًى، قَالَ: وَكَانَ عُرْوَةُ يَدْخُلُ مِنْهُمَا جَمِيعًا، وَ(كَانَ أَكْثَرُ مَا كَانَ يَدْخُلُ مِنْ كُدًى، وَكَانَ أَقْرَبَهُمَا إِلَى مَنْزِلِهِ۔
* تخريج: خ/الحج ۴۱ (۱۵۷۸)، والمغازي ۴۹ (۴۲۹۰)، م/الحج ۳۷ (۱۲۵۷)، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۷۹۷)، وقد أخرجہ: ت/الحج ۳۰ (۸۵۳)، حم (۶/۵۸، ۲۰۱) (صحیح)
۱۸۶۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ کے بلند مقام کداء ۱؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عمرہ کے وقت کُدی ۲؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عروہ دونوں ہی جانب سے داخل ہوتے تھے، البتہ اکثر کدی کی جانب سے داخل ہوتے اس لئے کہ یہ ان کے گھر سے قریب تھا۔
وضاحت۱؎: ’’كداء‘‘: مکہ مکرمہ کا وہ جانب جو مقبرۃ المعلی کی طرف ہے اور بلند ہے۔
وضاحت۲؎: ’’كدى‘‘: وہ جانب ہے جو باب العمرہ کی طرف نشیب میں ہے۔
1869- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنْ أَعْلاهَا وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا۔
* تخريج: خ/الحج ۴۱ (۱۵۷۷)، م/الحج ۳۷ (۱۲۵۸)، ن الکبری/ الحج ۲۹ (۴۲۴۱)، ت/الحج ۳۰ (۸۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۹۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۰) (صحیح)
۱۸۶۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب مکہ میں داخل ہوتے تو اس کی بلندی کی طرف سے داخل ہوتے اور اس کے نشیب سے نکلتے۔