• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
351- بَاب مَنْ قَالَ هِيَ مِنَ الطُّوَلِ
۳۵۱- باب: سورہ فاتحہ لمبی سورتوں میں سے ہے اس کے قائل کا بیان​


1459- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُوتِيَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي الطُّوَلِ، وَأُوتِيَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلام سِتًّا، فَلَمَّا أَلْقَى الأَلْوَاحَ رُفِعَتْ ثِنْتَانِ وَبَقِيَ أَرْبَعٌ۔
* تخريج: ن/الافتتاح ۲۶ (۹۱۶، ۹۱۷)، (تحفۃ الأشراف:۵۶۱۷) (صحیح)

۱۴۵۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو سات لمبی سورتیں دی گئیں ہیں۱؎ اور موسی (علیہ السلام) کو چھ دی گئی تھیں، جب انہوں نے تختیاں (جن پر تورات لکھی ہوئی تھی) زمین پر ڈال دیں تو دو آیتیں اٹھا لی گئیں اور چار باقی رہ گئیں۔
وضاحت: معنی کے اعتبار سے لمبی ہیں ورنہ ان کے الفاظ مختصر ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
352- بَاب مَا جَاءَ فِي آيَةِ الْكُرْسِيِّ
۳۵۲- باب: آیت الکرسی کی فضیلت کا بیان​

1460- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الأَنْصَارِيِّ؛ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَبَا الْمُنْذِرِ، أَيُّ آيَةٍ مَعَكَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ؟ > قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: < أَبَا الْمُنْذِرِ، أَيُّ آيَةٍ مَعَكَ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ؟ > قَالَ: قُلْتُ: {اللَّهُ لاإِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} قَالَ: فَضَرَبَ فِي صَدْرِي وَقَالَ: < لِيَهْنَ لَكَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ الْعِلْمُ >۔
* تخريج: م/المسافرین ۴۴ (۸۱۰)، (تحفۃ الأشراف:۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۴۱) (صحیح)

۱۴۶۰- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اے ابو منذر! ۱؎ کتا ب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے باعظمت ۲؎ ہے ؟‘‘، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ’’ابو منذر! کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے بڑی ہے؟‘‘، میں نے عرض کیا: {الله لا إله إلا هو الحي القيوم}، تو آپ ﷺ نے میرے سینے کو تھپتھپایا اور فرمایا: ’’اے ابو منذر! تمہیں علم مبارک ہو‘‘۔
وضاحت ۱؎ : ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے۔
وضاحت ۲؎ : باعظمت سے مراد الفاظ کی کثرت ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے معانی کی عظمت مراد ہے یعنی اس آیت کے معنی بہت عظیم ہیں نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے درجہ کی بڑائی مراد ہے یعنی اس آیت کا درجہ بڑا ہے کیونکہ اس میں اللہ کی عظمت، اس کی وحدانیت اور اس کی صفات کاملہ کا ذکر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
353-بَاب فِي سُورَةِ الصَّمَدِ
۳۵۳- باب: سورہ اخلاص کی فضیلت کا بیان​

1461- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلا سَمِعَ رَجُلا يَقْرَأُ: {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} يُرَدِّدُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَذَكَرَ لَهُ، وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ >۔
* تخريج: خ/فضائل القرآن ۱۳ (۵۰۱۳)، والأیمان والنذور ۳ (۶۶۴۳)، والتوحید ۱ (۷۳۷۴)، ن/الافتتاح ۶۹ (۹۹۶)، وعمل الیوم واللیلۃ ۲۰۴ (۶۹۸)، (تحفۃ الأشراف:۴۱۰۴)، وقد أخرجہ: ط/القرآن ۶ (۱۷)، حم (۳/۳۵، ۴۳) (صحیح)

۱۴۶۱- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو "قل هو الله أحد" بار بار پڑھتے سنا، جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اورآپ سے اس کا تذکرہ کیا، گویا وہ اس سورت کو کمتر سمجھ رہا تھا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ (سورہ) ایک تہائی قرآن کے برابر ہے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
354-بَاب فِي الْمُعَوِّذَتَيْنِ
۳۵۴- باب: سورہ ’’الفلق‘‘ اور سورہ ’’الناس‘‘ کی فضیلت کا بیان​

1462- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنِ الْعَلاءِ ابْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ نَاقَتَهُ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ لِي: < يَا عُقْبَةُ أَلا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ سُورَتَيْنِ قُرِئَتَا>، فَعَلَّمَنِي: {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ{قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} قَالَ: فَلَمْ يَرَنِي سُرِرْتُ بِهِمَا جِدًّا، فَلَمَّا نَزَلَ لِصَلاةِ الصُّبْحِ صَلَّى بِهِمَا صَلاةَ الصُّبْحِ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنَ الصَّلاةِ، الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: <يَاعُقْبَةُ، كَيْفَ رَأَيْتَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابوداود ، (تحفۃ الأشراف:۹۹۴۶)، وقد أخرجہ: م/المسافرین ۴۶ (۸۱۴)، ت/فضائل القرآن ۱۲ (۲۹۰۲)، قیام اللیل (۱۳۳۷)، ن الکبری/الاستعاذۃ (۷۸۴۸)، حم (۴/۱۴۴، ۱۴۹، ۱۵۱، ۱۵۳)، دي/فضائل القرآن ۲۴ (۳۴۸۲) (صحیح)

۱۴۶۲- عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: ’’عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟‘‘، پھر آپ ﷺ نے مجھے{قل أعوذ برب الفلق} اور {قل أعوذ برب الناس} سکھائیں، لیکن آپ ﷺ نے مجھے ان دونوں (کے سیکھنے) سے بہت زیادہ خوش ہوتے نہ پایا، چنانچہ جب آپ ﷺ فجر کے لئے (سواری سے) اترے تو لوگوں کو صلاۃ پڑھائی اور یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر جب صلاۃ سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ’’عقبہ! تم نے انہیں کیا سمجھا ہے‘‘۱؎ ۔
وضاحت۱؎: انہیں معمولی اور حقیر سمجھ رہے ہو، حالانکہ یہ بڑے کام کی ہیں، نبی اکرم ﷺ بلاؤں اور جادو سے نجات پانے کے لئے یہ سورتیں پڑھتے تھے۔

1463- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَيْنَ الْجُحْفَةِ وَالأَبْوَاءِ؛ إِذْ غَشِيَتْنَا رِيحٌ وَظُلْمَةٌ شَدِيدَةٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَتَعَوَّذُ بِـ{أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} وَ{أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} وَيَقُولُ: < يَا عُقْبَةُ، تَعَوَّذْ بِهِمَا، فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِهِمَا > قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَؤُمُّنَا بِهِمَا فِي الصَّلاةِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۹۹۵۲) (صحیح)

۱۴۶۳- عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حجفہ اور ابواء کے درمیان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چل رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ہمیں تیز آندھی اور شدید تاریکی نے ڈھانپ لیا تو رسول اللہ ﷺ {أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} اور {أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} پڑھنے لگے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ’’اے عقبہ! تم بھی ان دونوں کو پڑھ کر پناہ مانگو، اس لئے کہ ان جیسی سورتوں کے ذریعہ پناہ مانگنے والے کی طرح کسی پناہ مانگنے والے نے پناہ نہیں مانگی‘‘۔
عقبہ کہتے ہیں: میں نے آپ ﷺ کو سنا آپ انہی دونوں کے ذریعہ ہماری امامت فرما رہے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
355-بَاب اسْتِحْبَابِ التَّرْتِيلِ فِي الْقِرَائَةِ
۳۵۵- باب: قرأت میں ترتیل کے مستحب ہونے کا بیان ۱؎​

