• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سفر میں صلاۃ کے احکام و مسائل

{ تَفْرِيعِ صَلاةِ السَّفَرِ }

270- بَاب صَلاةِ الْمُسَافِرِ
۲۷۰- باب: مسافر کی صلاۃ کا بیان​

1198- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: فُرِضَتِ الصَّلاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلاةُ السَّفَرِ، وَزِيدَ فِي صَلاةِ الْحَضَرِ۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۱ (۳۵۰)، وتقصیر الصلاۃ ۵ (۱۰۹۰)، فضائل الصحابۃ ۷۶ (۳۷۲۰)، م/المسافرین ۱ (۶۸۵)، ن/الصلاۃ ۳ (۴۵۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۸)، وقد أخرجہ: ط/قصر الصلاۃ ۱ (۹)، حم (۶/۲۳۴، ۲۴۱، ۲۶۵، ۲۷۲)، دي/الصلاۃ ۱۷۹(۱۵۵۰) (صحیح)

۱۱۹۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سفر اور حضر دونوں میں دو دو رکعت صلاۃ فرض کی گئی تھی، پھر سفر کی صلاۃ (حسب معمول) برقرار رکھی گئی اور حضر کی صلاۃ میں اضافہ کر دیا گیا۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اضافہ صرف چار رکعت والی صلاۃِ ظہر، عصر اور عشاء میں کیا گیا، مغرب کی حیثیت دن کے وتر کی ہے، اور فجر میں لمبی قرأت مسنون ہے اس لئے ان دونوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔
بعض علماء کے نزدیک سفر میں قصر واجب ہے اور بعض کے نزدیک رخصت ہے چاہے تو پوری پڑھے اور چاہے تو قصر کرے مگر قصر افضل ہے۔

1199- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُسَدَّدٌ قَالا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ (ح) وَحَدَّثَنَا خُشَيْشٌ -يَعْنِي ابْنَ أَصْرَمَ- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ [بْنِ أَبِي عَمَّارٍ]، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ؛ عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَرَأَيْتَ إِقْصَارَ النَّاسِ الصَّلاةَ، وَإِنَّمَا قَالَ تَعَالَى: {إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمِ الَّذِينَ كَفَرُوا} فَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ الْيَوْمَ، فَقَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: < صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ > ۔
* تخريج: م/المسافرین ۱ (۶۸۶)، ت/تفسیر سورۃ النساء ۵ (۳۰۳۴)، ن/تقصیر الصلاۃ ۱ (۱۴۳۴)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۷۳ (۱۰۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۵، ۳۶)، دي/الصلاۃ ۱۷۹ (۱۵۴۶) (صحیح)

۱۱۹۹- یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے بتائیے کہ (سفر میں) لوگوں کے صلاۃ قصر کرنے کا کیا مسئلہ ہے اللہ تعالیٰ تو فرما رہا ہے: ’’اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں مبتلا کر دیں گے‘‘، تو اب تو وہ دن گزر چکا ہے تو آپ نے کہا: جس بات پر تمہیں تعجب ہوا ہے اس پر مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تبارک وتعالیٰ نے تم پر یہ صدقہ کیا ہے لہٰذا تم اس کے صدقے کو قبول کرو‘‘۱؎ ۔
وضاحت۱؎: قصر صلاۃ حالت خوف کے ساتھ خاص نہیں بلکہ امت کی آسانی کے لئے اسے سفر میں مشروع قرار دیا گیا خواہ سفر پُر امن ہی کیوں نہ ہو۔

1200- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ أَبِي عَمَّارٍ يُحَدِّثُ، فَذَكَرَهُ [نَحْوَهُ].
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ وَحَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ كَمَا رَوَاهُ ابْنُ بَكْرٍ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۵۹) (صحیح)

۱۲۰۰- ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن ابی عمار کو بیان کرتے ہوئے سنا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔
ابو داود کہتے ہیں : اس حدیث کو ابو عاصم اور حماد بن مسعدہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے اسے ابن بکر نے کیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
271- بَاب مَتَى يَقْصُرُ الْمُسَافِرُ
۲۷۱- باب: مسافر قصر کب کرے؟​

1201- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَزِيدَ الْهُنَائِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلاةِ فَقَالَ أَنَسٌ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلاثَةِ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلاثَةِ فَرَاسِخَ [شَكَّ شُعْبَةُ] يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ۔
* تخريج: م/المسافرین ۱ (۶۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۷۱)، وقد أخرجہ: حم(۳/ ۱۲۹) (صحیح)

۱۲۰۱- یحییٰ بن یزید ہنائی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے صلاۃ قصر کر نے کے متعلق پوچھا تو آپ نے کہا: رسول اللہ ﷺ جب تین میل یا تین فرسخ (یہ شک شعبہ کو ہوا ہے) کی مسافت پر نکلتے تو دو رکعت پڑھتے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: قصر کے لئے مسافت کی تحدید میں رسول اکرم ﷺ کا کوئی صریح قول نہیں ہے، فعلی احادیث میں سب سے صحیح یہی حدیث ہے، اس کے مطابق (اکثر مسافت تین فرسخ کے مطابق) نومیل کی مسافت سے قصر کی جا سکتی ہے، جو کلومیٹر کے حساب سے ساڑھے چودہ کلومیٹر ہوتی ہے۔

1202- حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، سَمِعَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ۔
* تخريج: خ/تقصیر الصلاۃ ۵ (۱۰۸۹)، والحج ۲۴ (۱۵۴۶)، ۲۵ (۱۵۴۸)، ۱۱۹ (۱۷۱۴)، والجہاد ۱۰۴ (۲۹۵۱)، م/المسافرین ۱ (۶۹۰)، ت/الصلاۃ ۲۷۴ (۵۴۶)، ن/الصلاۃ ۱۱ (۴۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۶، ۱۵۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/ ۱۱۰، ۱۱۱، ۱۷۷، ۱۸۶، ۲۳۷، ۲۶۸)، دي/الصلاۃ ۱۷۹ (۱۵۴۸)، ویأتي في الحج برقم ۱۷۷۳) (صحیح)

