• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علامات قيامت شيخ عريفى كى كتاب نهاية العالم سے ماخوذ

شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
91-آسمان سے بارش تو ہوگی مگر اس سے پیداوار نہ ہوگی:


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن علاماتِ قیامت کی خبر دی ہے ان میں سے یہ بھی ہے کہ آسمان سے بارش تو نازل ہوگی مگر اس سے زمین نباتات اور فصلیں نہیں اگائے گی۔

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ حَرْمَلَةَ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُمْطَرَالنَّاسُمَطَرًا عَامًّا، وَلَا تَنْبُتَ الْأَرْضُ شَيْئًا "

"قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگوں پر موسلا دھار بارشیں نہ برسائی جائیں گی مگر زمیں کچھ بھی نہیں اگائے گی۔"

مسند احمد:12429
وسلسلۃ الصحیحۃ:2773

یقیناً یہ اس لیے ہوگا کہ زمین سے برکت ختم ہو جائے گی، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

« لَيْسَتِ السَّنَةُ بِأَنْ لاَ تُمْطَرُوا وَلَكِنِ السَّنَةُ أَنْ تُمْطَرُوا وَتُمْطَرُوا وَلاَ تُنْبِتُ الأَرْضُ شَيْئًا ».

قحط سالی یہ نہیں کہ بارش نہ ہو بلکہ قحط سالی یہ ہے کہ لوگوں پر بارش تو برسے لیکن زمین کچھ نہ اگائے۔


صحیح مسلم:7291(2904)
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
92- ایسا فتنہ جو تمام عربوں کو ہلاک کردے گا:


جن علاماتِ قیامت کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے ان میں سے ایک علامت ایسا عظیم فتنہ بھی ہے جس کی لپیٹ میں تمام عرب آجائیں گے اور کثیر تعداد میں ہلاک ہوجائیں گے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا لَيْثٌ،‏‏‏‏ عَنْ طَاوُسٍ،‏‏‏‏ عَنْ رَجُل يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ زِيَادٌ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ قَتْلَاهَا فِي النَّارِ اللِّسَانُ فِيهَا أَشَدُّ مِنْ وَقْعِ السَّيْفِ"،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ لَيْثٍ،‏‏‏‏ عَنْ طَاوُسٍ،‏‏‏‏ عَنْ الْأَعْجَمِ.

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب ایک ایسا فتنہ ہو گا جو سب عربوں کو لپیٹ میں لے لے گا جو اس میں مارے جائیں گے جہنم میں جائیں گے، اس فتنے میں زبان کی کاٹ تلوار سے زیادہ ہوگی“۔
امام ابو داؤد رحمہ اللہ نے کہا:اس روایت کو (سفیان) الثوری نے بواسطہ لیث، طاؤس سے اور انہوں نے اعجم سے روایت کیا۔


سنن ابو داؤد، الفتن والملاحم، حدیث:4265، سنن الترمذی:2178، سنن ابن ماجہ:3967،مسند احمد:2-211
والحدیث فیہ مقال

قال الشيخ الألباني: ضعيف

ان حالات میں بولنا اسی صورت میں فتنہ انگیزی ہوگی جب کوئی کسی کی ناحق حمایت یا مخالفت کرے گا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تو کسی دور میں بھی منع نہیں ہے۔
تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ کے معنی ہیں کہ وہ سب عربوں کو تباہ و برباد کردے گا۔ یہ 'استنظفت الشی' کے محاورے سے ماخود ہے جو اس وقت بولا جاتا ہے جب آپ کسی چیز کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے لیں۔


قَتْلَاهَا فِي النَّارِیعنی اس فتنے کے مقتول جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گے۔ کیونکہ یہ لوگ شیطان کی اتباع اور خواہش نفس کی پیروی کرتے ہوئے دنیا کی خاطر لڑیں گے اس لیے اس لڑائی کے سبب وہ عذاب جہنم کے مستحق بن جائیں گے، خواہ وہ مسلمان اور موحد کی حیثیت سے ہی مریں۔ گو کہ انہیں جہنم کی سزا دی جائے گی لیکن یہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہیں گے، قَتْلَاهَا سے مراد اس فتنے میں قتل ہونے والے لوگ ہیں۔ ایسے لوگ شدید وعید کا ہدف بنیں گے۔ کیونکہ اس لڑائی سے ان کا مقصود دین کی سربلندی، کسی مظلوم کا دفاع یا کسی مستحق کی مدد نہ ہوگا بلکہ محض سرکشی، باہمی کشاکش اور مال و منصب کی حرص و ہوس ان کے پیش نظر ہوگی۔


