ساجد تاج
فعال رکن
- شمولیت
- مارچ 09، 2011
- پیغامات
- 7,174
- ری ایکشن اسکور
- 4,518
- پوائنٹ
- 604
دل وحشی مجھے میرا نہیں ہونے دیتا
میں جو چاہوں بھی تو ایسا نہیں ہونے دیتا
روز آنکھوں میں نئے خواب اگا دیتا ہے
ایک چہرہ انہیں صحرا نہیں ہونے دیتا
وہ تغافل سے لگاتا ہے نئے زخم مگر
دل کے زخموں کو وہ گہرا نہیں ہونے دیتا
میری آنکھوں میں سجا دیتا ہے سپنے لیکن
کوئی سپنا بھی وہ سچا نہیں ہونے دیتا
سب ہی الزام وہ لے لیتا ہے سر پر اپنے
میرا دلبر مجھے رسوا نہیں ہونے دیتا
میں جہاں جاؤں میرے ساتھ چلا آتا ہے
میرا سایہ مجھے تنہا نہیں ہونے دیتا
میں جو چاہوں بھی تو ایسا نہیں ہونے دیتا
روز آنکھوں میں نئے خواب اگا دیتا ہے
ایک چہرہ انہیں صحرا نہیں ہونے دیتا
وہ تغافل سے لگاتا ہے نئے زخم مگر
دل کے زخموں کو وہ گہرا نہیں ہونے دیتا
میری آنکھوں میں سجا دیتا ہے سپنے لیکن
کوئی سپنا بھی وہ سچا نہیں ہونے دیتا
سب ہی الزام وہ لے لیتا ہے سر پر اپنے
میرا دلبر مجھے رسوا نہیں ہونے دیتا
میں جہاں جاؤں میرے ساتھ چلا آتا ہے
میرا سایہ مجھے تنہا نہیں ہونے دیتا