117- بَاب افْتِتَاحِ الصَّلاةِ
۱۱۷-باب: صلاۃ شروع کرنے کا بیان
729- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فِي الشِّتَاءِ فَرَأَيْتُ أَصْحَابَهُ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي ثِيَابِهِمْ فِي الصَّلاةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۱۶) (صحیح)
۷۲۹- وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سردی کے موسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ صلاۃ میں (سردی کی وجہ سے) اپنے کپڑوں کے اندر ہی رفع یدین کرتے۔
730- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ (ح) وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى -وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ- قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُالْحَمِيدِ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ ابْنُ عُمَرَو بْنِ عَطَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْهُمْ أَبُوقَتَادَةَ، قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالُوا: فَلِمَ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ بِأَكْثَرِنَا لَهُ تَبَعًا وَلا أَقْدَمِنَا لَهُ صُحْبَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلا ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، فَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلا يَصُبُّ رَأْسَهُ وَلا يُقْنِعُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ [بِهِمَا] مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلا، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا، وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، وَيَسْجُدُ ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَيَرْفَعُ [رَأْسَهُ] وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلاةِ، ثُمَّ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلاتِهِ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الأَيْسَرِ، قَالُوا: صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي صلی اللہ علیہ وسلم ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۴۵ (۸۲۸)، ت/الصلاۃ ۷۸ (۳۰۴)، ن/التطبیق ۶ (۱۰۴۰)، والسہو ۲ (۱۱۸۲)، ۲۹ (۱۲۳۶)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۵ (۱۰۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۲۴) دي/الصلاۃ ۷۰ (۱۳۴۶) (كلهم مختصرًا من سياق المؤلف، وليس عند البخاري ذكر رفع اليدين ما سوى عند التحريمة) (صحیح)
۷۳۰- عبدالحمید بن جعفر کہتے ہیں کہ مجھے محمد بن عمرو بن عطاء نے خبردی ہے کہ میں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دس صحابہ کرام کے درمیان جن میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بھی تھے کہتے سنا: میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاۃ کے بارے میں جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: وہ کیسے؟ اللہ کی قسم آپ ہم سے زیادہ نہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے تھے، نہ ہم سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آئے تھے۔
ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں یہ ٹھیک ہے (لیکن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقۂ صلاۃ زیادہ یاد ہے) اس پر لوگوں نے کہا: (اگر آپ زیادہ جانتے ہیں) تو پیش کرئیے۔
ابو حمید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صلاۃ کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر تکبیر (تحریمہ) کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر سیدھی ہو جاتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرأت کرتے، پھر
’’اللهُ أَكبر‘‘ کہتے، اور دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوںکے مقابل کر لیتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، اور رکوع میں پیٹھ اور سر سیدھا رکھتے، سر کو نہ زیادہ جھکاتے اور نہ ہی پیٹھ سے بلند رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور
’’سمع الله لمن حمده‘‘ کہتے، پھر اپنا دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ سیدھا ہو کر انہیں اپنے دونوں کندھوں کے مقابل کرتے پھر ’’الله أكبر‘‘ کہتے، پھر زمین کی طرف جھکتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں پہلووں سے جدا رکھتے، پھر اپنا سر اٹھاتے اور اپنے بائیں پیر کو موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور جب سجدہ کرتے تو اپنے دونوں پیر کی انگلیوں کو نرم رکھتے اور (دوسرا) سجدہ کرتے پھر
’’الله أكبر‘‘ کہتے اور (دوسرے سجدہ سے) اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر واپس آجاتی، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے پھر جب دوسری رکعت سے اٹھتے تو
’’الله أكبر‘‘ کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل لے جاتے جس طرح کہ صلاۃ شروع کرنے کے وقت
’’الله أكبر‘‘ کہا تھا، پھر اپنی بقیہ صلاۃ میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب اس سجدہ سے فارغ ہوتے جس میں سلام پھیرنا ہوتا، تو اپنے بائیں پیر کو اپنے داہنے پیر کے نیچے سے نکال کر اپنی بائیں سرین پر بیٹھتے (پھر سلام پھیرتے)۔
اس پر ان لوگوں نے کہا: آپ نے سچ کہا، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلاۃ پڑھتے تھے ۔
731- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْعَامِرِيِّ، قَالَ: كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَتَذَاكَرُوا صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ: فَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ كَفَّيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ غَيْرَ مُقْنِعٍ رَأْسَهُ وَلا صَافِحٍ بِخَدِّهِ، وَقَالَ: فَإِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَعَدَ عَلَى بَطْنِ قَدَمِهِ الْيُسْرَى وَنَصَبَ الْيُمْنَى، فَإِذَا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ أَفْضَى بِوَرِكِهِ الْيُسْرَى إِلَى الأَرْضِ وَأَخْرَجَ قَدَمَيْهِ مِنْ نَاحِيَةٍ وَاحِدَةٍ.