1464- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا >۔
* تخريج: ت/فضائل القرآن ۱۸ (۲۹۱۴)، ن الکبری / فضائل القرآن (۸۰۵۶)، (تحفۃ الأشراف:۸۶۲۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۹۲) (حسن صحیح)

۱۴۶۴- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’صاحب قرآن (حافظ قرآن یا ناظرہ خواں) سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ ا ور چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے، تمہاری منزل وہاں ہے، جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرأت ختم کرو گے‘‘ ۲؎ ۔
وضاحت۱؎: قواعدِ تجوید کی رعایت کرتے ہوئے قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہرکر پڑھنے کا نام ترتیل ہے۔
وضاحت۲؎: یعنی ایک آیت پڑھ کر ایک درجہ طے کرو گے پھر دوسری آیت سے دوسرا درجہ، اسی طرح جتنی آیتیں پڑھتے جاؤ گے اتنے درجے اور مراتب اوپر اٹھتے چلے جاؤ گے جہاں آخری آیت پڑھو گے وہیں تمہارا مقام ہو گا۔

1465- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ؛ عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ قِرَائَةِ النَّبِيِّ ﷺ ، فَقَالَ: كَانَ يَمُدُّ مَدًّا۔
* تخريج: خ/فضائل القرآن ۲۹ (۵۰۴۵)، ن/الافتتاح ۸۲ (۱۰۱۵)، ت/الشمائل (۳۱۵)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۷۹ (۱۳۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۱۹، ۱۲۷، ۱۳۱، ۱۹۲، ۱۹۸، ۲۸۹) (صحیح)

۱۴۶۵- قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم ﷺ کی قرأت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ مد کو کھینچتے تھے۔

1466- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى ابْنِ مَمْلَكٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَائَةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَصَلاتِهِ، فَقَالَتْ: وَمَا لَكُمْ وَصَلاتَهُ ؟ كَانَ يُصَلِّي وَيَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ، ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى، حَتَّى يُصْبِحَ، وَنَعَتَتْ قِرَائَتَهُ، فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَائَتَهُ حَرْفًا حَرْفًا۔
* تخريج: ت/فضائل القرآن ۲۳ (۲۹۲۳)، ن/الافتتاح ۸۳(۱۰۲۳)، (تحفۃ الأشراف:۱۸۲۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۹۴، ۲۹۷، ۳۰۰، ۳۰۸) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’یعلی‘‘ لین الحدیث ہیں)
۱۴۶۶- یعلی بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کی قرأت اور صلاۃ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: تم کہاں اور آپ ﷺ کی صلاۃ کہاں؟ آپ صلاۃ پڑھتے اور جتنی دیر پڑھتے اتنا ہی سوتے، پھر جتنا سو لیتے اتنی دیر نماز پڑھتے، پھر جتنی دیر صلاۃ پڑھتے اتنی دیر سوتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی، پھر ام سلمہ نے آپ ﷺ کی قرأت بیان کی تو دیکھا کہ وہ ایک ایک حرف الگ الگ پڑھ رہی تھیں۔

1467- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَةٍ يَقْرَأُ بِسُورَةِ الْفَتْحِ وَهُوَ يُرَجِّعُ۔
* تخريج: خ/المغازي ۴۸ (۴۲۸۱)، م/المسافرین ۳۵ (۷۹۴)، ت الشمائل (۳۹۱)، ن الکبری/فضائل القرآن (۸۰۵۵)، (تحفۃ الأشراف:۹۶۶۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۸۵) (صحیح)

۱۴۶۷- عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فتح مکہ کے روز ایک اونٹنی پر سوار دیکھا، آپ سورہ فتح پڑھ رہے تھے اور(ایک ایک آیت) کئی بار دہرا رہے تھے۔

1468- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ ابْنِ عَوْسَجَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ >.
* تخريج: ن/الافتتاح ۸۳ (۱۰۱۶)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۷۶ (۱۳۴۲)، (تحفۃ الأشراف:۱۷۷۵)، وقد أخرجہ: خ/التوحید ۵۲، تعلیقاً، حم (۴/۲۸۳، ۲۸۵، ۲۹۶، ۳۰۴)، دي/فضائل القرآن ۳۴ (۳۵۴۴) (صحیح)

۱۴۶۸- براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’قرآن کو اپنی آواز سے زینت دو‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: خطابی وغیرہ نے اس کا ایک مفہوم یہ بتایا ہے کہ قرآن کے ذریعہ اپنی آواز کو زینت دو، یعنی اپنی آوازوں کو قرآن کی تلاوت میں مشغول رکھو، اس مفہوم کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس میں’’زينوا أصواتكم بالقرآن‘‘ کے الفاظ ہیں۔

1469- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، بِمَعْنَاهُ أَنَّ اللَّيْثَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ؛ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَقَالَ يَزِيدُ: عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ: هُوَ فِي كِتَابِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ >.
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۳۹۰۵، ۱۸۶۹۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۷۲، ۱۷۵، ۱۷۹)، دي/فضائل القرآن ۳۴ (۳۵۳۱) (صحیح)

۱۴۶۹- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص قرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: امام خطابی نے اس کے تین معانی بیان کئے ہیں: ایک یہی ترتیل اور حسن آواز، دوسرے :قرآن کے ذریعہ دیگر کتب سے استغناء (دیکھئے نمبر: ۱۴۷۲)، تیسرے:عربوں میں رائج سواری پر حدی خوانی کے بدلے قرآن کی تلاوت۔

1470- حدثنا عثمان بن أبي شيبة، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، مِثْلَهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف:۳۹۰۵، ۱۸۶۹۰) (صحیح)
۱۴۷۰- اس سند سے بھی سعد رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل حدیث مرفوعاً مروی ہے۔

1471- حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: قَالَ عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ: مَرَّ بِنَا أَبُو لُبَابَةَ، فَاتَّبَعْنَاهُ حَتَّى دَخَلَ بَيْتَهُ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَإِذَا رَجُلٌ رَثُّ الْبَيْتِ رَثُّ الْهَيْئَةِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ >، قَالَ: فَقُلْتُ لابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ: يَاأَبَامُحَمَّدٍ! أَرَأَيْتَ إِذَا لَمْ يَكُنْ حَسَنَ الصَّوْتِ؟ قَالَ: يُحَسِّنُهُ مَا اسْتَطَاعَ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۳۹۰۵) (حسن صحیح)

۱۴۷۱- عبید اللہ بن ابی یز ید کہتے ہیں: ہمارے پاس سے ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو ہم ان کے پیچھے ہولئے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہو گئے تو ہم بھی داخل ہو گئے تو دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے۔ بوسیدہ سا گھر ہے اور وہ بھی خستہ حال ہے، میں نے سنا: وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے: ’’جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔
عبد الجبار کہتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ سے کہا: اے ابو محمد! اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو کیا کرے؟ انہوں نے جواب دیا : جہاں تک ہو سکے اُسے اچھی بنائے۔

1472- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، قَالَ: قَالَ وَكِيعٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ: يَعْنِي يَسْتَغْنِي [بِهِ]۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۰۵) (صحیح)

