• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم (مختصر)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: تَخْمِيْسُ الأَنْفَالِ
مال غنیمت میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالنا​

(1140) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَدْ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ وَالْخُمْسُ فِي ذَلِكَ وَاجِبٌ كُلِّهِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بعض لشکر والوں کو باقی تمام لشکروں کی نسبت زیادہ دیتے اور ان سب مالوں میں خمس واجب تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: إِعْطَاء الْقَاتِلِ سَلَبَ الْمَقْتُوْلِ
کافر مقتول کا سامان (حرب) قاتل کو دینا چاہیے​

(1141) عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ قَالَ فَرَأَيْتُ رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلا رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَدَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا لِلنَّاسِ؟ فَقُلْتُ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ ۔ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ فَقُمْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! سَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْ حَقِّهِ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لاَ هَا اللَّهِ إِذًا لاَ يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسُدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ فَيُعْطِيَكَ سَلَبَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ فَأَعْطَانِي قَالَ فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الإِسْلامَ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین کی لڑائی میں نکلے، لڑائی ہوئی۔ جب ہم لوگ دشمنوں سے لڑے، تو مسلمانوں کو (شروع میں) شکست ہوئی (یعنی کچھ مسلمان بھاگے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان میں جمے رہے) پھر میں نے ایک کافر کو دیکھا کہ وہ ایک مسلمان پر (اس کے مارنے کو) چڑھا تھا، میں گھوم کر اس کی طرف آیا اور اس کے کندھے اور گردن کے بیچ میں ایک ضرب لگائی، وہ میری طرف پلٹا اور مجھے ایسا دبایا کہ موت کی تصویر میری آنکھوں میں پھر گئی۔ اس کے بعد وہ خود مر گیا تب ہی مجھے چھوڑا۔ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے کہا کہ لوگوں کو کیا ہو گیا (جو ایسا بھاگ نکلے)، میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ پھر لوگ لوٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے کسی کو مارا اور وہ گواہ رکھتا ہو تو اس (مقتول) کا سامان وہی لے۔‘‘ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ سن کر میں کھڑا ہوا اور کہا کہ میرا گواہ کون ہے؟ اس کے بعد میں بیٹھ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ایسا ہی فرمایا، تو میں پھر کھڑا ہوا اور کہا کہ میرے لیے گواہی کون دے گا؟ میں بیٹھ گیا۔پھر تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا، تو میں پھرکھڑا ہوا۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اے ابو قتادہ! تجھے کیا ہوا ہے؟ میں نے سارا قصہ بیان کیا، تو ایک شخص بولا کہ یا رسول اللہ! ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سچ کہتے ہیں اس شخص کا سامان میرے پاس ہے، آپ ان کو راضی کر دیجیے کہ اپنا حق مجھے دے دیں۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم! ایسا کبھی نہیں ہو گا اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ارادہ نہ کریں گے) کہ اللہ تعالیٰ کے شیروں میں سے ایک شیر جو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑتا ہے (اس کا) اسباب تجھے دلائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابو بکر رضی اللہ عنہ سچ کہتے ہیں (اس حدیث سے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بڑی فضیلت ثابت ہوئی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے فتویٰ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے فتوے کو سچ کہا) تو وہ سامان ابو قتادہ کو دے دے۔‘‘ پھر اس نے وہ سامان مجھے دے دیا۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے (اس سامان میں سے) زرہ کو بیچا اور اس کے بدل بنو سلمہ کے محلے میں ایک باغ خریدا اور یہ پہلا مال ہے جس کو میں نے اسلام کی حالت میں کمایا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: إِعْطَاء السَّلَبِ بَعْضَ الْقَاتِلِيْنَ بِالإِجْتِهَادِ
(دشمن مقتول کا) سامان بعض قاتلین کو اجتہاد کی بنا پر دینا​

