• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علامات قيامت شيخ عريفى كى كتاب نهاية العالم سے ماخوذ

شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
103-پہلی رات کے چاند کا بڑا نظر آنا:


الْأَهِلَّةِ ہلال کی جمع ہے اور ہلال مہینے کے آغاز میں پہلی رات کے چاند کو کہتے ہیں۔ یہ چاند قمری مہینے کی پہلی رات میں چھوٹا سا نظر آتا ہے، پھر مہینے کے نصف تک بتدریج بڑھتا رہتا ہے، پھر مہینے کے نصف سے آخر تک بتدریج چھوٹا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

علامات قیامت میں سے پہلی رات کے چاند کا بڑا نظر آنا بھی ہے۔ یعنی چاند ابتدائی رات ہی میں معمول سے بڑا نظر آنے لگے گا۔ لوگ پہلی رات کے چاند کو دیکھ کر دوسری رات کا چاند خیال کریں گے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ انتفاخُ الْأَهِلَّةِ، حَتَّى يُرَى الْهِلَالُ لِلَيْلَتِهِ، فَيُقَالُ: هُوَ لِلَيْلَتَيْنِ»
لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ إِلَّا شُعَيْبٌ، تَفَرَّدَ بِهِ: مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ "


سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"قرب قیامت کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ چاند معمول سے بڑا نظر آئے گا۔ پہلی رات کے چاند کو دیکھ کر کہا جائے گا کہ یہ تو دوسری رات کا چاند ہے۔"


المعجم الاوسط للطبرانی:6864، والسلسلۃ الصحيحة:2292
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
104-سب لوگوں کا شام کی طرف ہجرت کرجانا:


شام کے نام کا اطلاق آج کے سوریا اور اس کے پڑوسی ممالک لبنان، اردن اور فلسطین پر ہوتا ہے۔ شام سرزمین حشر و نشر ہے۔ اس سرزمین سے بہت سے انبیاء کا ظہور ہوا۔ شام اور اہل شام کی ایک خاص قدرو منزلت ہے۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: "إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلاَ خَيْرَ فِيكُمْ، لاَتَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: هُمْ أَصْحَابُ الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَوَالَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

قرہ بن ایاس المزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
'' جب ملک شام والوں میں خرابی پیدا ہوجائے گی تو تم میں کوئی اچھائی باقی نہیں رہے گی ،میری امت کا ایک گروہ قیامت تک فتح یاب رہے گا، انہیں رسوا کرنے والا انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔"


سنن ترمذی، الفتن، حدیث:2192

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام میں رہائش اختیار کرنے کی وصیت فرمائی ہے، اس لیے کہ قیامت کے قریب شام اہل اسلام کا مضبوط گڑھ اور مرکز ہوگا۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ يُحَدِّثُ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ،‏‏‏‏ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ "إِنَّ فُسْطَاطَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ بِالْغُوطَةِ إِلَى جَانِبِ مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا:‏‏‏‏ دِمَشْقُ مِنْ خَيْرِ مَدَائِنِ الشَّامِ".

ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"فتنےکے دنوں میں مسلمانوں کا مرکز غوطہٰ میں ہو گا، جو اس شہر کے ایک جانب میں ہے جسے دمشق کہا جاتا ہے، جو شام کا بہترین شہر ہوگا“۔

سنن ابو داؤد، الملاحم، حدیث:4298

"فسطاط" اصل میں خیمے کو کہتے ہیں اور یہاں اس سے مراد مسلمانوں کا مرکز اور ان کے جمع ہونے کی جگہ ہے۔ اہل اسلام اس عظیم معرکے میں، جو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ہوگا، وہاں جمع ہونگے۔

غوطہ" ایک شہر کا نام ہے، جو آج کل غوطہ دمشق کہلاتا ہے اور "دمشق" مشہور و معروف شہر ہے جو آج کل سوریا (شام) کا دارالحکومت ہے۔
حدیث میں مذکورر معرکہ یا تو مہدی کے ظہور سے قبل ہوگا یا مہدی کے زمانے میں ہوگا یا پھر کسی اور زمانے میں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک شام میں رہائش اختیار کرنے کی ترغیب اس لیے دلائی ہے کہ یہ سرزمین محشر اور مومنین کا مرکز ہے۔ ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ طلب کیا کہ وہ کس علاقے کی طرف ہجرت کرے اور رہائش اختیار کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کی طرف ہجرت کرنے اور وہاں رہنے کا مشورہ دیا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! أَيْنَ تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: "هَا هُنَا" وَنَحَا بِيَدِهِ نَحْوَ الشَّامِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا(معاویۃبن حیدۃ قشیری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہاکہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت آپ ہمیں کہاں جانے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے ملک شام کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:'' وہاں''۔


سنن ترمذی، الفتن، حدیث:2192م


قیامت قائم ہونے سے پہلے مومنوں کی غالب اکثریت وہاں ہجرت کرجائے گی بلکہ ہر مومن وہاں چلا جائے گا۔

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَى مُؤْمِنٌ إِلَّا لَحِقَ بِالشَّامِ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ہر مومن شام میں چلا جائے گا۔

مصنف ابن أبي شيبة:19445

ولا يصح مرفوعاً، وهذا الأثر لا يقال من قبل الرأي فله حكم الرفع، ولا بأس بإسناده موقوفا.
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
-105-106-مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان ایک عظیم معرکہ اور فتح قسطنطنیہ
:

مسلمانوں اور رومی عیسائیوں کے تعلقات کی تاریخ حوادث اور واقعات سے بھری پڑی ہے۔ اس میں صلح بھی ہے اور جنگ بھی، زمانہ امن بھی ہے اور عرصہ قتال بھی۔ آج کے زمانے میں اہل اسلام اور عیسائیوں کے باہمی تعلقات غیر یقینی ہیں۔ وہ صلح اور جنگ میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ علاماتِ قیامت میں سے مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان ایک بہت بڑی جنگ بھی ہے۔ اور یہ جنگ ظہورِ مہدی سے قبل ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام "الملحمۃ الکبریٰ" رکھا ہے۔ مسلمان اس جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد قسطنطنیہ کی طرف پیش قدمی کریں گے اور اسے بھی فتح کرلیں گے اور پھر اس کے بعد دجال ظاہر ہوگا۔

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ مَكْحُولٍ،‏‏‏‏ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ،‏‏‏‏ عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ،‏‏‏‏ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ،‏‏‏‏ وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ،‏‏‏‏ وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ،‏‏‏‏ وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ خُرُوجُ الدَّجَّالِ،‏‏‏‏ ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِ الَّذِي حَدَّثَ أَوْ مَنْكِبِهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ هَذَا لَحَقٌّ كَمَا أَنَّكَ هَاهُنَا أَوْ كَمَا أَنَّكَ قَاعِدٌ يَعْنِي مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ".

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”بیت المقدس کی آبادی مدینہ کی ویرانی ہو گی، مدینہ کی بربادی ہوئی تو ایک عظیم معرکہ شروع ہو جائے گا، وہ معرکہ شروع ہوا تو قسطنطنیہ فتح ہو جائے گا اور قسطنطنیہ فتح ہوجائے گا تو پھر جلد ہی دجال کا خروج ہو گا“ پھر آپ نے اپنا ہاتھ معاذ بن جبل کی ران یا مونڈھے پر مارا جن سے آپ یہ بیان فرما رہے تھے، پھر فرمایا: ”یہ ایسے ہی یقینی ہے جیسے تمہارا یہاں ہونا یا بیٹھنا یقینی ہے“۔

سنن أبي داود،كتاب الملاحم ،حدیث نمبر: 4294


حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَالَ مَكْحُولٌ،‏‏‏‏ وابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا إِلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ وَمِلْتُ مَعَهُمْ فَحَدَّثَنَا،‏‏‏‏ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ،‏‏‏‏ عَنِ الْهُدْنَةِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ جُبَيْرٌ:‏‏‏‏ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ذِي مِخْبَرٍ ٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلَهُ جُبَيْرٌ عَنِ الْهُدْنَةِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ "سَتُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا فَتَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِكُمْ فَتُنْصَرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَسْلَمُونَ ثُمَّ تَرْجِعُونَ،‏‏‏‏ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّصْرَانِيَّةِ الصَّلِيبَ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ غَلَبَ الصَّلِيبُ فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ،‏‏‏‏ فَيَدُقُّهُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَتَجْمَعُ لِلْمَلْحَمَةِ".



حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا: خالد بن معدان کی طرف چلے، میں بھی ان کے ساتھ چلا تو انہوں نے ہم سے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے صلح کے متعلق بیان کیا، جبیر نے کہا: ہمارے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ذی مخبر نامی ایک شخص کے پاس چلو چنانچہ ہم ان کے پاس آئے، جبیر نے ان سے صلح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”عنقریب تم رومیوں کے ساتھ صلح کرو گے، پھر تم اور وہ مل کر ایک ایسے دشمن سے لڑو گے جو تمہارے پیچھے ہے، اس پر فتح پاؤ گے، اور غنیمت کا مال لے کر صحیح سالم واپس ہو گے یہاں تک کہ ایک میدان میں اترو گے جو ٹیلوں والا ہوگا1،

پھرعیسائیوں میں سے ایک شخص صلیب اٹھائے گا اور کہے گا: صلیب غالب آئی، یہ سن کر مسلمانوں میں سے ایک شخص غصہ میں آئے گا اور اس کو مارے گا، اس وقت اہل روم عہد شکنی کریں گے اور لڑائی کے لیے اپنے لوگوں کو جمع کریں گے“۔
بعض راویوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ اس وقت مسلمان جوش میں آجائیں گے اور اپنے ہتھیاروں کی طرف بڑھیں گے، اور لڑنے لگیں گے، تو اللہ تعالیٰ اس جماعت کو شہادت سے نوازے گا“۔

1(یعنی ایک بلند جگہ پر ڈیرہ جماؤ گے۔ مجھے اہل علم میں سے کوئی ایسا شخص نظر نہیں آیا جس نے اس جگہ کی تحدید کی ہو۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ جگہ "مرج دابق" ہوگی جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں وارد ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ الرُّومُ بِالأَعْمَاقِ أَوْ بِدَابِقَ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ رومی اعماق یا دابق نہ پہنچ جائیں۔صحیح مسلم، الفتن، حدیث:2897)

