• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : صَلاَةُ الظُّهْرِ أَوَّلَ الْوَقْتِ

ظہر کی نماز اول وقت میں ادا کرنا


(211) عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ حَرَّ الرَّمْضَائِ فَلَمْ يُشْكِنَا قَالَ زُهَيْرٌ قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَقَ أَ فِي الظُّهْرِ ؟ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ أَ فِي تَعْجِيلِهَا ؟ قَالَ نَعَمْ

سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (جھلسا دینے والی) سخت گرمی کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہ فرمائی۔ زہیر نے کہا کہ میں نے ابو اسحاق سے پوچھا کہ ظہر کی نماز کی شکایت کی تھی؟ انہوں نے کہا ہاں ۔میں نے کہا کہ اول وقت نماز ادا کرنے کی؟ انہوں نے کہا ہاں۔ (یعنی کچھ تاخیر کرنے کا مطالبہ کیا تھا جو کہ ابتدا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہ فرمایا اور بعد میں اس کی اجازت دے دی، جیسے اگلی حدیث میں ہے)
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اَلْإِبْرَادُ بِالصَّلاَةِ في شِدَّةِ الْحَرِّ

سخت گرمی میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھنا


(212) عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِالظُّهْرِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم أَبْرِدْ أَبْرِدْ أَوْ قَالَ انْتَظِرِ انْتَظِرْ وَ قَالَ إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلاَةِ قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى رَأَيْنَا فَيْئَ التُّلُولِ

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے ظہر کی اذان کہنے کا ارادہ کیا ،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ذرا ٹھنڈا ہونے دو، ذرا ٹھنڈا ہونے دو ۔‘‘ یا فرمایا:’’ ذرا انتظار کرو، ذرا انتظار کرو۔‘‘ اور فرمایا:’’ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہے۔ پھر جب گرمی شدت کی ہو تو نماز کو ٹھنڈے وقت ادا کرو۔‘‘ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہاں تک انتظار کیا کہ ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھ لیے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : أَوَّلُ وَقْتِ صَلاَةِ الْعَصْرِ

نماز عصر کا اول وقت


(213) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے اس حال میں کہ ابھی سورج بلند ہوتا تھا اور اس میں گرمی ہوتی تھی اور جانے والا اونچے کناروں تک جاتا تھا اور وہاں پہنچ جاتا تھا اور آفتاب (ابھی) بلند رہتا تھا۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
(214) عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ وَ دَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ قَالَ أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ ؟ فَقُلْنَا لَهُ إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ قَالَ فَصَلُّوا الْعَصْرَ فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ تِلْكَ صَلاَةُ الْمُنَافِقِ يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا لاَ يَذْكُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلاَّ قَلِيلاً

علاء بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ وہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ہاں بصرہ والے گھر ظہر پڑھ کر گئے اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا گھر مسجد کے پاس تھا۔ پھر جب ہم ان کے یہاں گئے، تو انہوں نے کہا کہ تم عصر پڑھ چکے؟ہم نے کہا کہ ہم تو ابھی ظہر پڑھ کر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عصر پڑھ لو۔ پھر ہم نے عصر پڑھی۔ جب عصر پڑھ چکے تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے :’’یہ نماز منافق کی ہے کہ بیٹھا سورج کو دیکھتا ہے، پھر جب وہ شیطان کے دونوں سینگوں میں ہو جاتا ہے، تو اٹھ کر چار ٹھونگے مارتا ہے اور اس میں اللہ کو یاد نہیں کرتا مگر تھوڑا۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اَلْمُحَافَظَةُ عَلَى الْعَصْرِ وَالنَّهْيُ عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَهَا

نماز عصر کی محافظت اور عصر کے بعد نماز پڑھنے کی ممانعت


(215) عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلاَةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَضَيَّعُوهَا فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَ لاَ صَلاَةَ بَعْدَهَا حَتَّى يَطْلُعَ الشَّاهِدُ (وَ الشَّاهِدُ النَّجْمُ)

سیدنا ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ عصر کی نماز (مقام) مخمص میں پڑھی اور فرمایا:’’ یہ نماز تم سے پہلوں کے سامنے پیش کی گئی اور انہوں نے اس کو ضائع کیا۔ پھر جو اس کی حفاظت کرے، اس کو دوگنا ثواب ہو گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں جب تک کہ شاہد نہ نکلے۔ اور شاہد سے مراد ستارہ ہے (کہ ستارہ نکل آئے)۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اَلتَّشْدِيْدُ فِي الَّذِي تَفوتُهُ صَلاَةُ الْعَصْرِ

اس شخص کے بارے میں سخت وعید کہ جس کی نماز عصر فوت ہوگئی


(216) عَنْ عَبدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ الَّذِي تَفُوتُهُ صَلاَةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَ مَالَهُ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہو جائے،گویا اس کا اہل اور مال ہلاک ہو گیا۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : مَا جَائَ فِي الصَّلاَةِ الْوُسْطَى

درمیانی نماز کے متعلق کیا آیا ہے؟


(217) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ حَتَّى احْمَرَّتِ الشَّمْسُ أَوِ اصْفَرَّتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاَةِ الْوُسْطَى صَلاَةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَ قُبُورَهُمْ نَارًا (أَوْ قَالَ حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَ قُبُورَهُمْ نَارًا)

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز عصر سے مشرکوں نے روک دیا، یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہو گیا ۔پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ انہوں نے ہمیں نماز عصر، نماز وسطیٰ سے روک دیا ہے، اللہ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اَلنَّهْيُ عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَ بَعْدَ الصُّبْحِ

عصر اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کی ممانعت


(218) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَ عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک اور صبح کی نماز کے بعد سورج طلوع ہونے تک (نفل) نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : ثَلاَثُ سَاعَاتٍ لاَ يُصَلَّى فِيْهِنَّ وَ لاَ يُقْبَرُ

تین اوقات میں نہ نماز پڑھی جائے اور نہ میت کو دفنایا جائے


(219) عَنْ عُلَيِّ بْنِ رِبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقولُ ثَلاَثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ وَ حِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ وَ حِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ

عُلی بن رباح کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تین اوقات میں نماز سے اور مردوں کو دفن کرنے سے روکتے تھے۔ ایک تو جب سورج طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ بلند ہوجائے، دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو جب تک کہ زوال نہ ہو جائے اور تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے لگے جب تک پورا ڈوب نہ جائے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ

عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کا بیان


(220) عَنْ أَبِىْ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ كَانَ يُصَلِّيهِمَا قَبْلَ الْعَصْرِ ثُمَّ إِنَّهُ شُغِلَ عَنْهُمَا أَوْ نَسِيَهُمَا فَصَلاَّهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ثُمَّ أَثْبَتَهُمَا وَ كَانَ إِذَا صَلَّى صَلاَةً أَثْبَتَهَا قَالَ إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ تَعْنِي دَاوَمَ عَلَيْهَا

ابوسلمہ نے ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے ان دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد پڑھتے تھے، تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے پڑھا کرتے تھے، پھر ایک بار آپ کو کوئی کام پڑگیا یا بھول گئے تو عصر کے بعد پڑھیں پھر ہمیشہ پڑھتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کوئی نماز پڑھتے،تو ہمیشہ پڑھا کرتے تھے ۔اسمعیل بن جعفر نے کہا کہ ان کی مراد یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہمیشگی کی۔
 
Top