(1142) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَشِمَالِي فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلامَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا تَمَنَّيْتُ لَوْ كُنْتُ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا فَقَالَ يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ؟ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ وَ مَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لاَ يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الأَعْجَلُ مِنَّا قَالَ فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ فَغَمَزَنِي الآخَرُ فَقَالَ مِثْلَهَا قَالَ فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَزُولُ فِي النَّاسِ فَقُلْتُ أَلا تَرَيَانِ؟ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلاَنِ عَنْهُ قَالَ فَابْتَدَرَاهُ فَضَرَبَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا حَتَّى قَتَلاهُ ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَخْبَرَاهُ فَقَالَ أَيُّكُمَا قَتَلَهُ فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُ فَقَالَ هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا؟ قَالاَ لاَ فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ فَقَالَ كِلاَكُمَا قَتَلَهُ وَقَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَالرَّجُلاَنِ مُعَاذُ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَ مُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بدر کی لڑائی میں صف میں کھڑا ہوا تھا اپنے دائیں اور بائیں دیکھا، تو میری دونوں طرف انصار کے نوجوان اور کم عمر لڑکے نظر آئے۔ میں نے آرزو کی کہ کاش! میں ان سے زور آور جوانوں کے درمیان ہوتا (یعنی آزو بازو اچھے قوی لوگ ہوتے تو زیادہ اطمینان ہوتا) اتنے میں ان میں سے ایک نے مجھے دبایا اور کہا کہ اے چچا! تم ابو جہل کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں اور اے میرے بھائی کے بیٹے! تیرا ابو جہل سے کیا مطلب ہے؟ اس نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ ابو جہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہتا ہے، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر میں ابو جہل کو پاؤں تو اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک کہ ہم دونوں میں سے وہ مر نہ جائے، جس کی موت پہلے آئی ہو۔ سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اس کے ایسا کہنے سے تعجب ہوا۔ (کہ بچہ ہو کر ابو جہل جیسے قوی ہیکل کے مارنے کا ارادہ رکھتا ہے) پھر دوسرے نے مجھے دبایا اور اس نے بھی یہی کہا۔ کہتے ہیں تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ میں نے ابو جہل کو دیکھا کہ وہ لوگوں میں پھر رہا ہے، میں نے ان دونوں لڑکوں سے کہا کہ یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں تم پوچھتے تھے۔ یہ سنتے ہی وہ دونوں دوڑے اور تلواروں کے وار کیے، یہاں تک کہ مار ڈالا۔ پھر دونوں لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور یہ حال بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’تم میں سے کس نے اس کو مارا؟‘‘ ہر ایک بولنے لگا کہ میں نے مارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم نے اپنی تلواریں صاف کر لیں؟‘‘ وہ بولے نہیں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی تلواریں دیکھیں اور فرمایا: ’’تم دونوں نے اسے مارا ہے۔‘‘ پھر اس کا سامان معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کو دلایا اور وہ دونوں لڑکے یہ تھے۔ ایک معاذ بن عمرو بن جموح اور دوسرے معاذ بن عفراء۔ (رضی اللہ عنہم)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: مَنْعُ الْقَاتِلِ السَّلَبَ بِالإِجْتِهَادِ
اجتہاد کی بنا پر قاتل کو (دشمن مقتول) کا سامان نہ دینا​

(1143) عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ حِمْيَرَ رَجُلاً مِنَ الْعَدُوِّ فَأَرَادَ سَلَبَهُ فَمَنَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ وَالِيًا عَلَيْهِمْ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لِخَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُعْطِيَهُ سَلَبَهُ؟ قَالَ اسْتَكْثَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ ادْفَعْهُ إِلَيْهِ فَمَرَّ خَالِدٌ بِعَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَجَرَّ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ هَلْ أَنْجَزْتُ لَكَ مَا ذَكَرْتُ لَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم؟ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاسْتُغْضِبَ فَقَالَ لاَ تُعْطِهِ يَا خَالِدُ لاَ تُعْطِهِ يَا خَالِدُ هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي أُمَرَائِي؟ إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَ مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِيَ إِبِلاً أَوْ غَنَمًا فَرَعَاهَا ثُمَّ تَحَيَّنَ سَقْيَهَا فَأَوْرَدَهَا حَوْضًا فَشَرَعَتْ فِيهِ فَشَرِبَتْ صَفْوَهُ وَتَرَكَتْ كَدْرَهُ فَصَفْوُهُ لَكُمْ وَكَدْرُهُ عَلَيْهِمْ