سنن ابو داؤد، الملاحم، حدیث:4292،4293

صحیح مسلم میں اس واقعے کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ رومی اعماق یا دابق نہ پہنچ جائیں (یہ مقام شام میں حلب نامی شہر کے قریب واقع ہے ، جنگ کی جگہ یہیں ہوگی)، پھر ان کے لیےمدینہ سے ایک لشکر روانہ ہوگا ، وہ اس زمانے کے بہترین لوگوں پر مشتمل ہوگا ،جب دونوں لشکر صف آراء ہوں گے تو عیسائی کہیں گے : ہمیں ان لوگوں سے لڑائی کر لینے دو جو ہم میں سے گرفتار ہوگئے تھے(عیسائیوں کی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین متعدد لڑائیاں پہلے بھی ہوچکی ہونگی جن میں مسلمانوں کو فتح ہوئی ہوئی تھی اور عیسائیوں کو قیدی بنا لیا گیا تھا، اور وہ قیدی مسلمان ہوگئے تھے اور اب اسلامی لشکر میں شامل ہوکر عیسائیوں سے جہاد کرنے آئے ہوں گے۔)، مسلمان کہیں گے: نہیں، اللہ کی قسم! ہم تم کو اپنے بھائیوں سے لڑنے کے لیے نہیں چھوڑیں گے، پھر وہ ان سے لڑیں گے تو ان میں سےایک تہائی (مسلمان) بھاگ جائیں گے، اللہ تعالیٰ ان کی توبہ کبھی قبول نہیں کرے گا ، اور ایک تہائی ان میں سے قتل کردیے جائیں گے، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک افضل الشہداء ہوں گے ، بقیہ تہائی فتح پالیں گے ، وہ کبھی آزمائش میں مبتلاء نہیں ہوں گے، یہی لوگ قسطنطنیہ کو فتح کرلیں گے ، جس وقت وہ مال غنیمت کوتقسیم کریں گے اور اپنی تلواریں زیتون کے درختوں پر لٹکا دیں گے تواچانک شیطان چیخ مار کر کہے گا: تمہارے بعد تمہارے گھروں میں مسیح دجال پہنچ گیا ہے ، مسلمان وہاں سے نکل پڑیں گے ، حالانکہ یہ خبر غلط ہوگی ، جب یہ ملک شام پہنچیں گے تب واقعی مسیح دجال کا نزول ہوگا۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ رومیوں سے جنگ کے بعد اہل اسلام کو مال غنیمت کی تقسیم کا موقع بھی نہ ملا ہوگا اور وہ دجال سے لڑائی کی تیاری کر رہے ہوں گے، صفیں درست کر رہے ہوں گے کہ نماز کا وقت ہو جائے گا اور اسی وقت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نزول فرمائیں گے۔

صحیح مسلم، الفتن، حدیث:2897

جاری ہے۔۔۔۔

 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
ایک دوسری روایت کے مطابق اس غزوے کی تفصیل:

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ حُجْرٍ - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ عَنْ أَبِى قَتَادَةَ الْعَدَوِىِّ عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ هَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ هِجِّيرَى إِلاَّ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ جَاءَتِ السَّاعَةُ. قَالَ فَقَعَدَ وَكَانَ مُتَّكِئًا فَقَالَ إِنَّ السَّاعَةَ لاَ تَقُومُ حَتَّى لاَ يُقْسَمَ مِيرَاثٌ وَلاَ يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ. ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا - وَنَحَّاهَا نَحْوَ الشَّأْمِ - فَقَالَ عَدُوٌّ يَجْمَعُونَ لأَهْلِ الإِسْلاَمِ وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الإِسْلاَمِ. قُلْتُ الرُّومَ تَعْنِى قَالَ نَعَمْ وَتَكُونُ عِنْدَ ذَاكُمُ الْقِتَالِ رَدَّةٌ شَدِيدَةٌ فَيَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لاَ تَرْجِعُ إِلاَّ غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ فَيَفِىءُ هَؤُلاَءِ وَهَؤُلاَءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لاَ تَرْجِعُ إِلاَّ غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجُزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ فَيَفِىءُ هَؤُلاَءِ وَهَؤُلاَءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ ثُمَّ يَشْتَرِطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لاَ تَرْجِعُ إِلاَّ غَالِبَةً فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يُمْسُوا فَيَفِىءُ هَؤُلاَءِ وَهَؤُلاَءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الرَّابِعِ نَهَدَ إِلَيْهِمْ بَقِيَّةُ أَهْلِ الإِسْلاَمِ فَيَجْعَلُ اللَّهُ الدَّبْرَةَ عَلَيْهِمْ فَيَقْتُلُونَ مَقْتَلَةً - إِمَّا قَالَ لاَ يُرَى مِثْلُهَا وَإِمَّا قَالَ لَمْ يُرَ مِثْلُهَا - حَتَّى إِنَّ الطَّائِرَ لَيَمُرُّ بِجَنَبَاتِهِمْ فَمَا يُخَلِّفُهُمْ حَتَّى يَخِرَّ مَيْتًا فَيَتَعَادُّ بَنُو الأَبِ كَانُوا مِائَةً فَلاَ يَجِدُونَهُ بَقِىَ مِنْهُمْ إِلاَّ الرَّجُلُ الْوَاحِدُ فَبِأَىِّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ أَوْ أَىُّ مِيرَاثٍ يُقَاسَمُ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعُوا بِبَأْسٍ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ فَجَاءَهُمُ الصَّرِيخُ إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَهُمْ فِى ذَرَارِيِّهِمْ فَيَرْفُضُونَ مَا فِى أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنِّى لأَعْرِفُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ يَوْمَئِذٍ أَوْ مِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ يَوْمَئِذٍ ».