۱۴۷۲- محمد بن سلیمان انباری کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: وکیع اور ابن عیینہ نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ (دیگر کتب یا ادیان سے) بے نیاز ہو جائے۔

1473- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِكٍ وَحَيْوَةُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْئٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ >۔
* تخريج: خ/فضائل القرآن ۱۹ (۵۰۲۴)، والتوحید ۳۲ (۷۴۸۲)، ۵۲ (۷۵۴۴)، م/المسافرین ۳۴ (۷۹۲)، ن/الافتتاح۸۳ (۱۰۱۸)، (تحفۃ الأشراف:۱۴۹۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۷۱، ۲۸۵، ۴۵۰)، دي/الصلاۃ ۱۷۱ (۱۵۲۹)، وفضائل القرآن ۳۳ (۳۵۴۰) (صحیح)

۱۴۷۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالی کسی کی اتنی نہیں سنتا جتنی ایک خوش الحان رسول کی سنتا ہے جب کہ وہ قرآن کو خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھ رہا ہو‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
356- بَاب التَّشْدِيدِ فِيمَنْ حَفِظَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ
۳۵۶- باب: قرآن یاد کرکے بھول جانے والے پر وارد وعید کا بیان​

1474- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَا مِنِ امْرِئٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثُمَّ يَنْسَاهُ إِلا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمَ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۳۸۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۸۴، ۲۸۵، ۳۲۳)، دي/فضائل القرآن ۳ (۳۳۸۳) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’یزید‘‘ ضعیف ہیں، نیز :عیسیٰ نے اسے براہ راست سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے)
۱۴۷۴- سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو بھی آدمی قرآن پڑھتا ہو پھر اسے بھول جائے تو قیامت کے دن وہ اللہ سے مجذوم ۱؎ ہو کر ملے گا‘‘۔
وضاحت۱؎ : کوڑھ کے سبب جس کے ہاتھ کٹ کر گر گئے ہوں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
357- بَاب أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
۳۵۷- باب: قرآن مجید کے سات حرف پر نازل ہونے کا بیان​

1475- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ ابْنِ عَبْدِالْقَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَقْرَأَنِيهَا، فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ، فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < اقْرَأْ >، فَقَرَأَ الْقِرَائَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <هَكَذَا أُنْزِلَتْ > ثُمَّ قَالَ لِيَ: < اقْرَأْ > فَقَرَأْتُ، فَقَالَ: < هَكَذَا أُنْزِلَتْ >، ثُمَّ قَالَ: < إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَئُوا مَاتَيَسَّرَ مِنْهُ > ۔
* تخريج: خ/الخصومات ۴ (۲۴۱۹)، وفضائل القرآن ۵ (۴۹۹۲)، ۲۷ (۵۰۴۱)، والمرتدین ۹ (۶۹۳۶)، والتوحید ۵۳ (۷۵۵۰)، م/المسافرین ۴۸ (۸۱۸)، ت/القراء ات ۱۱ (۲۹۴۳)، ن/الافتتاح ۳۷ (۹۳۸، ۹۳۹)، (تحفۃ الأشراف:۱۰۵۹۱)، وقد أخرجہ: ط/ القرآن ۴ (۵)، حم (۱/ ۴۰، ۴۲، ۴۳، ۲۶۳) (صحیح)

۱۴۷۵- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورہ فرقان پڑھتے سنا، وہ اس طریقے سے ہٹ کر پڑھ رہے تھے جس طرح میں پڑھتا تھا حالاں کہ مجھے خود رسول اللہ ﷺ نے پڑھایا تھا تو قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کر بیٹھوں۱؎ لیکن میں نے انہیں مہلت دی اور پڑھنے دیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہو گئے تو میں نے ان کی چادر پکڑ کر انہیں گھسیٹا اور انہیں لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورہ فرقان اس کے برعکس پڑھتے سنا ہے جس طرح آپ نے مجھے سکھائی ہے، رسول اللہ ﷺ نے ہشام سے فرمایا: ’’تم پڑھو‘‘، انہوں نے ویسے ہی پڑھا جیسے میں نے پڑھتے سنا تھا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے‘‘، پھر مجھ سے فرمایا: ’’تم پڑھو‘‘، میں نے بھی پڑھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اسی طرح نازل ہوئی ہے‘‘، پھر فرمایا: ’’قرآن مجید سات حرفوں۲؎ پر نازل ہوا ہے، لہٰذا جس طرح آسان لگے پڑھو‘‘۔
وضاحت۱؎: یعنی انہیں قرأت سے روک دوں۔
وضاحت۲؎: علامہ سیوطی نے’’الاتقان‘‘ میں اس کی تفسیر میں متعدد اقوال نقل کئے ہیں مثلاً سات حرفوں سے مراد سات لغات ہیں یا سات لہجے ہیں جوعرب کے مختلف قبائل میں مروج تھے یا سات قرأتیں ہیں جنہیں قرأت سبعہ کہا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

1476- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: إِنَّمَا هَذِهِ الأَحْرُفُ فِي الأَمْرِ الْوَاحِدِ، لَيْسَ تَخْتَلِفُ فِي حَلالٍ وَلا حَرَامٍ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ (صحیح)
۱۴۷۶- زہری کہتے ہیں کہ یہ حروف (اگرچہ بظاہر مختلف ہوں) ایک ہی معاملہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں حلال و حرام میں اختلاف نہیں۔

1477- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < يَا أُبَيُّ، إِنِّي أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ، فَقِيلَ لِي: عَلَى حَرْفٍ أَوْ حَرْفَيْنِ؟ فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي: قُلْ عَلَى حَرْفَيْنِ، قُلْتُ: عَلَى حَرْفَيْنِ، فَقِيلَ لِي عَلَى حَرْفَيْنِ أَوْ ثَلاثَةٍ؟ فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي: قُلْ عَلَى ثَلاثَةٍ، قُلْتُ: عَلَى ثَلاثَةٍ، حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ، ثُمَّ قَالَ: لَيْسَ مِنْهَا إِلا شَافٍ كَافٍ إِنْ قُلْتَ سَمِيعًا عَلِيمًا عَزِيزًا حَكِيمًا، مَالَمْ تَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ، أَوْ آيَةَ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابوداود ، (تحفۃ الأشراف:۲۵)، وقد أخرجہ: حم (۵ /۱۲۴، ۱۲۷، ۱۲۸) (صحیح)

۱۴۷۷- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا، پھر مجھ سے پوچھا گیا: ایک حرف پر یا دو حرف پر؟ میرے ساتھ جو فرشتہ تھا، اس نے کہا: کہو: دو حرف پر، میں نے کہا: دو حرف پر، پھر مجھ سے پوچھا گیا: دو حرف پر یا تین حرف پر؟ اس فرشتے نے جو میرے ساتھ تھا، کہا: کہو: تین حرف پر، چنانچہ میں نے کہا: تین حرف پر، اسی طرح معاملہ سات حروف تک پہنچا‘‘، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ان میں سے ہر ایک حرف شافی اور کافی ہے، چاہے تم ’’سميعًا عليمًا‘‘ کہو یا ’’عزيزًا حكيمًا‘‘ جب تک تم عذاب کی آیت کو رحمت پر اور رحمت کی آیت کو عذاب پر ختم نہ کرو‘‘۔