۱۲۰۲- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینے میں ظہر چار رکعت پڑھی اور ذو الحلیفہ میں عصر دو رکعت۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ مسافر جب شہر کی آبادی سے باہر نکل جائے تو اس کے لئے قصر کرنا جائز ہو جاتا ہے، ذو الحلیفہ مدینہ سے (مکہ کے راستے میں) تیرہ کلومیٹر کی دوری پر ہے، جو اہل مدینہ کی میقات ہے، اس وقت یہ ’’ابیار علی‘‘ سے بھی مشہور ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
272- بَاب الأَذَانِ فِي السَّفَرِ
۲۷۲- باب: سفر میں اذان دینے کا بیان​

1203- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ حَدَّثَهُ؛ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < يَعْجَبُ رَبُّكُمْ مِنْ رَاعِي غَنَمٍ فِي رَأْسِ شَظِيَّةٍ بِجَبَلٍ يُؤَذِّنُ بِالصَّلاةِ وَيُصَلِّي، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ الصَّلاةَ، يَخَافُ مِنِّي، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي، وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ >۔
* تخريج: ن/الأذان (۲۶/۶۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۱۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۴۵، ۱۵۷) (صحیح)

۱۲۰۳- عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’تمہارا رب بکری کے اس چرواہے سے خوش ہوتا ہے جو کسی پہاڑ کی چوٹی میں رہ کر صلاۃ کے لئے اذان د یتا۱؎ اور صلاۃ ادا کرتا ہے، اللہ تعالی فرماتا ہے: دیکھو میرے اس بندے کو، یہ اذان دے رہا ہے اور صلاۃ قائم کر رہا ہے، مجھ سے ڈرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا اور اسے جنت میں داخل کر دیا‘‘۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ سفر میں تنہا آدمی کے لیے بھی اذان مشروع ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
273-بَاب الْمُسَافِرِ يُصَلِّي وَهُوَ يَشُكُّ فِي الْوَقْتِ
۲۷۳-باب: مسافر کو شک ہو کہ صلاۃ کا وقت ہوا یا نہیں پھر وہ صلاۃ پڑھ لے تو یہ جائز ہے​

1204- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْمِسْحَاجِ بْنِ مُوسَى، قَالَ: قُلْتُ لأنَسِ بْنِ مَالِكٍ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، قَالَ: كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي السَّفَرِ، فَقُلْنَا: زَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزُلْ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ ارْتَحَلَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۶)، وقد أخرجہ: خ/تقصیر الصلاۃ ۱۵ (۱۱۱۱)، ۱۶ (۱۱۱۲)، م/المسافرین ۵ (۷۰۴)، ن/المواقیت ۴۱ (۵۸۷)، حم (۳/ ۱۱۳، ۲۴۷، ۲۶۵) (صحیح)

۱۲۰۴- مسحاج بن موسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: ہم سے آپ کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہو، انہوں نے کہا: جب ہم لوگ سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے تو ہم کہتے: سورج ڈھل گیا یا نہیں۱؎ تو آپ ظہر پڑھتے پھر کوچ کرتے۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر امام کو وقت ہو جانے کا یقین ہے تو مقتدیوں کے شک کا کوئی اعتبار نہ ہو گا۔

1205- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي حَمْزَةُ الْعَائِذِيُّ [رَجُلٌ مِنْ بَنِي ضَبَّةَ] قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلا لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ۔
* تخريج: ن/المواقیت ۲ (۴۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۲۰، ۱۲۹) (صحیح)

۱۲۰۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی مقام پر قیام فرماتے تو ظہر پڑھ کر ہی کوچ فرماتے، تو ایک شخص نے ان سے کہا: اگرچہ نصف النہار ہوتا؟ انہوں نے کہا: اگرچہ نصف النہار ہوتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
274- بَاب الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاتَيْنِ
۲۷۴- باب: دو صلاۃ کو جمع کر نے کا بیان۱؎​

1206- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، فَأَخَّرَ الصَّلاةَ يَوْمًا، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، ثُمَّ دَخَلَ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا۔
* تخريج: م/المسافرین ۶ (۷۰۶)، والفضائل ۳ (۷۰۶/۱۰)، ن/المواقیت ۴۱ (۵۸۸)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۷۴ (۱۰۷۰)، وانظر مایأتي برقم : ۱۲۲۰ ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۲۰)، وقد أخرجہ: ت/الجمعۃ ۴۲ (۵۵۳)، ط/قصرالصلاۃ ۱(۲)، حم (۵/۲۲۹، ۲۳۰، ۲۳۳، ۲۳۶، ۲۳۷)، دي/الصلاۃ ۱۸۲(۱۵۵۶) (صحیح)

۱۲۰۶- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کے لئے نکلے تو آپ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کرتے تھے، ایک دن آپ ﷺ نے صلاۃ مؤخر کی پھر نکلے اور ظہر و عصر ایک ساتھ پڑھی۲؎ پھر اندر (قیام گاہ میں) ۳؎ چلے گئے، پھر نکلے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔
وضاحت۱؎: جمع کی دو قسمیں ہیں: ایک صوری، دوسری حقیقی، پہلی صلاۃ کو آخر وقت میں اور دوسری صلاۃ کو اوّل وقت میں پڑھنے کو جمع صوری کہتے ہیں، اور ایک صلاۃ کو دوسری کے وقت میں جمع کرکے پڑھنے کو جمع حقیقی کہتے ہیں، اس کی دو صورتیں ہیں ایک جمع تقدیم، دوسری جمع تاخیر، جمع تقدیم یہ ہے کہ ظہر کے وقت میں عصر اور مغرب کے وقت میں عشاء پڑھی جائے، اور جمع تاخیر یہ ہے کہ عصر کے وقت میں ظہر اور عشاء کے وقت میں مغرب پڑھی جائے یہ دونوں جمع رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔
بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جمع سے مراد جمع صوری ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ جمع سے مراد جمع حقیقی ہے کیوں کہ جمع کی مشروعیت آسانی کے لئے ہوئی ہے، اور جمع صوری کی صورت میں تو اور زیادہ پریشانی اور زحمت ہے، کیوں کہ تعیین کے ساتھ اول اور آخر وقت کا معلوم کرنا مشکل ہے۔
وضاحت۲؎: اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جمع بین الصلاتین (دو صلاۃ کو ایک وقت میں ادا کرنے) کی رخصت ایام حج میں عرفہ اور مزدلفہ کے ساتھ خاص نہیں کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے تبوک میں بھی دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا ہے۔
وضاحت۳؎: اس سے معلوم ہوا کہ جمع بین الصلاتین کے لئے سفر کا تسلسل شرط نہیں، سفر کے دوران قیام کی حالت میں بھی جمع بین الصلاتین جائز ہے۔