یسیر بن جابر بیان کرتےہیں کہ ایک مرتبہ کوفہ میں سرخ آندھی آئی ، ایک آدمی جس کا تکیہ کلام یہ تھا کہ سنو اے عبد اللہ بن مسعود ! قیامت آگئی ہے ،حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ٹیک لگائے بیٹھے تھے ،سنبھل کر بیٹھ گئے اور فرمایا: اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک میراث کی تقسیم نہ روک دے جائے اور مال غنیمت لوگوں کے لیے کسی خوشی کا باعث نہ بنے گا۔پھر شام کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرکے فرمایا: (وہاں) اسلام کے دشمن جمع ہوں گے اور ان کے مقابلہ کے لیے مسلمان جمع ہوں گے ، میں نے کہا: آپ کی مراد رومی ہیں ، انہوں نے فرمایا: ہاں ! اس وقت سخت شدت کی جنگ ہوگی ، مسلمان ایک ایسا لشکر بھیجیں گے کہ وہ خواہ مرجائیں لیکن کامیابی کے بغیر واپس نہ لوٹیں ، پھر مسلمان خوب جنگ کریں گے یہاں تک کہ ان کے درمیان رات کا پردہ حائل ہوجائے گا ، پھر یہ پھر یہ بھی لوٹ آئیں گے اور وہ بھی واپس آجائیں گے اور کوئی ایک گروہ غالب نہ ہوگا اور جو لشکر لڑائی کے لئے آگے بڑھا تھا وہ بالکل ہلاک اور فنا ہو جائے گا، اگلے روز مسلمان ایک اور دستہ بھیجیں گے کہ وہ بغیر کامیابی کے واپس نہ لوٹے خواہ مرجائے ، پھر وہ جنگ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کےدرمیان رات کا پردہ حائل ہوگا ، پھر یہ دستہ اور دوسرا دستہ دونوں واپس آئیں گے اور ان میں سے کوئی کامیاب نہیں ہوگا ، اور وہ سب شہید ہو جائیں گے ، پھر مسلمان ان کی طرف اور دستہ بھیجیں گے کہ وہ بغیر کامیابی کے نہ لوٹے خواہ مرجائے ، پھر وہ شام تک جنگ کرتے رہیں گے ، پھر یہ اور وہ لوٹ آئیں گے اور کوئی دستہ غالب نہیں ہوگا ، اور وہ شہید ہو چکے ہوں گے، اور جب چوتھا دن ہوگا تو باقی مسلمان ان پر حملہ کردیں گے ،پھر اللہ تعالیٰ کافروں کو شکست مسلط کردے گا ، وہ ایسی جنگ ہوگی کہ اس سے پہلے ایسی جنگ کی مثال دیکھی نہیں ہوگی ، یہاں تک کہ پرندے بھی ان کے پہلوؤں سے گزریں گے ، وہ ان سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے اور مردہ ہوکر گر پڑیں گے ، ایک باپ کی اولاد سو تک ہوگی ، ان میں سے ایک کے سوا اور کوئی باقی نہیں بچے گا ، اس صورت میں مال غنیمت سے کیا خوشی ہوگی اور میراث کیا تقسیم ہوگی؟، پھر اسی دوران مسلمان ایک اور بڑی آفت کی خبر سنیں گے جو اس سے بھی بڑی ہوگی، پس ایک شخص پکار کر کہے گا کہ دجال تمہارے پیچھے بال بچوں میں گھس گیا ہے ، یہ سنتے ہی وہ سب کچھ چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوں گے اور دس گھڑ سواروں کا ہر اول دستہ بھیجیں گے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: میں ان گھڑ سواروں کے نام ، ان کے باپ دادا کے نام ، اور ان کے گھوڑوں کا رنگ تک جانتا ہوں ، وہ روئے زمین کے بہترین گھڑسوار وں میں سے ہوں گے ۔

صحیح مسلم:7262(2899)

اس عظیم معرکے کے لیے مسلمانوں کے جمع ہونے کی جگہ اس وقت "غوطہ" میں شہر دمشق ہوگا۔ یہ لشکر اس وقت روئے زمین پر بہترین لشکر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ انہیں عیسائیوں پر فتح نصیب فرمائے گا۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْطَاةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ يُحَدِّثُ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ،‏‏‏‏ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ "إِنَّ فُسْطَاطَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْمَلْحَمَةِ بِالْغُوطَةِ إِلَى جَانِبِ مَدِينَةٍ يُقَالُ لَهَا:‏‏‏‏ دِمَشْقُ مِنْ خَيْرِ مَدَائِنِ الشَّامِ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"فتنےکے دنوں میں مسلمانوں کا مرکز غوطہٰ میں ہو گا، جو اس شہر کے ایک جانب میں ہے جسے دمشق کہا جاتا ہے، جو شام کا بہترین شہر ہوگا“
۔
سنن ابو داؤد، الملاحم، حدیث:4298

ایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں:

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بُرْدٌ أَبُو الْعَلَاءِ،‏‏‏‏ عَنْ مَكْحُولٍ،‏‏‏‏ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ "مَوْضِعُ فُسْطَاطِ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمَلَاحِمِ:‏‏‏‏ أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا الْغُوطَةُ".

