• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : فَرْضُ الصَّلاةِ

نماز کی فرضیت کا بیان


(201) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نُهِينَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ شَيْئٍ فَكَانَ يُعْجِبُنَا أَنْ يَجِيئَ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْعَاقِلُ فَيَسْأَلَهُ وَ نَحْنُ نَسْمَعُ فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ ! أَتَانَا رَسُولُكَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّكَ تَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَكَ ۔ قَالَ صَدَقَ ۔ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ السَّمَائَ ؟ قَالَ اللَّهُ ۔ قَالَ فَمَنْ خَلَقَ الأَرْضَ ؟ قَالَ اللَّهُ قَالَ فَمَنْ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ وَ جَعَلَ فِيهَا مَا جَعَلَ ؟ قَالَ اللَّهُ ۔ قَالَ فَبِالَّذِي خَلَقَ السَّمَائَ وَ خَلَقَ الأَرْضَ وَ نَصَبَ هَذِهِ الْجِبَالَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ ؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَ زَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِنَا وَ لَيْلَتِنَا قَالَ صَدَقَ ۔ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَ زَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا زَكَاةً فِي أَمْوَالِنَا قَالَ صَدَقَ ۔ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ قَالَ نَعَمْ ۔ قَالَ وَ زَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ فِي سَنَتِنَا ۔ قَالَ صَدَقَ ۔ قَالَ فَبِالَّذِي أَرْسَلَكَ آللَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ قَالَ نَعَمْ ۔ قَالَ وَ زَعَمَ رَسُولُكَ أَنَّ عَلَيْنَا حَجَّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً ۔ قَالَ صَدَقَ ۔ قَالَ ثُمَّ وَلَّى قَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لاَ أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ وَ لاَ أَنْقُصُ مِنْهُنَّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم لَئِنْ صَدَقَ لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سوال کرنے کی ممانعت کر دی گئی تھی، تو ہمیں اچھا معلوم ہوتا کہ دیہات میں رہنے والوں میں سے کوئی عقل مندشخص آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے اور ہم سنیں، تو دیہات میں رہنے والوں میں سے ایک شخص آیا اور کہنے گا کہ اے محمد! آپ کا ایلچی ہمارے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ کہتے ہیں کہ آپ کو اللہ نے بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اس ایلچی نے سچ کہا۔‘‘ وہ شخص بولا تو آسمان کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ نے۔‘‘ اس نے کہا کہ زمین کس نے پیدا کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ نے۔‘‘ پھر اس نے کہا کہ پہاڑوں کو کس نے کھڑا کیا اور ان میں جو چیزیں ہیں وہ کس نے پیدا کیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ نے۔‘‘ تب اس شخص نے کہا کہ آپ کو قسم ہے اس ذات کی جس نے آسمان کو پیدا کیا اور زمین بنائی اور پہاڑوں کو کھڑا کیا، کیا سچ مچ اللہ تعالیٰ نے ہی آپ کو بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ہاں۔‘‘ پھر وہ شخص بولا کہ آپ کے ایلچی نے کہا کہ ہم پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ آپ نے فرمایا:’’ اس نے سچ کہا ۔‘‘وہ شخص بولا کہ قسم ہے اس کی جس نے آپ کو بھیجا ہے، کیا اللہ نے آپ کو ان نمازوں کاحکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا :’’ہاں ۔‘‘پھر وہ شخص بولا کہ آپ کے ایلچی نے کہا کہ ہم پر ہمارے مالوں کی زکوٰۃ ہے۔ آپ نے فرمایا:’’ اس نے سچ کہا۔‘‘ وہ شخص بولاکہ قسم اس کی جس نے آپ کو بھیجا ہے، کیا اللہ نے آپ کو زکوٰۃ کا حکم کیاہے؟ آپ نے فرمایا :’’ہاں۔‘‘ پھر وہ شخص بولا کہ آپ کے ایلچی نے کہا کہ ہم پر سال میں رمضان کے روزے فرض ہیں۔ آپ نے فرمایا:’’ اس نے سچ کہا۔‘‘ وہ شخص بولا کہ قسم اس کی جس نے آپ کو بھیجا ہے کیا اللہ نے آپ کو ان روزوں کا حکم کیا ہے؟ آپ نے فرمایا :’’ہاں۔‘‘ پھر وہ شخص بولا کہ آپ کے ایلچی نے کہا کہ ہم میں سے جو کوئی راہ چلنے کی طاقت رکھے (یعنی زاد راہ اور سواری ہو اور راستہ میں امن ہو اس وقت) اس پر بیت اللہ کا حج فرض ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اس نے سچ کہا ۔‘‘ یہ سن کر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا اور کہنے لگا کہ قسم ہے اس کی جس نے آپ کو سچا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے، میں ان باتوں سے زیادہ کروںگا اور نہ ہی کم۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر یہ سچا ہے تو جنت میں جائے گا۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : فَرْضُ الصَّلاَةِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ

(ابتدا میں) دو دو رکعت نماز کی فرضیت کا بیان


(202) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ الصَّلاَةَ أَوَّلَ مَا فُرِضَتْ رَكْعَتَيْنِ فَأُقِرَّتْ صَلاَةُ السَّفَرِ وَ أُتِمَّتْ صَلاَةُ الْحَضَرِ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ مَا بَالُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُتِمُّ فِي السَّفَرِ ؟ قَالَ إِنَّهَا تَأَوَّلَتْ كَمَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ؟

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ نماز حضر میں بھی اور سفر میں بھی دو دو رکعت فرض کی گئی تھی، پھر سفر کی نماز تو ویسی ہی رہی اور حضر کی نماز بڑھا دی گئی۔ زہری (راوی) نے کہاکہ میں نے عروہ سے پوچھا کہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سفر میں پوری نماز کیوں پڑھتی تھیں؟ (یعنی ان کے نزدیک تو دو ہی رکعت فرض تھیں) تب انہوں نے کہا کہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے وہی تاویل کی جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کی تھی (یعنی سفر میں قصرکرنا رخصت ہے اور پوری پڑھنا جائز ہے)۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : تَرْكُ الصَّلاَةِ كُفْرٌ

نماز چھوڑنا کفر ہے


(204) عَن جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَال سَمِعْتُ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَ بَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلاَةِ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیںکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ آدمی (یعنی مومن آدمی)اور کفروشرک کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
َباب: اَلصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ

پانچ نمازیں درمیانی وقفے کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں


(203) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ الصَّلاَةُ الْخَمْسُ وَالْجُمْعَةُ إِلَى الْجُمْعَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ

وَ فِيْ رِوايَةٍ: وَ رَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ إِذَا اجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ



سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پانچوں نمازیں اور جمعہ، جمعہ تک بیچ کے گناہوں کا کفارہ ہیں جب تک کہ کبیرہ گناہ نہ کرے ۔‘‘

اور ایک روایت میں ہے کہ ’’رمضان، رمضان تک کفارہ ہے ان گناہوں کا جو اس کے بیچ میں ہوں، جب تک کہ کبیرہ گناہ نہ کرے۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : جامعٌ الْمَوَاقِيْتَ

اوقات نماز کا جامع بیان


(205) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَ كَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ وَ وَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَ وَقْتُ صَلاَةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ وَ وَقْتُ صَلاَةِ الْعِشَائِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الأَوْسَطِ وَ وَقْتُ صَلاَةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلاَةِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ظہر کا وقت سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے اور آدمی کا سایہ اس کی لمبائی کے برابر ہونے تک، جب تک کہ عصر کا وقت نہ آئے رہتا ہے اور عصر کا وقت تب تک رہتا ہے کہ آفتاب زرد نہ ہو اور وقت مغرب جب تک رہتا ہے کہ شفق غائب نہ ہو اور وقت عشاء کا جب تک رہتا ہے کہ بیچ کی آدھی رات نہ ہو اور وقت نماز فجر کا طلوع فجر سے جب تک ہے کہ آفتاب نہ نکلے۔ پھر جب آفتاب نکل آئے، تو نماز سے رکا رہے، اس لیے کہ وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
(206) عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ أَتَاهُ سَائِلٌ يَسْأَلُهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا قَالَ فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ وَالنَّاسُ لاَ يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَالْقَائِلُ يَقُولُ قَدِ انْتَصَفَ النَّهَارُ وَ هُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَائَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ قَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ كَادَتْ ثُمَّ أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ وَقْتِ الْعَصْرِ بِالأَمْسِ ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ قَدِ احْمَرَّتِ الشَّمْسُ ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَائَ حَتَّى كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الأَوَّلِ ثُمَّ أَصْبَحَ فَدَعَا السَّائِلَ فَقَالَ الْوَقْتُ بَيْنَ هَذَيْنِ

