• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم غزوۂ اُحد

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
غزوۂ اُحد

انتقامی جنگ کے لیے قریش کی تیاریاں:
اہل مکہ کو معرکہء بدر میں شکست و ہزیمت کی جو زک اور اپنے صَنادید و اَشراف کے قتل کا جو صدمہ برداشت کرنا پڑا تھا اس کے سبب وہ مسلمانوں کے خلاف غیظ و غضب سے کھول رہے تھے، حتیٰ کہ انہوں نے اپنے مقتولین پر آہ و فغاں کرنے سے بھی روک دیا تھا اور قیدیوں کے فدیے کی ادائیگی میں بھی جلد بازی کا مظاہرہ کرنے سے منع کر دیا تھا تاکہ مسلمان ان کے رنج و غم کی شدت کا اندازہ نہ کر سکیں۔ پھر انہوں نے جنگ بدر کے بعد یہ متفقہ فیصلہ کیا کہ مسلمانوں سے ایک بھر پور جنگ لڑ کر اپنا کلیجہ ٹھنڈا کریں اور اپنے جذبۂ غیظ و غضب کو تسکین دیں۔ اور اس کے ساتھ ہی اس طرح کی معرکہ آرائی کی تیاری بھی شروع کر دی۔ اس معاملے میں سردارانِ قریش میں سے عِکرمَہ بن ابی جہل، صفوان بن امیہ، ابو سفیان بن حرب، اور عبد اللہ بن ربیعہ زیادہ پُر جوش تھے اور سب سے پیش پیش تھے۔
ان لوگوں نے اس سلسلے میں پہلا کام یہ کیا کہ ابو سفیان کا وہ قافلہ جو جنگ بدر کا باعث بنا تھا اور جسے ابو سفیان بچا کر نکال لے جانے میں کامیاب ہو گیا تھا، اس کا سارا مال جنگی اخراجات کے لیے روک لیا اور جن لوگوں کا مال تھا ان سے کہا کہ اے قریش کے لوگو! تمہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت دھچکا لگایا ہے اور تمہارے منتخب سرداروں کو قتل کر ڈالا ہے۔ لہٰذا ان سے جنگ کرنے کے لیے اس مال کے ذریعے مدد کرو، ممکن ہے کہ ہم بدلہ چکا لیں۔ قریش کے لوگوں نے اسے منظور کر لیا۔ چنانچہ یہ سارا مال جس کی مقدار ایک ہزار اونٹ اور پچاس ہزار دینار تھی، جنگ کی تیاری کے لیے بیچ ڈالا گیا۔ اسی بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے:
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ فَسَيُنفِقُونَهَا ثُمَّ تَكُونُ عَلَيْهِمْ حَسْرَ‌ةً ثُمَّ يُغْلَبُونَ (۸: ۳۶)
''جن لوگوں نے کفر کیا وہ اپنے اموال اللہ کی راہ سے روکنے کے لیے خرچ کریں گے۔ تو یہ خرچ تو کریں گے لیکن پھر یہ ان کے لیے باعث حسرت ہو گا۔ پھر مغلوب کیے جائیں گے۔''
پھر انہوں نے رضا کارانہ جنگی خدمات کا دروازہ کھول دیا کہ جو اَحَابِیش، کنانہ اور اہل تِہامہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک ہونا چاہیں وہ قریش کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے ترغیب و تحریص کی مختلف صورتیں بھی اختیار کیں، یہاں تک کہ ابو عزہ شاعر جو جنگ بدر میں قید ہوا تھا اور جس کو رسول اللہ ﷺ نے یہ عہد لے کر کہ اب وہ آپ ﷺ کے خلاف کبھی نہ اٹھے گا ازراہِ احسان بلا فدیہ چھوڑدیا تھا، اسے صفوان بن امیہ نے ابھارا کہ وہ قبائل کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کا کام کرے اور اس سے یہ عہد کیا کہ اگروہ لڑائی سے بچ کر زندہ و سلامت واپس آ گیا تو اسے مالا مال کر دے گا، ورنہ اس کی لڑکیوں کی کفالت کرے گا۔ چنانچہ ابو عزہ نے رسول اللہ ﷺ سے کیے ہوئے عہد و پیمان کو پسِ پشت ڈال کر جذباتِ غیرت و حمیت کو شعلہ زن کر نے والے اشعار کے ذریعے قبائل کو بھڑکانا شروع کر دیا۔ اسی طرح قریش نے ایک اور شاعر مسافع بن عبد مناف جُمحی کو اس مہم کے لیے تیار کیا۔
ادھر ابو سفیان نے غزوہ سَویق سے ناکام و نامراد بلکہ سامان رسد کی ایک بہت بڑی مقدار سے ہاتھ دھو کر واپس آنے کے بعد مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو ابھارنے اور بھڑکانے میں کچھ زیادہ ہی سرگرمی دکھائی۔
پھر اخیر میں سَریۂ زیدؓ بن حارثہ کے واقعے سے قریش کو جس سنگین اور اقتصادی طور پر کمر توڑ خسارے سے دوچار ہونا پڑا اور انہیں جس قدر بے اندازہ رنج و الم پہنچا اس نے آگ پر تیل کا کام کیا اور اس کے بعد مسلمانوں سے ایک فیصلہ کن جنگ لڑنے کے لیے قریش کی تیاری کی رفتار میں بڑی تیزی آ گئی۔
قریش کا لشکر، سامانِ جنگ اور کمان:
چنانچہ سال پورا ہوتے ہوتے قریش کی تیاری مکمل ہو گئی۔ ان کے اپنے افراد کے علاوہ ان کے حلیفوں اور احابیش کو ملا کر مجموعی طور پر کل تین ہزار فوج تیار ہوئی۔ قائدین قریش کی رائے ہوئی کہ اپنے ساتھ عورتیں بھی لے چلیں تاکہ حرمت و ناموس کی حفاظت کا احساس کچھ زیادہ ہی جذبہ جان سپاری کے ساتھ لڑنے کا سبب بنے۔ لہٰذا اس لشکر میں ان کی عورتیں بھی شامل ہوئیں جن کی تعداد پندرہ تھی۔ سواری و باربرداری کے لیے تین ہزار اونٹ تھے اور رسالے کے لیے دو سو گھوڑے۔ (زاد المعاد ۲/۹۲۔ یہی مشہور ہے۔ لیکن فتح الباری ۷/۳۴۶ میں گھوڑوں کی تعداد ایک سو بتائی گئی ہے) ان گھوڑوں کو تازہ دم رکھنے کے لیے انہیں پورے راستے بازو میں لے جایا گیا، یعنی ان پر سواری نہیں کی گئی۔ حفاظتی ہتھیاروں میں سات سو زِرہیں تھیں۔
ابو سفیان کو پورے لشکر کا سپہ سالار مقرر کیا گیا۔ رسالے کی کمان خالد بن ولید کو دی گئی اور عکرمہ بن ابی جہل کو ان کا معاون بنایا گیا۔ پرچم مقررہ دستور کے مطابق قبیلہ بنی عبد الدار کے ہاتھ میں دیا گیا۔
مکی لشکر کی روانگی:
اس بھر پور تیاری کے بعد مکی لشکر نے اس حالت میں مدینے کا رُخ کیا کہ مسلمانوں کے خلاف غم و غصہ اور انتقام کا جذبہ ان کے دلوں میں شعلہ بن کر بھڑک رہا تھا اور یہ عنقریب پیش آنے والی جنگ کی خونریزی اور شدت کا پتا دے رہا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مدینے میں اطلاع:
حضرت عباسؓ قریش کی اس ساری نقل و حرکت اور جنگی تیاریوں کا بڑی چابکدستی اور گہرائی سے مطالعہ کر رہے تھے، چنانچہ جوں ہی یہ لشکر حرکت میں آیا، حضرت عباسؓ نے اس کی ساری تفصیلات پر مشتمل ایک خط فوراً نبی ﷺ کی خدمت میں روانہ فرما دیا۔
حضرت عباسؓ کا قاصد پیغام رسانی میں نہایت پُھرتیلا ثابت ہوا۔ اس نے مکے سے مدینے تک کوئی پانچ سو کلومیٹر کی مسافت تین دن میں طے کر کے ان کا خط نبی ﷺ کے حوالے کیا۔ اس وقت آپ مسجد قباء میں تشریف فرما تھے۔
یہ خط حضرت اُبی بن کعبؓ نے نبی ﷺ کو پڑھ کر سنایا۔ آپ ﷺ نے انہیں رازداری برتنے کی تاکید کی اور جھٹ مدینہ تشریف لا کر انصار و مہاجرین کے قائدین سے صلاح و مشورہ کیا۔
ہنگامی صورتِ حال کے مقابلے کی تیاری:
اس کے بعد مدینے میں عام لام بندی کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ لوگ کسی بھی اچانک صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت ہتھیار بند رہنے لگے۔ حتی کہ نماز میں بھی ہتھیار جدا نہیں کیا جاتا تھا۔
