• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اَلتَّسَتُّرُ وَ لاَ يُرى الإنْسَانُ عُرْيَانًا

شرمگاہ کو چھپانا اور انسان ننگا نظر نہیں آنا چاہیے


(160) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمُ الْحِجَارَةَ لِلْكَعْبَةِ وَ عَلَيْهِ إِزَارُهُ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبِكَ دُونَ الْحِجَارَةِ قَالَ فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبِهِ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ قَالَ فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ تعمیر کعبہ کے لیے پتھر ڈھو رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہبند باندھے ہوئے تھے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے، نے کہا کہ اے میرے بھتیجے! تم اپنی ازار اتار کر کندھے پر ڈال لو تو اچھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار کھول کر کندھے پر ڈال لی تو اسی وقت غش کھا کر گر پڑے۔ پھر اس دن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ننگا نہیں دیکھا گیا۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : غُسْلُ الرَّجُلِ وَالْمَرْأة مِن الإِنَائِ الواِحِدِ مِنَ الْجَنَابَةِ

میاں بیوی کا ایک ہی برتن سے غسل جنابت کرنا


(161) عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ إِنَائٍ وَاحِدٍ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَيُبَادِرُنِي حَتَّى أَقُولَ دَعْ لِي دَعْ لِي قَالَتْ وَ هُمَا جُنُبَانِ

سیدہ معاذہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، جو میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں ہوتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی پانی لیتے، یہاں تک کہ میں کہتی کہ تھوڑا پانی میرے لیے چھوڑ دو۔ (سیدہ معاذہ) راویہ حدیث کہتی ہیں: ’’اور دونوں جنابت سے ہوتے تھے۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : وُضُوئُ الْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ النَّوْمَ أَوِ الأَكْلَ

جنبی جب سونے یا کھانے پینے کا ارادہ کرے، تو پہلے وضو کر ے


(162) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا كَانَ جُنُبًا فَأَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يَنَامَ تَوَضَّأَ وُضُوئَهُ لِلصَّلاَةِ

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنبی ہوتے اور کھانا یا سونا چاہتے ،تو وضو کر لیتے جیسے نماز کے لیے کرتے تھے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : نَوْمُ الْجُنُبِ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ

جنبی، غسل کرنے سے پہلے سو سکتا ہے


(163) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قُلْتُ كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَابَةِ أَ كَانَ يَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ أَمْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ ؟ قَالَتْ كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا اغْتَسَلَ فَنَامَ وَ رُبَّمَا تَوَضَّأَ فَنَامَ قُلْتُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً

سیدنا عبداللہ بن ابی قیس سے روایت ہے کہ میں نے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں پوچھا پھر حدیث (وتر کے متعلق) بیان کی۔ میںنے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت میں کیا کیا کرتے تھے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے غسل کرتے تھے یا غسل سے پہلے سو جاتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں طرح کرتے تھے، کبھی غسل کر لیتے پھر سوتے اور کبھی وضو کر کے سو رہتے۔ میں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے اس امر میں گنجائش رکھی۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : مَنْ أَتَى أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَّعُوْدَ فَلْيَتَوَضَّأْ

جو کوئی اپنی بیوی کے پاس دوبارہ جانا چاہے ، تو وضو کر لے



(164) عَنْ أَبِي سَعِيدِ نِالْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی اپنی عورت سے صحبت کرے، پھر دوبارہ صحبت کرنا چاہے، تو وضو کر لے (پھر صحبت کرے)۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ :اَلتَّيَمُّمُ وَمَا جَائَ فِيْهِ

تیمم کے بارہ میں جو کچھ بیان ہوا ہے


(165) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَائِ أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَى الْتِمَاسِهِ وَ أَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَ لَيْسُوا عَلَى مَائٍ وَ لَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالُوا أَلاَ تَرَى إِلَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَ بِالنَّاسِ مَعَهُ وَ لَيْسُوا عَلَى مَائٍ وَ لَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ فَجَائَ أَبُوبَكْر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي قَدْ نَامَ فَقَالَ حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَالنَّاسَ وَ لَيْسُوا عَلَى مَائٍ وَ لَيْسَ مَعَهُمْ مَائٌ قَالَتْ فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَ قَالَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَ جَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلاَ يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلاَّ مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلى فَخِذِي فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَائٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَ هُوَ أَحَدُ النُّقَبَائِ مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں نکلے، جب بیداء یا ذات الجیش میں پہنچے ، (بیداء اور ذات الجیش خیبر اور مدینہ کے درمیان مقام کے نام ہیں) تو میرے گلے کا ہار ٹوٹ کر گر گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ڈھونڈھنے کے لیے ٹھہر گئے۔ لوگ بھی ٹھہر گئے۔ وہاں پانی نہ تھا اور نہ لوگوں کے پاس پانی تھا، لوگ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ تم دیکھتے نہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھہرایا ہے اور لوگوں کو بھی، جہاں پانی نہیں اور نہ ان کے پاس پانی ہے۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میری ران پر رکھے سو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک رکھا ہے اور لوگوں کو۔ جہاں نہ پانی ہے اور نہ لوگوں کے پاس پانی ہے اور وہ غصے ہوئے اور جو اللہ نے چاہا وہ کہہ ڈالا اور میری کوکھ میں ہاتھ سے گھونسے مارنے لگے۔ میں ضرور ہلتی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر میری ران پر تھا، اس وجہ سے میں نہ ہلی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے رہے، یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور پانی بالکل نہ تھا۔ تب اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری، تو سب نے تیمم کیا۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جو نقیبوں میں سے تھے، نے کہا کہ اے ابوبکر کے گھرانے والو ! یہ تمہاری کچھ پہلی برکت نہیں ہے (یعنی تمہاری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ مسلمانوں کو فائدہ دیا ہے، یہ بھی ایک نعمت تمہارے سبب سے ملی) ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر ہم نے اس اونٹ کو اٹھا یا جس پر میں سوار تھی ، تو ہار اس کے نیچے سے مل گیا۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : تَيَمُّمُ الْجُنُبِ