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۹۷) (صحیح) (
’’ولا صافح بخدہ‘‘ کا جملہ صحیح نہیں ہے)
۷۳۱- محمد بن عمرو (بن عطاء) عامری کہتے ہیں کہ صحابہ کرام کی ایک مجلس میں تھا، ان لوگوں نے آپس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاۃ کا تذکرہ کیا، تو ابوحمید رضی اللہ عنہ نے کہا...، پھر راوی نے اسی حدیث کا بعض حصہ ذکر کیا، اور کہا:
’’جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر جماتے اور اپنی انگلیوں کے درمیان کشادگی رکھتے، پھر نہ اپنی پیٹھ کو خم کرتے، نہ سر کو اونچا کرتے، نہ منہ کو دائیں یا بائیں جانب موڑتے (بلکہ سیدھا قبلہ کی جانب رکھتے)، پھر جب دو رکعت کے بعد بیٹھتے تو بائیں پاؤں کے تلوے پر بیٹھتے اور داہنا پاؤں کھڑا رکھتے، پھر جب آپ چوتھی رکعت میں ہوتے، تو اپنی بائیں سرین زمین پر لگاتے اور دونوں پاؤں ایک جانب (یعنی داہنی جانب ) نکالتے ‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی تورّک کرتے ۔
732- حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيِّ وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ؛ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ، نَحْوَ هَذَا، قَالَ: فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلا قَابِضِهِمَا، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ الْقِبْلَةَ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۹۷) (صحیح)
۷۳۲- اس سند سے بھی محمد بن عمرو بن عطاء سے اسی طرح مر وی ہے، اس میں ہے: ’’جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھتے ، نہ ہی انہیں بچھاتے اور نہ ہی انہیں سمیٹے رکھتے، اور اپنی انگلیوں کے کناروں سے قبلہ کا استقبال کرتے‘‘۔
733- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، شُجَاعُ بن الوَلِيْدِ حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ أَحَدِ بَنِي مَالِكٍ ؛ عَنْ عَبَّاسٍ -أَوْ عَيَّاشِ- بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَفِي الْمَجْلِسِ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ وَأَبُو أُسَيْدٍ بِهَذَا الْخَبَرِ يَزِيدُ أَوْ يَنْقُصُ، قَالَ فِيهِ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ -يَعْنِي مِنَ الرُّكُوعِ-، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَسَجَدَ فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، ثُمَّ كَبَّرَ فَجَلَسَ فَتَوَرَّكَ وَنَصَبَ قَدَمَهُ الأُخْرَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ -ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ- قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ، حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ قَامَ بِتَكْبِيرَةٍ، ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الأُخْرَيَيْنِ، وَلَمْ يَذْكُرِ التَّوَرُّكَ فِي التَّشَهُّدِ ۔
* تخريج:ت/الصلاۃ ۷۸ (۲۶۰)، ۸۶ (۲۷۰)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۵ (۸۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۹۲) (ضعیف) (اس کے راوی’’عیسیٰ بن عبداللہ‘‘لین الحدیث ہیں)
۷۳۳- عباس بن سہل ساعدی یا عیاش بن سہل ساعدی کہتے ہیں کہ وہ ایک مجلس میں تھے، جس میں ان کے والد بھی تھے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے، مجلس میں ابو ہریرہ، ابو حمید ساعدی، اور ابو اسید بھی تھے، پھر انہوں نے یہی حدیث کچھ کمی و زیادتی کے ساتھ روایت کی، اس میں ہے:
’’ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور
’’سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ‘‘ کہا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، پھر
’’الله أكبر‘‘ کہا اور سجدے میں گئے اور سجدے کی حالت میں اپنی دونوں ہتھیلیوں، گھٹنوں اور اپنے دونوں قدموں کے اگلے حصہ پر جمے رہے، پھر اللہ اکبر کہہ کر بیٹھے تو
تورّک کیا ( یعنی سرین پر بیٹھے) اور اپنے دوسرے قدم کو کھڑا رکھا، پھر
’’الله أكبر‘‘ کہا اور سجدہ کیا، پھر
’’الله أكبر‘‘ کہا اور (سجدہ سے اٹھ کر) کھڑے ہو گئے، اور سرین پر نہیں بیٹھے‘‘۔