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک سائل حاضر ہوا اور نماز کے اوقات پوچھنے لگا ۔آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کچھ جواب نہ دیا (اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کر کے بتانا منظور تھا) پھر (فجر کے وقت) بلال( رضی اللہ عنہ ) کو (اقامت کا) حکم دیا اور فجر طلوع ہونے کے ساتھ ہی نماز فجر ادا کی اور لوگ ایک دوسرے کو پہچانتے نہ تھے (یعنی اندھیرے کے سبب سے)۔ پھر حکم کیا اور ظہر ادا کی جب آفتاب ڈھل گیا اور کہنے والا کہتا تھا کہ دن کا آدھا حصہ گزر گیا ہے (یعنی ابھی تو دوپہر ہے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر جانتے تھے۔ پھر ان کو حکم کیا اور عصر کی نماز ادا کی اور سورج بلند تھا۔ پھر ان کو حکم کیا اور مغرب ادا کی جب سورج ڈوب گیا۔ پھر ان کو حکم کیا اور عشاء ادا کی جب شفق ڈوب گئی۔ پھر دوسرے دن فجر کا حکم کیا اور جب اس سے فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا تھا کہ سورج نکل آیا یا نکلنے کو ہے۔ پھر ظہر میں تاخیر کی یہاں تک کہ کل کے عصر کے پڑھنے کا وقت قریب ہو گیا۔ پھر عصر میں تاخیر کی یہاں تک کہ جب فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا تھا کہ آفتاب سرخ ہو گیا۔ پھر مغرب میں تاخیر کی یہاں تک کہ شفق ڈوبنے کے قریب ہو گئی۔ پھر عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ اول تہائی رات ہو گئی پھر صبح ہوئی اور سائل کو بلایا اور فرمایا:’’ نماز کے وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان میں ہیں۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اَلتَّغْلِيْسُ فِي صَلاَةِ الصُّبْحِ

صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھنا


(207) عَن مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ لَمَّا قَدِمَ الْحَجَّاجُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَا جِرَةِ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ وَالْعِشَائَ أَحْيَانًا يُؤَخِّرُهَا وَ أَحْيَانًا يُعَجِّلُ كَانَ إِذَا رَآهُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ وَ إِذَا رَآهُمْ قَدْ أَبْطَئُوا أَخَّرَ وَالصُّبْحَ كَانُوا أَوْ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ

محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ جب حجاج مدینہ میں آیا تو ہم نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے (اوقات نماز کے متعلق) پوچھا ،تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز دوپہر کے وقت اور نہایت گرمی میں (یعنی بعد زوال کے) پڑھا کرتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھا کرتے تھے کہ آفتاب صاف ہوتا اور مغرب جب آفتاب ڈوب جاتا، پھر پڑھتے اور عشاء میںکبھی تاخیر کرتے اور کبھی اول وقت پڑھتے۔ جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو اول وقت پڑھتے اور جب دیکھتے کہ لوگوں نے آنے میں دیر کی ہے، تو دیر کرتے اور صبح کی نماز اندھیرے میں ادا کرتے تھے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اَلْمُحَافَظَةُ عَلَى صَلاَةِ الصُّبْحِ والْعَصْرِ

فجر اور عصر کی نمازوں کی پابندی کرنا


(208) عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوبِهَا يَعْنِي الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قَالَ نَعَمْ قَالَ الرَّجُلُ وَ أَنَا أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَ وَعَاهُ قَلْبِي

ابوبکر بن عمارہ بن رؤیبہ اپنے والد سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ وہ شخص کبھی دوزخ میں داخل نہ ہو گا جس نے طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے کی نماز ادا کی یعنی فجر اور عصر کی۔‘‘ بصرہ والوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ تم نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ اس نے کہا کہ میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ اس (بات) کو میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا ہے۔(ظاہر ہے کہ جو ان مشکل نمازوں کو پڑھتا ہے تو باقی نمازوں کو بھی ضرور پڑھے گا)۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
(209) عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوْسَي الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ

سیدنا ابوبکر بن ابوموسیٰ اشعری اپنے والد سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص دو ٹھنڈی نمازیں پڑھ لے گا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
َباب : اَلنَّهْيُ عَنِ الصَّلاَةِ عِنْدَ طُلوعِ الشَّمْسِ وَ عِنْدَ غُرُوبِهَا

سورج طلوع ہوتے وقت اور غروب ہوتے وقت نماز پڑھنا منع ہے


(210) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ لَمْ يَدَعْ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم لاَ تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَ لاَ غُرُوبَهَا فَتُصَلُّوا عِنْدَ ذَلِكَ

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد کی دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں۔ راوی کہتا ہے کہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’خاص طور پر اپنی نمازوں کو طلوع اور غروب آفتاب کے وقت پڑھنے کی عادت مت ڈالو کہ ہمیشہ اسی وقت ادا کیا کرو۔‘‘ (یعنی فجر اور عصر تاخیر سے نہ پڑھو بلکہ اول وقت میں پڑھو)۔
 
Top