- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
260-بَاب رَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الاسْتِسْقَاءِ
۲۶۰- باب: صلاۃِ استسقا میں دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا بیان
۲۶۰- باب: صلاۃِ استسقا میں دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا بیان
1168- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ وَعُمَرَ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ؛ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى بَنِي آبِي اللَّحْمِ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ يَسْتَسْقِي عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ قَرِيبًا مِنَ الزَّوْرَاءِ قَائِمًا يَدْعُو يَسْتَسْقِي رَافِعًا يَدَيْهِ قِبَلَ وَجْهِهِ، لا يُجَاوِزُ بِهِمَا رَأْسَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۰۰)، وقد أخرجہ: ت/الجمعۃ ۴۳ (۵۵۷)، حم (۵/۲۲۳) (صحیح)
۱۱۶۸- عمیر مولیٰ آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو زوراء کے قریب احجار زیت کے پاس کھڑے ہو کر (اللہ تعالیٰ سے) بارش طلب کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ چہرے کی طرف اٹھائے بارش کے لئے دعا کر رہے تھے اور انہیں اپنے سر سے اوپر نہیں ہونے دیتے تھے۔
1169- حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ بَوَاكِي، فَقَالَ: < اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا مَرِيعًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ، عَاجِلا، غَيْرَ آجِلٍ > قَالَ: فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۴۱) (صحیح)
۱۱۶۹- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس (بارش نہ ہونے کی شکایت لے کر) روتے ہوئے آئے تو آپ ﷺ نے یوں دعا کی: ’’اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا مَرِيعًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ، عَاجِلا، غَيْرَ آجِلٍ‘‘ یعنی اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، ایسی بارش سے جو ہماری فریاد رسی کرنے والی ہو، اچھے انجام والی ہو، سبزہ اگانے والی ہو، نفع بخش ہو، مضرت رساں نہ ہو، جلد آنے والی ہو، تاخیر سے نہ آنے والی ہو۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: یہ کہتے ہی ان پر بادل چھا گیا۔
1170- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ لا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْئٍ مِنَ الدُّعَاءِ إِلا فِي الاسْتِسْقَاءِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبِطَيْهِ۔
* تخريج: خ/الاستسقاء ۲۲ (۱۰۳۱)، والمناقب ۲۳ (۳۵۶۵)، والدعوات ۲۳ (۶۳۴۱)، م/الاستسقاء ۱ (۸۹۵)، ن/الاستسقاء ۹ (۱۵۱۲)، وقیام اللیل ۵۲ (۱۷۴۹)، ق/إقامۃ ۱۱۸ (۱۱۸۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۸۱، ۲۸۲)، دي/الصلاۃ ۱۸۹ (۱۵۴۳) (صحیح)
۱۱۷۰- انس رضی اللہ عنہ وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ استسقا کے علاوہ کسی دعا میں (اتنا) ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے (اس موقعہ پر) آپ اپنے دونوں ہاتھ اتنا اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جا سکتی تھی۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ روایت ان بہت سی روایتوں کے معارض ہے جن سے استسقا کے علاوہ بھی بہت سی جگہوں پر دعا میں دونوں ہاتھوں کا اٹھانا ثابت ہے، لہٰذا اولیٰ یہ ہے کہ انس رضی اللہ عنہ کی اس روایت کو اس بات پر محمول کیا جائے کہ آپ نے جو نفی کی ہے وہ اپنے علم کی حد تک کی ہے، جس سے دوسروں کے علم کی نفی لازم نہیں آتی، یا یہ کہا جائے کہ اس میں ہاتھ زیادہ اٹھانے (رفع بلیغ) کی نفی ہے، یعنی دوسری دعاؤں میں آپ ہاتھ اتنا اونچا نہیں اٹھاتے تھے جتنا استسقا میں اٹھاتے تھے ’’حتى رأيت بياض إبطيه‘‘ کے ٹکڑے سے اس قول کی تائید ہو رہی ہے۔
1171- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَسْتَسْقِي هَكَذَا، يَعْنِي: وَمَدَّ يَدَيْهِ وَجَعَلَ بُطُونَهُمَا مِمَّا يَلِي الأَرْضَ، حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبِطَيْهِ۔
* تخريج: م/الاستسقاء ۱ (۸۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۳)، وقد أخرجہ: (۳/۱۵۳، ۲۴۱) (صحیح)
۱۱۷۱- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ استسقا میں اس طرح دعا کرتے تھے، یعنی آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتے اور ان کی پشت اوپر رکھتے اور ہتھیلی زمین کی طرف یہاں تک کہ میں نے آپ کے بغلوں کی سفیدی دیکھی۔
1172- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ،أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ ﷺ يَدْعُو عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ بَاسِطًا كَفَّيْهِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۰۰) (صحیح)
۱۱۷۲- محمد بن ابرا ہیم (تیمی) کہتے ہیں: مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ احجار زیت کے پاس اپنی دونوں ہتھیلیاں پھیلائے دعا فرما رہے تھے۔
1173- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ؛ عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا، قَالَتْ: شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قُحُوطَ الْمَطَرِ، فَأَمَرَ بِمِنْبَرٍ فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَكَبَّرَ ﷺ وَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ قَالَ: < إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ دِيَارِكُمْ وَاسْتِئْخَارَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَدْعُوهُ، وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ، ثُمَّ قَالَ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ} لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لاإِلَهَ إِلا أَنْتَ، أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلاغًا إِلَى حِينٍ >، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمْ يَزَلْ فِي الرَّفْعِ حَتَّى بَدَا بَيَاضُ إِبِطَيْهِ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَقَلَبَ -أَوْ حَوَّلَ- رِدَائَهُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابَةً فَرَعَدَتْ وَبَرَقَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ، فَلَمْ يَأْتِ مَسْجِدَهُ حَتَّى سَالَتِ السُّيُولُ، فَلَمَّا رَأَى سُرْعَتَهُمْ إِلَى الْكِنِّ ضَحِكَ ﷺ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، فَقَالَ: < أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ، وَأَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ >.
