ساجد تاج
فعال رکن
- شمولیت
- مارچ 09، 2011
- پیغامات
- 7,174
- ری ایکشن اسکور
- 4,518
- پوائنٹ
- 604
بَابٌ : فَضْلُ الْوُضُوْئِ
وضو کی فضیلت کا بیان
(120) عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم الطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَالصَّلاَةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَائٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا
سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’طہارت آدھے ایمان کے برابر ہے اور الحمد للہ کہنا ترازو کو بھر دے گا۔ (یعنی اس قدر اس کا ثواب عظیم ہے کہ اعمال تولنے کا ترازو اس کے اجر سے بھر جائے گا) اور سبحان اللہ اور الحمدللہ دونوں آسمانوں اور زمین کے بیچ کی جگہ کو بھر دیں گے اور نماز نور ہے اور صدقہ دلیل ہے اور صبر روشنی ہے اور قرآن تیرے لیے دلیل ہوگا یا تیرے خلاف دلیل ہوگا (اگر قرآن پر عمل ہو گا تو دلیل بن جائے گا ورنہ وبال بن جائے گا)۔ہر ایک آدمی (بھلا ہو یا برا)صبح کو اٹھتا ہے یا تو اپنے آپ کو (نیک کام کر کے اللہ کے عذاب سے) آزاد کرتا ہے یا (برے کام کر کے) اپنے آپ کو تباہ کرتا ہے۔ ‘‘
وضو کی فضیلت کا بیان
(120) عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم الطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ وَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآَنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَيْنَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَالصَّلاَةُ نُورٌ وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ وَالصَّبْرُ ضِيَائٌ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا
سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’طہارت آدھے ایمان کے برابر ہے اور الحمد للہ کہنا ترازو کو بھر دے گا۔ (یعنی اس قدر اس کا ثواب عظیم ہے کہ اعمال تولنے کا ترازو اس کے اجر سے بھر جائے گا) اور سبحان اللہ اور الحمدللہ دونوں آسمانوں اور زمین کے بیچ کی جگہ کو بھر دیں گے اور نماز نور ہے اور صدقہ دلیل ہے اور صبر روشنی ہے اور قرآن تیرے لیے دلیل ہوگا یا تیرے خلاف دلیل ہوگا (اگر قرآن پر عمل ہو گا تو دلیل بن جائے گا ورنہ وبال بن جائے گا)۔ہر ایک آدمی (بھلا ہو یا برا)صبح کو اٹھتا ہے یا تو اپنے آپ کو (نیک کام کر کے اللہ کے عذاب سے) آزاد کرتا ہے یا (برے کام کر کے) اپنے آپ کو تباہ کرتا ہے۔ ‘‘