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں کا خیمہ لڑائیوں کے وقت ایک ایسی سر زمین میں ہو گا جسے غوطہٰ کہا جاتا ہے“۔
سنن أبي داود،كتاب السنة،حدیث نمبر: 4640

اس کے بعد اہل اسلام قسطنطنیہ کو لڑائی کے بغیر ہی امام مہدی کی زیرِ قیادت فتح کر لیں گے۔ اس وقت مسلمانوں کا ہتھیار اللہ کی تکبیر اور تحمید ہوگی۔

عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « سَمِعْتُمْ بِمَدِينَةٍ جَانِبٌ مِنْهَا فِى الْبَرِّ وَجَانِبٌ مِنْهَا فِى الْبَحْرِ ». قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَغْزُوَهَا سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ بَنِى إِسْحَاقَ فَإِذَا جَاءُوهَا نَزَلُوا فَلَمْ يُقَاتِلُوا بِسِلاَحٍ وَلَمْ يَرْمُوا بِسَهْمٍ قَالُوا لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ. فَيَسْقُطُ أَحَدُ جَانِبَيْهَا ». قَالَ ثَوْرٌ لاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ قَالَ « الَّذِى فِى الْبَحْرِ ثُمَّ يَقُولُوا الثَّانِيَةَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ. فَيَسْقُطُ جَانِبُهَا الآخَرُ ثُمَّ يَقُولُوا الثَّالِثَةَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ. فَيُفَرَّجُ لَهُمْ فَيَدْخُلُوهَا فَيَغْنَمُوا فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْمَغَانِمَ إِذْ جَاءَهُمُ الصَّرِيخُ فَقَالَ إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ. فَيَتْرُكُونَ كُلَّ شَىْءٍ وَيَرْجِعُونَ ».

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم نے ایک شہر کے متعلق سنا ہے کہ اس کی ایک جانب خشکی میں ہے ، اور ایک جانب سمندر ہے ، صحابہ نے کہا: ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ! آپﷺنے فرمایا: اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک بنو اسحاق کےستر ہزار لوگ اس کو فتح نہ کرلیں ، جب وہ وہاں پہنچ کر اتریں گے تو وہ کسی قسم کا اسلحہ استعمال نہیں کریں گے ، اور نہ تیر اندازی کریں گے ، وہ کہیں گے : لا الہ الا اللہ واللہ اکبر تو اس شہر کی ایک جانبکا علاقہ فتح ہوجائے گا ، ثوربن یزید کہتے ہیں : جہاں تک مجھے معلوم ہے آپ نے یہ فرمایا کہ سمندر والی جانب فتح ہو جائے گی ، پھر وہ دوسری بار کہیں گے : لا الہ الا اللہ واللہ اکبر، تو اس کی دوسری جانب فتح ہو جائے گی ، پھر وہ تیسری بار کہیں گے : لا الہ الا اللہ واللہ اکبر ، تو شہر ان کے لیے کھل جائے گا اور وہ اس میں داخل ہوجائیں گےاور مال غنیمت حاصل کریں گے ، جس وقت وہ مال غنیمت تقسیم کررہے ہوں گے تو کوئی پکار کر کہے گا کہ دجال نکل آیا ہے تو مسلمان ہر چیز کو چھوڑ کر اپنے گھروں کو لوٹ آئیں گے ۔"

اس حدیث کی شرح میں امام نووی رحمہ اللہ نے قاضی عیاض رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ صحیح مسلم کے تمام نسخوں میں اس لشکر کے "بنو اسحاق" ہونے کا ذکر ملتا ہے۔

بعض اہل علم نے یہ بھی کہا ہے کہ زیادہ محفوظ اور صحیح "بنو اسماعیل' کے الفاظ ہیں اور حدیث کا سیاق و سباق بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ یہ جنگیں عرب لڑیں گے اور عرب بنو اسماعیل ہیں نہ کہ بنو اسحاق اور شہر سے مراد قسطنطنیہ ہے۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
107-108-وراثت تقسیم نہ ہوگی اور لوگوں کو مال غنیمت سے خوشی نہ ہوگی:


یہ دونوں علامتیں آخری زمانے میں اس وقت واقع ہوں گی جب قتل و قتال بہت ہوگا اور مسلمانوں کی عیسائیوں کے ساتھ لڑائیاں شدت اختیار کر جائیں گی۔


سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ السَّاعَةَ لاَ تَقُومُ حَتَّى لاَ يُقْسَمَ مِيرَاثٌ وَلاَ يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ. ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا - وَنَحَّاهَا نَحْوَ الشَّأْمِ

اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک میراث کی تقسیم نہ روک دی جائے اور مال غنیمت لوگوں کے لیے کسی خوشی کا باعث نہ بنے گا۔

صحیح مسلم:7262(2899)

اس کی وضاحت سابقہ علامت میں گزر چکی ہے۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
109-لوگوں کا پرانے ہتھیاروں اور سواریوں کی طرف لوٹ آنا:


یہ علامت سابقہ سے پہلے والی علامت میں گزر چکی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعُوا بِبَأْسٍ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ فَجَاءَهُمُ الصَّرِيخُ إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَهُمْ فِى ذَرَارِيِّهِمْ فَيَرْفُضُونَ مَا فِى أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ فَيَبْعَثُونَ عَشَرَةَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنِّى لأَعْرِفُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ يَوْمَئِذٍ أَوْ مِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ يَوْمَئِذٍ ».

