- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
غزوۂ اُحد
انتقامی جنگ کے لیے قریش کی تیاریاں:
اہل مکہ کو معرکہء بدر میں شکست و ہزیمت کی جو زک اور اپنے صَنادید و اَشراف کے قتل کا جو صدمہ برداشت کرنا پڑا تھا اس کے سبب وہ مسلمانوں کے خلاف غیظ و غضب سے کھول رہے تھے، حتیٰ کہ انہوں نے اپنے مقتولین پر آہ و فغاں کرنے سے بھی روک دیا تھا اور قیدیوں کے فدیے کی ادائیگی میں بھی جلد بازی کا مظاہرہ کرنے سے منع کر دیا تھا تاکہ مسلمان ان کے رنج و غم کی شدت کا اندازہ نہ کر سکیں۔ پھر انہوں نے جنگ بدر کے بعد یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ مسلمانوں سے ایک بھر پور جنگ لڑ کر اپنا کلیجہ ٹھنڈا کریں اور اپنے جذبۂ غیظ و غضب کو تسکین دیں۔ اور اس کے ساتھ ہی اس طرح کی معرکہ آرائی کی تیاری بھی شروع کر دی۔ اس معاملے میں سردارانِ قریش میں سے عِکرمَہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ، ابو سفیان بن حرب، اور عبد اللہ بن ربیعہ زیادہ پُر جوش تھے اور سب سے پیش پیش تھے۔
ان لوگوں نے اس سلسلے میں پہلا کام یہ کیا کہ ابو سفیان کا وہ قافلہ جو جنگ بدر کا باعث بنا تھا اور جسے ابو سفیان بچا کر نکال لے جانے میں کامیاب ہو گیا تھا، اس کا سارا مال جنگی اخراجات کے لیے روک لیا اور جن لوگوں کا مال تھا ان سے کہا کہ اے قریش کے لوگو! تمہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت دھچکا لگایا ہے اور تمہارے منتخب سرداروں کو قتل کر ڈالا ہے۔ لہٰذا ان سے جنگ کرنے کے لیے اس مال کے ذریعے مدد کرو، ممکن ہے کہ ہم بدلہ چکا لیں۔ قریش کے لوگوں نے اسے منظور کر لیا۔ چنانچہ یہ سارا مال جس کی مقدار ایک ہزار اونٹ اور پچاس ہزار دینار تھی، جنگ کی تیاری کے لیے بیچ ڈالا گیا۔ اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے:
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ (۸: ۳۶)
''جن لوگوں نے کفر کیا وہ اپنے اموال اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے خرچ کریں گے۔ تو یہ خرچ تو کریں گے لیکن پھر یہ ان کے لیے باعث حسرت ہو گا۔ پھر مغلوب کیے جائیں گے۔''
پھر انہوں نے رضا کارانہ جنگی خدمات کا دروازہ کھول دیا کہ جو اَحَابِیش، کنانہ اور اہل تِہامہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک ہونا چاہیں وہ قریش کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے ترغیب و تحریص کی مختلف صورتیں بھی اختیار کیں، یہاں تک کہ ابو عزہ شاعر جو جنگ بدر میں قید ہوا تھا اور جس کو رسول اللہ ﷺ نے یہ عہد لے کر کہ اب وہ آپ ﷺ کے خلاف کبھی نہ اٹھے گا ازراہِ احسان بلا فدیہ چھوڑدیا تھا، اسے صفوان بن امیہ نے ابھارا کہ وہ قبائل کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کا کام کرے اور اس سے یہ عہد کیا کہ اگروہ لڑائی سے بچ کر زندہ و سلامت واپس آ گیا تو اسے مالا مال کر دے گا، ورنہ اس کی لڑکیوں کی کفالت کرے گا۔ چنانچہ ابو عزہ نے رسول اللہ ﷺ سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو پسِ پشت ڈال کر جذباتِ غیرت و حمیت کو شعلہ زن کر نے والے اشعار کے ذریعے قبائل کو بھڑکانا شروع کر دیا۔ اسی طرح قریش نے ایک اور شاعر مسافع بن عبد مناف جُمحی کو اس مہم کے لیے تیار کیا۔
ادھر ابو سفیان نے غزوہ سَویق سے ناکام و نامراد بلکہ سامان رسد کی ایک بہت بڑی مقدار سے ہاتھ دھو کر واپس آنے کے بعد مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو ابھارنے اور بھڑکانے میں کچھ زیادہ ہی سرگرمی دکھائی۔
پھر اخیر میں سَریۂ زیدؓ بن حارثہ کے واقعے سے قریش کو جس سنگین اور اقتصادی طور پر کمر توڑ خسارے سے دوچار ہونا پڑا اور انہیں جس قدر بے اندازہ رنج و الم پہنچا اس نے آگ پر تیل کا کام کیا اور اس کے بعد مسلمانوں سے ایک فیصلہ کن جنگ لڑنے کے لیے قریش کی تیاری کی رفتار میں بڑی تیزی آ گئی۔
قریش کا لشکر، سامانِ جنگ اور کمان:
چنانچہ سال پورا ہوتے ہوتے قریش کی تیاری مکمل ہو گئی۔ ان کے اپنے افراد کے علاوہ ان کے حلیفوں اور احابیش کو ملا کر مجموعی طور پر کل تین ہزار فوج تیار ہوئی۔ قائدین قریش کی رائے ہوئی کہ اپنے ساتھ عورتیں بھی لے چلیں تاکہ حرمت و ناموس کی حفاظت کا احساس کچھ زیادہ ہی جذبہ جان سپاری کے ساتھ لڑنے کا سبب بنے۔ لہٰذا اس لشکر میں ان کی عورتیں بھی شامل ہوئیں جن کی تعداد پندرہ تھی۔ سواری و باربرداری کے لیے تین ہزار اونٹ تھے اور رسالے کے لیے دو سو گھوڑے۔ (زاد المعاد ۲/۹۲۔ یہی مشہور ہے۔ لیکن فتح الباری ۷/۳۴۶ میں گھوڑوں کی تعداد ایک سو بتائی گئی ہے) ان گھوڑوں کو تازہ دم رکھنے کے لیے انہیں پورے راستے بازو میں لے جایا گیا، یعنی ان پر سواری نہیں کی گئی۔ حفاظتی ہتھیاروں میں سات سو زِرہیں تھیں۔
ابو سفیان کو پورے لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا گیا۔ رسالے کی کمان خالد بن ولید کو دی گئی اور عکرمہ بن ابی جہل کو ان کا معاون بنایا گیا۔ پرچم مقررہ دستور کے مطابق قبیلہ بنی عبد الدار کے ہاتھ میں دیا گیا۔
مکی لشکر کی روانگی:
اس بھر پور تیاری کے بعد مکی لشکر نے اس حالت میں مدینے کا رُخ کیا کہ مسلمانوں کے خلاف غم و غصہ اور انتقام کا جذبہ ان کے دلوں میں شعلہ بن کر بھڑک رہا تھا اور یہ عنقریب پیش آنے والی جنگ کی خونریزی اور شدت کا پتا دے رہا تھا۔