• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم (مختصر)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: بَيَانُ الْمَسْجِدِ الَّذِيْ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى
اس مسجد کا بیان جو تقویٰ کی بنیاد پر تعمیر کی گئی ہے
(791) عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ مَرَّبِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدِ نِالْخُدْرِيِّ قَالَ قُلْتُ لَهُ كَيْفَ سَمِعْتَ أَبَاكَ يَذْكُرُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى؟ قَالَ قَالَ أَبِي دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الْمَسْجِدَيْنِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى؟ قَالَ فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصْبَاءَ فَضَرَبَ بِهِ الأَرْضَ ثُمَّ قَالَ هُوَ مَسْجِدُكُمْ هَذَا لِمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ قَالَ فَقُلْتُ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَاكَ هَكَذَا يَذْكُرُهُ
ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میرے پاس سے عبد الرحمن بن ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ گزرے تو میں نے ان سے کہا کہ آپ نے اپنے والد (سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ) کو کیسے سنا، وہ جو فرماتے تھے کہ اس مسجد کے متعلق جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرے والد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کسی کے گھر میں داخل ہوا اور میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! وہ کونسی دو مسجدیں ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے؟ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی کنکر لے کر زمین پر مارے اور فرمایا: ''وہ یہی تمہاری مدینہ کی مسجد ہے۔ (ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں) میں نے کہا کہ میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی تمہارے والد رضی اللہ عنہ سے سنا ہے (کہ اس مسجد کا) ایسا ہی ذکر کیا کرتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: فِيْ مَسْجِدِ قُبَاءِِ وَ فَضْلِهِ
مسجد قباء کی فضیلت کے بیان میں
(792) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَاءِِ رَاكِبًا وَمَاشِيًا فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قباء کو پیدل بھی اور سوار بھی تشریف لایا کرتے تھے اور اس میں دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔

(793) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَأْتِي قُبَاءََ كُلَّ سَبْتٍ وَكَانَ يَقُولُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم يَأْتِيهِ كُلَّ سَبْتٍ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ (یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما) ہرہفتہ کے دن (مسجد) قبا میں آتے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر ہفتہ کے دن قباء جاتے ہوئے دیکھا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کِتَابُ النِّکَاحِ

نکاح کے مسائل

بَابٌ: التَّرْغِيْبُ فِي النِّكَاحِ
نکاح کرنے کی ترغیب میں
(794) عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمِنًى فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَامَ مَعَهُ يُحَدِّثُهُ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلآ نُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً لَعَلَّهَا تُذَكِّرُكَ بَعْضَ مَا مَضَى مِنْ زَمَانِكَ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَائَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاء
سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ میں چلا جا رہا تھا کہ عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ملے اور ان سے کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے۔ پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ اے ابوعبد الرحمن! ہم تمہارا نکاح ایسی نوجوان لڑکی سے نہ کر دیں کہ وہ تمہیں تمہاری گزری ہوئی عمر میں سے کچھ یاد دلا دے؟ تو سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ اگر تم یہ کہتے ہو تو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ''اے جوانوں کے گروہ! جو تم میں سے گھر بسانے کی طاقت رکھتا ہو تو چاہیے کہ نکاح کرے، اس لیے کہ وہ آنکھوں کو خوب نیچا کر دیتا ہے اور شرمگاہ کو (زناوغیرہ سے) بچا دیتا ہے اور جو (اس کی) طاقت نہ رکھتا ہو تو روزے رکھے کہ یہ اس کے لیے گویا خصی کرنا ہے۔''

(795) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم سَأَلُوا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ عَمَلِهِ فِي السِّرِّ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ أَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ آكُلُ اللَّحْمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لاَ أَنَامُ عَلَى فِرَاشٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَقَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ قَالُوا كَذَا وَكَذَا؟ لَكِنِّي أُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ رضی اللہ عنھم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خفیہ عبادت کا حال پوچھا (یعنی جو عبادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کرتے تھے) اور پھر ان میں سے کسی نے کہا کہ میں کبھی عورتوں سے نکاح نہیں کروں گا، کسی نے کہا کہ میں کبھی گوشت نہ کھاؤں گا، کسی نے کہا کہ میں کبھی بچھونے پر نہ سوؤں گا۔ (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو) پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تعریف و ثناء بیان کی اور فرمایا: ''ان لوگوں کا کیا حال ہے جو ایسا ایسا کہتے ہیں؟ (اور میرا تو یہ حال ہے کہ رات کو) میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جو میرے طریقہ سے بے رغبتی کرے وہ میری امت میں سے نہیں ہے۔''