1478- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِءَ أُمَّتَكَ عَلَى حَرْفٍ، قَالَ: <أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ، إِنَّ أُمَّتِي لا تُطِيقُ ذَلِكَ >، ثُمَّ أَتَاهُ ثَانِيَةً فَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا، حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِءَ أُمَّتَكَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَئُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا۔
* تخريج: م/المسافرین ۴۸ (۸۲۱)، ن/الافتتاح ۳۷ (۹۴۰)، (تحفۃ الأشراف:۶۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۲۷) (صحیح)

۱۴۷۸- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ بنی غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ آپ کے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا: ’’اللہ عزوجل آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک حرف پر قرآن پڑھائیں‘‘، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں اللہ سے اس کی بخشش اور مغفرت مانگتا ہوں، میری امت اتنی طاقت نہیں رکھتی ہے‘‘، پھر دوبارہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور اسی طرح سے کہا، یہاں تک کہ معاملہ سات حرفوں تک پہنچ گیا، تو انہوں نے کہا: ’’اللہ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حرفوں پر پڑھائیں، لہٰذا اب وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے وہ صحیح ہو گا‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
358- بَاب الدُّعَاءِ
۳۵۸- باب: دعا کا بیان​

1479- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ يُسَيْعٍ الْحَضْرَمِيِّ؛ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ {قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ}۔
* تخريج: ت/تفسیر البقرۃ ۳ (۲۹۶۹)، تفسیر المؤمن ۴۱ (۳۲۴۷)، الدعوات ۱ (۳۳۷۲)، ن الکبری/ التفسیر (۱۱۴۶۴)، ق/الدعاء ۱ (۳۸۲۸)، (تحفۃ الأشراف:۱۱۶۴۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۷۱، ۲۷۶) (صحیح)

۱۴۷۹- نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’دعا عبادت ہے۱؎، تمہارا رب فرماتا ہے: مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا‘‘ (سورہ غافر: ۶۰)۔
وضاحت۱؎: دعا جب عبادت ہے تو غیر اللہ سے دعا کرنا شرک ہو گا، کیونکہ عبادت و بندگی کی جملہ قسمیں اللہ ہی کو زیب دیتی ہیں۔

1480- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، عَنِ ابْنٍ لِسَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعَنِي أَبِي [وَأَنَا] أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَنَعِيمَهَا وَبَهْجَتَهَا، وَكَذَا وَكَذَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَسَلاسِلِهَا وَأَغْلالِهَا، وَكَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ > فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ، إِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَ الْجَنَّةَ أُعْطِيتَهَا وَمَافِيهَا [مِنَ الْخَيْرِ]، وَإِنْ أُعِذْتَ مِنَ النَّارِ أُعِذْتَ مِنْهَا وَمَا فِيهَا مِنَ الشَّرِّ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۳۹۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۷۲، ۱۸۳) (حسن صحیح)

۱۴۸۰- سعد رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھے کہتے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا اور اس کی نعمتوں، لذتوں اور فلاں فلاں چیزوں کا سوال کرتا ہوں اورمیں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم سے، اس کی زنجیروں سے، اس کے طوقوں سے اور فلاں فلاں بلاؤں سے، تو انہوں نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ’’عنقریب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دعاؤں میں مبالغہ اور حد سے تجاوز کریں گے، لہٰذا تم بچو کہ کہیں تم بھی ان میں سے نہ ہو جاؤ جب تمہیں جنت ملے گی تو اس کی ساری نعمتیں خود ہی مل جائیں گی اور اگر تم جہنم سے بچا لئے گئے تو اس کی تمام بلاؤں سے خودبخود بچا لئے جاؤ گے‘‘۔

1481- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ رَجُلا يَدْعُو فِي صَلاتِهِ لَمْ يُمَجِّدِ اللَّهَ تَعَالَى وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < عَجِلَ هَذَا > ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ: < إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَمْجِيدِ رَبِّهِ جَلَّ وَعَزَّ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ ﷺ ، ثُمَّ يَدْعُو بَعْدُ بِمَا شَاءَ >۔
* تخريج: ت/الدعوات ۶۵ (۳۴۷۷)، ن/السہو ۴۸ (۱۲۸۵)، (تحفۃ الأشراف:۱۱۰۳۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۸) (صحیح)

۱۴۸۱- صحابی رسول فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صلاۃ میں دعا کرتے سنا، اس نے نہ تو اللہ تعالی کی بزرگی بیان کی اور نہ ہی نبی اکرم ﷺ پر درود (صلاۃ) بھیجا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اس شخص نے جلد بازی سے کام لیا‘‘، پھر اسے بلایا اور اس سے یا کسی اور سے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی صلاۃ پڑھے تو پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی اکرم ﷺ پر درود (صلاۃ) بھیجے، اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے‘‘۔

1482- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَسْتَحِبُّ الْجَوَامِعَ مِنَ الدُّعَاءِ وَيَدَعُ مَا سِوَى ذَلِكَ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۱۷۸۰۵)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۴۸، ۱۸۸، ۱۸۹) (صحیح)

۱۴۸۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جامع دعائیں۱؎ پسند فرماتے اور جو دعا جامع نہ ہوتی اسے چھوڑ دیتے۔
وضاحت۱؎: جامع دعائیں یعنی جن کے الفاظ مختصر اور معانی زیادہ ہوں، یا جو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی کی جامع ہو، جیسے: ’’ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار‘‘ وغیرہ دعائیں۔

1483- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ فَإِنَّهُ لا مُكْرِهَ لَهُ >۔
* تخريج: خ/الدعوات ۲۱ (۶۳۳۹)، والتوحید ۳۱ (۷۴۷۷)، ت/الدعوات ۷۸ (۳۴۹۷)، (تحفۃ الأشراف:۱۳۸۷۲، ۱۳۸۱۳)، وقد أخرجہ: م/الذکر والدعا ۳ (۲۶۷۹)، ق/الدعاء ۸ (۳۸۵۴)، ط/ القرآن ۸ (۲۸)، حم (۲/۲۴۳، ۴۵۷، ۲۸۶) (صحیح)

۱۴۸۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی اس طرح دعا نہ مانگے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، بلکہ جزم کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں‘‘۔

1484- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي >۔
* تخريج: خ/الدعوات ۲۲ (۶۳۴۰)، م/الذکر والدعاء ۲۵ (۲۷۳۵)، ت/الدعوات ۱۲ (۳۳۸۷)، ق/الدعاء ۸ (۳۸۵۳)، (تحفۃ الأشراف:۱۲۹۳۰)، وقد أخرجہ: ط/القرآن ۸ (۲۹)، حم (۲/۴۸۷، ۳۹۶) (صحیح)

۱۴۸۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور یہ کہنے نہیں لگتا کہ میں نے تو دعا مانگی لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوئی‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: دعا میں جلد بازی بے ادبی ہے، اور اس کا نتیجہ محرومی ہے۔