1207- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ وَهُوَ بِمَكَّةَ، فَسَارَ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَبَدَتِ النُّجُومُ، فَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ فِي سَفَرٍ جَمَعَ بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلاتَيْنِ، فَسَارَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ، فَنَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ((تحفۃ الأشراف: ۷۵۸۴)، وقد أخرجہ: خ/تقصیر الصلاۃ ۶ (۱۰۹۱)، والعمرۃ۲۰ (۱۸۰۵)، والجہاد ۱۳۶ (۳۰۰۰)، م/المسافرین ۵ (۷۰۳)، ت/الصلاۃ ۲۷۷ (۵۵۵)، ن/المواقیت ۴۳ (۵۹۶)، ط/قصر الصلاۃ ۱(۳)، حم (۲/۵۱، ۸۰، ۱۰۲، ۱۰۶، ۱۵۰)، دي/الصلاۃ ۱۸۲(۱۵۵۸) (صحیح)

۱۲۰۷- نافع کہتے ہیں کہ ابن عمررضی اللہ عنہما کو صفیہ۱؎ کی موت کی خبر دی گئی اس وقت مکہ میں تھے تو آپ چلے (اور چلتے رہے) یہاں تک کہ سور ج ڈوب گیا اور ستارے نظرآنے لگے، تو عرض کیا کہ نبی اکرم ﷺ کو سفر میں جب کسی کام کی عجلت ہوتی تو آپ یہ دونوں (مغرب اور عشا) ایک سا تھ ادا کرتے، پھر وہ شفق غائب ہونے تک چلتے رہے ٹھہرکر دونوں کو ایک ساتھ ادا کیا۔
وضاحت۱؎: صفیہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بیوی تھیں، مؤلف کے سوا دیگر کے نزدیک یہ ہے کہ ’’حالت نزع کی خبر دی گئی‘‘، نسائی کی ایک روایت میں یہ ہے کہ صفیہ نے خود خط لکھا کہ میں حالت نزع میں ہوں جلدی ملیں۔

1208- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، [وَإِنْ يَرْتَحِلْ] قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعَصْرِ، وَفِي الْمَغْرِبِ مِثْلُ ذَلِكَ: إِنْ غَابَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَإِنْ يَرْتَحِلْ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَنْزِلَ لِلْعِشَاءِ، ثُمَّ جَمَعَ بَيْنَهُمَا.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، نَحْوَ حَدِيثِ الْمُفَضَّلِ وَاللَّيْثِ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : ۱۲۰۶، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۲۰) (صحیح)

۱۲۰۸- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں سفر سے پہلے سورج ڈھل جانے کی صورت میں تو رسول اللہ ﷺ عصر کو ظہر کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے، اور اگر سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو موخر کر دیتے یہاں تک کہ آپ عصر کے لئے قیام کرتے، اسی طرح آپ مغرب میں کرتے، اگر کوچ کرنے سے پہلے سورج ڈوب جاتا تو عشاء کو مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھ لیتے اور اگر سورج ڈوبنے سے پہلے کوچ کرتے تو مغرب کو مؤخر کر دیتے یہاں تک کہ عشاء کے لئے قیام کرتے پھر دونوں کو ملا کر پڑھ لیتے۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے ہشام بن عروہ نے حصین بن عبد اللہ سے حصین نے کریب سے، کریب نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ سے مفضل اور لیث کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔

1209- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ قَطُّ فِي السَّفَرِ إِلا مَرَّةً.
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۷۰۹۳) (منکر)
(عبد اللہ بن نافع حافظہ کے کمزور راوی ہیں ، اسی لئے موقوف کو مرفوع بنا ڈالا ہے)
قَالَ أَبودَاود: وَهَذَا يُرْوَى عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ لَمْ يَرَ ابْنَ عُمَرَ جَمَعَ بَيْنَهُمَا قَطُّ إِلا تِلْكَ اللَّيْلَةَ، يَعْنِي لَيْلَةَ اسْتُصْرِخَ عَلَى صَفِيَّةَ، وَرُوِيَ مِنْ حَدِيثِ مَكْحُولٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : (۱۲۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۷۰۹۳) (صحیح)

۱۲۰۹- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں ایک بار کے علاوہ کبھی بھی مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ادا نہیں کیا۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث ایوب عن نافع عن ابن عمر سے موقوفاً روایت کی جاتی ہے کہ نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک رات کے سوا کبھی بھی ان دونوں صلاتوں کو جمع کرتے نہیں دیکھا، یعنی اس رات جس میں انہیں صفیہ کی وفات کی خبر دی گئی ، اور مکحول کی حدیث نافع سے مروی ہے کہ انہوں نے ابن عمر کو اس طرح ایک یا دو بار کرتے دیکھا۔

1210- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلا سَفَرٍ.
قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: أَرَى ذَلِكَ كَانَ فِي مَطَرٍ.
قَالَ أَبودَاود: وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ نَحْوَهُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، وَرَوَاهُ قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: [فِي] سَفْرَةٍ سَافَرْنَاهَا إِلَى تَبُوكَ۔
* تخريج: م/المسافرین ۶ (۷۰۵) ن/المواقیت ۴۶ (۶۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۵۶۰۸)، وقد أخرجہ: خ/المواقیت ۱۲ (۵۴۳)، ت/الصلاۃ ۱ (۱۸۷)، ط/قصر الصلاۃ ۱(۴)، حم (۱/۲۲۱، ۲۲۳، ۲۸۳، ۳۴۹) (صحیح)

