• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
(231) عَنْ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلاً بِهِ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ

سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین ام سلمہ کے گھر ایک کپڑا لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور اس کے دونوں کنارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مونڈھوں پر تھے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اَلصَّلاَةُ فِي الثَّوْبِ الْمُعَلَّمِ

نقش و نگار والے کپڑے میں نماز پڑھنا


(232) عَنْ عَائِشَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّي فِي خَمِيصَةٍ ذَاتِ أَعْلاَمٍ فَنَظَرَ إِلَى عَلَمِهَا فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ اذْهَبُوا بِهَذِهِ الْخَمِيصَةِ إِلَى أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَ أْتُونِي بِأَنْبِجَانِيِّهِ فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا فِي صَلاَتِي

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نقش و نگار والی چادر اوڑھ کر نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نشانوں کی طرف دیکھنے لگے۔ جب نماز پڑھ چکے تو فرمایا:’’ اس چادر کو ابوجہم ابن حذیفہ کے پاس لے جاؤ اور ان کی چادر (جو کہ بغیر نقش و نگار کے تھی) مجھے لا دو کیونکہ اس چادر نے مجھے ابھی نماز میں غافل کر دیا۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اَلصَّلاَةُ عَلَي الْحَصِيْرِ

چٹائی پر نماز پڑھنا


(233) عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ قُومُوا فَأُصَلِّيْ لَكُمْ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَائٍ فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَائَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَ رَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ

اسحاق بن عبداللہ بن ابو طلحہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان (سیدنا انس رضی اللہ عنہ ) کی دادی نے جن کا نام ملیہ رضی اللہ عنھا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کھانے کے لیے بلایا جو انہوں نے پکایا تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور فرمایا: ’’کھڑے ہو جاؤ کہ میں (تمہاری خیر و برکت کے لیے ) نماز پڑھوں۔‘‘ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایک (چٹائی) بوریا لے کر کھڑا ہوا جو بہت بچھانے سے سیاہ ہو گیا تھا (یعنی مستعمل تھا)، اس پر میں نے پانی چھڑکا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے اور میں نے اور ایک یتیم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھی اور بوڑھی اماں بھی ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیرا۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ :اَلصَّلاَةُ فِيْ النَّعْلَيْنِ

جوتے پہن کر نماز پڑھنا


(234) عن سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ قَالَ نَعَمْ

سعید بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا ہاں۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : أَوَّلُ مَسْجِدِ وُضِعَ فِيْ الأَرْضِ

زمین پر بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجد


(235) عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الأَرْضِ أَوَّلُ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ قَالَ الْمَسْجِدُ الأَقْصَى قُلْتُ كَمْ بَيْنَهُمَا ؟ قَالَ أَرْبَعُونَ سَنَةً وَ أَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلاَةُ فَصَلِّ فَهُوَ مَسْجِدٌ

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ زمین پر سب سے پہلی مسجد کونسی بنائی گئی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مسجد الحرام(یعنی خانہ کعبہ)۔‘‘ میں نے عرض کی کہ پھر کونسی؟ (مسجد بنائی گئی تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مسجد الاقصیٰ (یعنی بیت المقدس)۔‘‘ میں نے پھر عرض کی کہ ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ چالیس برس کا اور تو جہاں بھی نماز کا وقت پالے، وہیں نماز ادا کر لے پس وہ مسجد ہی ہے۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اِبْتِنَائُ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم

مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیر


(236) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَائُوا مُتَقَلِّدِينَ بِسُيُوفِهِمْ قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَى رَاحِلَتِهِ وَ أَبُوبَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رِدْفُهُ وَ مَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَائِ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِصلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ وَ يُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإِ بَنِي النَّجَّارِ فَجَائُوا فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا قَالُوا لاَ وَاللَّهِ لاَ نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلاَّ إِلَى اللَّهِ قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ كَانَ فِيهِ نَخْلٌ وَ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَ خِرَبٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِالنَّخْلِ فَقُطِعَ وَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَ بِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ قَالَ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةً وَ جَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً قَالَ فَكَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَعَهُمْ وَ هُمْ يَقُولُونَ :

اللَّهُمَّ لاَ خَيْرَ إِلاَّ خَيْرُ الآخِرَهْ
فَانْصُرِ الأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو شہر کے بلند حصہ میں ایک محلہ میں اترے، جس کو بنی عمرو بن عوف کا محلہ کہتے ہیں ،وہاں چودہ دن رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نجار کے لوگوں کو بلایا تو وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے آئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے اور بنو نجار کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے مکان کے صحن میں اترے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جہاں نمازکا وقت آجاتا، وہاں نماز پڑھ لیتے اور بکریوں کے رہنے کی جگہ میں بھی نماز پڑھ لیتے۔ (کیونکہ بکریاں غریب ہوتی ہیں ان سے اندیشہ نہیں ہے کہ وہ ستائیں) اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنانے کا حکم کیا اور بنو نجار کے لوگوں کو بلایا۔ وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:’’ تم اپنا باغ میرے ہاتھ بیچ ڈالو۔‘‘ انہوںنے کہا اللہ کی قسم! ہم تو اس باغ کی قیمت نہ لیں گے، ہم اللہ ہی سے اس کا بدلا چاہتے ہیں (یعنی آخر ت کا ثواب چاہتے ہیں ہمیں روپیہ درکار نہیں)۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس باغ میں جو چیزیں تھیں، ان کے بارے میں بتاتا ہوں کہ ان میں کچھ کھجور کے درخت تھے اور مشرکوں کی قبریںتھیں اور کھنڈر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا تو درخت کاٹے گئے اور مشرکوں کی قبریں کھود کر پھینک دی گئیں اور کھنڈر برابر کیے گئے اور درختوں کی لکڑی قبلہ کی طرف رکھ دی گئی اور دروازہ کے دونوں طرف پتھر لگائے گئے۔ جب یہ کام شروع ہوا تو صحابہ رضی اللہ علیھم اجمعین رجز پڑھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے وہ لوگ یہ کہتے تھے :