1485- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا تَسْتُرُوا الْجُدُرَ، مَنْ نَظَرَ فِي كِتَابِ أَخِيهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، فَإِنَّمَا يَنْظُرُ فِي النَّارِ، سَلُوا اللَّهَ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ، وَلا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا، فَإِذَا فَرَغْتُمْ فَامْسَحُوا بِهَا وُجُوهَكُمْ >.
قَالَ أَبودَاود: رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ كُلُّهَا وَاهِيَةٌ، وَهَذَا الطَّرِيقُ أَمْثَلُهَا، وَهُوَ ضَعِيفٌ أَيْضًا۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۱۹ (۳۸۶۶)، (تحفۃ الأشراف:۶۴۴۸) (ضعیف)
(عبد اللہ بن یعقوب کے شیخ مبہم ہیں)
۱۴۸۵- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’دیواروں پر پردہ نہ ڈالو، جو شخص اپنے بھائی کا خط اس کی اجازت کے بغیر دیکھتا ہے تو وہ جہنم میں دیکھ رہا ہے، اللہ سے سیدھی ہتھیلیوں سے دعا مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو اور جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھ اپنے چہروں پر پھیر لو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن کعب سے کئی سندوں سے مروی ہے۔ ساری سندیں ضعیف ہیں اور یہ طریق (سند) سب سے بہتر ہے اور یہ بھی ضعیف ہے۔

1486- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِالْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ قَالَ: قَرَأْتُهُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيلَ -يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ- حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ، عَنْ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَةَ أَنَّ أَبَا بَحْرِيَّةَ السَّكُونِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ مَالِكِ ابْنِ يَسَارٍ السَّكُونِيِّ ثُمَّ الْعَوْفِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <إِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلاتَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا >.
قَالَ أَبودَاود: وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِالْحَمِيدِ: لَهُ عِنْدَنَا صُحْبَةٌ -يَعْنِي مَالِكَ بْنَ يَسَارٍ-۔
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۱۱۲۰۹) (حسن صحیح)

۱۴۸۶- مالک بن یسار سکونی عوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم اللہ سے مانگو تو اپنی سیدھی ہتھیلیوں سے مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: سلیمان بن عبد الحمید نے کہا: ہمارے نزدیک انہیں یعنی مالک بن یسار کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے۔

1487- حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَبْهَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَدْعُو هَكَذَا بِبَاطِنِ كَفَّيْهِ وَظَاهِرِهِمَا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۱۳۱۷) (صحیح)

۱۴۸۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دونوں طرح سے دعا مانگتے دیکھا اپنی دونوں ہتھیلیاں سیدھی کر کے بھی اور ان کی پشت اوپر کر کے بھی۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی عام حالات میں ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ چہرہ کی طرف اور استسقاء میں اندرونی حصہ زمین کی طرف اور پشت چہرہ کی طرف کرکے۔

1488- حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ-، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ -يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ صَاحِبَ الأَنْمَاطِ-، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا >۔
* تخريج: ت/الدعوات ۱۰۵ (۳۵۵۶)، ق/الدعاء ۱۳ (۳۸۶۵)، (تحفۃ الأشراف:۴۴۹۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۳۸) (صحیح)

۱۴۸۸- سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہارا رب بہت باحیا اور کریم (کرم والا) ہے، جب اس کا بندہ اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو انہیں خالی لوٹاتے ہوئے اسے اپنے بندے سے شرم آتی ہے‘‘۔

1489- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ -يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ- حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: الْمَسْأَلَةُ أَنْ تَرْفَعَ يَدَيْكَ حَذْوَ مَنْكِبَيْكَ، أَوْ نَحْوَهُمَا، وَالاسْتِغْفَارُ أَنْ تُشِيرَ بِأُصْبُعٍ وَاحِدَةٍ، وَالابْتِهَالُ أَنْ تَمُدَّ يَدَيْكَ جَمِيعًا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۵۳۵۶) (صحیح)

۱۴۸۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مانگنا یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل یا ان کے قریب اٹھاؤ، اور استغفار یہ ہے کہ تم صرف ایک انگلی سے اشارہ کرو اور ابتہال (عاجزی و گریہ و زاری سے دعا مانگنا) یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ پوری طرح پھیلا دو۔

1490- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: وَالابْتِهَالُ هَكَذَا، وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ ظُهُورَهُمَا مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۵۳۵۶) (صحیح)

۱۴۹۰- اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے:’’ابتہال اس طرح ہے‘‘ اور انہوں نے دونوں ہاتھ اتنے بلند کئے کہ ہتھیلیوں کی پشت اپنے چہرے کے قریب کر دی۔

1491- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حدثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ؛ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۵۳۵۶، ۱۸۸۸۰) (صحیح)

۱۴۹۱- اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔

1492- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا دَعَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۱۱۸۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۲۱) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’ابن لھیعہ‘‘ ضعیف ہیں اور ’’حفص بن ہاشم‘‘ مجہول ہیں)
۱۴۹۲- یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب دعا مانگتے تو اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے۔

1493- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ؛ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سَمِعَ رَجُلا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ: < لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ بِالاسْمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ > ۔
* تخريج: ت/الدعوات ۶۴ (۳۴۷۵)، ق/الدعاء ۹ (۳۸۵۷)، (تحفۃ الأشراف:۱۹۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۴۹، ۳۵۰، ۳۶۰) (صحیح)

۱۴۹۳- بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو کہتے سنا: ’’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ‘‘ (اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اِس وسیلے سے کہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو تنہا اور ایسا بے نیاز ہے جس نے نہ تو جنا ہے اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے) یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو نے اللہ سے اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے تو عطا کرتا ہے اور جب کوئی دعا کرتا ہے تو قبول فرماتا ہے‘‘۔

1494- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَانِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيِّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف:۱۹۹۸) (صحیح)

۱۴۹۴- اس سند سے بھی بریدہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے:’’لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ‘‘ ( تو نے اللہ سے اس کے اسم اعظم (عظیم نام) کا حوالہ دے کر سوال کیا)۔

1495- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَانِ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ الْحَلَبِيُّ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَفْصٍ -يَعْنِي ابْنَ أَخِي أَنَسٍ- عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ جَالِسًا وَرَجُلٌ يُصَلِّي،ثُمَّ دَعَا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، يَا ذَا الجَلالِ وَالإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى >۔
* تخريج: ن/السہو ۵۸ (۱۲۹۹)، (تحفۃ الأشراف:۵۵۱)، وقد أخرجہ: ت/الدعوات ۱۰۰ (۳۵۴۴)، ق/الدعاء ۹ (۳۸۵۸)، حم (۳/۱۲۰، ۱۵۸، ۲۴۵) (صحیح)

۱۴۹۵- انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص صلاۃ پڑھ رہا تھا، (صلاۃ سے فارغ ہو کر) اس نے دعا مانگی:’’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، يَا ذَا الجَلالِ وَالإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ‘‘(اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ: ساری و حمد تیرے لئے ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو ہی احسان کرنے والا اور آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، اے جلال اور عطاء و بخشش والے، اے زندۂ جاوید اے آسمانوں اور زمینوں کو تھامنے والے!) یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم (عظیم نام) کے حوالے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے حوالے سے دعا مانگی جاتی ہے تو وہ دعا قبول فرماتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے‘‘۔

1496- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < اسْمُ اللَّهِ الأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِ > {وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَانُ الرَّحِيمُ} وَفَاتِحَةِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ: {الم اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ}۔
* تخريج: ت/الدعوات ۶۵ (۳۴۷۸)، ق/الدعاء ۹ (۳۸۵۵)، (تحفۃ الأشراف:۱۵۷۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۶۱) (حسن لغیرہ)
(اس کے راوی ’’عبید اللہ القدَّاح‘‘ ضعیف ہیں، نیز ’’شہر بن حوشب‘‘ میں بھی کلام ہے، ترمذی نے حدیث کو صحیح کہا ہے، اس کی شاہد ابو امامۃ کی حدیث ہے، جس سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہوئی) (ملاحظہ ہو: سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: ۷۴۶ و صحیح ابی داود: ۵؍ ۲۳۴)
۱۴۹۶- اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کا اسم اعظم (عظیم نام) ان دونوں آیتوں {وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَانُ الرَّحِيمُ}۱؎ اور سورہ اٰل عمران کی ابتدائی آیت {الم اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ}۲؎ میں ہے‘‘۔
وضاحت۱؎: سورة البقرة: (۱۶۳)
وضاحت۲؎: سورة آل عمران: (۱،۲)