۱۲۱۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بلا کسی خوف اور سفر کے ظہر اور عصر کو ایک ساتھ اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ ادا کیا۱؎ ۔
مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ایسا بارش میں ہوا ہو گا۲؎۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے حماد بن سلمہ نے مالک ہی کی طرح ابو الزبیر سے روایت کیا ہے، نیز اسے قرہ بن خالد نے بھی ابو الزبیر سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ یہ ایک سفر میں ہوا تھا جو ہم نے تبوک کی جانب کیا تھا۔
وضاحت۱؎: اس سے ثابت ہوا کہ حالت حضر (قیام کی حالت) میں بھی ضرورت کے وقت دو صلاۃ کو ایک ساتھ جمع کیا جا سکتا ہے، البتہ اس کو عادت نہیں بنانا چاہئے۔
وضاحت۲؎: لیکن صحیح مسلم کی ایک روایت میں’’من غير خوف ولا مطر‘‘(یعنی بغیر کسی خوف اور بارش) کے الفاظ بھی آئے ہیں۔

1211- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلا مَطَرٍ، فَقِيلَ لابْنِ عَبَّاسٍ: مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لايُحْرِجَ أُمَّتَهُ۔
* تخريج: م/المسافرین ۶ (۷۰۵) ت/ الصلاۃ ۱ (۱۸۷)، ن/المواقیت ۴۶ (۶۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۷۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۵۴) (صحیح)

۱۲۱۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینے میں بلا کسی خوف اور بارش کے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ملا کر پڑھا، ابن عباس سے پوچھا گیا: اس سے آپ کا کیا مقصد تھا؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے چاہا کہ اپنی امت کو کسی زحمت میں نہ ڈالیں۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ حالت قیام میں بغیر کسی خوف اور بارش کے جمع بین الصلاتین بوقت ضرورت جائز ہے، سنن ترمذی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی یہ روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو دو صلاۃ کو بغیر کسی عذر کے جمع کرے تو وہ بڑے گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں داخل ہو گیا‘‘ ضعیف ہے، اس کی اسناد میں حنش بن قیس راوی ضعیف ہے، اس لئے یہ استدلال کے لائق نہیں، ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے، اور یہ ضعیف حدیث ان صحیح روایات کی معارض نہیں ہو سکتی جن سے جمع کرنا ثابت ہوتا ہے، اور بعض لوگ جو یہ تاویل کرتے ہیں کہ شاید آپ ﷺ نے کسی بیماری کی وجہ سے ایسا کیا ہو تو یہ بھی صحیح نہیں کیوں کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول کے منافی ہے کہ اس (جمع بین الصلاتین) سے مقصود یہ تھا کہ امت حرج میں نہ پڑے۔

1212- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ وَعَبْدِاللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ أَنَّ مُؤَذِّنَ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: الصَّلاةُ، قَالَ: سِرْ، سِرْ، حَتَّى إِذَا كَانَ قَبْلَ غُيُوبِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ صَنَعَ مِثْلَ الَّذِي صَنَعْتُ، فَسَارَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ مَسِيرَةَ ثَلاثٍ.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ ابْنُ جَابِرٍ عَنْ نَافِعٍ نَحْوَ هَذَا بِإِسْنَادِهِ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۷۲۹۰) (صحیح)
(لیکن اس حدیث میں وارد لفظ ’’قبل غیوب الشفق‘‘ ’’شفق غائب ہونے سے قبل‘‘ شاذ ہے، صحیح لفظ ’’حتی غاب الشفق‘‘ ’’شفق غائب ہونے کے بعد ‘‘ ہے جیسا کہ حدیث نمبر: ۱۲۰۷ میں ہے)
۱۲۱۲- نافع اور عبد اللہ بن واقد سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے مؤذن نے کہا: صلاۃ (پڑھ لی جائے) (تو) ابن عمر نے کہا: چلتے رہو پھر شفق غائب ہونے سے پہلے اترے اور مغرب پڑھی پھر انتظار کیا یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی تو عشاء پڑھی، پھر کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ کو جب کسی کام کی جلدی ہوتی تو آپ ایسا ہی کرتے جیسے میں نے کیا ہے، چنانچہ انہوں نے اس دن اور رات میں تین دن کی مسافت طے کی۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے ابن جابر نے بھی نافع سے اسی سند سے اسی کی طرح روایت کیا ہے۔

1213- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ -بِهَذَا الْمَعْنَى- قَالَ أَبو دَاود: وَرَوَاهُ عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ ذَهَابِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا۔
* تخريج: ن/ المواقیت ۴۴ (۵۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۷۷۵۹) (صحیح)

۱۲۱۳- اس طریق سے بھی ابن جابر سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
ابوداود کہتے ہیں: اور عبد اللہ بن علاء نے نافع سے یہ حدیث روایت کی ہے: اس میں ہے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہونے کا وقت ہوا تو وہ اترے اور مغرب اورعشاء ایک سا تھ پڑھی۔

1214- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ (ح) وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْمَدِينَةِ ثَمَانِيًا وَسَبْعًا، الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ، وَلَمْ يَقُلْ سُلَيْمَانُ وَمُسَدَّدٌ < بِنَا >.
قَالَ أَبودَاود: وَرَوَاهُ صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فِي غَيْرِ مَطَرٍ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : ۱۲۱۰، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۷۷) (صحیح)

۱۲۱۴- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینے میں ہمارے ساتھ ظہر و عصر ملا کر آٹھ رکعتیں اور مغرب و عشاء ملا کر سات رکعتیں پڑھیں۔
سلیمان اور مسدد کی روایت میں’’بنا‘‘ یعنی ہمارے ساتھ کا لفظ نہیں ہے ۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے صالح مولیٰ توأمہ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے، اس میں ’’بغير مطر‘‘ (بغیر بارش) کے الفاظ ہیں۔