جنابت سے تیمم کرنا


(166) عَنْ شَقِيقٍ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ وَ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَ رَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَائَ شَهْرًا كَيْفَ يَصْنَعُ بِالصَّلاَةِ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لاَ يَتَيَمَّمُ وَ إِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَائَ شَهْرًا فَقَالَ أَبُو مُوسَى فَكَيْفَ بِهَذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ { فَلَمْ تَجِدُوا مَائً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا } فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذِهِ الآيَةِ لَأَوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَائُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ فَقَالَ أَبُو مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِعَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي حَا جَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَائَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ بِيَدَيْكَ هَكَذَا ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الأَرْضَ ضَرْبَةً وَاحِدَةً ثُمَّ مَسَحَ الشِّمَالَ عَلَى الْيَمِينِ وَ ظَاهِرَكَفَّيْهِ وَ وَجْهَهُ فَقَالَ عَبْدُاللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوَ لَمْ تَرَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

شقیق کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ (بن مسعود ) اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنھما کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے ابوعبدالرحمن! (یہ کنیت ہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی) اگر کسی شخص کو جنابت ہو اور ایک مہینے تک پانی نہ ملے، تو وہ نماز کا کیا کرے؟ سیدنا عبداللہ نے کہا کہ اسے ایک مہینہ تک بھی پانی نہ ملے تو بھی تیمم نہ کرے۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر سورئہ مائدہ میں یہ جو آیت ہے کہ ’’پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو۔‘‘ اس کا کیا حکم ہے؟‘‘ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر اس آیت سے ان کو جنابت میں تیمم کرنے کی اجازت دی گئی تو وہ رفتہ رفتہ پانی ٹھنڈا ہونے کی صورت میں بھی تیمم کرنے لگ جائیں گے۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی حدیث نہیں سنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام کو بھیجا، وہاں میں جنبی ہو گیا اور پانی نہ ملا تو میں خاک میں اس طرح سے لیٹا جیسے جانور لیٹتا ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تجھے دونوں ہاتھوں سے اس طرح کرنا کافی تھا۔‘‘ پھر آپ نے دونوں ہاتھ زمین پر ایک بار مارے اور بائیں ہاتھ کو داہنے ہاتھ پر مارا۔ پھر ہتھیلیوں کی پشت اور منہ پر مسح کیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جانتے ہو کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی حدیث پر قناعت نہیں کی۔ (سیدنا ابن مسعود اور عمر رضی اللہ عنھما کا خیال تھا کہ جنابت سے تیمم کافی نہیں ہے۔ لیکن احادیث سے ثابت ہے کہ انہوں نے اپنے اس موقف سے رجوع کر لیا تھا)
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ :التَّيَمُّمُ لِرَدِّ السَّلاَمِ

سلام کا جواب دینے کے لیے تیمم کرنا


(167) عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ أَقْبَلْتُ أَنَا وَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجَهْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الأَنْصَارِيِّ فَقَالَ أَبُو الْجَهْمِ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَ يَدَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ

سیدنا عمیر مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ میں اور عبدالرحمن بن یسار جو ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ تھے، ابوالجہم بن حارث کے پاس گئے۔ ابوالجہم نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بئر جمل (مدینہ کے قریب ایک مقام ہے) کی طرف سے آئے، راہ میں ایک شخص ملا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوا ب نہیں دیا یہاں تک کہ ایک دیوار کے پاس آئے اور منہ اور دونوں ہاتھوں پر مسح کیا اور پھر سلام کا جواب دیا۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اَلْمُؤْمِنُ لاَ يَنْجُسُ

مومن نجس نہیں ہوتا


(168) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ لَقِيَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَ هُوَ جُنُبٌ فَانْسَلَّ فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ فَتَفَقَّدَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم فَلَمَّا جَائَهُ قَالَ أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! لَقِيتَنِي وَ أَنَا جُنُبٌ فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لاَ يَنْجُسُ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کے ایک راستے میں ملے اور وہ جنبی تھے، تو کھسک گئے اور جا کرغسل کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گم پایا، جب وہ آئے ،تو پوچھا کہ کہاں تھے؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! جس وقت آپ مجھ سے ملے، میں جنبی تھا، میں نے غسل کئے بغیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھنا نا پسند کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’سبحان اللہ! مومن کبھی نجس نہیں ہوتا۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ :ذِكْرُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كُلَّ الْأَحْيَانِ

ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا


(169) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت ہر حال میں اللہ کی یاد میں مشغول رہتے تھے۔
 
Top