• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : أَكْلُ الْمُحْدِثِ وَ إِنْ لم يَتَوَضَّأْ

محدث آدمی کھا پی سکتا ہے اگرچہ اس نے وضو نہ کیا ہو


(170) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم خَرَجَ مِنَ الْخَلاَئِ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَذَكَرُوا لَهُ الْوُضُوئَ فَقَالَ أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ فَأَتَوَضَّأَ ؟

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلا سے نکلے اور کھانا لایا گیا۔ لوگوں نے آپ کو وضو یاد دلایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کیا میں نماز پڑھنے لگا ہوں جو وضو کروں؟۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
کِتَابُ الْحَیْضِ

حیض کے مسائل


بَابٌ : فِيْ قَوْلِهِ تَعَالَى { وَ يَسْأَلونَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ ... } الآية

اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَيَسْأَلونَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ ... }کا بیان


(171) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ فِيهِمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَ لَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّوَّجَلَّ { وَ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَائَ فِي الْمَحِيضِ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم اصْنَعُوا كُلَّ شَيْئٍ إِلاَّ النِّكَاحَ فَبَلَغَ ذَلِكَ الْيَهُودَ فَقَالُوا مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ مِنْ أَمْرِنَا شَيْئًا إِلاَّ خَالَفَنَا فِيهِ فَجَائَ أُسَيْدُ ابْنُ حُضَيْرٍ وَ عَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ كَذَا وَ كَذَا أَفَلاَ نُجَامِعُهُنَّ ؟ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا فَعَرَفَا أَنْ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہود میں جب کوئی عورت حائضہ ہوتی، تو اس کو نہ اپنے ساتھ کھلاتے نہ گھر میں اس کے ساتھ رہتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ’’پوچھتے ہیں تم سے حیض کے بارے میں، تم کہہ دو کہ حیض پلیدی ہے، تو جدا رہو عورتوں سے حیض کی حالت میں‘‘(الآیۃ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ سب کام کرو سوائے جماع کے۔‘‘ یہ خبر یہود کو پہنچی، تو انہوں نے کہا کہ یہ شخص (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) چاہتا ہے کہ ہر بات میں ہمارے خلاف کرے۔ یہ سن کر سیدنا اسیدبن حضیراور سیدنا عباد بن بشر رضی اللہ عنھما آئے اور عرض کی کہ یارسول اللہ ! یہود ایسا ایسا کہتے ہیں، تو ہم حائضہ عورتوں سے جماع کیوں نہ کریں (یعنی جب یہود ہماری مخالفت کو برا جانتے ہیں اور اس سے جلتے ہیں تو ہمیں بھی اچھی طرح خلاف کرنا چاہیے) یہ سنتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ (ان کے یہ کہنے سے کہ ہم حائضہ سے جماع کیوں نہ کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا معلوم ہوا اس لیے کہ خلاف قرآن بات ہے) ہم یہ سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں آدمیوں پر غصہ آیا ہے۔ وہ اٹھ کر باہر نکلے، اتنے میں کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ تحفہ کے طور پر بھیجا،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو پھر بلا بھیجا اور دودھ پلایا۔ تب ان کو معلوم ہوا کہ آپ غصہ پر نہ تھا۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ :صِفَةُ غُسْلِ المَرْأَةِ مِنَ الحَيْضَةِ والجَنَابَةِ

عورت حیض کے بعد اور جنابت کا غسل کیسے کرے؟


(172) عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَسْمَائَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ غُسْلِ الْمَحِيضِ فَقَالَ تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَائَهَا وَ سِدْرَتَهَا فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا حَتَّى تَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَائَ ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَطَهَّرُ بِهَا فَقَالَتْ أَسْمَائُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَ كَيْفَ تَطَهَّرُ بِهَا ؟ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِينَ بِهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ تَتَبَّعِينَ أَثَرَ الدَّمِ وَ سَأَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ فَقَالَ تَأْخُذُ مَائً فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ أَوْ تُبْلِغُ الطُّهُورَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ حَتَّى تَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا ثُمَّ تُفِيضُ عَلَيْهَا الْمَائَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا نِعْمَ النِّسَائُ نِسَائُ الأَنْصَارِ لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَائُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ (شکل کی بیٹی یا یزید بن سکن کی بیٹی) اسماء رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غسل حیض کے متعلق پوچھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ پہلے پانی بیری کے پتوں کے ساتھ لے اور اس سے اچھی طرح پاکی کرے (یعنی حیض کا خون جو لگا ہوا ہو، دھوئے اور صاف کرے) پھر سر پر پانی ڈال کر خوب زور سے ملے، یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں میں پہنچ جائے۔ پھر اپنے اوپر پانی ڈالے (یعنی سارے بدن پر) پھر ایک پھاہا (روئی یا کپڑے کا) مشک لگا ہوا لے کر اس سے پاکی کرے۔‘‘ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں کیسے پاکیزگی حاصل کروں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’سبحان اللہ! پاکیزگی حاصل کرلے ۔‘‘ تو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے چپکے سے کہہ دیا کہ خون کے مقام پر لگا دے۔ پھر اس نے غسل جنابت کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پانی لے کر اچھی طرح طہارت کرے، پھر سر پر پانی ڈالے اور ملے، یہاں تک کہ پانی سب بالوں کی جڑوں میں پہنچ جائے، پھر اپنے سارے بدن پر پانی ڈالے۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ انصار کی عورتیں بھی کیا اچھی عورتیں تھیں کہ دین کی بات پوچھنے میں شرم نہیں کرتی تھیں۔ (اور یہی لازم ہے کیونکہ شرم گناہ اور معصیت میں ہے اور دین کی بات پوچھنا ثواب اور اجر ہے)۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : مُنَاوَلَةُ الْحَائِضِ الْخُمْرَةَ وَالثَّوْبَ