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (قبیلہ) حمیر کے ایک شخص نے دشمنوں میں سے ایک شخص کو مارا اور اس کا سامان لینا چاہا لیکن سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے) لشکر کے سردار تھے، نے نہ دیا۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حال بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’تم نے اس کو سامان کیوں نہ دیا؟‘‘ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! وہ سامان بہت زیادہ تھا (تو میں نے وہ سب دینا مناسب نہ جانا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ سامان اس کو دے دے۔‘‘ پھر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ، سیدنا عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے، تو سیدنا عوف نے ان کی چادر کھینچتے ہوئے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا آخر وہی ہوا ناں (یعنی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو شرمندہ کیا کہ آخر تمہیں سامان دینا پڑا) یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لی اور غضبناک ہو کر فرمایا: ’’اے خالد! اس کو مت دے، اے خالد! اس کو مت دے، کیا تم میرے سرداروں کو چھوڑنے والے ہو؟ تمہاری اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے اونٹ یا بکریاں چرانے کو لیں، پھر ان کو چرایا اور ان کی پیاس کا وقت دیکھ کر حوض پر لایا، تو انہوں نے پینا شروع کیا، پھر صاف صاف پی گئیں اور تلچھٹ چھوڑ دیا، تو صاف (یعنی اچھی باتیں) تو تمہارے لیے اور بری باتیں سرداروں پر ہیں (یعنی بدنامی اور مواخذہ ان سے ہو)۔‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: فِيْ إِعْطَاء جَمِيْعِ السَّلَبِ لِلْقَاتِلِ
دشمن کا سارا مال قاتل کو دینا چاہیے​

(1144) عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم هَوَازِنَ فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ فَأَنَاخَهُ ثُمَّ انْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقَبِهِ فَقَيَّدَ بِهِ الْجَمَلَ ثُمَّ تَقَدَّمَ يَتَغَدَّى مَعَ الْقَوْمِ وَجَعَلَ يَنْظُرُ وَفِينَا ضَعْفَةٌ وَرِقَّةٌ فِي الظَّهْرِ وَبَعْضُنَا مُشَاةٌ إِذْ خَرَجَ يَشْتَدُّ فَأَتَى جَمَلَهُ فَأَطْلَقَ قَيْدَهُ ثُمَّ أَنَاخَهُ وَقَعَدَ عَلَيْهِ فَأَثَارَهُ فَاشْتَدَّ بِهِ الْجَمَلُ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ وَرْقَاءَ قَالَ سَلَمَةُ وَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ فَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُهُ فَلَمَّا وَضَعَ رُكْبَتَهُ فِي الأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَضَرَبْتُ رَأْسَ الرَّجُلِ فَنَدَرَ ثُمَّ جِئْتُ بِالْجَمَلِ أَقُودُهُ عَلَيْهِ رَحْلُهُ وَسِلاَحُهُ فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَالَ مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟ قَالُوا ابْنُ الأَكْوَعِ قَالَ لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم غزوۂ ہوازن (حنین) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے (جو ۸ ہجری میں ہوا) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے کہ اتنے میں ایک شخص سرخ اونٹ پر سوار آیا۔ اونٹ کو بٹھا کر اس کی کمر پر سے ایک تسمہ نکالا اور اس سے باندھ دیا پھر آکر لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے اور ادھر ادھر دیکھنے لگا (وہ کافروں کا جاسوس تھا)۔ اور ہم لوگ ان دنوں ناتواں تھے اور بعض پیدل بھی تھے (جن کے پاس سواری نہ تھی) اتنے میں یکایک دوڑتا ہوا اپنے اونٹ کے پاس آیا اور اس کا تسمہ کھول کر بٹھایا اور پھر اس پر بیٹھ کر کھڑا کیا، تو اونٹ اس کو لے کر بھاگا۔ (اب کافروں کو خبر دینے کے لیے چلا) ایک شخص نے خاکی رنگ کی اونٹنی پر اس کا پیچھا کیا۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں پیدل دوڑتا گیا، پہلے میں اونٹنی کی سرین کے پاس تھا (جو کہ اس جاسوس کے تعاقب میں جا رہی تھی) پھر میں اور آگے بڑھا یہاں تک کہ اونٹ کے سرین کے پاس آ گیا پھر اور آگے بڑھا، یہاں تک کہ اونٹ کی نکیل پکڑ کر اس کو بٹھا دیا۔ جونہی اونٹ نے اپنا گھٹنا زمین پر ٹیکا، میں نے تلوار سونتی اور اس مرد کے سر پر ایک وار کر کے اس کو گرا دیا۔ پھر میں اونٹ کو کھینچتا ہوا، اس (جاسوس) کے سامان اور ہتھیار سمیت لے آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ تھے جو آگے تشریف لائے تھے (میرے انتظار میں) مجھ سے ملے اور پوچھا کہ اس مرد کو کس نے مارا؟ لوگوں نے کہا کہ اکوع کے بیٹے نے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس کا سب سامان اکوع کے بیٹے کا ہے۔‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: فِي التَّنْفِيْلِ وَ فِدَائِ الْمُسْلِمِيْنَ بِالأُسَارىَ
انعام اور قیدیوں کے بدلا میں مسلمانوں کو چھڑانے کے متعلق​