مسلمان ابھی اسی حالت میں ہوں گے کہ ایک اور بڑی آفت کی خبر سنیں گے جو اس سے بھی بڑی ہوگی، ایک شخص پکار کر کہے گا کہ دجال تمہارے پیچھے بال بچوں میں گھس گیا ہے ، یہ سنتے ہی وہ سب کچھ چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوں گے اور دس گھڑ سواروں کا دستہ حالات کا جائزہ لینے کے لیے بھیجیں گے ، رسول اللہﷺنے فرمایا: میں ان گھڑ سواروں کے نام ، ان کے باپ دادا کے نام ، اور ان کے گھوڑوں کا رنگ تک جانتا ہوں ، وہ روئے زمین کے بہترین گھڑسوار وں میں سے ہوں گے ۔

صحیح مسلم:7262(2899)
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
110-111-بیت المقدس کی آبادی، مدینہ طیبہ کی بربادی اور اس کا باشندوں اور زائرین سے خالی ہوجانا:


حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ مَكْحُولٍ،‏‏‏‏ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ،‏‏‏‏ عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ،‏‏‏‏ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ،‏‏‏‏ وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ،‏‏‏‏ وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ،‏‏‏‏ وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ خُرُوجُ الدَّجَّالِ،‏‏‏‏ ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِ الَّذِي حَدَّثَ أَوْ مَنْكِبِهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ هَذَا لَحَقٌّ كَمَا أَنَّكَ هَاهُنَا أَوْ كَمَا أَنَّكَ قَاعِدٌ يَعْنِي مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ".

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


”بیت المقدس کی آبادی مدینہ کی بربادی ہو گی، مدینہ کی بربادی ہوئی تو ایک عظیم معرکہ شروع ہو جائے گا، وہ معرکہ شروع ہوا تو قسطنطنیہ فتح ہو جائے گا اور قسطنطنیہ فتح ہوجائے گا تو پھر جلد ہی دجال کا خروج ہو گا“ پھر آپ نے اپنا ہاتھ معاذ بن جبل کی ران یا مونڈھے پر مارا جن سے آپ یہ بیان فرما رہے تھے، پھر فرمایا: ”یہ ایسے ہی یقینی ہے جیسے تمہارا یہاں ہونا یا بیٹھنا یقینی ہے“۔

سنن أبي داود،كتاب الملاحم ،حدیث نمبر: 4294

یثرب سے مراد مدینہ منورہ ہے اور اس کی بربادی سے مراد اس کا اپنے باشندوں اور زائرین سے خالی ہونا ہے۔

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن واقعات کا ذکر فرمایا ہے وہ ترتیب سے رونما ہوں گے، پہلے بیت المقدس کی آبادی اور عمارتوں کی کثرت سے اس کی وسعت اور لوگوں کا اس شہر میں کثرت سے آباد ہونا، پھر اس کے بعد یثرب (مدینہ طیبہ) کا برباد ہونا، یعنی لوگوں کا مدینہ میں رہائش سے گریز کرنا اور مدینہ میں جدید تعمیرات کا سلسلہ رک جانا۔ یہ تمام چیزیں آج مدینہ میں ظاہر ہورہی ہیں۔ لوگ بتدریج وہاں کم ہورہے ہیں اور آبادی میں اضافے کا سلسلہ رک چکا ہے۔ مدینہ کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد آہستہ آہستہ وہاں سے دوسرے شہروں میں منتقل ہورہی ہے۔


وَحَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ حِمَاسٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَتُتْرَكَنَّالْمَدِينَةُ عَلَى أَحْسَنِ مَا كَانَتْ، حَتَّى يَدْخُلَ الْكَلْبُ أَوِ الذِّئْبُ فَيُغَذِّي عَلَى بَعْضِ سَوَارِي الْمَسْجِدِ أَوْ عَلَى الْمِنْبَرِ»، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَلِمَنْ تَكُونُ الثِّمَارُ ذَلِكَ الزَّمَانَ، قَالَ: «لِلْعَوَافِي الطَّيْرِ وَالسِّبَاعِ

رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مدینہ کو عمدہ حالت میں چھوڑ دیا جائے گا حتیٰ کہ نوبت یہ ہوجائے گی کہ ایک کتا یا بھیڑیا مسجد میں داخل ہوگا اور کسی ستون یا منبر پر پیشاب کرے گا۔ صحابہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! یہ فرمائیے کہ اس زمانے میں مدینے کے پھل کس کام آئیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پرندے اور درندے ان پھلوں کو کھائیں گے۔"


المؤطا للامام مالک:3310
صحیح ابن حبان:6773


بیت المقدس کی آبادی کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آخری زمانے میں خلافت وہاں منتقل ہوجائے گی، جیسا کہ عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ کی روایت میں آیا ہے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي ضَمْرَةُ،‏‏‏‏ أَنَّ ابْنَ زُغْبٍ الْإِيَادِيّ حَدَّثَهُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ نَزَلَ عَلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ،‏‏‏‏ فَقَالَ لِي:‏‏‏‏ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَغْنَمَ عَلَى أَقْدَامِنَا فَرَجَعْنَا،‏‏‏‏ فَلَمْ نَغْنَمْ شَيْئًا وَعَرَفَ الْجَهْدَ فِي وُجُوهِنَا فَقَامَ فِينَا فَقَالَ:‏‏‏‏ "اللَّهُمَّ لَا تَكِلْهُمْ إِلَيَّ فَأَضْعُفَ عَنْهُمْ،‏‏‏‏ وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى أَنْفُسِهِمْ فَيَعْجِزُوا عَنْهَا،‏‏‏‏ وَلَا تَكِلْهُمْ إِلَى النَّاسِ فَيَسْتَأْثِرُوا عَلَيْهِمْ،‏‏‏‏ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ عَلَى هَامَتِي،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ حَوَالَةَ إِذَا رَأَيْتَ الْخِلَافَةَ قَدْ نَزَلَتْ أَرْضَ الْمُقَدَّسَةِ،‏‏‏‏ فَقَدْ دَنَتِ الزَّلَازِلُ وَالْبَلَابِلُ وَالْأُمُورُ الْعِظَامُ وَالسَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنَ النَّاسِ مِنْ يَدِي هَذِهِ مِنْ رَأْسِكَ"،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَوَالَةَ حِمْصِيٌّ.