1215- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ غَابَتْ لَهُ الشَّمْسُ بِمَكَّةَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا بِسَرِفٍ ۔
* تخريج: ن/المواقیت ۴۴ (۵۹۴)، (تحفۃ الأشراف: ۲۹۳۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۰۵، ۳۸۰) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’یحییٰ بن محمد الجاری‘‘ کے بارے میں کلام ہے)
۱۲۱۵- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں تھے کہ سورج ڈوب گیا تو آپ نے مقام سرف میں دونوں (مغرب اور عشاء) ایک ساتھ ادا کی۔

1216- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ جَارُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: بَيْنَهُمَا عَشَرَةُ أَمْيَالٍ يَعْنِي بَيْنَ مَكَّةَ وَسَرِفٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۵۰۹) (مقطوع)

۱۲۱۶- ہشام بن سعد کہتے ہیں کہ دونوں یعنی مکہ اور سرف کے درمیان دس میل کا فاصلہ ہے ۔

1217- حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ، قَالَ: قَالَ رَبِيعَةُ -يَعْنِي كَتَبَ إِلَيْهِ- حَدَّثَنِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ دِينَارٍ قَالَ: غَابَتِ الشَّمْسُ وَأَنَا عِنْدَ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَسِرْنَا، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قَدْ أَمْسَى قُلْنَا: الصَّلاةُ، فَسَارَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ وَتَصَوَّبَتِ النُّجُومُ، ثُمَّ إِنَّهُ نَزَلَ فَصَلَّى الصَّلاتَيْنِ جَمِيعًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ صَلَّى صَلاتِي هَذِهِ، يَقُولُ: يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا بَعْدَ لَيْلٍ.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَخِيهِ عَنْ سَالِمٍ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ ذُؤَيْبٍ أَنَّ الْجَمْعَ بَيْنَهُمَا مِنِ ابْنِ عُمَرَ كَانَ بَعْدَ غُيُوبِ الشَّفَقِ.
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۷۱۴۹) (صحیح)

۱۲۱۷- عبد اللہ بن دینار کہتے ہیں کہ سورج ڈوب گیا، اس وقت میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، پھر ہم چلے، جب دیکھا کہ رات آگئی ہے تو ہم نے کہا: صلاۃ (ادا کر لیں) لیکن آپ چلتے رہے یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی اور تارے پو ری طرح جگمگانے لگے، پھر آپ اترے، اور دونوں صلاتیں (مغرب اور عشاء) ایک سا تھ ادا کیں، پھر کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب چلتے رہنا ہوتا تو میری اس صلاۃ کی طرح آپ بھی صلاۃ ادا کر تے یعنی دونوں کو رات ہو جانے پر ایک ساتھ پڑھتے۔
ابو داود کہتے ہیں:ںیہ حدیث عاصم بن محمد نے اپنے بھائی سے اور انہوں نے سالم سے روایت کی ہے، اور ابن ابی نجیح نے اسماعیل بن عبد الرحمن بن ذویب سے روایت کی ہے کہ ان دونوں صلاتوں کو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے شفق غائب ہونے کے بعد جمع کیا۔

1218- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَابْنُ مَوْهَبٍ [الْمَعْنَى]، قَالا: حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا، فَإِنْ زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ ﷺ .
قَالَ أَبودَاود: كَانَ مُفَضَّلٌ قَاضِيَ مِصْرَ، وَكَانَ مُجَابَ الدَّعْوَةِ، وَهُوَ ابْنُ فَضَالَةَ ۔
* تخريج: خ/ تقصیر الصلاۃ ۱۵ (۱۱۱۱)، ۱۶ (۱۱۱۲)، م/المسافرین ۵ (۷۰۴)، ن/المواقیت ۴۱ (۵۸۷)،(تحفۃ الأشراف: ۱۵۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۴۷، ۲۶۵) (صحیح)

۱۲۱۸- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر کر دیتے پھر قیام فرماتے اور دونوں کوجمع کرتے، اور اگر کوچ کر نے سے پہلے سو رج ڈھل جاتا تو آپ ظہر پڑھ لیتے پھر سوار ہوتے۔
ابو داود کہتے ہیں: مفضل مصر کے قاضی اور مستجاب الدعوات تھے ، وہ فضالہ کے لڑکے ہیں۔

1219- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عُقَيْلٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، قَالَ: وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ۔
* تخريج: انظر ماقبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۱۵) (صحیح)

۱۲۱۹- اس طریق سے بھی عقیل سے یہی روایت اسی سند سے منقول ہے، البتہ اس میں اضافہ ہے کہ مغرب کو مؤخر فرماتے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہو جاتی تو اسے اور عشاء کو ملا کر پڑھتے۔

1220- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ فَيُصَلِّيَهُمَا جَمِيعًا، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ سَارَ، وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبَ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ، وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلاَّهَا مَعَ الْمَغْرِبِ.
قَالَ أَبودَاود: وَلَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ إِلا قُتَيْبَةُ وَحْدَهُ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۷۷ (۵۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۲۱)، وقد أخرجہ: حم(۵/۲۴۱) (صحیح)

۱۲۲۰- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک میں سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو مؤخر کر دیتے یہاں تک کہ اسے عصر سے ملا دیتے، اور دونوں کو ایک ساتھ ادا کر تے، اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے تو ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھتے پھر روانہ ہوتے، اور جب مغرب سے پہلے کوچ فرماتے تو مغرب کو مؤخر کرتے یہاں تک کہ اسے عشاء کے ساتھ ملا کر ادا کرتے، اور اگر مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشاء میں جلدی فرماتے اور اسے مغرب کے ساتھ ملا کر پڑھتے۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث سوائے قتیبہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اس سند اور متن میں قتیبہ منفرد ہیں، دونوں سندوں اور متنوں میں فرق کے لئے دیکھئے حدیث نمبر: (۱۲۰۶ )۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
275-بَاب قَصْرِ قِرَائَةِ الصَّلاةِ فِي السَّفَرِ
۲۷۵- باب: سفرکی صلاۃ میں قرأت مختصر کرنے کا بیان​