(1145) عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيْهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا فَزَارَةَ وَعَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْنَا فَلَمَّا كَانَ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ الْمَاءِ سَاعَةٌ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَرَّسْنَا ثُمَّ شَنَّ الْغَارَةَ فَوَرَدَ الْمَاءَ فَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ عَلَيْهِ وَسَبَى وَأَنْظُرُ إِلَى عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِيهِمُ الذَّرَارِيُّ فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ بَيْنهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ فَلَمَّا رَأَوُا السَّهْمَ وَقَفُوا فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ قَالَ الْقَشْعُ النِّطَعُ مَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ فَسُقْتُهُمْ حَتَّى أَتَيْتُ بِهِمْ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ابْنَتَهَا فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي السُّوقِ فَقَالَ يَا سَلَمَةُ! هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا ثُمَّ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنَ الْغَدِ فِي السُّوقِ فَقَالَ لِي يَا سَلَمَةُ هَبْ لِيَ الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ فَقُلْتُ هِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَوَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَفَدَى بِهَا نَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا أُسِرُوا بِمَكَّةَ
سیدنا ایاس بن سلمہ اپنے والد سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے (قبیلہ) فزارہ سے جہاد کیا اور ہمارے سردار سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے جنہیں ہمارا امیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنایا تھا۔ جب ہمارے اور پانی کے درمیان میں ایک گھڑی کا فاصلہ رہ گیا (یعنی اس پانی سے جہاں قبیلہ فزارہ رہتے تھے)، تو ہم سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے حکم سے پچھلی رات کو اتر پڑے۔ پھر ہر طرف سے حملہ کرتے ہوئے اور پانی پر پہنچے وہاں جو مارا گیا سو مارا گیا اور کچھ قید ہوئے اور میں ایک گروہ کو تاک رہا تھا جس میں (کافروں کے) بچے اور عورتیں تھیں میں ڈرا کہ کہیں وہ مجھ سے پہلے پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں، میں نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان میں ایک تیر مارا، تو تیر کو دیکھ کر وہ ٹھہر گئے۔ میں ان سب کو ہانکتا ہوا لایا۔ ان میں فزارہ کی ایک عورت تھی جو چمڑا پہنے ہوئے تھی۔ میں ان سب کو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، تو انہوں نے وہ لڑکی مجھے انعام کے طور پر دے دی۔ جب ہم مدینہ پہنچے اور میں نے ابھی اس لڑکی کا کپڑا تک نہیں کھولا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بازار میں ملے اور فرمایا: ’’اے سلمہ! وہ لڑکی مجھے دے دے۔‘‘ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! وہ مجھے بھلی لگی ہے اور میں نے ابھی اس کا کپڑا تک نہیں کھولا۔ پھر دوسرے دن مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں ملے اور فرمایا: ’’اے سلمہ! وہ لڑکی مجھے دے دے اور تیرا باپ بہت اچھا تھا۔‘‘ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ! وہ آپ کی ہے۔ اللہ کی قسم! میں نے تو اس کا کپڑا تک نہیں کھولا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لڑکی مکہ والوں کو بھیج دی اور اس کے بدلا میں کئی مسلمانوں کو چھڑایا جو مکہ میں قید ہو گئے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: السُّهْمَانُ وَالْخُمُسُ فِيْمَا افْتُتِحَ مِنَ الْقُرَى بِقِتَالٍ
جو بستی لڑائی سے فتح کی گئی، اس میں حصے اور خمس ہے​

(1146) عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا وَأَقَمْتُمْ فِيهَا فَسَهْمُكُمْ فِيهَا وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس بستی میں تم آئے اور وہاں ٹھہرے، تو اس میں تمہارا حصہ ہے اور جس بستی والوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی یعنی لڑائی کی تو (مال غنیمت کا) پانچواں حصہ اللہ کا اور رسول کا ہے اور باقی (چار حصے) تمہارے ہیں۔‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: فِيْمَا يُصْرَفُ الْفَيْئُ إِذَا لَمْ يُوْجَفْ عَلَيْهِ بِقِتَالٍ
مال ’’فے‘‘ کیسے تقسیم ہو گا جب کہ لڑائی کی نوبت نہ آئی ہو​

(1147) عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجِئْتُهُ حِينَ تَعَالَى النَّهَارُ قَالَ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِهِ جَالِسًا عَلَى سَرِيرٍ مُفْضِيًا إِلَى رُمَالِهِ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ فَقَالَ لِي يَا مَالُ إِنَّهُ قَدْ دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ وَقَدْ أَمَرْتُ فِيهِمْ بِرَضْخٍ فَخُذْهُ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ قَالَ قُلْتُ لَوْ أَمَرْتَ بِهَذَا غَيْرِي قَالَ خُذْهُ يَا مَالُ قَالَ فَجَاءَ يَرْفَا فَقَالَ هَلْ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَعَمْ فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ هَلْ لَكَ فِي عَبَّاسٍ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا؟ قَالَ نَعَمْ فَأَذِنَ لَهُمَا فَقَالَ عَبَّاسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا (وَذَكَرَ كَلاَمًا) (الْكَاذِبِ الآثِمِ الْغَادِرِ الْخَائِنِ) فَقَالَ الْقَوْمُ أَجَلْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَاقْضِ بَيْنَهُمْ وَأَرِحْهُمْ فَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُمْ قَدْ كَانُوا قَدَّمُوهُمْ لِذَلِكَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اتَّئِدَا أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ؟ قَالُوا نَعَمْ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ؟ قَالاَ نَعَمْ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ كَانَ خَصَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِخَاصَّةٍ لَمْ يُخَصِّصْ بِهَا أَحَدًا غَيْرَهُ قَالَ {مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ} مَا أَدْرِي هَلْ قَرَأَ الآيَةَ الَّتِي قَبْلَهَا أَمْ لاَ قَالَ فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم بَيْنَكُمْ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ فَوَاللَّهِ مَا اسْتَأْثَرَ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَخَذَهَا دُونَكُمْ حَتَّى بَقِيَ هَذَا الْمَالُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَأْخُذُ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ أُسْوَةَ الْمَالِ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ أَتَعْلَمُونَ ذَلِكَ؟ قَالُوا نَعَمْ ثُمَّ نَشَدَ عَبَّاسًا وَعَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِمِثْلِ مَا نَشَدَ بِهِ الْقَوْمَ أَتَعْلَمَانِ ذَلِكَ؟ قَالاَ نَعَمْ قَالَ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَجِئْتُمَا تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَوَلِيُّ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَأَيْتُمَانِي كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ فَوَلِيتُهَا ثُمَّ جِئْتَنِي أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ فَقُلْتُمَا ادْفَعْهَا إِلَيْنَا فَقُلْتُ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللَّهِ أَنْ تَعْمَلاَ فِيهَا بِالَّذِي كَانَ يَعْمَلُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَخَذْتُمَاهَا بِذَلِكَ قَالَ أَكَذَلِكَ؟ قَالاَ نَعَمْ قَالَ ثُمَّ جِئْتُمَانِي لِأَقْضِيَ بَيْنَكُمَا وَلاَ وَاللَّهِ لاَ أَقْضِي بَيْنَكُمَا بِغَيْرِ ذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَرُدَّاهَا إِلَيَّ
سیدنا مالک بن اوس کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بلایا اور میں ان کے پاس دن چڑھے آیا اور اپنے گھر میں ننگی (بغیر بستر کے) چارپارئی پر بیٹھے تھے اور ایک چمڑے کے تکیہ پر تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے مالک! تیری قوم کے کچھ لوگ دوڑ کر میرے پاس آئے تو میں نے ان کو کچھ تھوڑا بہت دلا دیا ہے تو ان سب میں بانٹ دے۔ میں نے کہا کہ کاش! یہ کام آپ کسی اور سے لے لیتے۔ انہوں نے کہا کہ اے مالک! تو لے لے۔ اتنے میں یرفا (ان کا خدمت گار) آیا اور کہنے لگا کہ اے امیر المومنین! عثمان بن عفان، عبد الرحمن بن عوف، زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم آئے ہیں۔ کیا ان کو آنے دوں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اچھا ان کو آنے دے۔ وہ آگئے پھر یرفا آیا اور کہنے لگا کہ عباس اور علی رضی اللہ عنہما آنا چاہتے ہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان کو بھی اجازت دے دے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے امیر المومنین! میرا اور اس جھوٹے، گنہگار، دغا باز اور چور کا فیصلہ کر دیجیے۔ لوگوں نے کہا کہ ہاں اے امیر المومنین! ان کا فیصلہ کر دیجیے اور ان کو اس مسئلے سے راحت دیجیے۔ مالک بن اوس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ ان دونوں نے (یعنی سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما نے) سیدنا عثمان اور عبد الرحمن اور زبیر اور سعد رضی اللہ عنہم کو (اس لیے) آگے بھیجا تھا (کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہہ کر فیصلہ کروا دیں۔) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ٹھہرو! میں تم کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین اور آسمان قائم ہیں، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہم پیغمبروں کے مال میں وارثوں کو کچھ نہیں ملتا اور جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے؟ سب نے کہا ہاں، ہمیں معلوم ہے۔ پھر سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ میں تم دونوں کو اس اللہ تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین اور آسمان قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا اور جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے؟ ان دونوں نے کہا کہ بے شک ہم جانتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بات خاص کی تھی جو اور کسی کے ساتھ خاص نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اللہ نے گاؤں والوں کے مال میں سے جو دیا، وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ہے۔