• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : يَشْفَعُ الأذَانَ وَ يُوْتِرُ الإقَامَةَ

اذان دوہری اور اقامت اکہری کہے


(192) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَ يُوتِرَ الإِقَامَةَ زَادَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ فَحَدَّثْتُ بِهِ أَيُّوبَ فَقَالَ إِلاَّ الإِقَامَةَ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے الفاظ دو دو مرتبہ اور اقامت کے الفاظ ایک ایک مرتبہ کہنے کا حکم کیا گیا اور یحییٰ نے ابن علیّہ سے یہ اضافہ کیا ہے کہ میں نے اسے سیدنا ایوب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اقامت میں قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃ کے الفاظ دو مرتبہ کہے جائیں۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اِتِّخَاذُ مُؤَذِّنَيْنِ

دو مؤذن مقرر کرنا


(193) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مُؤَذِّنَانِ بِلاَلٌ وَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ الأَعْمَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو مؤذن تھے۔ ایک سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور دوسرے سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ، جو کہ نابینا تھے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اِتِّخاذُ الْمُؤَذِّنِ أَعْمَى

نابینا آدمی کو مؤذن مقرر کرنا

(194) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُؤَذِّنُ لِرَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَ هُوَ أَعْمَى

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں کہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اذان دیا کرتے تھے اور وہ نابینا تھے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
کِتَابُ الصَّلَاۃِ

نماز کے مسائل



بَابٌ : بَدْئُ الأذانِ

اذان کی ابتدا


(190) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَوَاتِ وَ لَيْسَ يُنَادِي بِهَا أَحَدٌ فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمُ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى وَ قَالَ بَعْضُهُمْ قَرْنًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَ وَ لاَ تَبْعَثُونَ رَجُلاً يُنَادِي بِالصَّلاَةِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَابِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَةِ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ مسلمان جب مدینہ میں آئے تو وقت کا اندازہ کر کے جمع ہوکر نماز پڑھ لیا کرتے تھے اور کوئی شخص ندا وغیرہ نہیں کرتا تھا۔ ایک دن مسلمانوں نے مشورہ کیا کہ اطلاع نماز کے لیے عیسائیوں کی طرح ناقوس بجا لیا کریں یا یہودیوں کی طرح نرسنگا بجا لیا کریں ،تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ کیا ایک آدمی کو مقرر نہ کر دیا جائے جولوگوں کو نماز کے لیے مطلع کر دیا کرے؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے بلال! اٹھو اور نماز کے لیے اعلان کر دو۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : فَضْلُ الأذَانِ

اذان کی فضیلت


(195) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُغِيرُ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ وَ كَانَ يَسْتَمِعُ الأَذَانَ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَ إِلاَّ أَغَارَ فَسَمِعَ رَجُلاً يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَى الْفِطْرَةِ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم خَرَجْتَ مِنَ النَّارِ فَنَظَرُوا فَإِذَا هُوَ رَاعِي مِعْزًى

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح سویرے ہی دشمنوں پر حملہ کرتے تھے اور اذان کی آواز پر کان لگائے رکھتے تھے، اگر (مخالفوں کے شہر سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کی آواز سنائی دیتی، تو ان پر حملہ نہ کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک شخص کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے سنا ،تو فرمایا:’’ یہ مسلمان ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (( اَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اﷲُ اَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اﷲُ )) کہتے سنا ، تو ارشاد فرمایا:’’ اے شخص! تو نے دوزخ سے نجات پائی۔‘‘ لوگوں نے دیکھا تو وہ بکریوں کا چرواہا تھا۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
(196) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاَةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ التَّأْذِينَ فَإِذَا قُضِيَ التَّأْذِينُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاَةِ أَدْبَرَ حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْئِ وَ نَفْسِهِ يَقُولُ لَهُ اذْكُرْ كَذَا وَ اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ مِنْ قَبْلُ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ مَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب اذان ہوتی ہے تو شیطان پیٹھ موڑ کے گوز (یعنی پاد) مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے اور اذان کے بعد پھر لوٹ آتا ہے اور جب نماز کے لیے تکبیر (اقامت) کہی جاتی ہے ،تو پھر بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور تکبیر (اقامت) کے بعد پھر واپس آ جاتا ہے اور آدمی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور اس کو وہ وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو نماز سے پہلے اس شخص کے خیال میں بھی نہ تھیں۔جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نمازی کو یاد ہی نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعات پڑھی ہیں۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : فَضْلُ الْمُؤَذِّنِينَ