ادھر انصار کا ایک مختصر سا دستہ، جس میں سعد بن معاذ، اُسَید بن حُضیراور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہم تھے، رسول اللہ ﷺ کی نگرانی پر تعینات ہو گیا۔ یہ لوگ ہتھیار پہن کر ساری ساری رات رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر گزار دیتے تھے۔
کچھ اور دستے اس خطرے کے پیش نظر کہ غفلت کی حالت میں اچانک کوئی حملہ نہ ہو جائے۔ مدینے میں داخلے کے مختلف راستوں پر تعینات ہو گئے۔
چند دیگر دستوں نے دشمن کی نقل و حرکت کا پتا لگانے کے لیے طلایہ گردی شروع کر دی یہ دستے ان راستوں پر گشت کرتے رہتے تھے جن سے گزر کر مدینے پر چھاپہ مارا جا سکتا تھا۔
مکی لشکر، مدینے کے دامن میں:
ادھر مکی لشکر معروف کاروانی شاہراہ پر چلتا رہا۔ جب اَبْوَاء پہنچا تو ابو سفیان کی بیوی ہند بنت عُتبہ نے یہ تجویز پیش کی کہ رسول اللہ ﷺ کی والدہ کی قبر اکھیڑ دی جائے۔
لیکن اس دروازے کو کھولنے کے جو سنگین نتائج نکل سکتے تھے اس کے خوف سے قائدین لشکر نے یہ تجویز منظور نہ کی۔ اس کے بعد لشکر نے اپنا سفر بدستور جاری رکھا یہاں تک کہ مدینے کے قریب پہنچ کر پہلے وادیٔ عقیق سے گزرا، پھر کسی قدر داہنے جانب کترا کر کوہ اُحد کے قریب عینین نامی ایک مقام پر جو مدینہ کے شمال میں وادی قناۃ کے کنارے ایک بنجر زمین ہے پڑاؤ ڈال دیا۔ یہ جمعہ ۶ شوال ۳ھ کا واقعہ ہے۔
مدینے کی دفاعی حکمت عملی کے لیے مجلس شوریٰ کا اجلاس:
مدینے کے ذرائع اطلاعات مکی لشکر کی ایک ایک خبر مدینہ پہنچا رہے تھے، حتیٰ کہ اس کے پڑاؤ کی بابت آخری خبر بھی پہنچا دی۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فوجی ہائی کمان کی مجلس شوریٰ منعقد فرمائی جس میں مناسب حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے صلاح مشورہ کرنا تھا۔ آپ ﷺ نے انہیں اپنا دیکھا ہوا ایک خواب بتلایا۔ آپ ﷺ نے بتلایا کہ واللہ! میں نے ایک بھلی چیز دیکھی۔ میں نے دیکھا کہ کچھ گائیں ذبح کی جا رہی ہیں اور میں نے دیکھا کہ میری تلوار کے سرے پر کچھ شکستگی ہے اور یہ بھی دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ ایک محفوظ زِرہ میں داخل کیا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے گائے کی یہ تعبیر بتلائی کہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم قتل کیے جائیں گے۔ تلوارمیں شکستگی کی یہ تعبیر بتلائی کہ آپ ﷺ کے گھر کا کوئی آدمی شہید ہو گا اور محفوظ زِرہ کی یہ تعبیر بتلائی کہ اس سے مراد شہر مدینہ ہے۔
پھر آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے دفاعی حکمت عملی کے متعلق اپنی رائے پیش کی کہ مدینے سے باہر نہ نکلیں بلکہ شہر کے اندر ہی قلعہ بند ہو جائیں۔ اب اگر مشرکین اپنے کیمپ میں مقیم رہتے ہیں تو بے مقصد اور بُرا قیام ہو گا اور اگر مدینے میں داخل ہوتے ہیں تو مسلمان گلی کوچے کے ناکوں پر ان سے جنگ کریں گے اور عورتیں چھتوں کے اُوپر سے ان پر خشت باری کریں گی۔ یہی صحیح رائے تھی اور اسی رائے سے عبد اللہ بن اُبی راس المنافقین نے بھی اتفاق کیا جو اس مجلس میں خزرج کے ایک سر کردہ نمائندہ کی حیثیت سے شریک تھا لیکن اس کے اتفاق کی بنیاد یہ نہ تھی کہ جنگی نقطۂ نظر سے یہی صحیح موقف تھا بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ جنگ سے دور بھی رہے اور کسی کو اس کا احساس بھی نہ ہو۔ لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس نے چاہا کہ یہ شخص اپنے رفقاء سمیت پہلی بار سر عام رسوا ہو جائے اور اُن کے کفر و نفاق پر جو پردہ پڑا ہوا ہے وہ ہٹ جائے، اور مسلمانوں کو اپنے مشکل ترین وقت میں معلوم ہو جائے کہ کی آستین میں کتنے سانپ رینگ رہے ہیں۔
چنانچہ فضلاء صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے جو بدر میں شرکت سے رہ گئی تھی ، بڑھ کر نبی ﷺ کو مشورہ دیا کہ میدان میں تشریف لے چلیں اور انہوں نے اپنی اس رائے پر سخت اصرار کیا، حتیٰ کہ بعض صحابہؓ نے کہا: ''اے اللہ کے رسول! ہم تو اس دن کی تمنا کیا کرتے تھے اور اللہ سے اس کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ اب اللہ نے یہ موقع فراہم کر دیا ہے اور میدان میں نکلنے کا وقت آ گیا ہے تو پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے مد مقابل ہی تشریف لے چلیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہم ڈر گئے ہیں۔
ان گرم جوش حضرات میں خود رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب سرفہرست تھے جو معرکہ بدر میں اپنی تلوار کا جوہر دکھلا چکے تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کی کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل کی میں کوئی غذانہ چکھوں گا یہاں تک کہ مدینہ سے باہر اپنی تلوار کے ذریعے ان سے دو دو ہاتھ کر لوں۔ (سیرۃ حلبیہ ۲/۱۴)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کے اصرار کے سامنے اپنی رائے ترک کر دی اور آخری فیصلہ یہی ہوا کہ مدینے سے باہر نکل کر کھلے میدان میں معرکہ آرائی کی جائے۔
اسلامی لشکر کی ترتیب اور میدانِ جنگ کے لیے روانگی :
اس کے بعد نبی ﷺ نے جمعہ کی نماز پڑھائی تو وعظ و نصیحت کی، جد و جہد کی ترغیب دی اور بتلایا کہ صبر اور ثابت قدمی ہی سے غلبہ حاصل ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی حکم دیا کہ دشمن سے مقابلے کے لیے تیار ہو جائیں، یہ سن کر لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
اس کے بعد جب آپ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی تو اس وقت تک لوگ جمع ہو چکے تھے۔ عَوَالی کے باشندے بھی آ چکے تھے۔ نماز کے بعد آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے۔ ساتھ میں ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ کے سر پر عَمامَہ باندھا اور لباس پہنایا۔ آپ ﷺ نے نیچے اوپر دو زِرہیں پہنیں، تلوار حمائل کی اور ہتھیار سے آراستہ ہو کر لوگوں کے سامنے تشریف لائے۔