1221- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ الآخِرَةَ فَقَرَأَ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ بِالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۰۰ (۷۶۷)، ۱۰۲ (۷۶۹)، وتفسیر التین ۱ (۴۹۵۲)، والتوحید ۵۲ (۷۵۴۶)، م/الصلاۃ ۳۶ (۴۶۴)، ت/الصلاۃ ۱۱۵ (۳۱۰)، ن/الافتتاح ۷۳ (۱۰۰۲)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۰ (۸۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۱)، وقد أخرجہ: ط/الصلاۃ ۵ (۲۷)، حم (۴/۲۸۴، ۲۸۶، ۲۹۱، ۳۰۲، ۳۰۳) (صحیح)

۱۲۲۱- براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں نکلے آپ نے ہمیں عشاء پڑھائی اور دونوں رکعتوں میں سے کسی ایک رکعت میں {والتِّيْنِ وَالزَّيْتُوْنِ} پڑھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
276-بَاب التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ
۲۷۶- باب: سفر میں نفل پڑھنے کا بیان​


1222- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي بُسْرَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَفَرًا، فَمَا رَأَيْتُهُ تَرَكَ رَكْعَتَيْنِ إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۷۶ (الجمعۃ ۴۱) (۵۵۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۹۲، ۲۹۵) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’ابو بسرۃ غفاری‘‘ لین الحدیث ہیں)
۱۲۲۲- براء بن عازب انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اٹھارہ سفروں میں رہا، لیکن میں نے نہیں دیکھا کہ سورج ڈھلنے کے بعد ظہر سے پہلے آپ نے دو رکعتیں ترک کی ہوں۔

1223- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقٍ، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ، فَرَأَى نَاسًا قِيَامًا، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا أَتْمَمْتُ صَلاتِي، يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي السَّفَرِ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَصَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَصَحِبْتُ عُمَرَ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَصَحِبْتُ عُثْمَانَ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: { لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}۔
* تخريج: خ/تقصیر الصلاۃ ۱۱ (۱۱۰۱)، م/المسافرین ۱ (۶۸۹)، ن/تقصیر الصلاۃ ۴ (۱۴۵۹)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۷۵ (۱۰۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۹۳)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۲۷۴ (الجمعۃ ۳۹) (۵۴۴)، حم (۲/۲۴، ۵۶)، دي/المناسک ۴۷ (۱۹۱۶) (صحیح)

۱۲۲۳- حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا تو آپ نے ہم کو دو رکعت صلاۃ پڑھائی پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ (صلاۃ کی حالت میں) کھڑے ہیں، پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟میں نے کہا: یہ نفل پڑھ رہے ہیں، تو آپ نے کہا: بھتیجے! اگر مجھے نفل۱؎ پڑھنی ہوتی تو میں اپنی صلاۃ ہی پوری پڑھتا، میں سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہا لیکن آپ نے دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالی نے آپ کو وفات دے دی، پھر میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، مجھے (سفر میں) عثمان رضی اللہ عنہ کی رفاقت بھی ملی لیکن انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور اللہ عز وجل فرماچکا ہے: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} تمہارے لئے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔
وضاحت۱؎: نفل کی دو قسمیں ہیں: راتب سنتیں اور غیر راتب سنتیں، راتب سنتیں فرض صلاۃ سے پہلے یا بعد میں پڑھی جاتی ہیں، اور غیر راتب عام نفلی صلاۃ کو کہا جاتا ہے تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسافر عام نفلی صلاۃ پڑھ سکتا ہے، البتہ سنن رواتب میں اختلاف ہے اور اس حدیث سے راتب سنتیں ہی مراد ہیں، اس سلسلہ میں راجح قول یہ ہے کہ سفر میں سنن رواتب کا نہ پڑھنا افضل ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
277- بَاب التَّطَوُّع عَلَى الرَّاحِلَةِ وَالْوِتْرِ
۲۷۷- باب: سواری پر نفل اور وتر پڑھنے کا بیان​


1224- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُسَبِّحُ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَيَّ وَجْهٍ تَوَجَّهَ، وَيُوتِرُ عَلَيْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ لايُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ عَلَيْهَا۔
* تخريج: خ/تقصیر الصلاۃ ۷ (۱۰۹۷)، م/المسافرین ۴ (۷۰۰)، ن/الصلاۃ ۲۳ (۴۹۱)، والمساجد ۴۶ (۷۴۰)، والقبلۃ ۲ (۷۴۵)، دي/الصلاۃ ۲۱۳ (۱۶۳۱)، (تحفۃ الأشراف: ۶۹۷۸)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۲۲۸ (۴۷۲)، ن/قیام اللیل ۳۱ (۱۶۸۷)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۲۷(۱۲۰۰)، ط/ قصر الصلاۃ ۳ (۱۵)، حم (۲/۵۷، ۱۳۸) (صحیح)

۱۲۲۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سواری پر نفل پڑھتے تھے، خواہ آپ کسی بھی طرف متوجہ ہوتے اور اسی پر وتر پڑھتے، البتہ اس پر فرض صلاۃ نہیں پڑھتے تھے۱؎ ۔
وضاحت ۱؎: اس سے ثابت ہوا کہ فرض کے سوا نفلی صلاۃ اور وتر بھی سواری پر ادا کی جا سکتی ہے، ان کے لئے قبلہ رخ ہونے کی شرط نہیں ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حالت سفر میں عام نفل پڑھ سکتے ہیں، اور وتر اور فجر کی سنت سفر اور حضر دونوں میں تاکیداً پڑھنی چاہئے ۔