1497- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُرِقَتْ مِلْحَفَةٌ لَهَا، فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى مَنْ سَرَقَهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ ﷺ يَقُولُ: < لا تُسَبِّخِي عَنْهُ >.
قَالَ أَبودَاود: لا تُسَبِّخِي أَيْ لا تُخَفِّفِي عَنْهُ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۱۷۳۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۵، ۱۳۶)، ویأتي برقم (۴۹۰۹) (حسن)
(ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود۲/۹۰، والصحیحۃ: ۳۴۱۳)
۱۴۹۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا ایک لحاف چُرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بددعا کرنے لگیں تو رسول اللہ ﷺ فرمانے لگے: ’’تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں:’’لا تسبخي‘‘ کا مطلب ہے ’’لا تخففي عنه‘‘ یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو۔

1498- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِي اللَّه عَنْه قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ ﷺ فِي الْعُمْرَةِ، فَأَذِنَ لِي وَقَالَ: < لا تَنْسَنَا يَا أُخَيَّ مِنْ دُعَائِكَ > فَقَالَ: كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا الدُّنْيَا، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ لَقِيتُ عَاصِمًا بَعْدُ بِالْمَدِينَةِ فَحَدَّثَنِيهِ، وَقَالَ: < أَشْرِكْنَا يَاأُخَيَّ فِي دُعَائِكَ >۔
* تخريج: ت/الدعوات ۱۱۰ (۳۵۶۲)، ق/المناسک ۵ (۲۸۹۴)، (تحفۃ الأشراف:۱۰۵۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۹) (ضعیف)
(اس کے راوی’’عاصم‘‘ ضعیف ہیں)
۱۴۹۸- عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا: ’’میرے بھائی! مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا‘‘، آپ نے یہ ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔
(راوی حدیث) شعبہ کہتے ہیں: پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا۔ انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقت ’’لا تَنْسَنَا يَاْ أُخَيَّ فِيْ دُعَاْئِكَ‘‘ کے بجائے ’’أَشْرِكْنَا يَاْ أُخَيَّ فِيْ دُعَاْئِكَ‘‘ کے الفاظ کہے (اے میرے بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا)۔

1499- حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ النَّبِيُّ ﷺ وَأَنَا أَدْعُو بِأُصْبُعَيَّ، فَقَالَ: <أَحِّدْ أَحِّدْ >، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ۔
* تخريج: ن/السہو ۳۷ (۱۲۷۴)، (تحفۃ الأشراف:۳۸۵۰)، وقد أخرجہ: ت/الدعوات (۳۵۵۲) (صحیح)

۱۴۹۹- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دعا مانگ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک انگلی سے کرو، ایک انگلی سے کرو‘‘ اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
359-بَاب التَّسْبِيحِ بِالْحَصَى
۳۵۹- باب: کنکریوں سے تسبیح گننے کا بیان​

1500- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلالٍ حَدَّثَهُ، عَنْ خُزَيْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهَا أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عَلَى امْرَأَةٍ وَبَيْنَ يَدَيْهَا نَوًى، أَوْ حَصًى، تُسَبِّحُ بِهِ، فَقَالَ: < أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هَذَا أَوْ أَفْضَلُ >، فَقَالَ: < سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَاخَلَقَ فِي الأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ بَيْنَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ >۔
* تخريج: ت/الدعوات ۱۱۴ (۳۵۶۸)، (تحفۃ الأشراف:۳۹۵۴) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’خزیمہ‘‘ مجہول ہیں)
۱۵۰۰- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک عورت۱؎ کے پاس گئے، اس کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں رکھی تھیں، جن سے وہ تسبیح گنتی تھی۲؎، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاتا ہوں جو تمہارے لئے اس سے زیادہ آسان ہے یا اس سے افضل ہے‘‘، پھر آپ ﷺ نے فرمایا:
’’اس طرح کہا کرو: ’’سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ بَيْنَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ‘‘۔
وضاحت۱؎: وہ ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا، یا ام المومنین جویریہ رضی اللہ عنہا تھیں۔
وضاحت۲؎: مروجہ تسبیح جس میں سو دانے ہوتے ہیں، اور ان میں ایک امام ہوتا ہے، رسول اللہ ﷺ، صحابہ کرام اور سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے، انگلیوں پر تسبیح مسنون ہے، ملاحظہ ہو اگلی حدیث نمبر (۱۵۰۱)۔

1501- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ؛ عَنْ يُسَيْرَةَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَمَرَهُنَّ أَنْ يُرَاعِينَ بِالتَّكْبِيرِ وَالتَّقْدِيسِ وَالتَّهْلِيلِ، وَأَنْ يَعْقِدْنَ بِالأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ۔
* تخريج: ت/الدعوات ۱۲۱ (۳۵۸۳)، (تحفۃ الأشراف:۱۸۳۰۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۷۰، ۳۷۱) (حسن)

۱۵۰۱- یسیرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ تکبیر، تقدیس اور تہلیل کا اہتمام کیا کریں اور اس بات کا کہ وہ انگلیوں کے پوروں سے گنا کریں اس لئے کہ انگلیوں سے (قیامت کے روز) سوال کیا جائے گا اور وہ بولیں گی۱؎۔
وضاحت۱؎: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [سورة النــور: 24] ’’جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے‘‘، تو جس طرح ہاتھ اور پاؤں وغیرہ اعضاء برے اعمال کی گواہی دیں گے اسی طرح اچھے اعمال کی بھی گواہی دیں گے۔

1502- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَثَّامٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ: بِيَمِينِهِ۔
* تخريج: ت/الدعوات ۲۵ (۳۴۱۱)، ۷۲ (۳۴۸۶)، ن/السہو ۹۷ (۱۳۵۶)، (تحفۃ الأشراف:۸۶۳۷) (صحیح)

۱۵۰۲- عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تسبیح گنتے دیکھا (ابن قدامہ کی روایت میں ہے): ’’اپنے دائیں ہاتھ پر‘‘۔

1503- حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَانِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ عِنْدِ جُوَيْرِيَةَ، وَكَانَ اسْمُهَا بُرَّةَ، فَحَوَّلَ اسْمَهَا، فَخَرَجَ وَهِيَ فِي مُصَلاهَا وَرَجَعَ وَهِيَ فِي مُصَلاهَا، فَقَالَ: < لَمْ تَزَالِي فِي مُصَلاكِ هَذَا؟ > قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: < قَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلاثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ لَوَزَنَتْهُنَّ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ >۔
* تخريج: م/الذکر والدعاء ۱۹ (۲۱۴۰ و ۲۷۲۶)، (تحفۃ الأشراف:۶۳۵۸)، وقد أخرجہ: ن/افتتاح ۹۴ (۱۳۵۳)، ت/الدعاء ۱۰۴(۳۵۵۵)، ق/الأدب ۵۶ (۲۸۰۸)، حم (۱/۲۵۸، ۳۱۶، ۳۲۶، ۳۵۳) (صحیح)