لوگ آپ ﷺ کی آمد کے منتظر تو تھے ہی لیکن اس دوران حضرت سعد بن معاذ اور اُسَیْد بن حُضیر رضی اللہ عنہما نے لوگوں سے کہا کہ آپ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو میدان میں نکلنے پر زبردستی آمادہ کیا ہے، لہٰذا معاملہ آپ ﷺ ہی کے حوالے کر دیجیے۔ یہ سن کر سب لوگوں نے ندامت محسوس کی اور جب آپ ﷺ باہر تشریف لائے تو آپ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمیں آپ کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ آپ ﷺ کو جو پسند ہو وہی کیجیے۔ اگر آپ ﷺ کو یہ پسند ہے کہ مدینے میں رہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کوئی نبی جب اپنا ہتھیار پہن لے تو مناسب نہیں کہ اسے اتار ے تا آنکہ اللہ اس کے درمیان اور اس کے دشمن کے درمیا ن فیصلہ فرما دے ۔'' (مسند احمد، نسائی، حاکم۔ ابن اسحاق اور بخاری نے الاعتصام، باب نمبر ۲۸ کے ترجمۃ الباب میں ذکر کیا ہے)
اس کے بعد نبی ﷺ نے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم فرمایا:
مہاجرین کا دستہ: اس کا پرچم حضرت مُصْعب بن عُمیر عبدریؓ کو عطا کیا۔
قبیلۂ اوس (انصار) کا دستہ: اس کا علم حضرت اُسید بن حضیرؓ کو عطا فرمایا۔
قبیلہ خزرج (انصار) کا دستہ: اس کا عَلَم حباب بن منذرؓ کو عطا فرمایا۔
پورا لشکر ایک ہزار مردانِ جنگی پر مشتمل تھا جن میں ایک سو زِرہ پوش اور پچاس شہسوار تھے۔ (یہ بات ابن قیم نے زاد المعاد ۲/۹۲ میں بیان کی ہے۔ حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیں کہ یہ فاش غلطی ہے۔ موسیٰ بن عقبہ نے جزم کے ساتھ کہا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ اُحد میں سرے سے کوئی گھوڑا تھا ہی نہیں۔ واقدی کا بیان ہے کہ صرف دو گھوڑے تھے، ایک رسول اللہ ﷺ کے پاس۔ اور ایک ابو بُردہؓ کے پاس۔ (فتح الباری ۷/۳۵۰)) اور یہ بھی کہا
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جاتا ہے کہ شہسوار کوئی بھی نہ تھا۔
حضرت ابن ام مکتومؓ کو اس کام پر مقرر فرمایا کہ وہ مدینے کے اندر رہ جانے والے لوگوں کو نماز پڑھائیں گے۔ اس کے بعد کوچ کا اعلان فرمایا اور لشکر نے شمال کا رُخ کیا۔ حضرت سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما زرہ پہنے نبی ﷺ کے آگے چل رہے تھے۔
ثَنِیّۃ الوداع سے آگے بڑھے تو ایک دستہ نظر آیا جو نہایت عمدہ ہتھیار پہنے ہوئے تھا اور پورے لشکر سے الگ تھلگ تھا۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا تو بتلایا گیا کہ خزرج کے حلیف یہود ہیں۔ (یہ واقعہ ابن سعد نے روایت کیا ہے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ بنو قینقاع کے یہود تھے۔ (۲/۳۴) لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ بنو قینقاع کو جنگ بدر کے کچھ ہی دنوں بعد جلا وطن کر دیا گیا تھا) جو مشرکین کے خلاف شریک جنگ ہونا چاہتے ہیں۔ آپ نے دریافت فرمایا: کیا یہ مسلمان ہو چکے ہیں؟ لوگوں نے کہا: نہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے اہل شرک کے خلاف اہلِ کفر کی مدد لینے سے انکار کر دیا۔
لشکر کا معائنہ:
پھر آپ ﷺ نے ''شیخان'' نامی ایک مقام تک پہنچ کر لشکر کا معائنہ فرمایا۔ جو لوگ چھوٹے یا ناقابل جنگ نظر آئے انہیں واپس کر دیا۔ ان کے نام یہ ہیں: حضرت عبد اللہ بن عمر، اسامہ بن زید، اسید بن ظہیر، زید بن ثابت، زید بن ارقم، عرابہ بن اوس، عَمرو بن حزم، ابو سعید خدری، زید بن حارثہ انصاری اور سعد بن حبہ رضی اللہ عنہم۔ اسی فہرست میں حضرت براء بن عازبؓ کا نام بھی ذکر کیا جاتا ہے لیکن صحیح بخاری میں ان کی جو روایت مذکور ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اُحد کے موقعے پر لڑائی میں شریک تھے۔
البتہ صغر سنّی کے باوجود حضرت رافع بن خدیج اور سمُرہ بن جُنْدُب رضی اللہ عنہما کو جنگ میں شرکت کی اجازت مل گئی۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ حضرت رافع بن خدیجؓ بڑے ماہر تیر انداز تھے، اس لیے اُنہیں اجازت مل گئی۔ جب اُنہیں اجازت مل گئی تو حضرت سمرہ بن جندبؓ نے کہا کہ میں تو رافع سے زیادہ طاقتور ہوں، میں اسے پچھاڑ سکتا ہوں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ ﷺ نے اپنے سامنے دونوں سے کشتی لڑوائی اور واقعتا سمرہؓ نے رافعؓ کو پچھاڑ دیا، لہٰذا انہیں بھی اجازت مل گئی۔
احد اور مدینے کے درمیان شب گزاری:
یہیں شام ہو چکی تھی۔ لہٰذا آپ ﷺ نے یہیں مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی اور یہیں رات بھی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ پہرے کے لیے پچاس صحابہ رضی اللہ عنہم منتخب فرمائے جو کیمپ کے گرد و پیش گشت لگاتے رہتے تھے۔ ان کے قائد محمد بن مسلمہ انصاریؓ تھے۔ یہ وہی بزرگ ہیں جنہوں نے کعب بن اشرف کو ٹھکانے لگانے والی جماعت کی قیادت فرمائی تھی۔ ذکوانؓ بن عبد اللہ بن قیس خاص نبی ﷺ کے پاس پہرہ دے رہے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
عبد اللہ بن اُبیّ اور اس کے ساتھیوں کی سرکشی:
طلوع فجر سے کچھ پہلے آپ پھر چل پڑے اور مقام ''شوط'' پہنچ کر فجر کی نماز پڑھی۔ اب آپ ﷺ دشمن کے بالکل قریب تھے اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ یہیں پہنچ کر عبد اللہ بن اُبیّ منافق نے بغاوت کر دی، اور کوئی ایک تہائی لشکر، یعنی تین سو افراد کو لے کر یہ کہتا ہوا واپس چلا گیا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ کیوں خواہ مخواہ اپنی جان دیں۔ اس نے اس بات پر بھی احتجاج کا مظاہرہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی بات نہیں مانی اور دوسروں کی بات مان لی۔
یقینا اس علیحدگی کا سبب وہ نہیں تھا جو اس منافق نے ظاہر کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی بات نہیں مانی، کیونکہ اس صورت میں جیشِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہاں تک اس کے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اسے لشکر کی روانگی کے پہلے ہی قدم پرالگ ہو جانا چاہیے تھا۔ اس لیے حقیقت وہ نہیں جو اس نے ظاہر کی تھی بلکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ اس نازک موڑ پر الگ ہو کر اسلامی لشکر میں ایسے وقت اضطراب اور کھلبلی مچانا چاہتا تھا جب دشمن اس کی ایک ایک نقل و حرکت دیکھ رہا ہو، تاکہ ایک طرف تو عام فوجی نبی ﷺ کا ساتھ چھوڑ دیں اور جو باقی رہ جائیں ان کے حوصلے ٹوٹ جائیں اور دوسری طرف اس منظر کو دیکھ کر دشمن کی ہمت بندھے اور اس کے حوصلے بلند ہوں۔ لہٰذا یہ کارروائی نبی ﷺ اور ان کے مخلص ساتھیوں کے خاتمے کی ایک مؤثر تدبیر تھی جس کے بعد اس منافق کو توقع تھی کہ اس کی اور اس کے رفقاء کی سرداری و سربراہی کے لیے میدان صاف ہو جائے گا۔