(796) عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يَتَبَتَّلَ فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَلَوْ أَجَازَ لَهُ ذَلِكَ لَاخْتَصَيْنَا
(فاتح ایران) سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے جب عورتوں سے الگ رہنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرما دیا اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دے دیتے، تو ہم (سب) خصی ہو جاتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: خَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ
دنیا کی بہترین متاع، نیک صالحہ عورت (بیوی) ہے
(779) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''دنیا کام نکالنے کی چیز ہے اور بہتر کام نکالنے کی چیز دنیا میں نیک عورت ہے۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: فِيْ نِكَاحِ ذَاتِ الدِّيْنِ
دیندار عورت سے نکاح کرنے کے بیان میں
(798) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''عورت سے چار سبب سے نکاح کیا جاتا ہے، اس کے مال کے لیے، اس کے حسب و نسب، اس کے جمال و خوبصورتی کے لیے اور دین کے لیے۔ پس تو دیندار (سے نکاح کرکے) کامیابی حاصل کر، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: فِيْ نِكَاحِ الْبِكْرِ
کنواری عورت کے ساتھ نکاح کرنے کے بیان میں
(799) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلَكَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ أَوْ قَالَ سَبْعَ بَنَاتٍ فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً ثَيِّبًا فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَا جَابِرُ! تَزَوَّجْتَ؟ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ؟ قَالَ قُلْتُ بَلْ ثَيِّبٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ أَوْ قَالَ تُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ قَالَ قُلْتُ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلَكَ وَ تَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ أَوْ سَبْعَ بناتٍ وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آتِيَهُنَّ أَوْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَجِيئَ بِامْرَأَةٍ تَقُومُ عَلَيْهِنَّ وَتُصْلِحُهُنَّ قَالَ فَبَارَكَ اللَّهُ لَكَ أَوْ قَالَ لِي خَيْرًا
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ (جابر رضی اللہ عنہ کے والد) وفات پا گئے اور نو یا سات بیٹیاں (راوی کو شک ہے) چھوڑ گئے۔ تو میں نے ثیبہ عورت (جو مطلقہ ہو یا جس کا خاوند فوت ہو چکا ہو) سے شادی کر لی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ''اے جابر! تو نے شادی کر لی ہے؟'' میں نے عرض کی جی ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کنواری سے یا ثیبہ عورت سے؟'' تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ! ثیبہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کنواری سے کیوں نہ کی کہ وہ تم سے کھیلتی اور تم اس سے کھیلتے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ وہ تجھ سے ہنسی مذاق کرتی اور تم اس سے کیا کرتے؟ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ میرے والد عبد اللہ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے اور نو یا سات بیٹیاں چھوڑ گئے، اور میں نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ ان لڑکیوں جیسی ہی لڑکی لے آؤں۔ میں نے یہ اچھا سمجھا کہ (اپنے نکاح میں اور ان کی تربیت کے لیے) ایسی بیوی لاؤں جو ان کی نگرانی کرے اور ان کی اصلاح کرے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ تیرے لیے برکت کرے۔'' یا پھر کوئی اور بھلائی کی بات فرمائی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: لاَ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيْهِ
اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نکاح نہ دے
(800) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شُمَاسَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ الْمُؤْمِنُ أَخُو الْمُؤْمِنِ فَلاَ يَحِلُّ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلاَ يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَذَرَ
عبد الرحمن بن شماسہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے سنا اور وہ اس وقت منبر پر کہہ رہے تھے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ''مومن مومن کا بھائی ہے۔ پس کسی مومن کو جائز نہیں کہ کسی مومن کی بیع پر بیع کرے، اور نہ یہ جائز ہے کہ اپنے کسی بھائی کے پیغام (نکاح) پر پیغام دے، جب تک وہ چھوڑ نہ دے۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: النَّظَرُ إِلَى الْمَرْأَةِ لِمَنْ يُرِيْدُ التَّزْوِيْجَ
جو شادی کا ارادہ کرے تو عورت کو ایک نظر دیکھ لینا چاہیے
(801) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاء رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا؟ فَإِنَّ فِي عُيُونِ الأَنْصَارِ شَيْئًا قَالَ قَدْ نَظَرْتُ إِلَيْهَا قَالَ عَلَى كَمْ تَزَوَّجْتَهَا؟ قَالَ عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَى أَرْبَعِ أَوَاقٍ؟ كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عُرْضِ هَذَا الْجَبَلِ مَا عِنْدَنَا مَا نُعْطِيكَ وَلَكِنْ عَسَى أَنْ نَبْعَثَكَ فِي بَعْثٍ تُصِيبُ مِنْهُ قَالَ فَبَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي عَبْسٍ بَعَثَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فِيهِمْ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے انصار کی ایک عورت سے نکاح کیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم نے اس کو دیکھ بھی لیا تھا؟ اس لیے کہ انصار کی آنکھوں میں کچھ عیب بھی ہوتا ہے۔'' اس نے کہا کہ میں نے دیکھ لیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کتنے مہر پر؟'' اس نے عرض کی کہ چار اوقیہ چاندی پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''چار اوقیہ پر؟'' گویا تم لوگ اس پہاڑ کے پہلو سے چاندی کھود لاتے ہو (یعنی جب تو اتنا زیادہ مہر باندھتے ہو) اور ہمارے پاس تمہیں دینے کو کچھ نہیں ہے، مگر اب ہم تمہیں ایک لشکر کے ساتھ بھیج دیتے ہیں کہ اس میں تمہیں (غنیمت کا) حصہ ملے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر قبیلہ بنی عبس کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا تو اس کے ساتھ اسے بھی بھیج دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: اِسْتِئْمَارُ الأَيِّمِ وَالْبِكْرِ فِي النِّكَاحِ
بیوہ اور باکرہ سے نکاح میں اجازت لینی چاہیے
(802) عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَلاَ تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ أَنْ تَسْكُتَ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بیوہ کا نکاح نہ ہو جب تک اس سے اجازت نہ لی جائے اور باکرہ کا بھی نکاح نہ ہو جب تک اس سے اجازت نہ لی جائے۔'' لوگوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! (باکرہ سے) اجازت کیسے لی جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اس کی اجازت یہ ہے کہ وہ چپ رہے۔''

(803) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ الأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بیوہ عورت اپنے نکاح میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری سے اسکے نکاح میں اجازت لی جائے اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ: اَلشُّرُوْطُ فِي النِّكَاحِ
نکاح کی شرائط کے بارے میں
(804) عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ أَحَقَّ الشَّرْطِ أَنْ يُوفَى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سب شرطوں سے زیادہ پوری کرنے کی مستحق وہ شرطیں ہیں جن سے تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے یعنی نکاح کی شرطیں۔''
 
Top