۱۵۰۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے نکلے
(پہلے ان کا نام برہ تھا۱؎ آپ نے اسے بدل دیا)، جب آپ ﷺ نکل کر آئے تب بھی وہ اپنے مصلیٰ پر تھیں اور جب واپس اندر گئے تب بھی وہ مصلیٰ پر تھیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ’’کیا تم جب سے اپنے اسی مصلیٰ پر بیٹھی ہو؟‘‘، انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے تمہارے پاس سے نکل کر تین مرتبہ چار کلمات کہے ہیں، اگر ان کا وزن ان کلمات سے کیا جائے جو تم نے (اتنی دیر میں) کہے ہیں تو وہ ان پر بھاری ہوں گے:’’سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ‘‘(میں پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کی اور اس کی تعریف کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی مرضی کے مطابق، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر)‘‘۔
وضاحت۱؎: اسی طرح زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی برّہ تھا، اس کو بدل کر آپ ﷺ نے زینب رکھ دیا، اس لئے کہ معلوم نہیں کہ اللہ کے نزدیک کون برہ (نیکوکار) ہے اور کون فاجرہ (بدکار) ہے، انسان کو آپ اپنی تعریف و تقدیس مناسب نہیں۔


1504- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَانِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، [قَالَ:] حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَارَسُولَ اللَّهِ! ذَهَبَ أَصْحَابُ الدُّثُورِ بِالأُجُورِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَتَصَدَّقُونَ بِهَا، وَلَيْسَ لَنَا مَالٌ نَتَصَدَّقُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < يَا أَبَا ذَرٍّ! أَلا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تُدْرِكُ بِهِنَّ مَنْ سَبَقَكَ وَلا يَلْحَقُكَ مَنْ خَلْفَكَ إِلا مَنْ أَخَذَ بِمِثْلِ عَمَلِكَ؟ > قَالَ: بَلَى، يَارَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: < تُكَبِّرُ اللَّهَ [عَزَّ وَجَلَّ] دُبُرَ كُلِّ صَلاةٍ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَتَحْمَدُهُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَتُسَبِّحُهُ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ، وَتَخْتِمُهَا بِلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ، لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ، غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۱۴۵۸۸)، وقد أخرجہ: م/المساجد ۲۶ (۵۹۵)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۳۲ (۹۲۶)، ط/القرآن ۷ (۲۲)، دي/الصلاۃ ۹۰ (۱۳۹۳) (صحیح)
۱۵۰۴- ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو ذررضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مال والے تو ثواب لے گئے، وہ صلاۃ پڑھتے ہیں، جس طرح ہم پڑھتے ہیں، صیام رکھتے ہیں جس طرح ہم رکھتے ہیں، البتہ ان کے پاس ضرورت سے زیا دہ مال ہے، جو وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاس مال نہیں ہے کہ ہم صدقہ کریں؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ابوذر! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھائوں جنہیں ادا کر کے تم ان لوگوں کے برابر پہنچ سکتے ہو، جو تم پر ( ثواب میں) بازی لے گئے ہیں، اورجو (ثواب میں) تمہارے پیچھے ہیں تمہارے برابر نہیں ہو سکتے، سوائے اس شخص کے جو تمہارے جیسا عمل کرے‘‘، انہوں نے کہا: ضرور اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ہر صلاۃ کے بعد(۳۳) بار ’’اللہ اکبر‘‘ (۳۳) بار’’الحمدللہ‘‘ (۳۳) بار’’سبحان اللہ‘‘ کہا کرو، اور آخر میں’’لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ، لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ‘‘ پڑھا کرو (جو ایسا کر ے گا) اس کے تمام گنا ہ بخش دئے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
360-بَابٌ مَا يَقُوْلُ الرَّجُلُ إذَا سَلَّمَ
۳۶۰- باب: آدمی سلام پھیرے تو کیا پڑھے؟​

1505- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَيُّ شَيْئٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلاةِ؟ فَأَمْلاهَا الْمُغِيرَةُ عَلَيْهِ، وَكَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ، لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ >۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۵۵ (۸۴۴)، والزکاۃ ۵۳ (۱۴۷۷)، والدعوات ۱۸ (۶۳۳۰)، والرقاق ۲۲ (۶۴۷۳)، والقدر ۱۲ (۶۶۱۵)، والاعتصام ۳ (۷۲۹۲)، م/المساجد ۲۶ (۵۹۳)، ن/السہو ۸۵ (۱۳۴۲)، (تحفۃ الأشراف:۱۱۵۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۴۵، ۲۴۷، ۲۵۰، ۲۵۱، ۲۵۴، ۲۵۵)، دي/الصلاۃ ۸۸ (۱۳۸۹) (صحیح)

۱۵۰۵- مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ رسول اللہ ﷺ جب صلاۃ سے سلام پھیرتے تو کیا پڑھتے تھے؟ اس پر مغیرہ نے معاویہ کو لکھوا کے بھیجا، اس میں تھا: رسول اللہ ﷺ : ’’لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ، لاشَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ‘‘ (کوئی معبود بر حق نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے، اسی کے لئے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک دے، اسے کوئی دے نہیں سکتا اور مال دار کو اس کی مال داری نفع نہیں دے سکتی) پڑھتے تھے۔

1506- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ؛ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلاةِ يَقُولُ: < لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ، لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ، أَهْلُ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ >۔
* تخريج: م/المساجد ۲۶ (۵۹۴)، ن/السہو ۸۳ (۱۳۴۰)، (تحفۃ الأشراف:۵۲۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴)، (صحیح)
۱۵۰۶- ابو الزبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر کہتے سنا: نبی اکرم ﷺ جب صلاۃ سے فارغ ہوتے تو کہتے: ’’لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ، لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ، لاإِلَهَ إِلا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ، أَهْلُ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ‘‘(اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے، اسی کے لئے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں اگرچہ کافر برا سمجھیں، وہ احسان، فضل اور اچھی تعریف کا مستحق ہے۔ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں، اگرچہ کافر برا سمجھیں)۔

1507- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يُهَلِّلُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ، فَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا الدُّعَاءِ، زَادَ فِيهِ: < وَلاحَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، لا نَعْبُدُ إِلا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ > وَسَاقَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ۔
* تخريج: م/المساجد ۲۶ (۵۹۴)، ن/السہو ۸۴ (۱۳۴۱)، (تحفۃ الأشراف:۵۲۸۵) (صحیح)

۱۵۰۷- ابو الزبیرکہتے ہیں کہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر صلاۃ کے بعد ’’لا إله إلا الله‘‘ کہا کرتے تھے پھر انہوں نے اس جیسی دعا کا ذکر کیا، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا:’’وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، لا نَعْبُدُ إِلاإِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ‘‘ اور پھر آگے بقیہ حدیث بیان کی۔