قریب تھا کہ یہ منافق اپنے بعض مقاصد کی برآری میں کامیاب ہو جاتا، کیونکہ مزید دو جماعتوں، یعنی قبیلہ اوس میں سے بنو حارثہ اور قبیلہ خزرج میں سے بنو سلمہ کے قد م بھی اکھڑ چکے تھے اور وہ واپسی کی سوچ رہے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی دستگیری کی اور یہ دونوں جماعتیں اضطراب اور ارادۂ واپسی کے بعد جم گئیں۔ انہیں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
إِذْ هَمَّت طَّائِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلَا وَاللَّـهُ وَلِيُّهُمَا ۗ وَعَلَى اللَّـهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿١٢٢﴾ (۳: ۱۲۲)[/arb]
''جب تم میں سے دو جماعتوں نے قصد کیا کہ بُزدلی اختیار کریں ، اور اللہ ان کا ولی ہے ، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے ۔''
بہرحال منافقین نے واپسی کا فیصلہ کیا تو اس نازک ترین موقعے پر حضرت جابرؓ کے والدحضرت عبد اللہ بن حرامؓ نے انہیں ان کا فرض یا د دلانا چاہا۔ چنانچہ موصوف انہیں ڈانٹتے ہوئے، واپسی کی ترغیب دیتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے چلے کہ آؤ! اللہ کی راہ میں لڑو یاد فاع کرو۔ مگر انہوں نے جواب میں کہا: اگر ہم جانتے کہ آپ لوگ لڑائی کریں گے تو ہم واپس نہ ہوتے۔ یہ جواب سن کر حضرت عبد اللہ بن حرام یہ کہتے ہوئے واپس ہوئے کہ او اللہ کے دشمنو! تم پر اللہ کی مار۔ یاد رکھو! اللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے مستغنی کر دے گا۔
انہی منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ ۗ هُمْ لِلْكُفْرِ‌ يَوْمَئِذٍ أَقْرَ‌بُ مِنْهُمْ لِلْإِيمَانِ ۚ يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ۗ وَاللَّـهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ ﴿١٦٧﴾ (۳: ۱۶۷)
''اور تاکہ اللہ انہیں بھی جان لے جنہوں نے منافقت کی، اور ان سے کہا گیا کہ آؤ اللہ کی راہ میں لڑائی کرو یا دفاع کرو تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم لڑائی جانتے تو یقینا تمہاری پیروی کرتے۔ یہ لوگ آج ایمان کی بہ نسبت کفر کے زیادہ قریب ہیں۔ منہ سے ایسی بات کہتے ہیں جو دل میں نہیں ہے اور یہ جو کچھ چھپاتے ہیں اللہ اسے جانتا ہے۔''
بقیہ اسلامی لشکر دامنِ اُحد میں:
اس بغاوت اور واپسی کے بعد رسول اللہ ﷺ نے باقی ماندہ لشکر کو لے کر، جس کی تعداد سات سو تھی، دشمن کی طرف قدم بڑھایا۔ دشمن کا پڑاؤ آپ کے درمیان اور اُحد کے درمیان کئی سمت سے حائل تھا۔ اس لیے آپ ﷺ نے دریافت کیا کہ کوئی آدمی ہے جو ہمیں دشمن کے پاس سے گزرے بغیر کسی قریبی راستے سے لے چلے۔
اس کے جواب میں ابو خَیْثَمہؓ نے عرض کیا: ''یا رسول اللہ! ﷺ میں اس خدمت کے لیے حاضر ہوں۔'' پھر انہوں نے ایک مختصر سا راستہ اختیار کیا جو مشرکین کے لشکر کو مغرب کی سمت چھوڑتا ہوا بنی حارثہ کے حرہ اور کھیتوں سے گزرتا تھا۔ اس راستے سے جاتے ہوئے لشکر کا گزر مربع بن قیظی کے باغ سے ہوا۔ یہ شخص منافق بھی تھا اور نابینا بھی۔ اس نے لشکر کی آمد محسوس کی تو مسلمانوں کے چہروں پر دھول پھینکنے لگا اور کہنے لگا: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو یاد رکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے باغ میں آنے کی اجازت نہیں۔ لوگ اسے قتل کرنے کو لپکے لیکن آپ ﷺ نے فرمایا: ''اسے قتل نہ کرو۔ یہ دل اور آنکھ دونوں کا اندھا ہے۔''
پھر رسول اللہ ﷺ نے آگے بڑھ کر وادی کے آخری سرے پر واقع اُحد پہاڑ کی گھاٹی میں نزول فرمایا اور وہیں اپنے لشکر کا کیمپ لگوایا۔ سامنے مدینہ تھا اور پیچھے اُحد کا بلند و بالا پہاڑ، اس طرح دشمن کا لشکر مسلمانوں اور مدینے کے درمیان حَدِّ فاصل بن گیا۔
دفاعی منصوبہ:
یہاں پہنچ کر رسول اللہ ﷺ نے لشکر کی ترتیب و تنظیم قائم کی، اور جنگی نقطۂ نظر سے اسے کئی صفوں میں تقسیم فرمایا۔ ماہر تیر اندازوں کا ایک دستہ بھی منتخب کیا جو پچاس مردان جنگی پر مشتمل تھا۔ ان کی کمان حضرت عبد اللہ بن جبیر بن نعمان انصاری دَوْسی بدریؓ کو سپرد کی، اور انہیں وادی قناۃ کے جنوبی کنارے پر واقع ایک چھوٹی سی پہاڑی پر جو اسلامی لشکر کے کیمپ سے کوئی ڈیڑھ سو میٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور اب جبل رماۃ کے نام سے مشہور ہے، تعینات فرمایا۔ اس کا مقصد ان کلمات سے واضح ہے جو آپ ﷺ نے ان تیر اندازوں کو ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمائے۔ آپ ﷺ نے ان کے کمانڈر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ''شہسواروں کو تیر مار کر ہم سے دور رکھو۔ وہ پیچھے سے ہم پر چڑھ نہ آئیں۔ ہم جیتیں یا ہاریں تم اپنی جگہ رہنا۔ تمہاری طرف سے ہم پر حملہ نہ ہونے پائے۔'' (ابنِ ہشام ۲/۶۵، ۶۶) پھر آپ ﷺ نے تیر اندازوں کو مخاطب کر کے فرمایا: ''ہماری پشت کی حفاظت کرنا۔ اگر دیکھو کہ ہم مارے جا رہے ہیں تو ہماری مدد کو نہ آنا اور اگر دیکھو کہ ہم مال غنیمت سمیٹ رہے ہیں تو ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا۔'' (احمد، طبرانی، حاکم، عن ابن عباس۔ دیکھئے فتح الباری ۷/۳۵۰) اور صحیح بخاری کے الفاظ کے مطابق آپ ﷺ نے یوں فرمایا: ''اگر تم لوگ دیکھو کہ ہمیں پرندے اچک رہے ہیں تو بھی اپنی جگہ نہ چھوڑنا یہاں تک کہ میں بلا بھیجوں، اور اگر تم لوگ دیکھو کہ ہم نے قوم کو شکست دے دی ہے اور انہیں کچل دیا ہے تو بھی اپنی جگہ نہ چھوڑنا یہاں تک کہ میں بلا بھیجوں۔'' (صحیح بخاری کتاب الجہاد ۱/۴۲۶)
ان سخت ترین فوجی احکامات و ہدایات کے ساتھ اس دستے کو اس پہاڑی پر متعین فرما کر رسول اللہ ﷺ نے وہ واحد شگاف بند فرما دیا جس سے نفوذ کر کے مشرکین کا رسالہ مسلمانوں کی صفوں کے پیچھے پہنچ سکتا تھا اور ان کو محاصرے اور نرغے میں لے سکتا تھا۔
باقی لشکر کی ترتیب یہ تھی کہ مَیمنہ پر حضرت مُنْذِرؓ بن عَمرو مقرر ہوئے اور مَیْسَرہ پر حضرت زُبیرؓ بن عوام - اور ان کا معاون حضرت مِقدادؓ بن اسود کو بنایا گیا - حضرت زبیرؓ کو یہ مہم بھی سونپی گئی کہ وہ خالد بن ولید کے شہسواروں کی راہ روکے رکھیں۔ اس ترتیب کے علاوہ صف کے اگلے حصے میں ایسے ممتاز اور منتخب بہادر مسلمان رکھے گئے جس کی جانبازی و دلیری کا شہرہ تھا۔ اور جنہیں ہزاروں کے برابر مانا جاتا تھا۔
