• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
(20) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لاَ يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ يَهُودِيٌّ وَ لاَ نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ يَمُوتُ وَ لَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ إِلاَّ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! (میرے اس زمانہ سے قیامت تک )کوئی یہودی یا نصرانی (یا اور کوئی دین والا) میرا حال سنے پھر اس پر ایمان نہ لائے جو کہ میں دیکر بھیجا گیا ہوں (یعنی قرآن و سنت پر) تو وہ جہنم میں جائے گا۔ ‘‘​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
(21) عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلاً مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ سَأَلَ الشَّعْبِيَّ فَقَالَ يَا أَبَا عَمْرٍو إِنَّ مَنْ قِبَلَنَا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ يَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ إِذَا أَعْتَقَ أَمَتَهُ ثُمَّ تَزَوَّجَهَا فَهُوَ كَالرَّاكِبِ بَدَنَتَهُ فَقَالَ الشَّعْبِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ثَلاَثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَآمَنَ بِهِ وَاتَّبَعَهُ وَ صَدَّقَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ وَ عَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ تَعَالَى وَ حَقَّ سَيِّدِهِ فَلَهُ أَجْرَانِ وَ رَجُلٌ كَانَتْ لَهُ أَمَةٌ فَغَذَّاهَا فَأَحْسَنَ غِذَائَهَا ثُمَّ أَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ أَدَبَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَ تَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ لِلْخُرَاسَانِيِّ خُذْ هَذَا الْحَدِيثَ بِغَيْرِ شَيْئٍ فَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِيمَا دُونَ هَذَا إِلَى الْمَدِينَةِ

سیدنا صالح بن صالح الہمدانی ، شعبی سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا جو کہ خراسان کا رہنے والا تھا اس نے شعبی سے پوچھا کہ ہمارے ملک کے لوگ کہتے ہیں کہ جو شخص اپنی لونڈی کو آزاد کرکے پھر اس سے نکاح کر لے تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی قربانی کے جانور پر سواری کرے۔ شعبی نے کہا کہ مجھ سے ابو بردہ بن ابی موسیٰ نے بیان کیا، انھوں نے اپنے والد سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’تین قسم کے آدمیوں کودوہرا ثواب ملے گا۔ ایک تو وہ شخص جو اہل کتاب میں سے ہو، (یعنی یہودی یا نصرانی) اپنے پیغمبر پر ایمان لایا ہواور پھر میرا زمانہ پائے اور مجھ پر بھی ایمان لائے، میری پیروی کرے اور مجھے سچا جانے گا تو اس کو دوہرا ثواب ہے۔ اور ایک اس غلام کو جو اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالک کا بھی، اس کو دوہرا ثواب ہے۔ اور ایک اس شخص کو جس کے پاس ایک لونڈی ہو، پھر اچھی طرح اس کو کھلائے اور پلائے اس کے بعد اچھی طرح تعلیم و تربیت کرے، پھر اس کو آزاد کرکے اس سے نکاح کر لے تو اس کو بھی دوہرا ثواب ہے۔‘‘ پھر شعبی نے خراسانی سے کہا کہ تو یہ حدیث بغیر محنت کیے لے لے، نہیں تو ایک شخص اس سے چھوٹی حدیث کے لیے مدینے تک سفر کیا کرتا تھا۔​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيْهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ

جس میں یہ تین خصلتیں ہوں اس نے ایمان کی مٹھاس پالی



(22) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ مَنْ كَانَ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَ أَنْ يُحِبَّ الْمَرْئَ لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ وَ أَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ أَنْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ مِنْهُ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین باتیں جس میں ہوں گی وہ ان کی وجہ سے ایمان کی مٹھاس اور حلاوت پائے گا۔ ایک تو یہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے دوسرے سب لوگوں سے زیادہ محبت رکھے۔ دوسری یہ کہ کسی آدمی سے صرف اللہ کے واسطے دوستی رکھے (یعنی دنیا کی کوئی غرض نہ ہو اور نہ ہی اس سے ڈر ہو) تیسری یہ کہ کفر میں لوٹنے کو اس کے بعد کہ اللہ نے اس سے بچا لیا اس طرح برا جانے جیسے آگ میں ڈال دیا جانا۔‘‘​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
(23) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَ وَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کو میری محبت اس کی اولاد، ماں باپ اور سب لوگوں سے زیادہ نہ ہو۔ ‘‘​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
(24) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِجَارِهِ أَوْ قَالَ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی آدمی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے ہمسایہ یا اپنے بھائی کے لیے وہی نہ پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : ذَاقَ طَعْمَ الإِيْمَانِ مَنْ رَضِىَ بِاللَّه رَبَّا

جو شخص اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر راضی ہو گیا، اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا



(25) عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ ذَاقَ طَعْمَ الإِيمَانِ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولاً

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اس نے ایمان کا مزا چکھ لیا جو اللہ کے پروردگار عالم (لائق عبادت) ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہو گیا۔ ‘‘​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا

جس شخص میں یہ چار باتیں موجود ہوں، وہ پکامنافق ہے



(26) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَ مَنْ كَانَتْ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْهُنَّ كَانَ فِيهِ خَلَّةٌ مِنْ نِفَاقٍ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَ إِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَ إِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَ إِذَا خَاصَمَ فَجَرَ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَ إِنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’چار باتیں جس میں ہوں گی وہ تو خالص منافق ہے اور جس میں ان چاروں میں سے ایک خصلت ہو گی، تو اس میں نفاق کی ایک ہی عادت ہے، یہاں تک کہ اس کو چھوڑ دے۔ ایک تو یہ کہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے، دوسری یہ کہ جب معاہدہ کرے تو اس کے خلاف کرے، تیسری یہ کہ جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے، چوتھی یہ کہ جب جھگڑا کرے تو بدکلامی کرے یا گالی گلوچ کرے اور سفیان کی روایت میں ’’ خُلّـۃٌ ‘‘ کی جگہ ’’ خَصْلَۃٌ ‘‘ کا لفظ ہے۔​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
(27) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَ إِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَ إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ جب بات کرے تو جھوٹی بات کرے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب اسے امانت سونپی جائے تو اس میں خیانت کرے۔ ‘‘​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالزَّرْعِ وَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ وَالْكَافِرِ كَالأَرْزَةِ

مومن کی مثال کھیت کے نرم جھاڑ کی سی اور منافق اور کافر کی مثال
صنوبر (کے درخت) کی سی ہے


(28) عن كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَ تَعْدِلُهَا أُخْرَى حَتَّى تَهِيجَ وَ مَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الأَرْزَةِ الْمَجْذِيَّةِ عَلَى أَصْلِهَا لاَ يُفِيئُهَا شَيْئٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً وَ فِي رِوَايَةٍ وَ تَعْدِلُهَا مَرَّةً حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ وَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الأَرْزَةِ الْمَجْزِيَّةِ الَّتِي لاَ يُصِيبُهَا شَيْئٌ

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال ایسی ہے جیسے کھیت کا نرم جھاڑ ہو، ہوا اس کو جھونکے دیتی ہے، کبھی اس کو گرا دیتی ہے اور کبھی سیدھا کر دیتی ہے، یہاں تک کہ سوکھ جاتا ہے اور کافر کی مثال ایسی ہے جیسے صنوبر کا درخت، جو اپنی جڑ پر سیدھا کھڑا رہتا ہے، اس کو کوئی چیز نہیں جھکاتی یہاں تک کہ یکبارگی اکھڑ جاتا ہے۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ ’’مومن کی مثال اس کھیتی کی طرح ہے جس کو ہوا کبھی گرا دیتی ہے اور کبھی سیدھا کھڑا کر دیتی ہے حتی کہ وہ پک کر تیار ہو اور منافق کی مثال اس صنوبر کے درخت کی طرح ہے جوسیدھا کھڑا ہو اور اس کو کوئی چیز نہ پہنچے۔ ‘‘
وضاحت : اجل سے مراد وقت مقررہ ہے اور کھیتی کے لیے اجل اس کا پک جانا اور کٹائی کے لیے تیار ہونا ہے۔ (م۔ع)​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ

مومن کی مثال کھجور کے درخت کی سی ہے۔



(29) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ شِبْهِ أَوْ كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ لاَ يَتَحَاتُّ وَ رَقُهَا ، تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ وَ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَ عُمَرَ لاَ يَتَكَلَّمَانِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ أَوْ أَقُولَ شَيْئًا فَقَالَ عُمَرُ لِأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَ كَذَا

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے، بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مجھے اس درخت کے متعلق بتاؤ جو مومن (مسلم) کے مشابہ ہے یا مسلمان آدمی کی طرح ہے، (اس کی نشانی یہ ہے کہ) اس کے پتے نہیں گرتے، پھل ہر وقت دیتا ہے۔ ‘‘سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ یہ کھجور کا درخت ہے اور میں نے دیکھا کہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنھما کوئی بات نہیں کر رہے تو میں نے بات کرنا یا کچھ کہنا اچھا خیال نہ کیا۔ (بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کا درخت بتایا اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے سیدناعمررضی اللہ عنہ سے ذکر کیا ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تو اس وقت کہہ دیتا تو مجھے ایسی ایسی چیزوں سے زیادہ پسند تھا۔ (یعنی مجھے بہت خوشی ہوتی)۔​
 
Top