1508- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ الطُّفَاوِيَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ الْبَجَلِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ -وَقَالَ سُلَيْمَانُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ [فِي] دُبُرِ صَلاتِهِ-: <اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْئٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّكَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَكَ لاشَرِيكَ لَكَ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْئٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْئٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْئٍ، اجْعَلْنِي مُخْلِصًا لَكَ وَأَهْلِي فِي كُلِّ سَاعَةٍ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ اسْمَعْ وَاسْتَجِبِ [اللَّهُ أَكْبَرُ الأَكْبَرُ] اللَّهُمَّ نُورَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ -قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: رَبَّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ- اللَّهُ أَكْبَرُ الأَكْبَرُ، حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، اللَّهُ أَكْبَرُ الأَكْبَرُ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۳۶۹۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۶۹)، ن/ الیوم واللیلۃ (۱۰۱) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’داود طفاوی‘‘ لین الحدیث ہیں)
۱۵۰۸- زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا- (سلیمان کی روایت میں اس طرح ہے : رسو ل اللہ ﷺ اپنی صلاۃ کے بعد فرماتے تھے): ’’اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْئٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّكَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَكَ لا شَرِيكَ لَكَ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْئٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْئٍ، أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْئٍ، اجْعَلْنِي مُخْلِصًا لَكَ وَأَهْلِي فِي كُلِّ سَاعَةٍ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ اسْمَعْ وَاسْتَجِبِ [اللَّهُ أَكْبَرُ الأَكْبَرُ] اللَّهُمَّ نُورَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ،اللَّهُ أَكْبَرُ الأَكْبَرُ، حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، اللَّهُ أَكْبَرُ الأَكْبَرُ‘ (اے اللہ ! ہمارا رب اور ہر چیز کا رب ، میں گواہ ہوں کہ تو اکیلا رب ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور اے ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ محمد (ﷺ) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ تمام بندے بھائی بھائی ہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب! مجھے اور میرے گھروالوں کو اپنا مخلص بنا لے دنیا و آخرت کی ہر ساعت میں، اے جلال، بزرگی اور عزت والے! سن لے اور قبول فرما لے، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے، اے اللہ! تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے (سلیمان بن داود کی روایت میں نور کے بجائے رب کا لفظ ہے) اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے، اللہ میرے لئے کافی ہے اور بہت بہتر وکیل ہے، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے)۔

1509- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَانِ الأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ؛ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلاةِ قَالَ: < اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَاأَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَ[أَنْتَ] الْمُؤَخِّرُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ >۔
* تخريج: انظرحدیث رقم : ۷۶۰، (تحفۃ الأشراف:۱۰۲۲۸) (صحیح)

۱۵۰۹- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب صلاۃ سے سلام پھیرتے تو کہتے: ’’اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَ[أَنْتَ] الْمُؤَخِّرُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ‘‘ (اے اللہ! میرے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے اور وہ تمام گناہ جنہیں میں نے چھپ کر اور کھلم کھلا کیا ہو، اور جو زیادتی کی ہو اسے اور اس گناہ کو جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، بخش دے۔ تو جسے چاہے آگے کرے، جسے چاہے پیچھے کرے، تیرے سوا کوئی معبو د برحق نہیں)۔

1510- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ طُلَيْقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَدْعُو: < رَبِّ أَعِنِّي وَلا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ هُدَايَ إِلَيَّ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي لَكَ شَاكِرًا، لَكَ ذَاكِرًا، لَكَ رَاهِبًا، لَكَ مِطْوَاعًا، إِلَيْكَ مُخْبِتًا، أَوْ مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي > ۔
* تخريج: ت/الدعوات ۱۰۳ (۳۵۵۱)، ق/الدعاء ۲ (۳۸۳۰)، ن/ الیوم واللیلۃ (۶۰۷، ۶۰۸)، (تحفۃ الأشراف:۵۷۶۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۷) (صحیح)

۱۵۱۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ یہ دعا مانگتے تھے: ’’رَبِّ أَعِنِّي وَلا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرْ هُدَايَ إِلَيَّ، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي لَكَ شَاكِرًا، لَكَ ذَاكِرًا، لَكَ رَاهِبًا، لَكَ مِطْوَاعًا، إِلَيْكَ مُخْبِتًا، أَوْ مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي‘‘(اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، ایسی چال چل جو میرے حق میں ہو، نہ کہ ایسی جو میرے خلاف ہو، مجھے ہدایت دے اور جو ہدایت مجھے ملنے والی ہے، اسے مجھ تک آسانی سے پہنچا دے، اس شخص کے مقابلے میں میری مدد کر، جو مجھ پر زیادتی کرے، اے اللہ! مجھے تو اپنا شکر گزار، اپنا یاد کرنے والا اور اپنے سے ڈرنے والا بنا، اپنا اطاعت گزار، اپنی طرف گڑگڑانے والا، یا دل لگانے والا بنا، اے میرے پروردگار! میری توبہ قبول کر، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری دلیل مضبوط کر، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا، میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے حسد اور کینہ نکال دے) ۔

1511- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ: < وَيَسِّرِ الْهُدَى إِلَيَّ > وَلَمْ يَقُلْ: < هُدَايَ >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف:۵۷۶۵) (صحیح)

۱۵۱۱- سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن مرہ سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت سنی ہے، اس میں ’’يَسِّرْ هُدَايَ إِلَيَّ‘‘ کے بجائے ’’يَسِّرِ الْهُدَى إِلَي‘‘ ہے۔

1512- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ: < اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلامُ، وَمِنْكَ السَّلامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ >.
قَالَ أَبودَاود: سَمِعَ سُفْيَانُ مِنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالُوا: ثَمَانِيَةَ عَشَرَ حَدِيثًا۔
* تخريج: م/المساجد ۲۶ (۵۹۲)، ت/الصلاۃ ۱۰۹ (۲۹۸)، ن/السہو ۸۲ (۱۳۳۹)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۳۲ (۹۲۴)، (تحفۃ الأشراف:۱۶۱۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۶۲، ۱۸۴، ۲۳۵)، دي/الصلاۃ ۸۸ (۱۳۸۷) (صحیح)

۱۵۱۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سلام پھیرتے تو فرماتے: ’’اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلامُ، وَمِنْكَ السَّلامُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ‘‘۱؎ (اے اللہ تو ہی سلام ہے، تیری ہی طرف سے سلام ہے، تو بڑی برکت والا ہے، اے جلا ل اور بزرگی والے)۔
امام ابو داود کہتے ہیں: سفیان کا سماع عمرو بن مرہ سے ہے، لوگوں نے کہا ہے: انہوں نے عمرو بن مرہ سے اٹھارہ حدیثیں سنی ہیں ۲؎ ۔
وضاحت۱: صحیح روایات سے یہ دعا صرف اتنی ہی ثابت ہے جن روایتوں میں ’’وإليك يرجع السلام وأدخلنا دار السلام، تبارك ربنا وتعاليت يا ذا الجلال والإكرام‘‘ کی زیادتی آئی ہے وہ کمزور اور ضعیف ہیں۔
وضاحت۲؎ : موٌلف کا یہ کلام حدیث نمبر (۱۵۱۱) سے متعلق ہے۔

1513- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ: < اللَّهُمَّ > فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا!.
* تخريج: م/المساجد ۲۶ (۵۹۱)، ت/الصلاۃ ۱۰۹ (۳۰۰)، ن/السہو ۸۱ (۱۳۳۸)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۳۲ (۹۲۸)، (تحفۃ الأشراف:۲۰۹۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۷۵، ۲۷۹)، دي/الصلاۃ ۸۸ (۱۳۸۸) (صحیح)

۱۵۱۳- ثوبان مولیٰ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب صلاۃ سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے، اس کے بعد ’’اللَّهُمَّ‘‘ کہتے، پھر راوی نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
 
Last edited:
Top