قَالَ أَبودَاود: وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِسْنَادُهُ جَيِّدٌ، أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَقْرَئُونَ {مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ} وَإِنَّ هَذَا الْحَدِيثَ حُجَّةٌ لَهُمْ۔
* تخريج: تفردبہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۴۰) (حسن)
۱۱۷۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ نے منبر (رکھنے) کا حکم دیا تو وہ آپ کے لئے عید گاہ میں لا کر رکھا گیا، آپ ﷺ نے لوگوں سے ایک دن عید گاہ کی طرف نکلنے کا وعدہ لیا، تو رسول اللہ ﷺ (حجرہ سے) اس وقت نکلے جب کہ آفتاب کا کنارہ ظاہر ہو گیا، آپ ﷺ منبر پر بیٹھے، اللہ تعالی کی تکبیر و تحمید کی پھر فرمایا: ’’تم لوگوں نے بارش میں تاخیر کی وجہ سے اپنی آبادیوں میں قحط سالی کی شکایت کی ہے، اللہ تعالی نے تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو اور اس نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ (اگر تم اسے پکارو گے) تو وہ تمہاری دعا قبول کرے گا‘‘، اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ دعا فرمائی:
’’{الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ} لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لاإِلَهَ إِلا أَنْتَ،أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلاغًا إِلَى حِينٍ‘‘۔
(یعنی تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لئے ہیں جو رحمن و رحیم ہے اور روز جزا کا مالک ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ جو چاہتا ہے، کرتا ہے، اے اللہ! تو ہی معبود حقیقی ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم فقیر ہیں، تو ہم پر باران رحمت نازل فرما اور جو تو نازل فرما اسے ہمارے لئے قوت (رزق) بنا دے اور ایک مدت تک اس سے فائدہ پہنچا)۔
پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اوراتنا اوپر اٹھایا کہ آپ کے بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگی، پھر حاضرین کی طرف پشت کر کے اپنی چادر کو پلٹا، آپ اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اتر کر دو رکعت پڑھی، اسی وقت (اللہ کے حکم سے) آسمان سے بادل اٹھے، جن میں گرج اور چمک تھی، پھر اللہ کے حکم سے بارش ہوئی تو ابھی آپ ﷺ اپنی مسجد نہیں آسکے تھے کہ بارش کی کثرت سے نالے بہنے لگے، جب آپ نے لوگوں کو سائبانوں کی طرف بڑھتے دیکھا تو ہنسے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے اور فرمایا: ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے اور اس کی سند جید (عمدہ) ہے، اہل مدینہ ’’مالك يوم الدين‘‘ پڑھتے ہیں اور یہی حدیث ان کی دلیل ہے۔
1174- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَصَابَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ قَحْطٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُنَا يَوْمَ جُمُعَةٍ إِذْ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلَكَ الْكُرَاعُ، هَلَكَ الشَّاءُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَمَدَّ يَدَيْهِ وَدَعَا، قَالَ أَنَسٌ: وَإِنَّ السَّمَائَ لَمِثْلُ الزُّجَاجَةِ، فَهَاجَتْ رِيحٌ، ثُمَّ أَنْشَأَتْ سَحَابَةً، ثُمَّ اجْتَمَعَتْ، ثُمَّ أَرْسَلَتِ السَّمَاءُ عَزَالِيَهَا، فَخَرَجْنَا نَخُوضُ الْمَاءَ حَتَّى أَتَيْنَا مَنَازِلَنَا، فَلَمْ يَزَلِ الْمَطَرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الأُخْرَى، فَقَامَ إِلَيْهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ، أَوْ غَيْرُهُ، فَقَالَ: يَارَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَحْبِسَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ثُمَّ قَالَ: < حَوَالَيْنَا وَلا عَلَيْنَا > فَنَظَرْتُ إِلَى السَّحَابِ يَتَصَدَّعُ حَوْلَ الْمَدِينَةِ كَأَنَّهُ إِكْلِيلٌ ۔