‘‘ مجھے معلوم نہیں ہے کہ اس سے پہلے کی آیت بھی انہوں نے پڑھی کہ نہیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کے مال تم لوگوں کو بانٹ دیے اور اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مال کو) تم سے زیادہ نہیں سمجھا اور نہ یہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود لیا ہو اور تمہیں نہ دیا ہو، یہاں تک کہ یہ مال رہ گیا۔ اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سال کا اپنا خرچ نکال لیتے اور جو بچ رہتا، وہ بیت المال میں شریک ہوتا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں اس اللہ تعالیٰ کی جس کے حکم سے زمین اور آسمان قائم ہیں کہ تم یہ سب جانتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، ہم جانتے ہیں۔ پھر سیدنا علی اور عباس رضی اللہ عنہما کو بھی ایسی ہی قسم دی، تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ ہاں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولی ہوں، تو تم دونوں آئے۔ عباس رضی اللہ عنہ تو اپنے بھتیجے کا ترکہ مانگتے تھے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے بھائی کے بیٹے تھے) اور علی رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ مطہرہ کا حصہ ان کے والد صلی اللہ علیہ وسلم کے مال سے چاہتے تھے (یعنی سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تھیں) سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ذی شان ہے کہ ہمارے مال کا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے، تو تم ان کو جھوٹا، گنہگار، دغا باز اور چور سمجھے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ سچے، نیک اور ہدایت پر تھے اور حق کے تابع تھے۔ پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولی ہوں اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا، تو تم نے مجھے بھی جھوٹا، گنہگار، دغا باز اور چور سمجھا جبکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں سچا، نیکوکار اور حق پر ہوں، حق کا تابع ہوں، میں اس مال کا بھی ولی رہا۔ پھر تم دونوں میرے پاس آئے اور تم دونوں ایک ہو اور تمہارا معاملہ بھی ایک ہے (یعنی اگرچہ تم ظاہر میں دو شخص ہو مگر اس لحاظ سے کہ قربت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دونوں میں موجود ہے تم مثل ایک شخص کے ہو) تم نے یہ کہا کہ یہ مال ہمارے سپرد کر دو، تو میں نے کہا کہ اچھا! اگر تم چاہتے ہو تو میں تم کو اس شرط پردے دیتا ہوں کہ تم اس مال میں وہی کرتے رہو گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔ تم نے اسی شرط سے یہ مال مجھ سے لیا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیوں ایسا ہی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر تم دونوں (اب) میرے پاس فیصلہ کرانے آئے ہو؟ نہیں اللہ تعالیٰ کی قسم میں اس کے سوا اور کوئی فیصلہ قیامت تک کرنے والا نہیں۔ البتہ اگر تم سے اس مال کا بندوبست نہیں ہوتا، تو پھر مجھے لوٹا دو۔

(1148) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرِ نِالصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكَ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ۔ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم فِي هَذَا الْمَالِ وَإِنِّي وَاللَّهِ لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ حَالِهَا الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَلاَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ قَالَ فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْلاً وَ لَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ لِعَلِيٍّ مِنَ النَّاسِ وِجْهَةٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ بَايَعَ تِلْكَ الأَشْهُرَ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنِ ائْتِنَا وَلاَ يَأْتِنَا مَعَكَ أَحَدٌ كَرَاهِيَةَ مَحْضَرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ وَاللَّهِ لاَ تَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَمَا عَسَاهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي إِنِّي وَاللَّهِ لَآتِيَنَّهُمْ فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ فَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَضِيلَتَكَ وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ وَ لَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالأَمْرِ وَكُنَّا نَحْنُ نَرَى لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُ أَبَابَكْرٍ حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَكْرٍ فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الأَمْوَالِ فَإِنِّي لَمْ آلُ فِيهَا عَنِ الْحَقِّ وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلاَّ صَنَعْتُهُ فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَبِي بَكْرٍ مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ فَلَمَّا صَلَّى أَبُوبَكْرٍ صَلاةَ الظُّهْرِ رَقِيَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَلاَ إِنْكَارٌ لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَكِنَّا كُنَّا نَرَى لَنَا فِي الأَمْرِ نَصِيبًا فَاسْتُبِدَّ عَلَيْنَا بِهِ فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا أَصَبْتَ فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الأَمْرَ بِالْمَعْرُوفَ