پھر راوی عباس رضی اللہ عنہ نے (آخر تک) حدیث بیان کی اور کہا : پھر آپ دونوں رکعتوں کے بعد بیٹھے، یہاں تک کہ جب (تیسری رکعت کے لئے) اٹھنے کا قصد کیا تو
’’الله أكبر‘‘ کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے، پھر بعد والی دونوں رکعتیں ادا کیں۔
اور راوی (عیسیٰ بن عبداللہ) نے تشہد میں تو رک کا ذکر نہیں کیا ہے۔
734- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ ابْنُ سَهْلٍ قَالَ: اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ وَأَبُو أُسَيْدٍ وَسَهْلُ بْنُ سَعْدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَذَكَرُوا صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، فَذَكَرَ بَعْضَ هَذَا، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَأَنَّهُ قَابِضٌ عَلَيْهِمَا، وَوَتَّرَ يَدَيْهِ فَتَجَافَى عَنْ جَنْبَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ فَأَمْكَنَ أَنْفَهُ وَجَبْهَتَهُ وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ وَوَضَعَ كَفَّيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ، حَتَّى فَرَغَ، ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَأَقْبَلَ بِصَدْرِ الْيُمْنَى عَلَى قِبْلَتِهِ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُمْنَى وَكَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ.
قَالَ أَبودَاود: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنِ الْعَبَّاسِ ابْنِ سَهْلٍ، لَمْ يَذْكُرِ التَّوَرُّكَ، وَذَكَرَ نَحْوَ [حَدِيثِ] فُلَيْحٍ، وَذَكَرَ الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ نَحْوَ جِلْسَةِ حَدِيثِ فُلَيْحٍ وَعُتْبَةَ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۹۲) (صحیح)
۷۳۴- عباس بن سہل بیان کرتے ہیں کہ ابو حمید، ابو اسید، سہل بن سعد اور محمد بن مسلمہ اکٹھے ہوئے اور آپس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاۃ کا تذکرہ کیا تو ابو حمید نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاۃ تم لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، پھر انہوں نے اس کے بعض حصے کا ذکر کیا اور کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکو ع کیا تودونوں ہاتھ دونوں گھٹنے پر رکھا گویا آپ ان کو پکڑے ہوئے ہیں اور اپنے دونوں ہاتھوں کو کمان کی تانت کی طرح کیا اور انہیں اپنے دونوں پہلووں سے جدا رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنی ناک اور پیشانی زمین پرجمائی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنی دونوں بغلوں سے جدا رکھا اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل رکھیں، پھر اپنا سر اٹھایا یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی (آپ نے ایسے ہی کیا) یہاں تک کہ دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہو گئے پھر بیٹھے تو اپنا بایاں پیر بچھا لیا اور داہنے پیر کی انگلیاں قبلہ رخ کیں اور دائیں گھٹنے پر داہنی اور بائیں گھٹنے پر بائیں ہتھیلی رکھی اور اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا ۔
ابو داود کہتے ہیں: اس حدیث کو عتبہ بن ابو حکیم نے عبداللہ بن عیسٰی سے انہوں نے عباس بن سہل سے روایت کیا ہے، اور اس میں تورک کا ذکر نہیں کیا ہے، اور اسے فلیح کی حدیث کی طرح (بغیر تورک کے) ذکر کیا ہے، اور حسن بن حر نے فلیح بن سلیمان اور عتبہ کی حدیث میں مذکور بیٹھک کی طرح ذکر کیا ۔
735- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ، حَدَّثَنِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ عِيسَى، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ؛ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: وَإِذَا سَجَدَ فَرَّجَ بَيْنَ فَخِذَيْهِ غَيْرَ حَامِلٍ بَطْنَهُ عَلَى شَيْئٍ مِنْ فَخِذَيْهِ.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، سَمِعْتُ عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ يُحَدِّثُ، فَلَمْ أَحْفَظْهُ، فَحَدَّثَنِيهِ، أُرَاهُ ذَكَرَ عِيسَى بْنَ عَبْدِاللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، قَالَ: حَضَرْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۹۲) (ضعیف) (عبد اللہ بن عیسیٰ لین الحدیث ہیں)