اللِّسَانُ یعنی زبان کی تاثیر، اس کی طعن و تشنیع اور اس کی طرف سے لڑائی پر ترغیب تلوار کی کاٹ سے کہیں زیادہ ہوگی۔ ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ واشراف اللِّسَانُ یعنی زبان کی طاقت اور درازی اس وقت تلوار سے زیادہ اثر رکھتی ہوگی۔

اس حدیث کی مزید شرح کے لیے دیکھیے
: مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح: 9-281
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
93-94-95-مسلمانوں کی نصرت کے لیے درختوں اور پتھروں کا کلام کرنا اور مسلمانوں کا یہودیوں سے جنگ کرنا:


یہ عظیم معرکہ آخری زمانے میں برپا ہوگا۔ اس میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگی۔ اس موقع پر درخت اور پتھر بول بول کر مسلمانوں سے کہیں گے: اے مسلمان! اے اللہ کے بندے! یہ میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے، جلدی سے آؤ اور اسے قتل کرڈالو، یعنی اس جنگ میں درخت اور پتھر بھی مسلمانوں سے محبت اور ہمدردی کا اظہار اور ان کی مدد کریں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل اسلام کی نصرت اور تائید ہوگی۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:


"تُقَاتِلُكُمْ الْيَهُودُ فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ،‏‏‏‏ ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ الْحَجَرُ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ".

"تم یہودیوں سے ایک جنگ کرو گے اور اس میں ان پر غالب آ جاؤ گے۔ اس وقت یہ کیفیت ہو گی کہ (اگر کوئی یہودی جان بچانے کے لیے کسی پہاڑ میں بھی چھپ جائے گا تو) پتھر بولے گا کہ اے مسلمان! یہ یہودی میری آڑ میں چھپا ہوا ہے، اسے قتل کر دو۔"

صحیح بخاری، المناقب، حدیث:3593، صحیح مسلم:2921

درختوں اور پتھروں کا اس طریقے سے کلام کرنا علاماتِ قیامت میں سے ہوگا، مگر ایک درخت ایسا بھی ہوگا جو مسلمانوں کے حق میں نہیں بولے گا۔ یہ "غرقد" کا درخت ہے جو یہودیوں کا ہمدرد ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا:


لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ فَيَقْتُلُهُمُ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِىُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرُ يَا مُسْلِمُ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِىٌّ خَلْفِى فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ. إِلاَّ الْغَرْقَدَ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ ».

"قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے لڑائی نہیں کریں گے ، مسلمان یہودیوں کو قتل کریں گے یہاں تک کہ ایک یہودی درخت اور پتھر کے پیچھے چھپےگا ، تو پتھر یا درخت یہ کہے گا: اے مسلمان ! اے اللہ کے بندے! یہ یہودی میرے پیچھے ہے ، آؤ! اس کو قتل کردو ، مگر غرقد کا درخت نہیں کہے گا کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے ۔"

صحیح مسلم:7339(2922)

ایک دوسری روایت کے الفاظ اس طرح ہیں:

"لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا الْيَهُودَ حَتَّى،‏‏‏‏ يَقُولَ:‏‏‏‏ الْحَجَرُ وَرَاءَهُ الْيَهُودِيُّ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ".

”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک یہودی سے تمہاری جنگ نہ ہوگی اور وہ پتھر بھی اس وقت (اللہ تعالیٰ کے حکم سے) بول اٹھیں گے جس کے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہو گا کہ اے مسلمان! یہ یہودی میری آڑ لے کر چھپا ہوا ہے اسے قتل کر ڈالو۔“

صحیح بخاری، الجھاد والسیر، حدیث:2926

درختوں اورپتھروں کا یہ کلام کرنا حقیقی ہوگا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جمادات کو قوت گویائی عطا کرنے پر قادر ہے۔ جمادات کا کلام کرنا علاماتِ قیامت میں سے ہوگا۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
96-دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ ظاہر ہونا:


دریائے فرات ایک مشہور دریا ہے۔ اس میں پانی کی فراوانی ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ علامات قیامت میں سے یہ بھی ہے کہ یہ اپنا رخ بدلے گا اور اس سے سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا۔ لوگ اس سونے کی خاطر لڑیں گے اور ان کی بڑی تعداد اس میں قتل ہوجائے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردار کیا ہے کہ جو کوئی بھی اس موقع پر حاضر ہو وہ اس مال کو لینے سے محتاط رہے۔ کہیں وہ اس فتنے میں مبتلا نہ ہوجائے یا اس کی وجہ سے کوئی لڑائی نہ شروع ہوجائے۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا:


لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ يَقْتَتِلُ النَّاسُ عَلَيْهِ فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ وَيَقُولُ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ لَعَلِّى أَكُونُ أَنَا الَّذِى أَنْجُو

قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دریائے فرات سے ایک سونے کا پہاڑ نہ ظاہر ہوجائے،لوگ اس سونے کے لیے جنگ کریں گے اور ہر سو آدمیوں میں سے ننانوے آدمی مارے جائیں گے اور ان میں سے ہرشخص یہ سوچے گا کہ شاید میں ہی وہ آدمی ہوں جو زندہ بچ جائے گا۔

صحیح مسلم:7272(2894)

ایک اور روایت میں ہے کہ

"فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا"

"جو کوئی اس موقع پر موجود ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔"

صحیح بخاری،كتاب الفتن،حدیث نمبر: 7119

سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

يَزَالُ النَّاسُ مُخْتَلِفَةً أَعْنَاقُهُمْ فِى طَلَبِ الدُّنْيَا. قُلْتُ أَجَلْ. قَالَ إِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ فَإِذَا سَمِعَ بِهِ النَّاسُ سَارُوا إِلَيْهِ فَيَقُولُ مَنْ عِنْدَهُ لَئِنْ تَرَكْنَا النَّاسَ يَأْخُذُونَ مِنْهُ لَيُذْهَبَنَّ بِهِ كُلِّهِ قَالَ فَيَقْتَتِلُونَ عَلَيْهِ فَيُقْتَلُ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ »

لوگ ہمیشہ دنیا کا مال جمع کرنے کے لیے گردنیں پھنساتے رہیں گے ، میں نے رسول اللہﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ "عنقریب فرات سے سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا ، جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف دوڑ پڑیں گے ، جو وہاں پہنچ چکے ہوں گے وہ کہیں گے: اگر ہم نے لوگوں کو سونا لینے کی کھلی چھٹی دے دی تو یہ سارے کا سارا سونا لے جائیں گے ، پھروہ اس مال کے حصول کے لیے آپس میں لڑ پڑیں گے۔ اس لڑائی کے نتیجہ میں ہر سو میں سے ننانوے آدمی قتل ہو جائیں گے"

صحیح مسلم:7276(2895)

حدیث میں مذکورہ لفظ انحسار کے معنی انکشاف کے ہیں اور وہ پہاڑ حقیقی اور اصلی سونے کا ہوگا۔ اس سونے کے ظاہر ہونے کا سبب یہ ہوگا کہ پہاڑ اپنے بہاؤ کا رخ تبدیل کر لے گا۔ اس سے قبل یہ طلائی پہاڑ مٹی سے اٹا ہوا اور غیر معروف ہوگا۔ مگر کسی وجہ سے پانی اپنا راستہ بدلے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ظاہر فرما دے گا۔
جو کوئی وہاں موجود ہو اس پر لازم ہے کہ وہ اس سونے میں سے کچھ نہ لےتا کہ وہ فتنے اور خونریزی سے بچ سکے۔ یہ فتنہ بھی ابھی ظاہر نہیں ہوا اور اللہ ہی جانتا ہے کہ یہ کب واقع ہوگا۔

عہدحاضر میں ترکی اور شام کے ممالک دریائے فرات پر جو بند تعمیر کر رہے ہیں اور اس کے قریب مختلف فیکٹریاں لگا رہے ہیں ، اس وجہ سے دریا میں پانی کی قلت پیدا ہورہی ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ سونے کے پہاڑ کے ظہور کا پیش خیمہ ہو۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
97-آدمی فسق و فجور نہ کرے گا تو اسے عاجز و درماندہ ہونے کا طعنہ دیا جائے گا:


جن علامات قیامت کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دے ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ فسق و فجور کا ارتکاب کرے یا پھر غیر مہذب عاجز، کمزور اور بنیاد پرست ہونے کا الزام قبول کرلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان فتنوں سے خبردار کیا اور لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ عاجز کہلوانا گوارا کرلیں مگر فسق و فجور میں مبتلا ہونے سے انکار کردیں۔