ضمرہ کا بیان ہے کہ ابن زغب ایادی نے ان سے بیان کیا کہ عبداللہ بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ میرے پاس اترے، اور مجھ سے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بھیجا کہ ہم پیدل چل کر مال غنیمت حاصل کریں، تو ہم واپس لوٹے اور ہمیں کچھ بھی مال غنیمت نہ ملا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے تو ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اللہ! انہیں میرے سپرد نہ فرما کہ میں ان کی خبرگیری سے عاجز رہ جاؤں، اور انہیں ان کی ذات کے حوالہ (بھی) نہ کر کہ وہ اپنی خبرگیری خود کرنے سے عاجز آ جائیں، اور ان کو دوسروں کے حوالہ نہ کر کہ وہ خود کو ان پر ترجیح دیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر یا میری گدی پر رکھا اور فرمایا: ”اے ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت ارض مقدس میں منتقل ہوچکی ہے، تو سمجھ لو کہ زلزلے، مصیبتیں اور بڑے بڑے واقعات (کے ظہور کا وقت) قریب آ گیا ہے، اور قیامت اس وقت لوگوں سے اتنی قریب ہو گی جتنا کہ میرا یہ ہاتھ تمہارے سر سے قریب ہے“۔

سنن أبي داود،كتاب الجهاد،حدیث نمبر: 2535

گزشتہ حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ،‏‏ الملحمہ سے مراد وہ عظیم معرکہ جو مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان برپا ہوگا اور اس میں بے شمار لوگ قتل ہوں گے۔ اسے ملحمہ اسی لیے کہا جائے گا کہ اس میں قتل و خونریزی بہت ہوگی۔ اس معرکے کے بعد قسطنطنیہ کی فتح عمل میں آئے گی۔ آج کے زمانے میں یہ استنبول کا شہر ہے جو کہ ترکی کے بڑے شہروں میں سے ہے۔ پھر فتح قسطنطنیہ کے بعد دجال ظاہر ہوگا۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
112-مدینہ شریروں کو اس طرح نکال دے گا جس طرح بھٹی لوہے کا زنگ دور کر دیتی ہے۔


علامات قیامت میں سے جو علامت اس سے پہلے بیان کی گئی ہے کہ مدینہ بے آباد اور باشندوں سے خالی ہوجائے گا، یہ علامت اسی کا تکملہ ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد مدینہ کی آبادی اور رونق میں بے حد اضافہ ہوا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اس کی آبادی اور رونق میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا رہا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ لوگ مدینہ میں رہائش کی خواہش سے بے نیاز ہو جائیں گے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:


يَأْتِي عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ يَدْعُو الرَّجُلُ ابْنَ عَمِّهٖ وَقَرِيبَهٗ هَلُمَّ إِلَی الرَّخَاءِ هَلُمَّ إِلَی الرَّخَاءِ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ کَانُوا يَعْلَمُونَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَا يَخْرُجُ مِنْهُمْ أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَخْلَفَ اللہُ فِيهَا خَيْرًا مِنْهُ أَلَا إِنَّ الْمَدِينَةَ کَالْکِيرِ تُخْرِجُ الْخَبِيثَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتّٰی تَنْفِيَ الْمَدِينَةُ شِرَارَهَا کَمَا يَنْفِي الْکِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ۔

لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ایک مدینہ کا رہنے والا شخص اپنے چچازاد بھائیوں اور رشتہ داروں کو بلا کر کہے گا کہ(مدینہ کو چھوڑو) خوشحالی کی طرف نکلو، خوشحالی کی طرف آؤ، حالانکہ مدینہ ہی ان کے لئے بہتر ہے، کاش کہ وہ لوگ جان لیں، قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اللہ وہاں سے کسی کو نہیں نکالے گا سوائے اس کے کہ جو وہاں سے اعراض کرے گا تو اللہ اس کی جگہ وہاں اسے آباد فرمائیں گے کہ جو اس سے بہتر ہوگا، آگاہ رہو کہ مدینہ ایک بھٹی کی طرح ہے، جو خبیث چیز یعنی میل کچیل کو باہر نکال دیتا ہے اور قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مدینہ اپنے اندر سے شریر لوگوں کو باہر نکال پھینکے گا جس طرح کہ لو ہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو باہر نکال دیتی ہے۔

صحیح مسلم، الحج، حدیث:1381

عمر بن عبدالعزیز سے روایت کی گئی ہے کہ وہ مدینہ سے نکلے تو اپنے آزاد کردہ غلام مزاحم سے کہا: اے مزاحم! کیا ہم ان لوگوں میں شامل تو نہیں ہوگئے، جنہیں مدینہ اپنے اندر سے نکال باہر کرے گا؟

اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر وہ شخص جو مدینہ میں سکونت اختیار کرے اور پھر یہاں سے نقل مکانی کرتے ہوئے اسے چھوڑ دے یا مدینہ سے کسی دوسرے شہر میں چلا جائے تو وہ شریر اور خبیث لوگوں میں سے ہے۔ ہرگز اس کا مفہوم یہ نہیں! صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بہترین شخصیات نے جہاد اور دعوت کے مقاصد کے پیش نظر مدینہ کو چھوڑا، بہت سے دوسرے شہروں میں رہائش اختیار کی اور اس میں کوئی ہرج نہیں سمجھا۔


ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"يَتْرُكُونَ الْمَدِينَةَ عَلَى خَيْرِ،‏‏‏‏ مَا كَانَتْ لَا يَغْشَاهَا إِلَّا الْعَوَافِ"

"لوگ مدینہ کو اس حال میں چھوڑ دیں گے جبکہ اس کے حالات عمدہ ہوں گے، اس میں صرف پرندے اور درندے ہی رہ جائیں گے۔"

صحیح بخاری، كتاب فضائل المدينة،حدیث نمبر: 1874
صحیح مسلم،الحج، حدیث:1389

‏‏‏‏

مطلب یہ ہے کہ لوگ ایسے حالات میں بھی مدینہ کی رہائش چھوڑ دیں گے جبکہ وہاں معاشی حالات بہت بہتر ہوں گے، وہاں پھل کثرت سے ہوں گے، معیشت بہت عمدہ ہوگی مگر کچھ ایسے فتنے اور سختیاں لوگوں کو گھیر لیں گی جن کے باعث وہ مدینہ کو چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ باشندگانِ مدینہ آہستہ آہستہ وہاں سے دوسرے شہروں میں منتقل ہوتے چلے جائیں گے، حتیٰ کہ وہاں کوئی شخص باقی نہیں رہے گا۔ بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ گھر، سڑکیں اور مساجد انسانوں سے خالی ہوجائیں گی، پرندے اور درندے مساجد میں آزادانہ گھومیں گے، وہ وہاں بول و براز کریں گے اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہوگا، اس لیے کہ شہر انسانوں سے خالی ہوچکا ہوگا۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
113-پہاڑوں کا اپنی جگہ سے ٹل جانا:


اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو مضبوط اور ٹھوس شکل میں پیدا فرمایا ہے۔یہ زمین کے لیے میخوں کا کام دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ قیامت کے نزدیک پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ پہاڑوں کا یہ زوال یا تو حقیقی طور پر ہوگا، یعنی وہ زمین میں دھنسنے لگیں گے یا بجلیوں اور طوفانوں کی کثرت کے باعث اپنی جگہ سے ہل جائیں گے۔ یا ان کا زوال لوگوں کے تعمیری اور توسیعی منصوبوں کے باعث ہوگا، جیسا کہ آج دنیا کے بہت سے ممالک میں ہورہا ہے کہ بڑی بڑی عمارات کی تعمیر کے لیے پہاڑوں کو کاٹا اور کھودا جا رہا ہے۔ پہاڑوں کے زوال کی تیسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پہاڑوں کے پتھر کثرت سے ٹوٹ ٹوٹ کر گریں اور چٹانیں اپنی جگہ چھوڑ کر زمین بوس ہوجائیں، جیسا کہ مختلف علاقوں میں متعدد بار وقوع پذیر ہوچکا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٌ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْسَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَزُولَالْجِبَالُعَنْأَمَاكِنِهَا، وَتَرَوْنَ الْأُمُورَ الْعِظَامَ الَّتِي لَمْ تَكُونُوا تَرَوْنَهَا

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"قیامت قائم نہ ہوگی جب تک پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل نہ جائیں اور تم ایسے عظیم حوادث و واقعات کا مشاہدہ نہ کر لو جو تم نے اس سے پہلے نہ دیکھے ہوں۔"


المعجم الکبیر للطبرانی:6857، والسلسلۃ الصحیحۃ:3061
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
114-ایک قحطانی کا ظہور، لوگ جس کی اطاعت کریں گے:


قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آخری زمانے میں بنو قحطان میں سے ایک شخص خروج کرے گا (قحطان ایک مشہور عربی قبیلہ ہے)۔ اس کی قیادت و سیادت پر تمام لوگ متفق ہوجائیں گے۔ یہ اس وقت ہوگا جب زمانہ تبدیل ہوجائے گا۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ

”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ قبیلہ قحطان میں ایک ایسا شخص ظاہر نہ ہو جائے جو لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا۔“

صحیح بخاری،كتاب المناقب،حدیث: 3517
صحیح مسلم، الفتن، حدیث:2910


لوگوں کو لاٹھی سے ہانکنے کا مفہوم یہ نہیں کہ وہ ان پر ڈنڈے برسائے گا بلکہ یہ ایک عربی محاورہ ہے جس کے معنی ہیں کہ لوگ اس کے اشارے پر چلیں گے اور صراط مستقیم پر رہیں گے۔ اس خبر میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اس حکمران کی لوگوں پر مکمل گرفت ہوگی اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس کی طبیعت میں کسی حد تک خشکی اور سختی بھی ہوگی۔

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص نیک اور صالح ہوگا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: "اور قحطان سے ایک آدمی ہوگا جو نیک اور صالح ہوگا۔"

فتح الباری شرح صحیح بخاری:6-534 (حدیث:3389)، الفتن لنعیم بن حماد:1204

اس شخص کا قحطان سے ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ شخص آزاد ہوگا۔ یہ اس شخص کے علاوہ کوئی دوسرا ہے جس کے ظہور کی دوسری روایات میں پیشین گوئی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس کا نام جہجاہ ہوگا اور یہ آزاد کردہ غلاموں میں سے ہوگا۔
 
Top