اذان کہنے والوں کی فضیلت


(197) عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَجَائَهُ الْمُؤَذِّنُ يَدْعُوهُ إِلَى الصَّلاَةِ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ الْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ

عیسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنھما کے پاس تھا کہ اتنے میں انہیں مؤذن نماز کے لیے بلانے آیا۔ جس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’قیامت کے دن مؤذنوں کی گردن سب سے زیادہ لمبی ہو گی۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اَلْقَوْلُ مِثْلَ ما يَقُوْلُ الْمُؤّذِّنُ

جیسے مؤذن کہے ویسے ہی کہنا


(198) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلاَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ثُمَّ سَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لاَ تَنْبَغِي إِلاَّ لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ وَ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ

سیدنا عبداللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’جب تم مؤذن کی اذان سنو، تو وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے، پھر مجھ پر درود پڑھو۔ کیونکہ جو کوئی مجھ پر درود پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر اپنی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ مانگو اور وسیلہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے ایک کو دیا جائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا اور جو کوئی میرے لیے وسیلہ (مقام محمود یعنی جنت کا ایک محل) طلب کرے گاتو اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : فَضْلُ مَن قَالَ مِثْلَ مَا يَقُوْلُ الْمُؤَذِّنُ

اس شخص کی فضیلت جو مؤذن کی طرح کلمات (اذان) کہے


(199) عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ أَحَدُكُمُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ قَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ حَيَّ عَلَى الصَّلاَةِ قَالَ لاَ حَوْلَ وَ لاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ثُمَّ قَالَ حَيَّ عَلَى الْفَلاَحِ قَالَ لاَ حَوْلَ وَ لاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ

سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جب مؤذن اللہ اکبر اللہ اکبر کہے تو سننے والا بھی اﷲ اکبر اﷲ اکبراور جب وہ اشہد ان لا الٰہ الا اللہ کہے تو سننے والا بھی اشہد ان ال الٰہ الا اﷲ کہے اور جب وہ اشھد ان محمداً رسول اﷲ کہے تو سننے والا بھی اشہد ان محمداً رسول اللہ کہے اور جب مؤذن حی علی الصلوٰۃ کہے تو سننے والا لاحول ولا قوۃ الا باللہ کہے پھر جب مؤذن حی علی الفلاح کہے تو سننے والا لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہے اس کے بعد مؤذن جب اللہ اکبر اللہ اکبر کہے تو سننے والا بھی اﷲ اکبر اﷲ اکبر کہے اور جب وہ لا الہ الا اﷲ کہے تو سننے والا جواب میں لا الٰہ الا اللہ کہے اور جب سننے والے نے اس طرح خلوص اور دل سے یقین رکھ کر کہا تو وہ جنت میں داخل ہوگا (بشرطیکہ ارکان اسلام کا بھی پابند ہو) ۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
(200) عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَ بِمُحَمَّدٍ رَسُولاً وَ بِالإِسْلاَمِ دِينًا غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جس نے مؤذن کی اذان سن کر یہ کہا کہ ’’میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں ہے، اللہ تعالیٰ یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کی ربوبیت اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے مسرور اور خوش ہوں اور میں نے مذہب اسلام کو قبول کر لیا ہے۔‘‘ تو ایسے شخص کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
 
Top