• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
(100) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا أَبُو طَالِبٍ وَ هُوَ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ سب سے ہلکا عذاب ابو طالب کو ہو گا، وہ دو ایسی جوتیاں پہنے ہوگا کہ جن سے اس کا دماغ کھولے گا (جیسے ہنڈیا میں پانی کھولتا ہے)۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : قَوْلُ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم : يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتي سَبْعُونَ أَلْفاً بِغَيْرِ حِسَابٍ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میری امت میں سے ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے



(101) عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ ؟ قُلْتُ أَنَا ثُمَّ قُلْتُ أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلاَةٍ وَ لَكِنِّي لُدِغْتُ قَالَ فَمَاذَا صَنَعْتَ ؟ قُلْتُ اسْتَرْقَيْتُ قَالَ فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ قُلْتُ حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ فَقَالَ وَ مَا حَدَّثَكُمُ الشَّعْبِيُّ ؟ قُلْتُ حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لاَ رُقْيَةَ إِلاَّ مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ فَقَالَ قَدْ أَحْسَنَ مَنِ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ وَ لَكِنْ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الأُمَمُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَ مَعَهُ الرُّهَيْطُ وَالنَّبِيَّ وَ مَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلاَنِ وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي فَقِيلَ لِي هَذَا مُوسَى صلی اللہ علیہ وسلم وَ قَوْمُهُ وَ لَكِنِ انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ لِي انْظُرْ إِلَى الأُفُقِ الآخَرِ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ لِي هَذِهِ أُمَّتُكَ وَ مَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَ لاَ عَذَابٍ ثُمَّ نَهَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَخَاضَ النَّاسُ فِي أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَ لاَ عَذَابٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَ قَالَ بَعْضُهُمْ فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الإِسْلاَمِ وَ لَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ وَ ذَكَرُوا أَشْيَائَ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ مَا الَّذِي تَخُوضُونَ فِيهِ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ هُمُ الَّذِينَ لاَ يَرْقُونَ وَ لاَ يَسْتَرْقُونَ وَ لاَ يَتَطَيَّرُونَ وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ أَنْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَقَالَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ

سیدنا حصین بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ،انھوں نے کہا کہ تم میں سے کس نے اس ستارہ کو دیکھا جو کل رات کو ٹوٹا تھا؟ میں نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ میں کچھ نماز میں مشغول نہ تھا (اس سے یہ غرض ہے کہ کوئی مجھے عابد، شب بیدار نہ خیال کرے) بلکہ مجھے بچھو نے ڈنگ مارا تھا (تو میں سو نہ سکا اور تارا ٹوٹتے ہوئے دیکھا) سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر تو نے کیا کیا؟ میں نے کہا کہ میں نے دم کروایا۔ انھوں نے کہا کہ تو نے دم کیوں کرایا؟ میں نے کہا کہ اس حدیث کی وجہ سے جو شعبی نے ہم سے بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ شعبی نے کونسی حدیث بیان کی؟ میں نے کہا کہ انھوں نے ہم سے سیدنا بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ دم فائدہ نہیں دیتا مگر نظر کے لیے یا ڈنگ کے لیے (یعنی بد نظر کے اثر کو دور کرنے کے لیے یا بچھو اور سانپ وغیرہ کے کاٹے کے لیے مفید ہے) سیدنا سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جس نے سنا اور اس پر عمل کیا تو اچھا کیا لیکن ہم سے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے حدیث بیان کی، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے :’’میرے سامنے پیغمبروں کی امتیں لائی گئیں۔ کوئی پیغمبرایسا تھا کہ اس کی امت کے لوگ دس سے بھی کم تھے اور کسی پیغمبر کے ساتھ ایک یا دو ہی آدمی تھے اور بعض کے ساتھ ایک بھی نہ تھا۔ اتنے میں ایک بڑی امت آئی۔ میں سمجھا کہ یہ میری امت ہے۔ مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت ہے، تم آسمان کے کنارے کو دیکھو۔ میں نے دیکھا تو ایک اور بڑا گروہ ہے۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ اب دوسرے کنارے کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو ایک اور بڑا گروہ ہے۔ مجھ سے کہا گیا کہ یہ تمہاری امت ہے اور ان لوگوں میں ستر ہزار آدمی ایسے ہیں کہ جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں جائیں گے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور اپنے گھر تشریف لے گئے تو لوگوں نے ان لوگوں کے بارے میں گفتگو کی جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں جائیں گے۔ بعضوں نے کہا کہ شاید وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔ بعض نے کہا نہیں شاید وہ لوگ ہیں جو اسلام کی حالت میں پیدا ہوئے اور انھوں نے اللہ کے ساتھ کسی کوشریک نہیں کیا۔ بعض نے کچھ اور کہا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا:’’ تم لوگ کس چیز میں بحث کر رہے ہو؟‘‘ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ وہ لوگ ہیں جو نہ دم کرتے ہیں اور نہ دم کراتے ہیں اور نہ بدشگون لیتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔‘‘ یہ سن کرعکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے ان لوگوں میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تو انہی لوگوں میں سے ہے۔‘‘ پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میرے لیے بھی دعا کیجیے کہ اللہ مجھے بھی انہی لوگوں میں کرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ عکاشہ رضی اللہ عنہ تجھ سے پہلے یہ کام کر چکا۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : قَوْلُ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم إِنِّي لَأَرْجُوْ أَنْ تَكُوْنُوا نِصْفَ أَهْلِ الجَنَّةِ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میں امید کرتا ہوں کہ جنت والوں میں آدھے تم ہو گے (یعنی مسلمان)