یہ منصوبہ بڑی باریکی اور حکمت پر مبنی تھا۔ جس سے نبی ﷺ کی فوجی قیادت کی عبقریت کا پتہ چلتا ہے۔ اور ثابت ہوتا ہے کہ کوئی کمانڈر خواہ کیسا ہی بالیاقت کیوں نہ ہو آپ ﷺ سے زیادہ باریک اور باحکمت منصوبہ تیار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ آپ ﷺ باوجودیکہ دشمن کے بعد یہاں تشریف لائے تھے۔ لیکن آپ ﷺ نے اپنے لشکر کے لیے وہ مقام منتخب فرمایا جو جنگی نقطۂ نظر سے میدانِ جنگ کا سب سے بہترین مقام تھا۔ یعنی آپ ﷺ نے پہاڑ کی بلندیوں کی اوٹ لے کر اپنی پُشت اور دایاں بازو محفوظ کر لیا۔ اور بائیں بازو دورانِ جنگ جس واحد شگاف سے حملہ کر کے پُشت تک پہنچا جا سکتا تھا اسے تیر اندازوں کے ذریعے بند کر دیا۔ اور پڑاؤ کے لیے ایک اونچی
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جگہ منتخب فرمائی کہ اگر خدانخواستہ شکست سے دوچار ہونا پڑے تو بھاگنے اور تعاقب کنندگان کی قید میں جانے کے بجائے کیمپ میں پناہ لی جا سکے۔ اور اگر دشمن کیمپ پر قبضے کے لیے پیش قدمی کرے تو اسے نہایت سنگین خسارہ پہنچایا جا سکے۔ اس کے بر عکس آپ ﷺ نے دشمن کو اپنے کیمپ کے لیے ایک ایسا نشیبی مقام قبول کرنے پر مجبور کر دیا کہ اگر وہ غالب آ جائے تو فتح کا کوئی خاص فائدہ نہ اُٹھا سکے۔ اور اگر مسلمان غالب آ جائیں تو تعاقب کرنے والوں کی گرفت سے بچ نہ سکے۔ اسی طرح آپ ﷺ نے ممتاز بہادروں کی ایک جماعت منتخب کر کے فوجی تعداد کی کمی پوری کر دی۔ یہ نبی ﷺ کے لشکر کی ترتیب و تنظیم تھی جو ۷ شوال ۳ھ یوم سنیچر کی صبح عمل میں آئی۔
رسول اللہ ﷺ لشکر میں شجاعت کی روح پھونکتے ہیں:
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا کہ جب تک آپ ﷺ حکم نہ دیں جنگ شروع نہ کی جائے۔ آپ ﷺ نے نیچے اوپر دو زِرہیں پہن رکھی تھیں۔ اب آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جنگ کی ترغیب دیتے ہوئے تاکید فرمائی کہ جب دشمن سے ٹکراؤ ہو تو پامردی اور اولو العزمی سے کام لیں۔ آپ ﷺ نے ان میں دلیری اور بہادری کی روح پھُونکتے ہوئے ایک نہایت تیز تلوار بے نیام کی اور فرمایا: کون ہے جو اس تلوار کو لے کر اس کا حق ادا کرے؟ اس پر کئی صحابہ تلوار لینے کے لیے لپک پڑے، جن میں علیؓ بن ابی طالب، زبیرؓ بن عوام اور عمرؓ بن خطاب بھی تھے۔ لیکن ابو دُجانہ سِماک بن خَرْشہؓ نے آگے بڑھ کر عرض کی کہ یا رسول اللہ! اس کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس سے دشمن کے چہرے کو مارو یہاں تک کہ یہ ٹیڑھی ہو جائے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اس تلوار کو لے کر اس کا حق ادا کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے تلوار انہیں دے دی۔
ابو دجانہؓ بڑے جانباز تھے۔ لڑائی کے وقت اکڑ کر چلتے تھے۔ ان کے پاس ایک سُرخ پٹی تھی۔ جب اُسے باندھ لیتے تو لوگ سمجھ جاتے کہ وہ اب موت تک لڑتے رہیں گے۔ چنانچہ جب انہوں نے تلوار لی تو سر پر پٹی بھی باندھ لی اور فریقین کی صفوں کے درمیان اکڑ کر چلنے لگے۔ یہی موقع تھا جب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ چال اللہ کو ناپسند ہے لیکن اس جیسے موقع پر نہیں۔
مکی لشکر کی تنظیم:
مشرکین نے بھی صف بندی ہی کے اصول پر اپنے لشکر کو مرتب اور منظم کیا تھا۔ ان کا سپہ سالار ابو سفیان تھا۔ جس نے قلب لشکر میں اپنا مرکز بنایا تھا۔ مَیمنہ پر خالد بن ولید تھے جو ابھی مشرک تھے، مَیْسرہ پر عکرمہ بن ابی جہل تھا۔ پیدل فوج کی کمان صفوان بن امیہ کے پاس تھی اور تیر اندازوں پر عبد اللہ بن ربیعہ مقرر ہوئے۔
جھنڈا عبد الدار کی ایک چھوٹی سی جماعت کے ہاتھ میں تھا۔ یہ منصب انہیں اسی وقت سے حاصل تھا جب بنو عبد مناف نے قُصی سے وراثت میں پائے ہوئے مناصب کو باہم تقسیم کیا تھا۔ جس کی تفصیل ابتدائے کتاب میں گزر چکی ہے۔ پھر باپ دادا سے جو دستور چلا آ رہا تھا اس کے پیش نظر کوئی شخص اس منصب کے بارے میں ان سے نزاع بھی نہیں کر سکتا تھا، لیکن سپہ سالار ابو سفیان نے انہیں یاد دلایا کہ جنگ بدر میں ان کا پرچم بردار نضر بن حارث گرفتار ہوا تو قریش کو کن حالات سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ اس بات کو یاد دلانے کے ساتھ ہی ان کا غصہ بھڑکانے کے لیے کہا: اے بنی عبد الدار! بدر کے روز آپ لوگوں نے ہمارا جھنڈا لے رکھا تھا تو ہمیں جن حالات سے دوچار ہونا پڑا وہ آپ نے دیکھ ہی لیا ہے۔ درحقیقت فوج پر جھنڈے ہی کے جانب سے زد پڑتی ہے۔ جب جھنڈا گر پڑتا ہے تو فوج کے قدم اکھڑ جاتے ہیں، پس اب کی بار آپ لوگ یا تو ہمارا جھنڈا ٹھیک طور سے سنبھالیں یا ہمارے اور جھنڈے کے درمیان سے ہٹ جائیں۔ ہم اس کا انتظام خود کر لیں گے۔ اِس گفتگو سے ابو سفیان کا جو مقصد تھا اس میں وہ کامیاب رہا۔ اس کی بات سن کر بنی عبد الدار کو سخت تاؤ آیا۔ انہوں نے دھمکیاں دیں۔ معلوم ہوتا تھا کہ اس پر پل پڑیں گے۔ کہنے لگے: ہم اپنا جھنڈا تمہیں دیں گے؟ کل جب ٹکر ہو گی تو دیکھ لینا ہم کیا کرتے ہیں۔ اور واقعی جب جنگ شروع ہوئی تو وہ نہایت پامردی کے ساتھ جمے رہے، یہاں تک کہ ان کا ایک ایک آدمی لقمۂ اجل بن گیا۔
قریش کی سیاسی چال بازی:
آغاز جنگ سے کچھ پہلے قریش نے مسلمانوں کی صف میں پھوٹ ڈالنے اور نزاع پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے ابو سفیان نے انصار کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ لوگ ہمارے اور ہمارے چچیرے بھائی (محمد ﷺ) کے بیچ سے ہٹ جائیں تو ہمار ارُخ بھی آپ کی طرف نہ ہو گا۔ کیونکہ ہمیں آپ لوگوں سے لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن جس ایمان کے آگے پہاڑ بھی نہیں ٹھہر سکتے اس کے آگے یہ چال کیونکر کامیاب ہو سکتی تھی۔ چنانچہ انصار نے اسے نہایت سخت جواب دیا اور کڑوی کسیلی سنائی۔
پھر وقت صفر قریب آ گیا۔ اور دونوں فوجیں ایک دوسرے کے قریب آ گئیں تو قریش نے اس مقصد کے لیے ایک اور کوشش کی۔ یعنی ان کا ایک خیانت کوش آلۂ کار ابو عامر فاسق مسلمانوں کے سامنے نمودار ہوا۔ اس شخص کا نام عبد عمرو بن صیفی تھا۔ اور اسے راہب کہا جاتا تھا لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام فاسق رکھ دیا۔ یہ جاہلیت میں قبیلۂ اوس کا سردار تھا۔ لیکن جب اسلام کی آمد آمد ہوئی تو اسلام اس کے گلے کی پھانس بن گیا۔ اور وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف کھل کر عداوت پراُتر آیا۔ چنانچہ وہ مدینہ سے نکل کر قریش کے پاس پہنچا۔ اور انہیں آپ ﷺ کے خلاف بھڑکا بھڑکا کر آمادۂ جنگ کیا۔ اور یقین دلایا کہ میری قوم کے لوگ مجھے دیکھیں گے تو میری بات مان کر میرے ساتھ ہو جائیں گے۔ چنانچہ یہ پہلا شخص تھا جو میدان اُحد میں احابیش اور اہل مکہ کے غلاموں کے ہمراہ مسلمانوں کے سامنے آیا۔ اور اپنی قوم کو پکار کر اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا: قبیلہ اوس کے لوگو! میں ابو عامر ہوں۔ ان لوگوں نے کہا: او فاسق! اللہ تیر ی آنکھ کو خوشی نصیب نہ کرے۔ اس نے یہ جواب سنا تو کہا: اوہو! میری قوم میرے بعد شر سے دوچار ہو گئی ہے۔ (پھر جب لڑائی شروع ہوئی تو اس شخص نے بڑی پُر زور جنگ کی اور مسلمانوں پر جم کر پتھر برسائے)