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان مالوں میں سے اپنا ترکہ مانگنے کو بھیجا جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں اور فدک میں دیے اور جو کچھ خیبر کے خمس میں سے بچتا تھا، تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے: ’’ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا اور جوکچھ ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل اسی مال میں سے کھائے گی۔‘‘ اور میں تو اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ کو اس حال سے کچھ بھی نہیں بدلوں گا جس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں تھا اور میں اس میں وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔ غرضیکہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو کچھ دینے سے انکار کیا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غصہ آیا اور انہوں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملاقات چھوڑ دی اور بات نہ کی، یہاں تک کہ ان کی وفات ہوئی۔ (نووی رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ ترک ملاقات وہ نہیں جو شرع میں حرام ہے اور وہ یہ ہے کہ ملاقات کے وقت سلام نہ کرے یا سلام کا جواب نہ دے) اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف چھ مہینہ زندہ رہیں (بعض نے کہا کہ آٹھ مہینے یا تین مہینے یا دو مہینے یا ستر دن بہرحال رمضان کی تین تاریخ ۱۱ ہجری کو انہوں نے انتقال فرمایا) جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے شوہر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو رات کو ہی دفن کر دیا اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر نہ کی (اس سے معلوم ہوا کہ رات کو دفن کرنا جائز ہے اور دن کو افضل ہے اگر کوئی عذرنہ ہو) اور ان پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور جب تک سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا زندہ تھیں، اس وقت تک لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے (بوجہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے) محبت کرتے تھے، جب وہ انتقال کر گئیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ میری طرف سے پھر گئے ہیں۔ تب انہوں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے صلح کر لینا اور ان سے بیعت کر لینا مناسب سمجھا اور ابھی تک کئی مہینے گزر چکے تھے۔ انہوں نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بیعت نہ کی تھی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا اور یہ کہلا بھیجا کہ آپ اکیلے آئیے آپ کے ساتھ کوئی نہ آئے کیونکہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا آنا ناپسند کرتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ کی قسم! تم اکیلے ان کے پاس نہ جاؤ۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ میرے ساتھ کیا کریں گے؟ اللہ کی قسم! میں تو اکیلا جاؤں گا۔ آخر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے تشہد پڑھا (جیسے خطبہ کے شروع میں پڑھتے ہیں) پھر کہا کہ اے ابو بکر! ہم نے آپ کی فضیلت اور اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو دیا (یعنی خلافت) پہچان لیا ہے اور ہم اس نعمت پر رشک نہیں کرتے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی (یعنی خلافت اور حکومت)، لیکن آپ نے اکیلے اکیلے یہ کام کر لیا اور ہم سمجھتے تھے کہ اس میں ہمارا بھی حق ہے کیونکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت رکھتے تھے۔ پھر سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے برابر باتیں کرتے رہے، یہاں تک کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ جب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے گفتگو شروع کی، تو کہا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کا لحاظ مجھے اپنی قرابت سے زیادہ ہے اور یہ جو مجھ میں اور تم میں ان باتوں کی بابت (یعنی فدک اور نضیر اور خمس خیبر وغیرہ کا) اختلاف ہوا، تو میں نے حق کو نہیں چھوڑا اور میں نے وہ کوئی کام نہیں چھوڑا جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا، تو میں نے وہی کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اچھا آج دوپہر کو ہم آپ سے بیعت کریں گے۔ جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز سے فارغ ہوئے، تو منبر پر چڑھے اور خطبہ پڑھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قصہ بیان کیا اور ان کا دیر سے بیعت کرنا اور جو عذر انہوں نے بیان کیا تھا وہ بھی کہا پھر مغفرت کی دعا کی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کی اور یہ کہا کہ میرا دیر سے بیعت کرنا اس وجہ سے نہ تھا کہ مجھے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ پر رشک ہے یا ان کی بزرگی اور فضیلت کا مجھے انکار ہے، بلکہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ اس خلافت کے معاملہ میں ہمارا بھی حصہ ہے جو کہ اکیلے بغیر ہماری صلاح کے یہ کام کر لیا گیا، اس وجہ سے ہمارے دل کو یہ رنج ہوا۔ یہ سن کر مسلمان خوش ہوئے اور سب نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم نے ٹھیک کام کیا۔ اس روز سے جب انہوں نے صحیح معاملہ اختیار کیا مسلمان پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف مائل ہوئے۔