(102) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن مسعودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلاً فَقَالَ أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ قُلْنَا نَعَمْ فَقَالَ أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ فَقُلْنَا نَعَمْ فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَ ذَاكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لاَ يَدْخُلُهَا إِلاَّ نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَ مَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ إِلاَّ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَائِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَائِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَحْمَرِ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمہ میں تھے جس میں تقریباً چالیس آدمی ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ اہل جنت کے چوتھائی تم لوگ ہو؟‘‘ ہم نے کہا ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم اس بات سے خوش ہو کہ اہل جنت کے ایک تہائی تم ہو؟‘‘ ہم نے کہا ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے: مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کے آدھے ہوگے اور یہ اس لیے کہ جنت میں وہی جائے گا جو مسلمان ہے اور مسلمان مشرکوں کے اندر ایسے ہیں جیسے ایک سفید بال سیاہ بیل کی کھال میں ہو یا ایک سرخ بیل کی کھال میں ایک سیاہ بال ہو۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِي قَولِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ لِآدَمَ :أَخْرِجْ بَعْثَ النَّار مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تسْعَ مِئَةٍ وَ تِسْعَةً وَّ تِسْعِيْنَ

اللہ عزوجل کا آدم علیہ السلام کو یہ فرمانا : ’’ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے افراد جہنم کے لیے نکالو۔‘‘



(103) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ يَا آدَمُ فَيَقُولُ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ قَالَ يَقُولُ أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ قَالَ وَ مَا بَعْثُ النَّارِ ؟ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَ تِسْعَةً وَ تِسْعِينَ قَالَ فَذَاكَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ {وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَ مَا هُمْ بِسُكَارَى وَ لَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ } قَالَ فَاشْتَدَّ عَلَيْهِمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وأَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوجَ وَ مَأْجُوجَ أَلْفًا وَ مِنْكُمْ رَجُلٌ قَالَ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لِأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَ كَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لِأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَحَمِدْنَا اللَّهَ وَ كَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لِأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِنَّ مَثَلَكُمْ فِي الأُمَمِ كَمَثَلِ الشَّعْرَةِ الْبَيْضَائِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الأَسْوَدِ أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے آدم! وہ کہیں گے کہ حاضر ہوں تیری خدمت میں اور تیری اطاعت میں اور سب بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے۔حکم ہو گا کہ دوزخیوں کی جماعت نکالو۔ وہ عرض کریں گے کہ دوزخیوں کی کیسی جماعت؟ حکم ہو گا کہ ہر ہزار آدمیوں میں سے نو سو ننانوے آدمی جہنم کے لیے نکالو (اور ایک آدمی فی ہزار جنت میں جائے گا۔‘‘) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ یہی تو وقت ہے جب بچہ بوڑھا ہو جائے گا (بوجہ ہول اور خوف کے یا اس دن کی درازی کی وجہ سے) ’’اور ہر ایک پیٹ والی عورت اپنا پیٹ ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا کہ جیسے نشہ میں مست ہیں حالانکہ وہ مست نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔‘‘ (الحج :۲) صحابہ اس امر کے سننے سے بہت پریشان ہوئے اور کہنے لگے کہ یارسول اللہ! دیکھیے اس ہزار میں سے ایک آدمی (جو جنتی ہے) ہم میں سے کون نکلتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم خوش ہو جاؤ کہ یاجوج ماجوج کے کافر اس قدر ہیں کہ اگر ان کا حساب کرو تو تم میں سے ایک آدمی اور ان میں سے ہزار آدمی پڑیں۔‘‘ پھر آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے امید ہے کہ جنت کے ایک چوتھائی آدمی تم میں سے ہوں گے۔‘‘ اس پر ہم نے اللہ کی تعریف کی اور تکبیر کہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے امید ہے کہ جنت کے ایک تہائی آدمی تم میں سے ہوں گے۔‘‘ اس پر ہم نے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی اور کبریائی بیان کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے امید ہے کہ جنت کے آدھے آدمی تم میں سے ہوں گے۔ تمہاری مثال اور دوسری امتوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک سفید بال سیاہ بیل کی کھال میں ہو یا ایک نشان گدھے کے پاؤں میں۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
کِتَابُ الوُضُوْئِ


وضو کے مسائل




بَابٌ : لاَ يَقْبَلُ اللَّهُ صَلاَةً بِغَيْرِ طُهُوْرٍ

اللہ تعالیٰ کوئی نماز وضو کے بغیر قبول نہیں کرتا


(104) عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى ابْنِ عَامِرٍ يَعُودُهُ وَ هُوَ مَرِيضٌ فَقَالَ أَلاَ تَدْعُو اللَّهَ لِي يَا ابْنَ عُمَرَ ؟ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ لاَ تُقْبَلُ صَلاَةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَ لاَ صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ وَ كُنْتَ عَلَى الْبَصْرَةِ

مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما ابن عامر کے پاس عیادت کو آئے کیونکہ ابن عامر بیمار تھے۔ ابن عامر نے کہا کہ اے ابن عمر! تم میرے لیے دعا نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ بغیر طہارت کے نماز قبول نہیں کرتا اور اس مال غنیمت میں سے دیے گئے صدقے کو بھی قبول نہیں کرتا جو تقسیم سے پہلے اڑا لیا جائے اور تم تو بصرہ کے حاکم رہ چکے ہو۔ ‘‘

وضاحت: اس روایت میں عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنھما ابن عامر کو توبہ کرنے کی رغبت دلا رہے ہیں، کیونکہ وہ بصرہ کے حاکم رہ چکے ہیں اور حاکم سے یقینا کوتاہیاں ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر مال عنیمت کی تقسیم میں تو ابن عمر رضی اللہ عنھما ان کو معافی مانگنے کی ترغیب دے رہے ہیں تاکہ ان کی دعا قبول ہو سکے۔ واﷲ اعلم (محمود الحسن اسد)
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : غَسْلَ الْيَدِ عِنْدَ القِيَامِ مِنَ النَّوْمِ قَبْلَ إِدْخَالِهَا فِيْ الإِنَائِ

نیند سے بیدار ہوتے وقت، برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھوں کو دھونے کیا بیان


(105) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلاَ يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الإِنَائِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلاَثًا فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین بار دھوئے اس لیے کہ اس کو نہیں معلوم کہ اس کا ہاتھ رات کو کہاں رہا۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : النَّهْيُ عَنِ التَّخَلِّي فِيْ الطَّرِيْقِ والظِّلاَلِ

راستہ میں اور سایہ میں پاخانہ کرنے کی ممانعت .


(106) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اتَّقُوا اللَّعَّانَيْنِ۔قَالُوا وَ مَا اللَّعَّانَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ أَوْ فِي ظِلِّهِمْ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم لعنت کے دو کاموں سے بچو (یعنی جن کی وجہ سے لوگ تم پر لعنت کریں) ۔‘‘لوگوں نے کہا کہ وہ لعنت کے دو کام کونسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک تو راہ میں (جہاں سے لوگ آتے جاتے ہوں) پاخانہ کرنا اور دوسری سایہ دار جگہ (جہاں لوگ بیٹھ کر آرام کر لیتے ہوں) پاخانہ کرنا (ان دونوں کاموں سے لوگوں کو تکلیف ہو گی اور وہ برا کہیں گے لعنت کریں گے)۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : مَا يُستَتَرُ بِهِ لِقَضَائِ الْحَاجَةِ

پیشاب کرتے وقت ستر کو چھپانا


(107) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لاَ أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ وَ كَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ قَالَ ابْنُ أَسْمَائَ فِي حَدِيثِهِ يَعْنِي حَائِطَ نَخْلٍ

سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر اپنے پیچھے بٹھا لیا، پھر میرے کان میں ایک بات کہی ، وہ بات میں کسی سے بیان نہ کروں گا اور آپ کو حاجت کے وقت ٹیلے کی یا کھجور کے درختوں کی آڑ پسند تھی (تاکہ ستر کو کوئی نہ دیکھے)۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : مَاذَا يَقُولُ اِذَا دَخَلَ الْخَلاَئَ ؟

جب بیت الخلاء میں داخل ہوتو کیا پڑھے؟


(108) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا دَخَلَ الْخَلاَئَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو کہتے کہ ’’اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری، ناپاک جنوں اور جننیوں سے یا پلیدی یا نجاستوں سے یا شیاطین اور معاصی سے۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : لاَ تُسْتَقبَلُ الْقِبْلَةُ بِغَائِطٍ وَ لاَ بَولٍ

پاخانہ یا پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ نہ کیا جائے


(109) عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلاَ تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَ لاَ تَسْتَدْبِرُوهَا بِبَوْلٍ وَ لاَ غَائِطٍ وَ لَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا قَالَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ قَدْ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ فَنَنْحَرِفُ عَنْهَا وَ نَسْتَغْفِرُ اللَّهَ

سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم پاخانے کو جاؤ تو پیشاب یا پاخانہ کرنے میں قبلہ کی طرف منہ نہ کرو نہ پیٹھ کرو، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرو۔(اس سے مراد ان علاقوں کے لوگ ہیں جن کا قبلہ شمال یا جنوب کی سمت ہو۔ جن کی سمت قبلہ مشرق یا مغرب میں ہے، وہ مشرق یا مغرب کی بجائے شمال یا جنوب کی طرف منہ کریں گے) سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم شام کے ملک میں آئے اور دیکھا تو بیت الخلاء قبلہ کی طرف بنے ہوئے ہیں، ہم ان پر سے منہ پھیر لیتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے تھے۔
 
Top