1225- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْجَارُودِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنِي الْجَارُودُ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ؛ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ إِذَا سَافَرَ فَأَرَادَ أَنْ يَتَطَوَّعَ اسْتَقْبَلَ بِنَاقَتِهِ الْقِبْلَةَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ صَلَّى حَيْثُ وَجَّهَهُ رِكَابُهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۲)، وقد أخرجہ: خ/تقصیر الصلاۃ ۱۰ (۱۱۰۰)، م/المسافرین ۴ (۷۰۰)، ن/المساجد ۴۶ (۷۴۲)، ط/ قصر الصلاۃ ۷ (۲۶)، حم (۳/۲۰۳) (حسن)

۱۲۲۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کرتے اور نفل پڑھنے کا ارادہ کرتے تو اپنی اونٹنی قبلہ رخ کر لیتے اور تکبیر کہتے پھر صلاۃ پڑھتے رہتے خواہ آپ کی سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو جائے۔

1226- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِي الْحُبَابِ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى خَيْبَرَ۔
* تخريج: م/ المسافرین ۴ (۷۰۰)، ن/الصلاۃ ۲۳ (۴۹۳)، (تحفۃ الأشراف: ۷۰۸۶)، وقد أخرجہ: ط/قصر الصلاۃ ۷ (۲۵)، حم (۲/۷، ۴۹، ۵۲، ۵۷، ۷۵، ۸۳، ۱۲۸) (صحیح)

۱۲۲۶- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو گدھے پر صلاۃ پڑھتے دیکھا آپ کا رخ خیبر کی جانب تھا ۱؎۔
وضاحت۱؎: خیبر مدینہ منورہ سے اتری سمت کا علاقہ ہے۔

1227- حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي حَاجَةٍ، قَالَ: فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، وَالسُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۴۳ (۳۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۲۷۵۰)، وقد أخرجہ: حم (۳ ۳۳۲، ۳۷۹، ۳۸۸) (صحیح)
۱۲۲۷- جا بر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی ضرورت سے بھیجا، میں (واپس) آیا تو دیکھا کہ آپ اپنی سواری پر مشرق کی جانب رخ کر کے صلاۃ پڑھ رہے ہیں (آپ کا) سجدہ رکوع کی بہ نسبت زیادہ جھک کر ہوتا تھا ۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی رکوع اور سجدہ دونوں اشارے سے کرتے اور دونوں میں جھکتے تھے، لیکن سجدہ میں رکوع سے زیادہ جھکتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
278- بَاب الْفَرِيضَةِ عَلَى الرَّاحِلَةِ مِنْ عُذْرٍ
۲۷۸- باب: عذر کی وجہ سے فرض صلاۃ سواری پر پڑھنے کا بیان​

1228- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ، عَنْ عَطَاءِ ابْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا: هَلْ رُخِّصَ لِلنِّسَاءِ أَنْ يُصَلِّينَ عَلَى الدَّوَابِّ؟ قَالَتْ: لَمْ يُرَخَّصْ لَهُنَّ فِي ذَلِكَ فِي شِدَّةٍ وَلا رَخَائٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: هَذَا فِي الْمَكْتُوبَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۹۴) (صحیح)

۱۲۲۸- عطا بن ابی رباح کہتے ہیں کہ انہوں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا عورتوں کو چوپایوں پر صلاۃ ادا کرنے کی اجازت دی گئی ہے؟ آپ نے کہا: مشکل میں ہوں یا سہولت میں، انہیں کسی حالت میں اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ محمد بن شعیب کہتے ہیں: یہ بات فرض صلاۃ کے سلسلے میں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
279-بَاب مَتَى يُتِمُّ الْمُسَافِرُ
۲۷۹- باب: مسافر پوری صلاۃ کب پڑھے؟​


1229- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ (ح) وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ -وَهَذَا لَفْظُهُ- أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ؛ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَشَهِدْتُ مَعَهُ الْفَتْحَ، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ ثَمَانِي عَشْرَةَ لَيْلَةً لا يُصَلِّي إِلا رَكْعَتَيْنِ، وَيَقُولُ: < يَا أَهْلَ الْبَلَدِ، صَلُّوا أَرْبَعًا فَإِنَّا [قَوْمٌ] سَفْرٌ >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۷۴ (الجمعۃ ۳۹) (۵۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۳۰، ۴۳۱، ۴۳۲، ۴۴۰) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’علی بن زید بن جدعان‘‘ ضعیف ہیں)
۱۲۲۹- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ کیا اور فتح مکہ میں آپ کے ساتھ موجود رہا، آپ نے مکہ میں اٹھارہ شب قیام فرمایا، آپ ﷺ صرف دو رکعتیں ہی پڑھتے رہے اور فرماتے: ’’اے مکہ والو! تم چار پڑھو، کیونکہ ہم تو مسافر ہیں‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎: اس قسم کی ضعیف حدیثوں سے قصر کی مدت کی تحدید درست نہیں کیونکہ ان میں اس طرح کا چنداں اشارہ بھی نہیں ملتا کہ اللہ کے رسول اگر مزید ٹھہرنے کا ارادہ کرتے تو صلاۃ پوری پڑھتے اس بات کے لئے واضح ثبوت غزوہ تبوک کا وہ سفر ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے بیس دن تک قیام کیا اور برابر قصر کرتے رہے، اور غزوہ حنین میں چالیس روز تک قصر فرماتے رہے، نیز غازی کی مثال ایسے مسافر کی ہے جس کو اپنے سفر یا قیام کے بارے میں کوئی واضح بات نہ معلوم ہو۔

1230- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالا: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ؛ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَقَامَ سَبْعَ عَشْرَةَ بِمَكَّةَ يَقْصُرُ الصَّلاةَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَمَنْ أَقَامَ سَبْعَ عَشْرَةَ قَصَرَ، وَمَنْ أَقَامَ أَكْثَرَ أَتَمَّ.
قَالَ أَبودَاود: قَالَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ: عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقَامَ تِسْعَ عَشْرَةَ۔
* تخريج: خ/تقصیر الصلاۃ ۱ (۱۰۸۰)، المغازي ۵۲ (۴۲۹۸)، ت/الصلاۃ ۲۷۵ (الجمعۃ ۴۰) (۵۴۹)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۷۶ (۱۰۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۳) (شاذ)
(اس کے راوی ’’حفص بن غیاث‘‘ اگرچہ ثقات میں سے ہیں، مگر اخیر عمر میں ذرا مختلط ہو گئے تھے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ عاصم الأحول کے تمام تلامذہ کے برخلاف ’’سترہ دن کی روایت کر بیٹھے ہیں‘‘)
۱۲۳۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سترہ دن مکہ میں مقیم رہے، اور صلاۃ قصر کرتے رہے، تو جو شخص سترہ دن قیام کرے وہ قصر کرے، اور جو اس سے زیادہ قیام کرے وہ اتمام کرے۔
ابو داود کہتے ہیں: عباد بن منصورنے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے، اس میں ہے: آپ ﷺ انیس دن تک مقیم رہے۔