اس طرح قریش کی جانب سے اہلِ ایمان کی صفوں میں تفرقہ ڈالنے کی دوسری کوشش بھی ناکام رہی۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ تعداد کی کثرت اور ساز و سامان کی فراوانی کے باوجود مشرکین کے دلوں پر مسلمانوں کا کس قدر خوف اور ان کی کیسی ہیبت طاری تھی۔
جوش و ہمت دلانے کے لیے قریشی عورتوں کی تگ و تاز:
ادھر قریشی عورتیں بھی جنگ میں اپنا حصہ ادا کرنے اٹھیں۔ ان کی قیادت ابو سفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ کر رہی تھی۔ ان عورتوں نے صفوں میں گھوم گھوم کر اور دف پیٹ پیٹ کر لوگوں کو جوش دلایا۔ لڑائی کے لیے بھڑ کایا، جانبازوں کو غیرت دلائی، اور نیزہ بازی و شمشیر زنی، مار دھاڑ اور تیرافگنی کے لیے جذبات کو برانگیختہ کیا۔ کبھی وہ علمبرداروں کو مخاطب کر کے یوں کہتیں:
ویہا بنی عبد الدار ویہا حماۃ الأدبار ضرباً بکل بتار
دیکھو! عبد الدار! دیکھو! پشت کے پاسدار خوب کرو شمشیر کا وار
اور کبھی اپنی قوم کو لڑائی کا جوش دلاتے ہوئے یوں کہتیں:
إن تقبلوا نعانق ونفرش النمارق أو تدبروا نفارق فراق غیر وامق
''اگر پیش قدمی کرو گے تو ہم گلے لگائیں گی۔ اور قالینیں بچھائیں گی۔ اور اگر پیچھے ہٹو گے تو روٹھ جائیں گی اور الگ ہو جائیں گی۔ ''
جنگ کا پہلا ایندھن:
اس کے بعد دونوں فریق بالکل آمنے سامنے اور قریب آ گئے۔ اور لڑائی کا مرحلہ شروع ہو گیا۔ جنگ کا پہلا ایندھن مشرکین کا علمبردار طلحہ بن ابی طلحہ عبدری بنا۔ یہ شخص قریش کا نہایت بہادر شہسوار تھا۔ اسے مسلمان کبش الکتیبہ (لشکر کا مینڈھا) کہتے تھے۔ یہ اونٹ پر سوار ہو کر نکلا اور مُبارزت کی دعوت دی، اس کی حد سے بڑی ہوئی شجاعت کے سبب عام صحابہ مقابلے سے کترا گئے۔ لیکن حضرت زبیر آگے بڑھے اور ایک لمحہ کی مہلت دیئے بغیر شیر کی طرح جست لگا کر اونٹ پر جا چڑھے۔ پھر اسے اپنی گرفت میں لے کر زمین پر کود گئے اور تلوار سے ذبح کر دیا۔
نبی ﷺ نے یہ ولولہ انگیز منظر دیکھا تو فرطِ مسرت سے نعرۂ تکبیر بلند کیا۔ مسلمانوں نے بھی نعرۂ تکبیر لگایا، پھر آپ ﷺ نے حضرت زبیرؓ کی تعریف کی اور فرمایا: ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے۔ اور میرے حواری زبیر ہیں۔ (اس کا ذکر صاحب سیرت حلبیہ نے کیا ہے۔ ورنہ احادیث میں یہ جملہ دوسرے موقعے پر مذکور ہے)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
معرکہ کا مرکزِ ثقل اور علمبرداروں کا صفایا:
اس کے بعد ہر طرف جنگ کے شُعلے بھڑ ک اُٹھے۔ اور پورے میدان میں پُر زور مار دھاڑ شروع ہو گئی۔ مشرکین کا پرچم معرکے کا مرکزِ ثقل تھا۔ بنو عبد الدار نے اپنے کمانڈر طلحہ بن ابی طلحہ کے قتل کے بعد یکے بعد دیگرے پرچم سنبھالا۔ لیکن سب کے سب مارے گئے۔ سب سے پہلے طلحہ کے بھائی عثمان بن ابی طلحہ نے پرچم اٹھایا اور یہ کہتے ہوئے آگے بڑھا:
إن علی أہل اللواء حقًا
أن تخضب الصعدۃ أو تندقا
''پرچم والوں کا فرض ہے کہ نیزہ (خون سے) رنگین ہو جائے یا ٹوٹ جائے۔''
اس شخص پر حضرت حمزہ بن عبد المطلب نے حملہ کیا اور اس کے کندھے پر ایسی تلوار ماری کہ وہ ہاتھ سمیت کندھے کو کاٹتی اور جسم کو چیرتی ہوئی ناف تک جا پہنچی، یہاں تک کہ پھیپھڑا دکھائی دینے لگا۔
اس کے بعد ابو سعد بن ابی طلحہ نے جھنڈا اٹھایا۔ اس پر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے تیر چلایا۔ اور وہ ٹھیک اس کے گلے میں لگا، جس سے اس کی زبان باہر نکل آئی اور وہ اسی وقت مر گیا - لیکن بعض سیرت نگاروں کا کہنا ہے کہ ابو سعد نے باہر نکل کر دعوتِ مُبارَزَت دی۔ اور حضرت علیؓ نے آگے بڑھ کر مقابلہ کیا، دونوں نے ایک دوسرے پر تلوار کا ایک وار کیا، لیکن حضرت علیؓ نے ابو سعد کو مار لیا۔
اس کے بعد مسافع بن طلحہ بن ابی طلحہ نے جھنڈا اٹھا لیا، لیکن اسے عاصم بن ثابت بن ابی افلحؓ نے تیر مارکر قتل کر دیا۔ اس کے بعد اس کے بھائی کلاب بن طلحہ بن ابی طلحہ نے جھنڈا اٹھایا۔ مگر اس پر حضرت زُبیر بن عوامؓ ٹوٹ پڑے، اور لڑبھڑ کر اس کا کام تمام کر دیا۔ پھر ان دونوں کے بھائی جلاس بن طلحہ بن ابی طلحہ نے جھنڈا اٹھایا۔ مگر اسے طلحہ بن عبید اللہؓ نے نیزہ مار کر ختم کر دیا۔ اور کہا جاتا ہے کہ عاصم بن ثابت بن ابی افلحؓ نے تیر مار کر ختم کیا۔
یہ ایک ہی گھر کے چھ افراد تھے۔ یعنی سب کے سب ابو طلحہ عبد اللہ بن عثمان بن عبد الدار کے بیٹے یا پوتے تھے۔ جو مشرکین کے جھنڈے کی حفاظت کرتے ہوئے مارے گئے۔ اس کے بعد قبیلہ بنی عبد الدار کے ایک اور شخص اَرْطَاۃ بن شُرَحْبِیل نے پر چم سنبھالا۔ لیکن اسے حضرت علی بن ابی طالبؓ نے، اور کہا جاتا ہے کہ حضرت حمزہ بن عبدالمطلبؓ نے قتل کر دیا۔ اس کے بعد شُرَیح بن قارظ نے جھنڈا اٹھایا۔ مگر اسے قزمان نے قتل کر دیا - قزمان منافق تھا۔ اور اسلام کے بجائے قبائلی حمیت کے جوش میں مسلمانوں کے ہمراہ لڑنے آیا تھا - شریح کے بعد ابو زید بن عمرو بن عبد مناف عبدری نے جھنڈا سنبھالا۔ مگر اسے بھی قزمان نے ٹھکانے لگا دیا۔ پھر شُرَحْبیل بن ہاشم عبدری کے ایک لڑکے نے جھنڈا اٹھایا۔ مگر وہ بھی قزمان کے ہاتھوں مارا گیا۔
یہ بنو عبد الدار کے دس افراد ہوئے جنہوں نے مشرکین کا جھنڈا اٹھایا اور سب کے سب مارے گئے۔ اس کے بعد اس قبیلے کا کوئی آدمی باقی نہ بچا جو جھنڈا اٹھاتا۔ لیکن اس موقعے پر ان کے ایک حبشی غلام نے - جس کا نام صواب تھا - لپک کر جھنڈا اٹھا لیا۔ اور ایسی بہادری اور پامردی سے لڑا کہ اپنے سے پہلے جھنڈا اٹھانے والے اپنے آقاؤں سے بھی بازی لے گیا۔ یعنی یہ شخص مسلسل لڑتا رہا، یہاں تک کہ اس کے دونوں ہاتھ یکے بعد دیگرے کاٹ دیے گئے لیکن اس کے بعد بھی اس نے جھنڈا گرنے نہ دیا، بلکہ گھٹنے کے بل بیٹھ کر سینے اور گردن کی مدد سے کھڑا کیے رکھا یہاں تک کہ جان سے مار ڈالا گیا۔ اور اس وقت بھی یہ کہہ رہاتھا کہ یا اللہ! اب تو میں نے کوئی عذر باقی نہ چھوڑا؟
اس غلام (صواب) کے قتل کے بعد جھنڈا زمین پر گر گیا۔ اور اِسے کوئی اٹھانے والا باقی نہ بچا، اس لیے وہ گرا ہی رہا۔
بقیہ حصوں میں جنگ کی کیفیت:
ایک طرف مشرکین کا جھنڈا معرکے کا مرکزِ ثقل تھا تو دوسری طرف میدان کے بقیہ حصوں میں بھی شدید جنگ جاری تھی۔ مسلمانوں کی صفوں پر ایمان کی رُوح چھائی ہوئی تھی۔ اس لیے وہ شرک و کفر کے لشکر پر اس سیلاب کی طرح ٹوٹے پڑ رہے تھے جس کے سامنے کوئی بند ٹھہر نہیں پاتا۔ مسلمان اس موقعے پر اَمِتْ اَمِت کہہ رہے تھے۔ اور اس جنگ میں یہی ان کا شعار تھا۔
ادھر ابو دجانہؓ نے اپنی سُرخ پٹی باندھے، رسول اللہ ﷺ کی تلوار تھامے، اور اس کے حق کی ادائیگی کا عزمِ مصمم کیے پیش قدمی کی۔ اور لڑتے ہوئے دور تک جا گھسے وہ جس مشرک سے ٹکراتے اس کا صفایا کر دیتے۔ انہوں نے مشرکین کی صفوں کی صفیں اُلٹ دیں۔
حضرت زبیر بن عوامؓ کا بیان ہے کہ جب میں نے رسول اللہ ﷺ سے تلوار مانگی اور آپ نے مجھے نہ دی تو میرے دل پر اس کا اثر ہوا۔ اور میں نے اپنے جی میں سوچا کہ میں آپ کی پھوپھی حضرت صفیہ کا بیٹا ہوں، قریشی ہوں۔ اور میں نے آپ کے پاس جا کر ابو دجانہ سے پہلے تلوار مانگی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہ دی، اور انہیں دے دی۔ اس لیے واللہ! میں دیکھوں گا کہ وہ اس سے کیا کام لیتے ہیں؟ چنانچہ میں ان کے پیچھے لگ گیا۔ انہوں نے یہ کیا کہ پہلے اپنی سرخ پٹی نکالی اورسر پر باندھی۔ اس پر انصار نے کہا: ابو دُجانہ نے موت کی پٹی نکال لی ہے۔ پھر وہ یہ کہتے ہوئے میدان کی طرف بڑھے۔
أنا الـذی عاہدنـی خلیـلـی ونحن بالسفح لـدی النخیل
أن لا أقوم الدہر في الکیول اضرب بسیف اللہ والرسول
''میں نے اس نخلستان کے دامن میں اپنے خلیل ﷺ سے عہد کیا ہے کہ کبھی صفوں کے پیچھے نہ رہوں گا۔ (بلکہ آگے بڑھ کر) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار چلاؤں گا۔''
اس کے بعد انہیں جو بھی مل جاتا اسے قتل کر دیتے۔ ادھر مشرکین میں ایک شخص تھا جو ہمارے کسی بھی زخمی کو پا جاتا تو اس کا خاتمہ کر دیتا تھا۔ یہ دونوں رفتہ رفتہ قریب ہو رہے تھے۔ میں نے اللہ سے دعا کی کہ دونوں میں ٹکر ہو جائے۔ اور واقعتا ٹکر ہو گئی۔ دونوں نے ایک دوسرے پر ایک ایک وار کیا۔ پہلے مشرک نے ابو دجانہ پر تلوار چلائی، لیکن ابو دجانہ نے یہ حملہ ڈھال پر روک لیا۔ اور مشرک کی تلوار ڈھال میں پھنس کر رہ گئی۔ اس کے بعد ابو دجانہ نے تلوار چلائی اور مشرک کو وہیں ڈھیر کر دیا۔ (ابن ہشام ۲/۶۸، ۶۹)
اس کے بعد ابو دجانہ صفوں پر صفیں درہم برہم کرتے ہوئے آگے بڑھے، یہاں تک کہ قریشی عورتوں کی کمانڈر تک جا پہنچے۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ یہ عورت ہے۔ چنانچہ ان کا بیان ہے کہ میں نے ایک انسان کو دیکھا وہ لوگوں کو بڑے زور و شور سے جوش و ولولہ دلا رہا تھا۔ اس لیے میں نے اس کو نشانے پر لے لیا لیکن جب تلوار سے حملہ کرنا چاہا تو اس نے ہائے پکار مچائی اور پتہ چلا کہ عورت ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کی تلوار کو بٹہ نہ لگنے دیا کہ اس سے کسی عورت کو ماروں۔
یہ عورت ہند بنت عتبہ تھی۔ چنانچہ حضرت زُبیر بن عوامؓ کا بیان ہے کہ میں نے ابو دجانہ کو دیکھا کہ انہوں نے ہند بنت عتبہ کے سر کے بیچوں بیچ تلوار بلند کی، اور پھر ہٹا لی۔ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ (ابنِ ہشام ۲/۶۹)
ادھر حضرت حمزہؓ بھی بپھرے ہوئے شیر کی طرح جنگ لڑ رہے تھے۔ اور بے نظیر مار دھاڑ کے ساتھ قلب لشکر کی طرف بڑھے اور چڑھے جا رہے تھے۔ ان کے سامنے سے بڑے بڑے بہادر اس طرح بکھر جاتے تھے جیسے چومکھی ہوا میں پتے اُڑ رہے ہوں۔ انہوں نے مشرکین کے علمبرداروں کے صفائے میں نمایاں رول ادا کرنے کے علاوہ ان کے بڑے بڑے جانبازوں اور بہادروں کا بھی حال خراب کر رکھا تھا لیکن صد حیف کہ اسی عالم میں ان کی شہادت واقع ہو گئی۔ مگر انہیں بہادروں کی طرح رُو در رُو لڑ کر شہید نہیں کیا گیا بلکہ بزدلوں کی طرح چھپ چھپا کر بے خبری کے عالم میں مارا گیا۔
اللہ کے شیر حضرت حمزہؓ کی شہادت:
حضرت حمزہؓ کا قاتل وحشی بن حرب تھا۔ ہم ان کی شہادت کا واقعہ اسی کی زبانی نقل کرتے ہیں۔ اس کا بیان ہے کہ میں جُبیر بن مُطْعم کا غلام تھا۔ اور ان کا چچا طُعیمہ بن عِدِی جنگ بدر میں مارا گیا تھا۔ جب قریش جنگ احد پر روانہ ہونے لگے تو جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا: اگر تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حمزہؓ کو میرے چچا کے بدلے قتل کر دو تو تم آزاد ہو۔ وحشی کا بیان ہے کہ (اس پیش کش کے نتیجے میں) میں بھی لوگوں کے ساتھ روانہ ہوا۔ میں حبشی آدمی
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تھا۔ اور حبشیوں کی طرح نیزہ پھینکنے میں ماہر تھا۔ نشانہ کم ہی چوُکتا تھا۔ جب لوگوں میں جنگ چھڑ گئی تو میں نکل کر حمزہ کو دیکھنے لگا۔ میری نگاہیں انہی کی تلاش میں تھیں۔ بالآخر میں نے انہیں لوگوں کی پہنائی میں دیکھ لیا۔ وہ خاکستری اونٹ معلوم ہو رہے تھے۔ لوگوں کو درہم برہم کرتے جارہے تھے، ان کے سامنے کوئی چیز ٹک نہیں پاتی تھی۔
واللہ! میں ابھی ان کے ارادے سے تیار ہی ہو رہا تھا اور ایک درخت یا پتھر کی اوٹ میں چھپ کر انہیں قریب آنے کا موقع دینا چاہتا تھا کہ اتنے میں سباع بن عبد العزیٰ مجھ سے آگے بڑھ کر ان کے پاس جا پہنچا۔ حمزہؓ نے اسے للکارتے ہوئے کہا: او شرمگاہ کی چمڑی کاٹنے والی کے بیٹے! یہ لے۔ اور ساتھ ہی اس زور کی تلوار ماری کہ گویا اس کا سر تھا ہی نہیں۔
وحشی کا بیان ہے کہ اس کے ساتھ ہی میں نے اپنا نیزہ تولا اور جب میری مرضی کے مطابق ہو گیا تو ان کی طرف اچھال دیا۔ نیزہ ناف کے نیچے لگا اور دونوں پاؤں کے بیچ سے پار ہو گیا۔ انہوں نے میری طرف اٹھنا چاہا۔ لیکن مغلوب ہو گئے میں نے ان کو اسی حال میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔ اس کے بعد میں نے ان کے پاس جا کر اپنا نیزہ نکال لیا۔ اور لشکر میں واپس جا کر بیٹھ گیا۔ (میرا کام ہو چکا تھا) مجھے ان کے سوا کسی اور سے سروکار نہ تھا۔ میں نے انہیں محض اس لیے قتل کیا تھا کہ آزاد ہو جاؤں۔ چنانچہ جب مکہ آیا تو مجھے آزادی مل گئی۔ (ابن ہشام ۲ ٌ/۶۹-۷۲ صحیح بخاری ۲/۵۸۳ وحشی نے جنگ طائف کے بعد اسلام قبول کیا۔ اور اپنے اسی نیزے سے دور صدیقی میں جنگ یمامہ کے اندر مَسیلمہ کذاب کو قتل کیا۔ رومیوں کے خلاف جنگ یرموک میں بھی شرکت کی)
مسلمانوں کی بالادستی:
اللہ کے شیر اور رسول ﷺ کے شیر حضرت حمزہؓ کی شہادت کے نتیجے میں مسلمانوں کو جو سنگین خسارہ اور ناقابل تلافی نقصان پہنچا اس کے باوجود جنگ میں مسلمانوں ہی کا پلہ بھاری رہا۔ حضرت ابو بکر وعمر، علی و زبیر، مصعب بن عُمیر، طلحہ بن عبید اللہ، عبد اللہ بن جحش، سعد بن معاذ، سعد بن عبادہ، سعد بن ربیع اور نضر بن انس وغیرہم نے ایسی پامردی و جانبازی سے لڑائی لڑی کہ مشرکین کے چھکے چھوٹ گئے۔ حوصلے ٹوٹ گئے اور ان کی قوتِ بازو جواب دے گئی۔
عورت کی آغوش سے تلوار کی دھار پر:
اور آیئے! ذرا ادھر دیکھیں۔ اپنی جان فروش شہبازوں میں ایک اور بزرگ حضرت حَنْظَلۃ الغَسیلؓ نظر آ رہے ہیں۔ جو آج ایک نرالی شان سے میدانِ جنگ میں تشریف لائے ہیں - آپ اسی ابو عامر راہب کے بیٹے ہیں جسے بعد میں فاسق کے نام سے شہرت ملی۔ اور جس کا ذکر ہم پچھلے صفحات میں کر چکے ہیں۔ حضرت حنظلہ نے ابھی نئی نئی شادی کی تھی۔ جنگ کی منادی ہوئی تو وہ بیوی سے ہم آغوش تھے۔ آواز سنتے ہی آغوش سے نکل کر جہاد کے لیے رواں دواں ہو گئے۔ اور جب مشرکین کے ساتھ میدانِ کارزار گرم ہوا تو ان کی صفیں چیرتے پھاڑتے ان
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کے سپہ سالار ابو سفیان تک جا پہنچے اور قریب تھا کہ اس کا کام تمام کر دیتے۔ مگر اللہ نے خود ان کے لیے شہادت مقدر کر رکھی تھی۔ چنانچہ انہوں نے جوں ہی ابو سفیان کو نشانے پر لے کر تلوار بلند کی شَدّاد بن اوس نے دیکھ لیا اور جھٹ حملہ کر دیا جس سے خود حضرت حنظلہؓ شہید ہو گئے۔
تیر اندازوں کا کارنامہ:
جبل رماۃ پر جن تیر اندازوں کو رسول اللہ ﷺ نے متعین فرمایا تھا انہوں نے بھی جنگ کی رفتار مسلمانوں کے موافق چلانے میں بڑا اہم رول ادا کیا۔ مکی شہسواروں نے خالد بن ولید کی قیادت میں اور ابو عامر فاسق کی مدد سے اسلامی فوج کا بایاں بازو توڑ کر مسلمانوں کی پشت تک پہنچنے اور ان کی صفوں میں کھلبلی مچا کر بھر پور شکست سے دوچار کرنے کے لیے تین بار پُر زور حملے کیے۔ لیکن مسلمان تیر اندازوں نے انہیں اس طرح تیروں سے چھلنی کیا کہ ان کے تینوں حملے ناکام ہو گئے۔ (دیکھئے: فتح الباری ۷/۳۴۶)
مشرکین کی شکست:
کچھ دیر تک اسی طرح شدید جنگ ہوتی رہی۔ اور چھوٹا سا اسلامی لشکر، رفتارِ جنگ پر پوری طرح مسلط رہا۔ بالآخر مشرکین کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ ان کی صفیں دائیں بائیں، آگے پیچھے سے بکھرنے لگیں۔ گویا تین ہزار مشرکین کو سات سو نہیں بلکہ تیس ہزار مسلمانوں کا سامنا ہے۔ ادھر مسلمان تھے کہ ایمان و یقین اور جانبازی و شجاعت کی نہایت بلند پایہ تصویر بنے شمشیر و سنان کے جوہر دکھلا رہے تھے۔
جب قریش نے مسلمانوں کے تابڑ توڑ حملے روکنے کے لیے اپنی انتہائی طاقت صَرف کرنے کے باوجود مجبوری وبے بسی محسوس کی، اور ان کے حوصلے اس حد تک ٹوٹ گئے کہ صواب کے قتل کے بعد کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ سلسلۂ جنگ جاری رکھنے کے لیے اپنے گرے ہوئے جھنڈے کے قریب جا کر اسے بلند کرے تو انہوں نے پسپا ہونا شروع کر دیا۔ اور فرار کی راہ اختیار کی۔ اور بدلہ و انتقام، بحالیٔ عزت و وقار اور واپسیٔ مجد و شرف کی جو باتیں انہوں نے سوچ رکھی تھیں انہیں یکسر بھول گئے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ اللہ نے مسلمانوں پر اپنی مدد نازل کی، اور ان سے اپنا وعدہ پورا کیا۔ چنانچہ مسلمانوں نے تلواروں سے مشرکین کی ایسی کٹائی کی کہ وہ کیمپ سے بھی پرے بھاگ گئے۔ اور بلا شبہ ان کو شکست فاش ہوئی۔ حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کا بیان ہے کہ ان کے والد نے فرمایا: واللہ! میں نے دیکھا کہ ہند بنت عتبہ اور اس کی ساتھی عورتوں کی پنڈلیاں نظر آ رہی ہیں۔ وہ کپڑے اٹھائے بھاگی جا رہی ہیں۔ ان کی گرفتاری میں کچھ بھی حائل نہیں ... الخ (ابن ہشام ۲/۷۷)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
صحیح بخاری میں حضرت براء بن عازبؓ کی روایت ہے کہ جب مشرکین سے ہماری ٹکر ہوئی تو مشرکین میں بھگدڑ مچ گئی۔ یہاں تک کہ میں نے عورتوں کو دیکھا کہ پنڈلیوں سے کپڑے اٹھائے پہاڑ میں تیزی سے بھاگ رہی تھیں۔ ان کے پازیب دکھائی پڑ رہے تھے۔ (صحیح بخاری ۲/۵۷۹) اور اس بھگدڑ کے عالم میں مسلمان مشرکین پر تلوار چلاتے اور مال سمیٹتے ہوئے ان کا تعاقب کر رہے تھے۔
تیر اندازوں کی خوفناک غلطی:
لیکن عین اس وقت جبکہ یہ مختصر سا اسلامی لشکر اہل مکہ کے خلاف تاریخ کے اوراق پر ایک اور شاندار فتح ثبت کر رہا تھا جو اپنی تابناکی میں جنگ بدر کی فتح سے کسی طرح کم نہ تھی، تیر اندازوں کی اکثریت نے ایک خوفناک غلطی کا ارتکاب کیا جس کی وجہ سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ مسلمانوں کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اور خود نبی کریم ﷺ شہادت سے بال بال بچے، اوراس کی وجہ سے مسلمانوں کی وہ ساکھ اور وہ ہیبت جاتی رہی جو جنگ ِ بدر کے نتیجے میں انہیں حاصل ہوئی تھی۔
پچھلے صفحات میں گزر چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تیر اندازوں کو فتح و شکست ہر حال میں اپنے پہاڑی مورچے پر ڈٹے رہنے کی کتنی سخت تاکید فرمائی تھی۔ لیکن ان سارے تاکیدی احکامات کے باوجود جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان مال غنیمت لوٹ رہے ہیں تو ان پر حُبِّ دنیا کا کچھ اثر غالب آ گیا، چنانچہ بعض نے بعض سے کہا: غنیمت ......! غنیمت ...... ! تمہارے ساتھی جیت گئے ......! اب کاہے کا انتظار ہے؟
اس آواز کے اٹھتے ہی ان کے کمانڈر حضرت عبد اللہؓ بن جبیر نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے احکامات یاد دلائے اور فرمایا: کیا تم لوگ بھول گئے کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں کیا حکم دیا تھا؟ لیکن ان کی غالب اکثریت نے اس یاد دہانی پر کان نہ دھرا اور کہنے لگے: ''اللہ کی قسم! ہم بھی لوگوں کے پاس ضرور جائیں گے اور کچھ مالِ غنیمت ضرور حاصل کریں گے۔ '' (یہ بات صحیح بخاری میں حضرت براء بن عازبؓ سے مروی ہے۔ دیکھئے ۱/۴۲۶) اس کے بعد چالیس تیر اندازوں نے اپنے مورچے چھوڑ دیے اور مالِ غنیمت سمیٹنے کے لیے عام لشکر میں جا شامل ہوئے۔ اس طرح مسلمانوں کی پشت خالی ہو گئی اور وہاں صرف عبد اللہؓ بن جبیر اور ان کے نو ساتھی باقی رہ گئے جو اس عزم کے ساتھ اپنے مورچوں میں ڈٹے رہے کہ یا تو انہیں اجازت دی جائے گی یا وہ اپنی جان جان آفریں کے حوالے کر دیں گے۔
اسلامی لشکر مشرکین کے نرغے میں:
حضرت خالد بن ولیدؓ، جو اس سے پہلے تین بار اس مورچے کو سر کرنے کی کوشش کر چکے تھے، اس زرّیں
 
Top