’’ اے اللہ! بہتری اور بھلائی تو آخرت کی بہتری اور بھلائی ہے ،تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما ۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى

اس مسجد کے متعلق جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی


(237) عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ مَرَّ بِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدِ نِالْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لَهُ كَيْفَ سَمِعْتَ أَبَاكَ يَذْكُرُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى؟ قَالَ قَالَ أَبِي دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي بَيْتِ بَعْضِ نِسَائِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَيُّ الْمَسْجِدَيْنِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى ؟ قَالَ فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصْبَائَ فَضَرَبَ بِهِ الأَرْضَ ثُمَّ قَالَ هُوَ مَسْجِدُكُمْ هَذَا لِمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ قَالَ فَقُلْتُ أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ أَبَاكَ هَكَذَا يَذْكُرُهُ

ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن ابی سعید رضی اللہ عنہ گزرے تو میں نے ان سے کہا کہ آپ نے اپنے والد کو کیسے بیان کرتے ہوئے سنا کہ وہ کونسی مسجد ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے؟ تو انہوںنے کہا کہ میرے والد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں، آپ کی بیویوں میں سے کسی ایک کے گھر میں حاضر ہوا اور میںنے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! وہ مسجد کونسی ہے جس کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تقویٰ پر بنائی گئی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی کنکر لے کر زمین پر مارے اور فرمایا:’’ وہ یہی تمہاری مسجد ہے یعنی مدینہ کی مسجد۔‘‘ (ابو سلمہ بن عبد الرحمن راویٔ حدیث کہتے ہیں) میں نے کہا کہ میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی تمہارے والد سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے کہ وہ اس مسجد کا ایسے ہی ذکر کیا کرتے تھے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : فَضْلُ الصَّلاَةِ فِي مَسْجِدِ الْمَدِيْنَةِ وَ مَكَّةَ

مکہ اور مدینہ کی مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت


(238) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ إِنَّ امْرَأَةً اشْتَكَتْ شَكْوَى فَقَالَتْ إِنْ شَفَانِيَ اللَّهُ لَأَخْرُجَنَّ فَلَأُصَلِّيَنَّ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَبَرَأَتْ ثُمَّ تَجَهَّزَتْ تُرِيدُ الْخُرُوجَ فَجَائَتْ مَيْمُونَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم تُسَلِّمُ عَلَيْهَا فَأَخْبَرَتْهَا ذَلِكَ فَقَالَتِ اجْلِسِي فَكُلِي مَا صَنَعْتِ وَ صَلِّي فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ صلی اللہ علیہ وسلم فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ صَلاَةٌ فِيهِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلاَةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَا جِدِ إِلاَّ مَسْجِدَ الْكَعْبَةِ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ ایک عورت بیمار ہوگئی تو اس نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی تو میں بیت المقدس میں جا کر نماز پڑھوں گی۔ پھر وہ اچھی ہو گئی تو اس نے جانے کی تیاری کی اور ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنھا کے پاس حاضر ہو کر ان کو سلام کیا اور اپنے ارادہ کی خبر دی تو انہوںنے فرمایا:’’ تم نے جو زادراہ تیار کیا ہے وہ کھاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ’’اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا دوسری مسجدوں میں ہزار نمازیں ادا کرنے سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : إِتْيانُ مَسْجِدِ قُبَائَ وَالصَّلاَةُ فِيْهِ

مسجد قبا میں جانا اور اس میں نماز ادا کرنا


(239) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَأْتِي مَسْجِدَ قُبَائٍ رَاكِبًا وَ مَاشِيًا فَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا کی طرف سوار اور پیدل تشریف لے جاتے تھے اور اس میں دو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : فَضْلُ مَن بَنَى لِلّهِ مَسْجِدًا

اس شخص کی فضیلت جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مسجد بنائی


(240) عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَادَ بِنَائَ الْمَسْجِدِ فَكَرِهَ النَّاسُ ذَلِكَ فَأَحَبُّوا أَنْ يَدَعَهُ عَلَى هَيْئَتِهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ مَنْ بَنَى مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَى اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ

سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مسجد بنانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اس بات کو برا سمجھا اور یہ چاہا کہ مسجد کو اپنے حال پر چھوڑ دیں (یعنی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تھی ویسے ہی رہنے دیں) تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے :’’ جو شخص اللہ کے لیے مسجد بنائے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر ویسا ہی بنائے گا۔ ‘‘
 
Top