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَرُومَةَ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شَيْخٌ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُخَيَّرُ فِيهِ الرَّجُلُ بَيْنَالْعَجْزِوَالْفُجُورِ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ الزَّمَانَ فَلْيَخْتَرِ الْعَجْزَ عَلَى الْفُجُورِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " وَإِنَّ الشَّيْخَ الَّذِي لَمْ يُسَمِّ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ هُوَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي خَيْرَةَ

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں آدمی کو بدکاری یا عجز و درماندگی میں سے ایک کے انتخاب کا اختیار دیا جائے گا، جو شخص اس زمانے کو پائے اسے چاہیے کہ عاجز بن جائے مگر فاسق و فاجر نہ بنے۔"


مستدرک للحاکم:8352
مسند احمد:7744


التعليق - من تلخيص الذهبي
٨٣٥٢ - صحيح


یہ علامت آج ہمارے زمانے میں ظاہر ہوچکی ہے، مثلاً: اس دور میں جو عورت حجاب کی پابندی کرتی ہے اسے طعنہ دیا جاتا ہے کہ وہ رجعت پسند اور عاجز خاتون ہے۔ جو گندے ٹی وی چینل دیکھنے سے گریز کرے اسے لوگوں کی طرف سے یہ طعنہ سننا پڑتا ہے کہ دیکھیں جی! یہ شخص تو نرا بدھو، رجعت پسند اور ترقی کا مخالف ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ آدمی کو دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے یا تو وہ بھی انہی کی طرح فسق و فجور اور بدکاری میں شریک ہوجائے اور لوگوں کی طعن و تشنیع سے محفوظ ہوجائے، یا پھر اللہ کو راضی کرنے کے لیے خود پر کمزور اور بنیاد پرست ہونے کا الزام برداشت کرلے مگر گناہ کی زندگی سے دور رہے۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
98-جزیرۃ العرب میں چراگاہوں اور نہروں کا ظہور:


جزیرۃ العرب کو دیکھنے والا جانتا ہے کہ اس علاقے کے کل رقبے کا قریباً ستر فیصد بے آباد اور بنجر صحراؤں پر مشتمل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی کہ علامات قیامت میں سے یہ بھی ہے کہ جزیرۃ العرب میں چراگاہوں اور نہروں کا ظہور ہوگا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا، وَحَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ بَيْنَ الْعِرَاقِ وَمَكَّةَ، لَا يَخَافُ إِلَّا ضَلَالَ الطَّرِيقِ، وَحَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ "، قَالُوا: وَمَا الْهَرْجُ؟ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " الْقَتْلُ "


سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سرزمین عرب چراگاہوں اور نہروں میں تبدیل نہ ہوجائے۔ اور جب تک ایک سوار عراق اور مکہ کے درمیان سفر نہ کرلے جسے راستہ بھول جانے کے سوا کسی نقصان کا خوف نہ ہو۔ اور جب تک "ہرج" کی کثرت نہ ہو جائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اللہ کے رسول یہ 'ہرج' کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل و خونریزی۔"


مسند احمد:8833
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير سهيل -وهو ابن أبي صالح-، فمن رجال مسلم. محمد بن الصباح: هو الدولابي أبو جعفر البغدادي

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ، حَتَّى يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِزَكَاةِ مَالِهِ فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ، وَحَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارً

سيدنا ابوہریره رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک مال کی کثرت نہ ہو جائے گی اور بہہ نہ پڑے گا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آدمی اپنے مال کی زکوة لے کر نکلے گا اور وه کسی کو نہ پائے گا جو اس سے صدقہ قبول کر لے یہاں تک کہ عرب کی زمین چراگاہوں اور نہروں کی طرف لوٹ آئے گی

صحيح مسلم: 157-60


أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ ، فَكَانَ يَجْمَعُ الصَّلاَةَ ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمًا أَخَّرَ الصَّلاَةَ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، ثُمَّ دَخَلَ ، ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّكُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، عَيْنَ تَبُوكَ ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّى يُضْحِيَ النَّهَارُ ، فَمَنْ جَاءَهَا مِنْكُمْ فَلاَ يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّى آتِيَ فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلاَنِ ، وَالْعَيْنُ مِثْلُ الشِّرَاكِ تَبِضُّ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ ، قَالَ فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَسَسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا ؟ قَالاَ : نَعَمْ ، فَسَبَّهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ لَهُمَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ . قَالَ : ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنَ الْعَيْنِ قَلِيلاً قَلِيلاً ، حَتَّى اجْتَمَعَ فِي شَيْءٍ ، قَالَ وَغَسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا ، فَجَرَتِ الْعَيْنُ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ ، أَوْ قَالَ : غَزِيرٍ ، شَكَّ أَبُو عَلِيٍّ أَيُّهُمَا قَالَ ، حَتَّى اسْتَقَى النَّاسُ ، ثُمَّ قَالَ يُوشِكُ ، يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ ، أَنْ تَرَى مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا

"سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک والے سال ہم رسول اللہﷺکے ساتھ جہاد کے سفر ہر تبوک گئے ، آپﷺنمازوں کو جمع کرتے تھے ، او رظہر اورعصر ، اور مغرب اور عشاء ملاکر پڑھتے تھے یہاں تک کہ ایک دن آپﷺنے نمازوں میں تاخیر کردی ، پھر آپﷺ باہر نکلے اور ظہر اور عصر کو ملاکر پڑھا ، پھر آپﷺاندر تشریف لے گئے اس کے بعد پھر آپﷺباہر نکلے اور مغرب اور عشاء کو ملاکر پڑھا ، پھر آپﷺنے فرمایا: کل تم ان شاء اللہ تبوک کے چشمہ پر پہنچ جاؤگے اور تم سورج بلند ہونے سے قبل نہیں پہنچوگے ، تم میں سے جو آدمی بھی اس چشمہ کے پاس جائے وہ میرے پہنچنے سے پہلے اس کےپانی کو ہاتھ نہ لگائے ، اس چشمہ پر ہم میں سے دو آدمی پہلے پہنچے ، چشمہ میں پانی زیادہ سے زیادہ جوتی کے تسمہ جتنا تھا اور وہ بھی آہستہ آہستہ بہہ رہا تھا ، رسو ل اللہﷺنے ان دونوں آدمیوں سے پوچھا: کیا تم نے اس کے پانی کو چھوا ہے انہوں نے کہا: ہاں ! نبی ﷺ نے ان دونوں پر بہت ناراضگی اور خفگی کا اظہار کیا، لوگوں نے تھوڑا تھوڑا کرکے چلوؤں سے چشمہ کا پانی لیا اور اس کو کسی چیز میں جمع کرلیا ، پھر رسول اللہﷺنے اس برتن میں اپنے دست مبارک اور چہرہ انور کو دھویا اور وہ پانی اس چشمہ میں ڈال دیا ،وہ چشمہ پوری قوت سے ابل پڑا یہاں تک کہ لوگوں نے اس سے پانی (اپنے جانوروں اور ساتھیوں کو) پلایا ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے معاذ! اگر تمہاری زندگی نے وفا کی تو تم عنقریب دیکھوگے کہ یہ سارا علاقہ باغات اور آبادی سے معمور ہوجائےگا"

صحیح مسلم، الفضائل، حدیث:5947(706)

بعض اہل علم نے اشارہ کیا ہے کہ ہوا کا ایک مضبوط دباؤ جزیرۃ العرب کی جانب آہستہ آہستہ پیش قدمی کررہا ہے جو اپنے ساتھ برف اور بارشوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ ان چیزوں کے باعث بالعموم پیداوار اور خوشحالی کی کثرت ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ صحرائے عرب کو باغات و انہار، سرسبز و شاداب میدانوں اور گھنے سایوں میں تبدیل کردے۔ یہ علامت ابھی تک ظاہر نہیں ہوئی مگر ہر آنے والی چیز قریب ہی ہوتی ہے۔
تبوک کے مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمائے گئے ان الفاظ "اے معاذ! اگر تمہاری زندگی نے وفا کی تو تم عنقریب دیکھوگے کہ یہ سارا علاقہ باغات اور آبادی سے معمور ہوجائےگا"کا نتیجہ آج ان بڑی بڑی زرعی سکیموں کی صورت میں ہمارے سامنے ہے جو سرزمین تبوک میں دور دراز علاقوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,473
پوائنٹ
791
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ حَرْمَلَةَ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُمْطَرَالنَّاسُمَطَرًا عَامًّا، وَلَا تَنْبُتَ الْأَرْضُ شَيْئًا "

"قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک لوگوں پر موسلا دھار بارشیں نہ برسائی جائیں گی مگر زمیں کچھ بھی نہیں اگائے گی۔"
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ حَرْمَلَةَ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُمْطَرَ النَّاسُ مَطَرًا عَامًّا، وَلَا تَنْبُتَ الْأَرْضُ شَيْئًا "
(مسند الإمام أحمد بن حنبل۔12429 )
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ حَرْمَلَةَ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
" لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُمْطَرَ النَّاسُ مَطَرًا عَامًّا، وَلَا تَنْبُتَ الْأَرْضُ شَيْئًا "
(مسند الإمام أحمد بن حنبل۔12429 )
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جزاک اللہ خیرا
کسی وجہ سے سپیس نہیں آیا اور الفاظ جڑ گئے۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
99-100-101
مستقل چمٹنے والے فتنے، خوشحالی اور فراوانی کا فتنہ اور تاریک و اندھے فتنے کا ظہور:


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تین فتنے نہ ظاہر ہوجائیں۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عُتْبَةَ،‏‏‏‏ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ "كُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ فَذَكَرَ الْفِتَنَ فَأَكْثَرَ فِي ذِكْرِهَا حَتَّى ذَكَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ،‏‏‏‏ فَقَالَ قَائِلٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ هِيَ هَرَبٌ وَحَرْبٌ،‏‏‏‏ ثُمَّ فِتْنَةُ السَّرَّاءِ دَخَنُهَا مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَزْعُمُ أَنَّهُ مِنِّي وَلَيْسَ مِنِّي وَإِنَّمَا أَوْلِيَائِي الْمُتَّقُونَ ثُمَّ يَصْطَلِحُ النَّاسُ عَلَى رَجُلٍ كَوَرِكٍ عَلَى ضِلَعٍ ثُمَّ فِتْنَةُ الدُّهَيْمَاءِ لَا تَدَعُ أَحَدًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا لَطَمَتْهُ لَطْمَةً فَإِذَا قِيلَ:‏‏‏‏ انْقَضَتْ تَمَادَتْ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا حَتَّى يَصِيرَ النَّاسُ إِلَى فُسْطَاطَيْنِ فُسْطَاطِ إِيمَانٍ لَا نِفَاقَ فِيهِ وَفُسْطَاطِ نِفَاقٍ لَا إِيمَانَ فِيهِ فَإِذَا كَانَ ذَاكُمْ فَانْتَظِرُوا الدَّجَّالَ مِنْ يَوْمِهِ أَوْ مِنْ غَدِهِ".

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے آپ نے فتنوں کے تذکرہ میں بہت سے فتنوں کا تذکرہ کیا یہاں تک کہ فتنہ احلاس کا بھی ذکر فرمایا تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایسی نفرت و عداوت اور قتل و غارت گری ہے کہ انسان ایک دوسرے سے بھاگے گا، اور باہم برسر پیکار رہے گا، پھر اس کے بعد خوشحالی کا فتنہ ہے جس کا فساد میرے اہل بیت کے ایک شخص کے پیروں کے نیچے سے رونما ہو گا، وہ گمان کرے گا کہ وہ مجھ سے ہے حالانکہ وہ مجھ سے نہ ہو گا، میرے دوست تو وہی ہیں جو متقی ہوں، پھر لوگ ایک شخص کی بیعت پر اتفاق کر لیں گے جو کم علم، کم عقل اور کم ہمت ہوگا،اس کے بعد ایک سیاہ تاریک فتنے اور اندھی مصیبت کا آغاز ہوگا جو اس امت کے ہر فرد کو پہنچ کر رہے گا، جب کہا جائے گا کہ فتنہ ختم ہو گیا تو وہ اور بھڑک اٹھے گا جس میں صبح کو آدمی مومن ہو گا، اور شام کو کافر ہو جائے گا، یہاں تک کہ لوگ دو قسموں میں بٹ جائیں گے، ایک خیمہ اہل ایمان کا ہو گا جس میں کوئی منافق نہ ہو گا، اور ایک خیمہ اہل نفاق کا جس میں کوئی ایماندار نہ ہو گا، تو جب ایسا فتنہ رونما ہو تو اسی روز، یا اس کے دو سرے روز سے دجال کا انتظار کرنے لگ جاؤ“۔

سنن ابو داؤد، الفتن، حدیث:4242، وسلسلۃ الصحیحۃ:972

َ الْأَحْلَاسِ حِلس کی جمع ہے۔ حلس اس موٹے کالے کپڑے کو کہتے ہیں جو اونٹ کی پیٹھ پر کجادے کے نیچے ڈالا جاتا ہے۔ یہ کپڑا ہمیشہ اونٹ کی پیٹھ سے چمٹا رہتا ہے۔ اس طرح یہ فتنہ بھی لوگوں سے چمٹ جائے گا اور ان کی جان نہیں چھوڑے گا۔ یہ فتنہ حلس کی طرح تاریک اور سیاہ بھی ہوگا۔