۷۳۵- اس طریق سے بھی ابو حمید رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مر وی ہے ، اس میں ہے: ’’جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنے پیٹ کو اپنی دونوں رانوں کے کسی حصہ پر اٹھائے بغیر اپنی دونوں رانوں کے درمیان کشادگی رکھی‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے ابن مبارک نے روایت کیا ہے، ابن مبارک سے فلیح نے بیان کیاہے ، فلیح کہتے ہیں: میں نے عباس بن سہل کو بیان کرتے سنا تو میں اسے یاد نہیں رکھ سکا ۔
ابن مبارک کہتے ہیں: فلیح نے مجھ سے بیان کیا، میرا خیال ہے کہ فلیح نے عیسیٰ بن عبد اللہ کا ذکر کیا کہ انہوں نے اسے عباس بن سہل سے سنا ہے، وہ کہتے ہیں : میں ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے یہی حدیث روایت کی ۔
736- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ عَبْدِالْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَلَمَّا سَجَدَ وَقَعَتَا رُكْبَتَاهُ إِلَى الأَرْضِ قَبْلَ أَنْ تَقَعَ كَفَّاهُ، قَالَ: فَلَمَّا سَجَدَ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ وَجَافَى عَنْ إِبِطَيْهِ.
قَالَ حَجَّاجٌ: وَقَالَ هَمَّامٌ: وَحَدَّثَنَا شَقِيقٌ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم بِمِثْلِ هَذَا، وَفِي حَدِيثِ أَحَدِهِمَا -وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنَّهُ حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ-: وَإِذَا نَهَضَ نَهَضَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَاعْتَمَدَ عَلَى فَخِذِهِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۶۲) (ضعیف)
(عبد الجبار کا اپنے والد وائل سے سماع نہیں ہے)
۷۳۶- وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: ’’جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو آپ کے دونوں گھٹنے آپ کی ہتھیلیوں سے پہلے زمین پر پڑے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے تو اپنی پیشانی کو اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان رکھا، اور اپنی دونوں بغلوں سے علاحدہ رکھا ‘‘۔
حجاج کہتے ہیں: ہمام نے کہا: مجھ سے شقیق نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھ سے عاصم بن کلیب نے بیان کیا ، عاصم نے اپنے والد کلیب سے، کلیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
ان دونوں میں سے کسی ایک کی حدیث میں، اور غالب گمان یہی ہے کہ محمد بن حجادہ کی حدیث میں یوں ہے: ’’جب آپ سجدے سے اٹھے تو اپنے دونوں گھٹنوں پر اٹھے اور اپنی ران پر ٹیک لگایا‘‘۔
737- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ عَبْدِالْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَرْفَعُ إِبْهَامَيْهِ فِي الصَّلاةِ إِلَى شَحْمَةِ أُذُنَيْهِ۔
* تخريج: ن/الافتتاح ۵(۸۸۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۵۹) (ضعیف) (ملاحظہ ہو حدیث نمبر: ۷۲۴)
۷۳۷- وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلاۃ میں اپنے دونوں انگوٹھے اپنے دونوں کانوں کی لو تک اٹھاتے۔
738- حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا كَبَّرَ لِلصَّلاةِ جَعَلَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ لِلسُّجُودِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۱۷ (۷۸۹)، م/الصلاۃ ۱۰ (۳۹۲)، ت/الصلاۃ ۶۳ (۲۳۹)، ن/الافتتاح ۱۸۰ (۱۱۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۷۰، ۴۵۴) (ضعیف)
(ابن جریج مدلس ہیں اور یہاں
’’عنعنہ‘‘ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
۷۳۸- ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صلاۃ کے لئے تکبیر تحریمہ کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کرتے، اور جب رکوع کر تے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب رکوع سے سجدے میں جانے کے لئے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح کرتے، اور جب دو رکعت پڑھ کر (تیسر ی رکعت کے لئے) کھڑے ہوتے تو بھی اسی طرح کرتے۔
739- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ مَيْمُونٍ الْمَكِّيِّ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَاللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَصَلَّى بِهِمْ: يُشِيرُ بِكَفَّيْهِ حِينَ يَقُومُ، وَحِينَ يَرْكَعُ، وَحِينَ يَسْجُدُ، وَحِينَ يَنْهَضُ لِلْقِيَامِ، فَيَقُومُ فَيُشِيرُ بِيَدَيْهِ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ: إِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى صَلاةً لَمْ أَرَ أَحَدًا يُصَلِّيهَا، فَوَصَفْتُ لَهُ هَذِهِ الإِشَارَةَ، فَقَالَ: إِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاقْتَدِ بِصَلاةِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۰۹) (صحیح) (اس کے راوی ’’ابن لھیعہ‘‘ ضعیف اور ’’میمون مکی‘‘ مجہول ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے اصل حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ۳/۳۲۶)
۷۳۹- میمو ن مکی سے روایت ہے کہ انہوں نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے لوگوں کو صلاۃ پڑھائی تو صلاۃ کے لئے کھڑے ہوتے وقت اور رکوع کرنے کے وقت اور سجدہ اور قیام کے لئے اٹھتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا، تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور جا کر میں نے ان سے کہا کہ میں نے ابن زبیر کو اس طرح صلاۃ پڑھتے دیکھا کہ کسی اور کو اس طرح پڑھتے نہیں دیکھا، پھر میں نے ان سے اس اشارہ کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا : اگر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صلاۃ کو دیکھنا چاہتے ہو تو عبد اللہ بن زبیر کی صلاۃ کی پیروی کرو۔
740- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ كَثِيرٍ -يَعْنِي السَّعْدِيَّ- قَالَ: صَلَّى إِلَى جَنْبِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَكَانَ إِذَا سَجَدَ السَّجْدَةَ الأُولَى فَرَفَعَ رَأْسَهُ مِنْهَا رَفَعَ يَدَيْهِ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، فَقُلْتُ لِوُهَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، فَقَالَ لَهُ وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ: تَصْنَعُ شَيْئًا لَمْ أَرَ أَحَدًا يَصْنَعُهُ؟ فَقَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: رَأَيْتُ أَبِي يَصْنَعُهُ، وَقَالَ أَبِي رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَصْنَعُهُ، وَلا أَعْلَمُ إِلا أَنَّهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم يَصْنَعُهُ۔
* تخريج: ن/الافتتاح ۱۷۷ (۱۱۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۱۹) (صحیح)
(اس کے راوی ’’نضربن کثیر‘‘ ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث نیز دوسرے شواہد کی بناء پر یہ حدیث بھی صحیح ہے )
۷۴۰- نضر بن کثیر بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن طاؤس نے مسجد خیف میں میرے بغل میں صلاۃ پڑھی، جب آپ نے پہلا سجدہ کیا ،اور اس سے اپنا سر اٹھایا تو اپنے چہرے کے بالمقابل انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تو مجھے یہ عجیب سا لگا، چنانچہ میں نے وہیب بن خالد سے اس کا تذکرہ کیا تو وہیب نے عبد اللہ بن طاؤس سے کہا: آپ ایک ایسا کام کر رہے ہیں جسے میں نے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا؟ تو عبد اللہ بن طاؤس نے کہا: میں نے اپنے والد کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ایسا کرتے دیکھا، اور ان کے متعلق بھی مجھے یہی معلوم ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔
741- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُالأَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلاةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَيَرْفَعُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم .
قَالَ أَبودَاود: الصَّحِيحُ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ، لَيْسَ بِمَرْفُوعٍ.
