• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

متفرق اشعار

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
دل وحشی مجھے میرا نہیں ہونے دیتا
میں جو چاہوں بھی تو ایسا نہیں ہونے دیتا
روز آنکھوں میں نئے خواب اگا دیتا ہے
ایک چہرہ انہیں صحرا نہیں ہونے دیتا
وہ تغافل سے لگاتا ہے نئے زخم مگر
دل کے زخموں کو وہ گہرا نہیں ہونے دیتا
میری آنکھوں میں سجا دیتا ہے سپنے لیکن
کوئی سپنا بھی وہ سچا نہیں ہونے دیتا
سب ہی الزام وہ لے لیتا ہے سر پر اپنے
میرا دلبر مجھے رسوا نہیں ہونے دیتا
میں جہاں جاؤں میرے ساتھ چلا آتا ہے
میرا سایہ مجھے تنہا نہیں ہونے دیتا
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
عبادتوں کی طرح میں یہ کام کرتا ہوں
میرا اصول ہے پہلے سلام کرتا ہوں
مخالفت سے میری شخصیت سنورتی ہے
میں دشمنوں کا بڑا احترام کرتا ہوں
میں اپنی جیب میں اپنا پتا نہیں رکھتا
سفر میں صرف یہی اہتمام کرتا ہوں
میں ڈر گیا ہوں بہت سایہ دار پیڑوں سے
ذرا سی دھوپ بچھا کر قیام کرتا ہوں
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و من
مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغ چمن
پھول ہیں صحرا میں پریاں قطار اندر قطار
اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیرہن
برگ گل پر رکھ گئی شبنم کا موتی باد صبح
اور چمکاتی ہے اس موتی کو سورج کی کرن
حسن بےپروا کو اپنے بے نقابی کے لیے
ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کے بن
اپنے من میں ڈوب کے پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن ، اپنا تو بن
من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں
تن کی دولت چھاؤں ہے آتا ہے دھن ، جاتا ہے دھن
پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا ، نہ تن
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
دل میں اک لہر سے اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی
شور برپا ہے خانہ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی
بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی
تو شریک سخن نہیں ہے تو کیا
ہم سخن تیری خامشی ہے ابھی
یاد کے بے نشاں جزیروں سے
تیری آواز آرہی ہے ابھی
شہر کی بے چراغ گلیوں میں
زندگی تجھ کو ڈھونڈتی ہے ابھی
سو گئے لوگ اس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی
تم تو یارو ابھی سے اٹھ بیٹھے
شہر میں رات جاگتی ہے ابھی
وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
گُفتگو کے لمحوں میں
دیکھ ہی نہیں پاتے
ہم تمھارے چہرے کو
تم ہماری آنکھوں کو
آج ایسا کرتے ہیں
چشم و لب کو پڑھتے ہیں
بات چھوڑ دیتے ہیں
جانے کیا لمحہ ہوگا
جب یہ ہاتھ ہاتھوں سے
گر کھبی جُدا ہوگا
آج ایسا کرتے ہیں
ضبطِ جاں پرکھتے ہیں
ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں
کاش کوئی سمجھا دے
لوگ کِس طرح دِل کی
منزلیں الگ کر کے
ساتھ چھوڑ دیتے ہیں
آج ایسا کرتے ہیں
بے سبب بکھرتے ہیں
ذات توڑ دیتے ہیں
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
خواص محفوظ ہیں اپنے محلات میں‌ آرام سے
کٹ مرتے ہیں گلیوں میں ہزارہا بے دام سے
ہوا پہ بس نہیں یارو ورنہ وہ بھی روک لیتے
چھیننے کے بعد‌ بجلی، گیس و آٹا عوام سے‌
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
اُنگلیاں آج بھی اسی سوچ میں گم ہے فراز
اسنے کیسے نئے ہات کو تھاما ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
لو شمعِ محبت کی رئیس اور بڑھادو
ایوانِ وفا سنتے ہیں‌ بے نور ہوئے ہیں‌
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
یاد ہیں‌ سیرِ چراغاں‌ ناصر
دل کے بجھنے کا سبب یاد نہیں
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
ویرانیاں‌ دلوں‌ کی بھی کچھ کم نہ تھیں‌ ادا
کیا ڈھونڈنے گئے ہیں‌ مسافر خلاوں‌ میں‌
 
Top