- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
بَابٌ: فِي الْكَانِزِيْنَ وَالتَّغْلِيْظِ عَلَيْهِمْ
خزانہ جمع کرنے والوں اور ان پر سخت سزا کے بیان میں
خزانہ جمع کرنے والوں اور ان پر سخت سزا کے بیان میں
(509) عَنِ الأَحْنَفِ ابْنِ قَيْسٍ قَالَ كُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِكَيٍّ فِي ظُهُورِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ وَبِكَيٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفَائِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ قَالَ ثُمَّ تَنَحَّى فَقَعَدَ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَذَا؟ قَالُوا هَذَا أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا شَيْئٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُ قُبَيْلُ؟ قَالَ مَا قُلْتُ إِلاَّ شَيْئًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ قُلْتُ مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَاءِ؟ قَالَ خُذْهُ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ
احنف بن قیس کہتے ہیں کہ میں قریش کے چند لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے کہ بشارت دو خزانہ جمع کرنے والوں کو ایسے داغوں کی جو ان کی پیٹھوں پر لگائے جائیں گے اور ان کی کروٹوں سے نکل جائیں گے اور ان کی گدیوں میں لگائے جائیں گے تو ان کی پیشانیوں سے نکل آئیں گے۔ پھر ابو ذر رضی اللہ عنہ ایک طرف ہو کر بیٹھ گئے۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ میں ان کی طرف کھڑا ہوا اور کہا کہ یہ کیا تھا جو میں نے ابھی ابھی سنا کہ آپ کہہ رہے تھے؟ انہوں نے کہا کہ میں وہی کہہ رہا تھا جو میں نے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ پھر میں نے کہا کہ آپ اس عطا کے بارے میں (یعنی جو مال غنیمت سے امراء مسلمانوں کو دیا کرتے ہیں) کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ تم اس کو لیتے رہو کہ اس میں ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔ پھر جب یہ تمہارے دین کی قیمت ہو جائے تب چھوڑ دینا (یعنی دینے والے تم سے مداہنت فی الدین چاہیں تو نہ لینا)۔