هَرَبٌ ہا اور را پر زبر کے ساتھ ہے، یعنی وہ ایک دوسرے سے بھاگیں گے کیونکہ ان کے درمیان دشمنی اور جنگ ہوگی۔

َحَرْبٌ کے معنی ہیں کسی شخص کا مال اور اہل و عیال چھین لینا اور اسے اس طرح چھوڑ دینا کہ اس کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔‏‏

ثُمَّ فِتْنَةُ السَّرَّاءِ (پھر خوشحالی کا فتنہ آئے گا) یعنی صحت، خوشحالی اور امن و عافیت کی بہتات ہوگی۔ جس کی وجہ سے بعض لوگ فتنے میں مبتلا ہو کر گناہوں کا ارتکاب کرنے لگیں گے۔

دَخَنُهَا یعنی اس کا ظہور اور جوش۔ اس فتنے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ سے اٹھنے والے دھوئیں سے تشبیہ دی ہے جو آگ میں گیلا ایندھن ڈالنے کی وجہ سے اٹھتا ہے۔ وہ دھواں بہت کثیف اور زیادہ ہوتا ہے۔

مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي یعنی وہ شخص جس کے قدموں سے فتنے کی آگ بھڑکے گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہوگا۔ اس میں تنبیہ کی گئی ہے کہ جو شخص اس فتنے کو ہوا دینے کے لیے بھاگ دوڑ کرے گا اور اس کا اصلی سبب ہوگا وہ میرے اہل بیت میں سے ہوگا۔

يَزْعُمُ أَنَّهُ مِنِّي یعنی وہ خود کو میرے نسب سے خیال کرے گا۔ لیکن اپنے برے عمل کی وجہ سے وہ مجھ سے نہیں ہوگا۔ میں اس کے افعال و اعمال سے بیزار ہوں، خواہ وہ نسبی طور پر میرے خاندان سے ہی ہوگا مگر درحقیقت وہ میرے دوستوں میں سے نہیں ہوگا۔ میرے دوست تو صرف وہ ہیں جو پرہیزگاری اور تقویٰ اختیار کرنے والے ہیں، جبکہ یہ شخص تو فتنہ کھڑا کرنے گا باعث ہوگا۔

وَلَيْسَ مِنِّي یعنی وہ میرے دوستوں میں سے نہیں ہوگا۔ کیونکہ وہ فتنہ پیدا کرنے کا سبب ہوگا۔ اسی قبیل سے وہ بات بھی ہے جو سیدنا نوح علیہ السلام نے کہی تھی:

رَ‌بِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي

میرے رب میرا بیٹا تو میرے گھر والوں میں سے ہے

ھود 45:11

إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ‌ صَالِحٍ

(اے نوح ) یقیناً وہ تیرے گھرانے سے نہیں ہے، وہ غیر صالح عمل (والا) ہے

ھود 46:11

ثُمَّ يَصْطَلِحُ النَّاسُ عَلَى رَجُل پھر لوگ ایک شخص کی بیعت و اطاعت پر جمع ہوجائیں گے۔

كَوَرِكٍ ورک، ٹانگ کا وہ حصہ جو ران کے اوپر ہوتا ہے، یعنی سرین

عَلَى ضِلَعٍ اس کی جمع ضلوع' اور 'اضلاع' ہے۔ ضلع سینے کی ہڈی کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے حالات اس شخص کے ساتھ ٹھیک نہیں رہ سکیں گے، جس طرح سرین ایک پسلی کے اوپر قائم نہیں رہ سکتی کیونکہ پسلی کمزور اور سرین ثقیل ہوتی ہے۔
یعنی لوگ اختلاف اور فساد کے بعد ایک ایسے شخص کی حکمرانی قبول کرلیں گے جو بادشاہی کی نازک اور عظیم ذمہ داری کے لیے قطعی طور پر غیر موزوں ہوگا، وہ کم علم اور کم عقل ہوگا۔ اس کے ذریعے نظام حکومت قائم نہ رہ سکے گا اور نہ ہی امور و معاملات صحیح رہ سکیں گے۔