1231- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ خَمْسَ عَشْرَةَ يَقْصُرُ الصَّلاةَ.
قَالَ أَبودَاود: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، وَسَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ إبن إِسْحَاقَ، لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ ابْنَ عَبَّاسٍ۔
* تخريج: ق/ إقامۃ الصلاۃ ۷۶ (۱۰۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۴۹) (ضعیف منکر)
(کیوں کہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے اور اس کے راوی ’’ابن اسحاق‘‘ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)
۱۲۳۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فتح کے سال مکہ میں پندرہ روز قیام فرمایا، آپ ﷺ صلاۃ قصر کرتے رہے۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث عبدہ بن سلیمان، احمد بن خالد وہبی اور سلمہ بن فضل نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نے ’’ابن عباس رضی اللہ عنہما‘‘ کا ذکر نہیں کیا ہے۔

1232- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ ابْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَقَامَ بِمَكَّةَ سَبْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۴۵)، وقد أخرجہ: حم (۳۰۲۱، ۳۱۵) (ضعیف منکر)
(کیوں کہ تمام صحیح روایات کے خلاف ہے، اور اس کے راوی ’’شریک‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں)
۱۲۳۲- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں سترہ دن تک مقیم رہے اور دو دو رکعتیں پڑھتے رہے۔

1233- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، الْمَعْنَى، قَالا: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقُلْنَا: هَلْ أَقَمْتُمْ بِهَا شَيْئًا ؟ قَالَ: أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا۔
* تخريج: خ/تقصیر الصلاۃ ۱ (۱۰۸۱)، والمغازي ۵۲ (۴۲۹۷)، م/المسافرین ۱ (۶۹۳)، ت/الصلاۃ ۲۷۵ (الجمعۃ۴۰) (۵۴۸)، ن/تقصیر الصلاۃ ۱ (۱۴۳۷)، ۴ (۱۴۵۱)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۷۶ (۱۰۷۷) ، حم (۳/۱۸۷، ۱۹۰، ۲۸۲)، دي/الصلاۃ ۱۸۰ (۱۵۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۲) (صحیح)

۱۲۳۳- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لئے نکلے، آپ (اس سفر میں) دو رکعتیں پڑھتے رہے، یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آگئے تو ہم لوگوں نے پوچھا: کیا آپ لوگ مکہ میں کچھ ٹھہرے؟ انہوں نے جواب دیا: مکہ میں ہمارا قیام دس دن رہا ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ حدیث حجۃ الوداع کے سفر کے بارے میں ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث فتح مکہ کے بارے میں ہے۔

1234- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ الْمُثَنَّى [وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْمُثَنَّى] قَالا: حَدَّثَنَا أَبُوأُسَامَةَ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ عَلِيًّا رَضِي اللَّه عَنْه كَانَ إِذَا سَافَرَ سَارَ بَعْدَ مَا تَغْرُبُ الشَّمْسُ حَتَّى تَكَادَ أَنْ تُظْلِمَ، ثُمَّ يَنْزِلُ فَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَدْعُو بِعَشَائِهِ فَيَتَعَشَّى، ثُمَّ يُصَلِّي الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْتَحِلُ، وَيَقُولُ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَصْنَعُ.
قَالَ عُثْمَانُ: عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ.
سَمِعْت أَبَادَاود يَقُولُ: وَرَوَى أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ- أَنَّ أَنَسًا كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ وَيَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَصْنَعُ ذَلِكَ.
وَرِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ مِثْلُهُ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، ن/المواقیت ۴۴ (۵۹۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۵۰) (صحیح لغیرہ)
(اس کے راوی عبد اللہ بن محمد بن عمر لین الحدیث ہیں، لیکن شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، جن میں سے ایک انس کی اگلی حدیث بھی ہے) وحدیث أنس أخرجہ: خ/تقصیر الصلاۃ ۱۴ (۱۱۱۱، ۱۱۱۲) (مقتصرا علی الظہر والعصر فقط)، م/المسافرین ۵ (۷۰۴)، ن/المواقیت ۴۲ (۵۹۵)، (مقتصرا علی الشق الأول مثل البخاری)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۴۷، ۲۶۵) (صحیح)
۱۲۳۴ - عمر بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ جب سفر کرتے تو سورج ڈوبنے کے بعد بھی چلتے رہتے یہاں تک کہ اندھیرا چھا جانے کے قریب ہو جاتا، پھر آپ اترتے اور مغرب پڑھتے۔ پھر شام کا کھانا طلب کرتے اور کھا کر عشاء ادا کرتے۔ پھر کوچ فرماتے اور کہا کرتے تھے: رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔
عثمان کی روایت میں ’’أخبرني عبدالله بن محمد بن عمر بن علي‘‘ کے بجائے ’’عن عبدالله بن محمد بن عمر بن علي‘‘ ہے۔
(ابو علی لؤلؤی کہتے ہیں میں نے ابو داود کو کہتے سنا کہ اسامہ بن زید نے حفص بن عبید اللہ (بن انس بن مالک) سے روایت کی ہے کہ انس رضی اللہ عنہ جب شفق غائب ہو جاتی تو دونوں (مغرب اورںعشاء) کو جمع کرتے اور کہتے: نبی ﷺ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
زہری نے انس رضی اللہ عنہ سے انس نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے۔
 
Top