حائضہ عورت کا کپڑا یا مصلیٰ وغیرہ پکڑانا


(173) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ نَاوِلِينِي الثَّوْبَ فَقَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ فَقَالَ إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ فَنَاوَلَتْهُ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ’’ مجھے کپڑا اٹھا دے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ میں تو حائضہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ پھر انہوں نے کپڑا اٹھا دیا۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اَلْإِتِّكَائُ فِيْ حَجْرِ الْحَائِضِ وَالْقِرَائَةُ

حائضہ عورت کی گود میں تکیہ لگانا اور قرآن پاک پڑھنا


(175) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَتَّكِئُ فِي حَجْرِي وَ أَنَا حَائِضٌ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں تکیہ لگاتے اور قرآن پڑھتے تھے ، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
باب الَنَّوْمُ معَ الحائِضِ فِي لِحافٍ

ایک ہی لحاف میں حائضہ عورت کے ساتھ سونا


(176) عَنْ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ بَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي الْخَمِيلَةِ إِذْ حِضْتُ فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حَيضَتِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَ نَفِسْتِ ؟ قُلْتُ نَعَمْ فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ قَالَتْ وَ كَانَتْ هِيَ وَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَغْتَسِلاَنِ فِي الإِنَائِ الْوَاحِدِ مِنَ الْجَنَابَةِ

ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چادر میں لیٹی ہوئی تھی کہ اچانک میں حائضہ ہو گئی۔ میں کھسک گئی اور اپنے حیض کے کپڑے اٹھا لیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا تجھے حیض آیا؟ ‘‘ میں نے کہا کہ ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی چادر میں لیٹی۔ راویہ حدیث (زینب) نے کہا کہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کیا کرتے تھے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : مُبَاشَرَةُ الْحَائِضِ فَوْقَ الإِزَارِ

حائضہ عورت سے مافوق الازار مباشرت کرنا (یعنی ساتھ لیٹنا)


(177) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا أَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنْ تَأْتَزِرَ فِي فَوْرِ حَيْضَتِهَا ثُمَّ يُبَاشِرُهَا قَالَتْ وَ أَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَمْلِكُ إِرْبَهُ

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم میں سے جب کسی عورت کو حیض آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیض کے خون کے جوش کے دوران تہبند باندھنے کا حکم کرتے، پھر اس سے مباشرت کرتے (یعنی بیوی کے ساتھ سو جاتے)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ تم میں سے کون اپنی خواہش اور ضرورت پر اس قدر اختیار رکھتا ہے جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اَلشُّرْبُ مَعَ الْحَائِضِ مِنْ إِنَائٍ وَاحِدٍ

حائضہ عورت کے ساتھ ایک ہی برتن میں پینا


(178) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ أَشْرَبُ وَ أَنَا حَائِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ فَيَشْرَبُ وَ أَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَ أَنَا حَائِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ


ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں پانی پیتی تھی، پھر پی کر برتن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ منہ رکھتے جہاں میں نے منہ رکھ کرپیا تھا اور پانی پیتے، حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی اور میں ہڈی نوچتی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیدیتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی جگہ منہ لگاتے جہاں میں نے لگایا ہوتا۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِي المُسْتَحَاضَةِ وَ غُسْلِها وَ صَلاَتِهَا

استحاضہ کے متعلق اور مستحاضہ کا غسل کرنا اور نماز پڑھنا


(179) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتِ اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَتْ إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَقَالَ إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ قَالَ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَمَرَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ وَ لَكِنَّهُ شَيْئٌ فَعَلَتْهُ هِيَ

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ مجھے استحاضہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ یہ ایک رگ کا خون ہے تو غسل کر اور نماز پڑھ۔‘‘ پھر وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ لیث نے کہا کہ ابن شہاب نے یہ نہیں بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم کیا تھا بلکہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے خود ایسا کیا۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ :اَلْحَائِضُ لاَ تَقْضي الصَّلاَةَ،وَ تَقْضي الصَّوْمَ

حائضہ عورت نماز کی قضا نہیں دے گی البتہ روزے کی قضا دے گی


(180) عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْتُ مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ وَ لاَ تَقْضِي الصَّلاَةَ ؟ فَقَالَتْ أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ ؟ قُلْتُ لَسْتُ بِحَرُورِيَّةٍ وَ لَكِنِّي أَسْأَلُ قَالَتْ كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ فَنُؤْمَرُ بِقَضَائِ الصَّوْمِ وَ لاَ نُؤْمَرُ بِقَضَائِ الصَّلاَةِ

سیدہ معاذہ سے روایت ہے کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ حائضہ عورت روزوں کی قضا کرتی ہے اور نماز کی قضا نہیں کرتی؟ تو انہوں نے کہا کہ تو حروریہ تو نہیں؟ میں نے کہا کہ نہیں میں تو پوچھتی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عورتوں کو حیض آتا تھا تو روزوں کی قضا کا حکم ہوتا تھا اور نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ (کتنا عمدہ جواب دیا کہ دین تو اللہ اور رسول کے حکم کا نام ہے جس کا حکم دیا کر لیا اور جس کا حکم نہیں دیا نہیں کیا۔ یعنی حکم ہوتا روزوں کی قضا کرنے کا اور نماز کی قضا کا حکم نہ ہوتا)
 
Top