Aamir
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 16، 2011
- پیغامات
- 13,382
- ری ایکشن اسکور
- 17,099
- پوائنٹ
- 1,033
باب۔ اشعریوں اور اہل یمن کے آنے کا بیان۔
(۱۶۹۱)۔ سیدنا ابو موسیٰؓ کہتے ہیں کہ ہم جماعت اشعری نبیﷺ کے پاس آئے ، ہم نے آپﷺ سے سواری مانگی تو آپﷺ نے انکار کر دیا۔ ہم نے پھر آپﷺ سے سواری مانگی تو آپﷺ نے قسم کھائی کہ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا۔ پھر تھوڑی ہی دیر کے بعد نبیﷺ کے پاس مال غنیمت کے کچھ اونٹ آئے تو آپﷺ نے ہمارے لیے پانچ اونٹوں کا حکم دیا۔ جب ہم نے ان اونٹوں کو لے لیا تو ہم نے کہا کہ چونکہ ہم نے نبیﷺ کو قسم یاد نہ دلائی اس لیے اب ہم کبھی فلاح نہ پائیں۔ تب میں نے آ کر آپﷺ سے عرض کی کہ یا رسول اللہ!آپ نے قسم کھائی تھی کہ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا پھر آپﷺ نے ہمیں سواری دیدی۔ آپ نے جواب دیا :'ہاں ! مجھے قسم یاد تھی لیکن میں اگر کسی بات کی قسم کھا لیتا ہوں اور اس کے علاوہ دوسری بات مناسب جانتا ہوں تو اسی مناسب امر کو اختیار کر تا ہوں اورقسم کا کفارہ دیتا ہوں۔ ''
(۱۶۹۲)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں آپﷺ نے فرمایا :''(اے لوگو !) تمہارے پاس یمن والے آئے ہیں جو رقیق القلب اور نرم دل ہیں۔ ایمان یمن ہی کا (عمدہ) ہے اور حکمت بھی یمن ہی کی اچھی ہے۔ غرور تکبر اونٹ والوں میں ہے اور اطمینان اور سہولت بکری والوں میں ہے۔ ''
(۱۶۹۱)۔ سیدنا ابو موسیٰؓ کہتے ہیں کہ ہم جماعت اشعری نبیﷺ کے پاس آئے ، ہم نے آپﷺ سے سواری مانگی تو آپﷺ نے انکار کر دیا۔ ہم نے پھر آپﷺ سے سواری مانگی تو آپﷺ نے قسم کھائی کہ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا۔ پھر تھوڑی ہی دیر کے بعد نبیﷺ کے پاس مال غنیمت کے کچھ اونٹ آئے تو آپﷺ نے ہمارے لیے پانچ اونٹوں کا حکم دیا۔ جب ہم نے ان اونٹوں کو لے لیا تو ہم نے کہا کہ چونکہ ہم نے نبیﷺ کو قسم یاد نہ دلائی اس لیے اب ہم کبھی فلاح نہ پائیں۔ تب میں نے آ کر آپﷺ سے عرض کی کہ یا رسول اللہ!آپ نے قسم کھائی تھی کہ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا پھر آپﷺ نے ہمیں سواری دیدی۔ آپ نے جواب دیا :'ہاں ! مجھے قسم یاد تھی لیکن میں اگر کسی بات کی قسم کھا لیتا ہوں اور اس کے علاوہ دوسری بات مناسب جانتا ہوں تو اسی مناسب امر کو اختیار کر تا ہوں اورقسم کا کفارہ دیتا ہوں۔ ''
(۱۶۹۲)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں آپﷺ نے فرمایا :''(اے لوگو !) تمہارے پاس یمن والے آئے ہیں جو رقیق القلب اور نرم دل ہیں۔ ایمان یمن ہی کا (عمدہ) ہے اور حکمت بھی یمن ہی کی اچھی ہے۔ غرور تکبر اونٹ والوں میں ہے اور اطمینان اور سہولت بکری والوں میں ہے۔ ''