قَالَ أَبودَاود: وَرَوَى بَقِيَّةُ أَوَّلَهُ عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ وَأَسْنَدَهُ، وَرَوَاهُ الثَّقَفِيُّ عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ وَأَوْقَفَهُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ وقَالَ فِيهِ : وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يَرْفَعُهُمَا إِلَى ثَدْيَيْهِ، وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ.
قَالَ أَبودَاود: وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَمَالِكٌ وَأَيُّوبُ وَابْنُ جُرَيْجٍ مَوْقُوفًا، وَأَسْنَدَهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ وَحْدَهُ عَنْ أَيُّوبَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَيُّوبُ وَمَالِكٌ الرَّفْعَ إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ، وَذَكَرَهُ اللَّيْثُ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ فِيهِ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَجْعَلُ الأُولَى أَرْفَعَهُنَّ؟ قَالَ: لا، سَوَائً، قُلْتُ: أَشِرْ لِي، فَأَشَارَ إِلَى الثَّدْيَيْنِ أَوْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ۔
* تخريج: خ/الأذان ۸۳ (۷۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۸۰۱۷، ۸۳۹۶) (صحیح)
۷۴۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب صلاۃ میں داخل ہوتے تو
’’الله أكبر‘‘ کہتے، اور جب رکوع کرتے اور
’’سمع الله لمن حمده‘‘ کہتے تو رفع یدین کرتے یعنی دونوں ہاتھ اٹھاتے، اور جب دونوں رکعتوں سے اٹھتے تو رفع یدین کرتے یعنی دونوں ہاتھ اٹھاتے، اسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔
ابو داود کہتے ہیں: صحیح یہی ہے کہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے، مرفوع نہیں ہے۱؎۔
ابو داود کہتے ہیں : بقیہ نے اس حدیث کا ابتدائی حصہ عبید اللہ سے روایت کیا ہے، اور اسے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور ثقفی نے بھی اسے عبید اللہ سے روایت کیا ہے مگر ابن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوف ٹھہرایا ہے، اس میں یوں ہے: ’’جب آپ دونوں رکعت پوری کرکے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ دونوں چھاتیوں تک اٹھاتے‘‘، اور یہی صحیح ہے ۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے لیث بن سعد، مالک، ایوب اور ابن جریج نے موقوفاً روایت کیا ہے، صرف حماد بن سلمہ نے اسے ایوب کے واسطے سے مرفوعاً روایت کیا ہے، ایوب اور مالک نے اپنی روایت میں دونوں سجدوں سے تیسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے وقت رفع یدین کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے، البتہ لیث نے اپنی روایت میں اس کا ذکر کیا ہے۔
ابن جریج نے اپنی روایت میں یہ بھی کہا ہے کہ میں نے نافع سے پوچھا: کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما پہلی بار میں ہاتھ زیادہ اونچا اٹھاتے تھے؟ تو انہوں نے کہا : نہیں، بلکہ ہر مرتبہ برابر اٹھاتے تھے۔
میں نے کہا: اشارہ کر کے مجھے بتاؤ تو انہوں نے دونوں چھاتیوں تک یا اس سے بھی نیچے تک اشارہ کیا ۔
وضاحت ۱؎: ان سندوں سے یہ حدیث موقوف ہے، لیکن حدیث نمبر (۷۲۱) میں اس کے مرفوع ہونے کی صراحت ہے۔
742- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلاةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا دُونَ ذَلِكَ.
قَالَ ابو داود : لَمْ يَذْكُرْ < رَفَعَهُمَا دُونَ ذَلِكَ > أَحَدٌ غَيْرُ مَالِكٍ فِيمَا أَعْلَمُ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۷۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۸۰۱۷، ۸۳۹۶) (صحیح)
۷۴۲- نافع کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب صلاۃ شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ دونوں کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس سے کم اٹھاتے تھے ۔
ابو داود کہتے ہیں: جہاں تک مجھے معلوم ہے مالک کے علاوہ کسی نے
’’رَفَعَهُمَا دُونَ ذَلِكَ‘‘ ( انہیں یعنی ہاتھوں کو اس سے کم یعنی مونڈھے سے نیچے اٹھاتے) کا ذکر نہیں کیا ہے۔