* تخريج: خ/الجمعۃ ۳۴ (۹۳۲)، الاستسقاء ۶ (۱۰۱۳)، ۷ (۱۰۱۴)، ۸ (۱۰۱۵)، ۹ (۱۰۱۶)، ۱۰ (۱۰۱۷)، ۱۱ (۱۰۱۸)، ۱۲ (۱۰۱۹)، ۱۴ (۱۰۲۱)، ۲۱ (۱۰۲۹)، ۲۴ (۱۰۳۳)، المناقب ۲۵ (۳۵۸۲)، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۳)، وقد أخرجہ: الاستسقاء ۱ (۸۹۷)، ۲ (۸۹۷)، ن/الاستسقاء ۱ (۱۵۰۳) ۱۰، حم (۳/۱۰۴، ۱۸۲، ۱۹۴، ۲۴۵،۲۶۱، ۲۷۱) (صحیح)
۱۱۷۴- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اہل مدینہ قحط میں مبتلا ہوئے، اسی دوران کہ آپ جمعہ کے دن ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ اللہ کے رسول! گھوڑے مر گئے، بکریاں ہلاک ہو گئیں، آپ اللہ تعالی سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں سیراب کرے، چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلایا اور دعا کی۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس وقت آسمان آئینہ کی طرح صاف تھا، اتنے میں ہوا چلنے لگی پھر بدلی اٹھی اور گھنی ہو گئی پھر آسمان نے اپنا دہانہ کھول دیا، پھر جب ہم (صلاۃ پڑھ کر) واپس ہونے لگے تو پانی میں ہو کر اپنے گھروں کو گئے اور آنے والے دوسرے جمعہ تک برابر بارش کا سلسلہ جاری رہا، پھر وہی شخص یا دوسرا کوئی آپ ﷺ کے سامنے کھڑا ہوا اوراس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گھر گر گئے، اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ بارش بند کر دے، (یہ سن کر) آپ ﷺ مسکرائے پھر فرمایا: ’’اے اللہ! تو ہمارے اردگرد بارش نازل فرما اور ہم پر نہ نازل فرما‘‘۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تومیں نے بادل کو دیکھا وہ مدینہ کے اردگرد سے چھٹ رہا تھا گویا وہ تاج ہے۔
1175- حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ؛ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ؛ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِالْعَزِيزِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَدَيْهِ بِحِذَاءِ وَجْهِهِ فَقَالَ: < اللَّهُمَّ اسْقِنَا > وَسَاقَ نَحْوَهُ۔
* تخريج: خ/الاستسقاء ۶ (۱۰۱۳)، ۷ (۱۰۱۴)، ۹ (۱۰۱۶)، ۱۰ (۱۰۱۷)، م/الاستسقاء ۱ (۸۹۷)، ن/الاستسقاء ۱ (۱۵۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۹۰۶) (صحیح)
۱۱۷۵- شریک بن عبد اللہ بن ابی نمر سے روایت ہے کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، پھر راوی نے عبد العزیز کی روایت کی طرح ذکر کیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرہ کے بالمقابل اٹھایا اور یہ دعا کی ’’اللَّهُمَّ اسْقِنَاْ‘‘ (اے اللہ! ہمیں سیراب فرما) اور آگے انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی۔
1176- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ [كَانَ يَقُولُ] (ح) وَحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا اسْتَسْقَى قَالَ: < اللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ وَبَهَائِمَكَ، وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ، وَأَحْيِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ >، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مَالِكٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۱۶)، وقد أخرجہ: ط/الاستسقاء عن عمرو بن شعیب مرسلاً ۲ (۳) (حسن)
۱۱۷۶- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بارش کے لئے دعا مانگتے تو فرماتے: ’’اللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ وَبَهَائِمَكَ، وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ، وَأَحْيِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ‘‘ اے اللہ! تو اپنے بندوں اور چوپایوں کو سیراب کر، اور اپنی رحمت عام کر دے، اور اپنے مردہ شہر کو زندگی عطا فرما، (یہ مالک کی روایت کے الفاظ ہیں)۔
* * * * *