- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
250- بَاب تَرْكِ الأَذَانِ فِي الْعِيدِ
۲۵۰- باب: عید میں اذان نہ دینے کا بیان
۲۵۰- باب: عید میں اذان نہ دینے کا بیان
1146- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ: أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْلا مَنْزِلَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلا إِقَامَةً، قَالَ: ثُمَّ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ، قَالَ: فَجَعَلَ النِّسَاءُ يُشِرْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ، قَالَ: فَأَمَرَ بِلالا فَأَتَاهُنَّ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۶۱ (۸۶۳)، العیدین ۱۶ (۹۷۵)، ۸۱ (۹۷۷)، النکاح ۱۲۵ (۵۲۴۹)، الاعتصام ۱۲۵ (۵۲۴۹)، ن/العیدین ۱۸ (۱۵۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۱۶) (صحیح)
۱۱۴۶- عبد الرحمن بن عابس کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صلاۃ عید میں حاضر رہے ہیں؟ آپ نے کہا: ہاں اور اگر رسول اللہ ﷺ کے نزدیک میری قدر و منزلت نہ ہوتی تو میں کمسنی کی وجہ سے آپ کے ساتھ حاضر نہ ہو پاتا۱؎، رسول اللہ ﷺ اس نشان کے پاس تشریف لائے جو کثیر بن صلت کے گھر کے پاس تھا تو آپ نے صلاۃ پڑھی، پھر خطبہ دیا اور اذان اور اقامت کا انہوں نے ذکر نہیں کیا، پھر آپ ﷺ نے ہمیں صدقے کا حکم دیا، تو عورتیں اپنے کانوں اور گلوں (یعنی بالیوں اور ہاروں) کی طرف اشارے کرنے لگیں، وہ کہتے ہیں: تو آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا چنانچہ وہ ان کے پاس آئے پھر (صدقہ لے کر) نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس لوٹ آئے۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ سے قرابت کا شرف حاصل تھا اس لئے مجھے آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہونے کا موقع ملا ورنہ میری کمسنی کی وجہ سے لوگ مجھے آپ ﷺ کے ساتھ کھڑا نہ ہونے دیتے۔
1147- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ؛ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَلَّى الْعِيدَ بِلا أَذَانٍ وَلا إِقَامَةٍ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ أَوْ عُثْمَانَ، شَكَّ يَحْيَى۔
* تخريج: خ/العیدین ۸ (۹۶۲)، ۱۹ (۹۷۸)، التفسیر ۳ (۴۸۹۵)، م/العیدین ۸ (۸۸۴)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۵۵ (۱۲۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۵۶۹۸) (صحیح)
۱۱۴۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عید کی صلاۃ بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی اور ابو بکر اور عمر یا عثمان رضی اللہ عنھم نے بھی، یہ شک یحییٰ قطان کو ہوا ہے۔
1148- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهَنَّادٌ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ -يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ- عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلا مَرَّتَيْنِ الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلا إِقَامَةٍ۔
* تخريج: م/العیدین (۸۸۷)، ت/الصلاۃ ۲۶۷ (الجمعۃ ۳۲) (۵۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۲۱۶۶)، وقد أخرجہ: حم (۵/۹۴، ۱۰۷) (حسن صحیح)
۱۱۴۸- جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک دو بار نہیں (بارہا) عیدین کی صلاۃ بغیر اذان اور اقامت کے پڑھی ہے۔