فِتنۃ الدُّهَيْمَاءِ یعنی سیاہ اور بہت بڑا فتنہ، اندھی مصیبت

إِلَّا لَطَمَتْهُ لَطْمَةً یعنی لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہ ہوگا جسے یہ مصیبت اور بلا نہ پہنچے۔ اللطم' کے معنی ہیں چہرے پر تھپڑ مارنا۔ مطلب یہ کہ اس تاریک فتنے کا اثر ہر شخص تک پہنچ جائے گا۔

فَإِذَا قِيلَ:‏‏‏‏ انْقَضَتْ یعنی جب لوگوں کا خیال ہوگا کہ یہ فتنہ اب ختم ہوگیا ہے تو تَمَادَتْ
وہ اور زیادہ بڑھ کر پھیل جائے گا۔

يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا
یعنی صبح کے وقت وہ اپنے بھائی کے قتل کو حرام سمجھتا ہوگا، اس کی عزت اور مال پر زیادتی کرنے سے پرہیز کرنے والا ہوگا، مگر شام ہوتے ہوتے وہ اپنے بھائی کے قتل کو جائز سمجھنے لگے گا اور اس کی عزت و مال پر حملہ آور ہو جائے گا۔ اس کی تشریح تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے۔ (دیکھیے علامت نمبر:51)


إِلَى فُسْطَاطَيْنِ 'فسطاط' عربی میں خیمے کو کہا جاتا ہے، یعنی اس فتنے میں لوگ دو فرقوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اس قول کے مطابق اس کی تشریح یہ ہے کہ لوگ دو شہروں میں تقسیم ہوجائیں گے۔

فُسْطَاطِ إِيمَانٍ لَا نِفَاقَ فِيهِ خالص اور صاف ایمان والا گروہ جس میں منافقت کا شائبہ بھی نہ ہوگا۔

وَفُسْطَاطِ نِفَاقٍ لَا إِيمَانَ فِيهِ اس گروہ میں منافقوں جیسے کام، مثلاًجھوٹ، خیانت اور وعدہ خلافی وغیرہ ہوں گے۔

فَانْتَظِرُوا الدَّجَّالَ یعنی اس وقت دجال کے ظاہر ہونے کا انتظار کرو۔

یہ فتنے ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ان فتنوں کے شر سے محفوظ رکھے۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
102-ایسا زمانہ جس میں ایک سجدہ دنیا اور اس کے تمام خزانوں سے بہتر ہوگا:


یہ علامت قرب قیامت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ان کے نزول کے بعد ظاہر ہوگی۔ آپ کا زمانہ بہت فضیلت والا ہوگا۔ عبادات بھی فضیلت کی حامل ہوں گی کیونکہ وقت اور مقام کے شرف و منزلت کے مطابق عبادات کے اجر و ثواب میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلًا فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ حَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ثُمَّ،‏‏‏‏ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا سورة النساء آية 159".

”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ زمانہ قریب ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو مار ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے۔ اس وقت مال کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا۔ اس وقت کا ایک سجدہ دنیا اور اس کے تمام خزانوں سے زیادہ قیمتی ہو گا۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو «وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا‏» ”اور کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہو گا جو عیسیٰ کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوں گے۔‘‘

صحیح بخاری،كتاب أحاديث الأنبياء،حدیث نمبر: 3448

صحیح مسلم، الایمان، حدیث نمبر:155

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کہ " اس زمانے میں کسی مومن شخص کا ایک سجدہ دنیا اور اس کے تمام خزانوں سے زیادہ قیمتی ہوگا" کے معنی یہ ہیں کہ لوگوں کی نماز اور دیگر تمام عبادات میں رغبت بہت بڑھ جائے گی ۔ کیونکہ وہ دنیا سے بے رغبت ہوں گے، ان کی خواہشات کم ہوں گی اور قرب قیامت کا انہیں یقین ہوگا۔

قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ: اس کے معنی یہ ہیں کہ اس سجدے کا اجر دنیا اور مافیہا کے صدقہ کرنے سے بھی زیادہ ہوگا، اس لیے کہ اس زمانے میں مال کی بہتات ہوجائے گی۔ لوگوں میں حرص اور بخل بہت کم ہوگا۔ لوگ دنیا کے مال کو جہاد میں خرچ کریں گے اور خود اس مال کا لالچ نہیں کریں گے۔ اور سجدہ سے مراد یا تو سجدہ ہی ہے یا پھر اس سے مراد نماز ہے۔ واللہ اعلم


شرح صحیح مسلم للنووی:ج 2، ص 191
 
Top