(1149) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لاَ يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں جو چھوڑ جاؤں تو میرے وارث ایک دینار بھی نہیں بانٹ سکتے اور اپنی عورتوں کے خرچ اور منتظم کی اجرت کے بعد جو بچے، وہ صدقہ ہے۔‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: سُهْمَانُ الْفَارِسِ وَالرَّاجِلِ
(مال غنیمت میں سے) گھڑ سوار اور پیدل فوج کے حصوں کے متعلق​


(1150) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَسَمَ فِي النَّفَلِ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غنیمت کے مال میں سے دو حصے گھوڑے کو دلائے اور پیدل آدمی کو ایک حصہ دلایا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: لاَ يُسْهَمُ لِلنِّسَاء مِنَ الْغَنِيْمَةِ وَيُحْذَيْنَ وَقَتْلُ الْوِلْدَانِ فِي الْغَزْوِ
مال غنیمت میں عورتوں کا حصہ نہیں ہے یوں کچھ دے دینا چاہیے اور جہاد میں بچوں کے قتل کرنے کے متعلق​

(1151) عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِلالٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَوْلاَ أَنْ أَكْتُمَ عِلْمًا مَا كَتَبْتُ إِلَيْهِ كَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ أَمَّا بَعْدُ فَأَخْبِرْنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ وَهَلْ كَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ؟ وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ وَعَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ؟ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَغْزُو بِالنِّسَاء؟ وَقَدْ كَانَ يَغْزُو بِهِنَّ فَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ وَأَمَّا بِسَهْمٍ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم لَمْ يَكُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ فَلاَ تَقْتُلِ الصِّبْيَانَ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ فَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الأَخْذِ لِنَفْسِهِ ضَعِيفُ الْعَطَاءِ مِنْهَا فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ؟ وَإِنَّا كُنَّا نَقُولُ هُوَ لَنَا فَأَبَى عَلَيْنَا قَوْمُنَا ذَاكَ
یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ (حروری خارجیوں کے سردار) نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو لکھا اور پانچ باتیں پوچھیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اگر علم کے چھپانے کی بات نہ ہوتی، تو میں اس کو جواب نہ لکھتا (کیونکہ وہ مردود خارجی بدعتی لوگوں کا سردار تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شان میں فرمایا: ’’وہ دین میں سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار ہو جاتا ہے) نجدہ نے لکھا تھا کہ بعد حمد و صلوٰۃ۔ (۱) بتاؤ کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد میں عورتوں کو ساتھ رکھتے تھے؟ (۲) کیا ان کو (مال غنیمت میں سے) حصہ دیتے تھے؟ (۳) اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو بھی قتل کرتے تھے؟ (۴) اور یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے اور (۵) خمس کس کا حق ہے؟ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب لکھا کہ تو مجھ سے پوچھتا ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد میں عورتوں کو ساتھ رکھتے تھے؟ تو بے شک ساتھ رکھتے تھے اور وہ زخمیوں کی دوا کرتی تھیں اور ان کو کچھ انعام ملتا تھا، ان کا حصہ نہیں لگایا گیا۔ (ابو حنیفہ، ثوری، لیث، شافعی اور جمہور علماء کا یہی قول ہے لیکن اوزاعی کے نزدیک عورت اگر لڑے یا زخمیوں کا علاج کرے تو اس کا حصہ لگایا جائے گا اور مالک کے نزدیک اس کو انعام بھی نہ ملے گا اور یہ دونوں مذہب اس صحیح حدیث سے مردود ہیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کافروں کے) بچوں کو نہیں مارتے تھے۔ تو بھی بچوں کو مت مارنا (اسی طرح عورتوں کو لیکن اگر بچے اور عورتیں لڑیں تو ان کا مارنا جائز ہے) اور تو نے مجھ سے پوچھا کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ تو قسم ہے میری عمر (دینے والے) کی کہ بعض آدمی ایسا ہوتا ہے کہ اس کی داڑھی نکل آتی ہے، پر وہ نہ لینے کا شعور رکھتا ہے اور نہ دینے کا (وہ یتیم ہے یعنی اس کا حکم یتیموں کا سا ہے)۔ پھر جب اپنے فائدے کے لیے وہ اچھی باتیں کرنے لگے جیسا کہ لوگ کرتے ہیں، تو اس کی یتیمی جاتی رہتی ہے اور تو نے مجھ سے خمس کا پوچھا کہ کس کا حق ہے؟ تو ہم تو یہ کہتے تھے کہ خمس ہمار ے لیے ہے لیکن ہماری قوم نے نہ مانا۔
 
Top