• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اشعریوں اور اہل یمن کے آنے کا بیان۔
(۱۶۹۱)۔ سیدنا ابو موسیٰؓ کہتے ہیں کہ ہم جماعت اشعری نبیﷺ کے پاس آئے ، ہم نے آپﷺ سے سواری مانگی تو آپﷺ نے انکار کر دیا۔ ہم نے پھر آپﷺ سے سواری مانگی تو آپﷺ نے قسم کھائی کہ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا۔ پھر تھوڑی ہی دیر کے بعد نبیﷺ کے پاس مال غنیمت کے کچھ اونٹ آئے تو آپﷺ نے ہمارے لیے پانچ اونٹوں کا حکم دیا۔ جب ہم نے ان اونٹوں کو لے لیا تو ہم نے کہا کہ چونکہ ہم نے نبیﷺ کو قسم یاد نہ دلائی اس لیے اب ہم کبھی فلاح نہ پائیں۔ تب میں نے آ کر آپﷺ سے عرض کی کہ یا رسول اللہ!آپ نے قسم کھائی تھی کہ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا پھر آپﷺ نے ہمیں سواری دیدی۔ آپ نے جواب دیا :'ہاں ! مجھے قسم یاد تھی لیکن میں اگر کسی بات کی قسم کھا لیتا ہوں اور اس کے علاوہ دوسری بات مناسب جانتا ہوں تو اسی مناسب امر کو اختیار کر تا ہوں اورقسم کا کفارہ دیتا ہوں۔ ''

(۱۶۹۲)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں آپﷺ نے فرمایا :''(اے لوگو !) تمہارے پاس یمن والے آئے ہیں جو رقیق القلب اور نرم دل ہیں۔ ایمان یمن ہی کا (عمدہ) ہے اور حکمت بھی یمن ہی کی اچھی ہے۔ غرور تکبر اونٹ والوں میں ہے اور اطمینان اور سہولت بکری والوں میں ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ حجۃ الوداع کے بیان میں۔
(۱۶۹۳)۔ سیدنا ابن عمرؓ کی حدیث نبیﷺ کے کعبہ میں نماز پڑھنے کے بارے میں پہلے گزر چکی ہے (دیکھیے حدیث :۲۹۶)، اس روایت میں سید نا ابن عمرؓ کہتے ہیں :'' اور جہاں آپﷺ نے نماز پڑھی اس کے پاس ہی سرخ سنگِ مرمر بچھا ہوا تھا۔ ''

(۱۶۹۴)۔ سیدنا زید بن ارقمؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے انیس لڑائیاں لڑیں اور ہجرت کے بعد ایک حج حجۃ الوداع کیا اس کے بعد کوئی حج ادا نہیں فرما یا۔

(۱۶۹۵)۔ سیدنا ابو بکرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ حجۃ الوداع میں خطبہ پڑھتے وقت یہ فرمایا :'' وقت پھر گھوم کر اپنی اسی حالت پر آگیا جس حالت پر اس دن تھا کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا۔ سال بارہ مہینے کا ہے جس میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ان میں سے تین تو لگاتار (۱)ذقعدہ۔ (۲)۔ ذی الحجہ۔ (۳)۔ محرم ہیں اور چوتھا مہینہ مضر کا رجب ہے جو کہ جمادی ثانیہ اور شعبان کے درمیان ہوتا ہے۔ پھر فرمایا :'' یہ کونسا مہینہ ہے ؟''ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول اللہﷺ ہی خوب جانتے ہیں۔ آپﷺ کچھ دیر خاموش ہو گئے (جس سے) ہم نے خیال کیا کہ شاید اس کے نام کے علاوہ کوئی او رنام بیان کریں گے۔ پھر فرمایا :'' کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے ؟''ہم نے عرض کی کہ بے شک یہ ذی الحجہ ہی کا مہینہ ہے۔ پھر فرمایا :'' یہ کونسا شہر ہے ؟ ہم نے عرض کی کہ اللہ اور اس کا رسول اللہﷺ خوب جانتے ہیں۔ آپﷺ پھر خاموش ہو گئے جس سے ہمیں یہی خیال گزرا کہ آپﷺ مکہ کے علاوہ اور کوئی نام بیان فرمائیں لیکن آپﷺ نے یہی فرمایا :'' کیا یہ شہر بلدۂ امین یعنی مکہ نہیں ہے ؟'' ہم نے عرض کی کہ بے شک یہ مکہ کا شہر ہے۔ پھر فرمایا:'' آج کون سا دن ہے ؟'' ہم نے عرض کی کہ اللہ اور اس کا رسولﷺ خوب جانتے ہیں۔ آپﷺ پھر کچھ دیر خاموش ہو گئے ، اس سے ہم نے خیال کیا کہ شاید آپﷺ اس دن کا کوئی اور نام رکھیں گے۔ پھر آپﷺ نے فرمایا :'' کیا یہ یوم نحر نہیں ہے ؟'' ہم نے عرض کی بے شک یہ یوم النحر (قربانی کا دن) ہی ہے۔ پھر فرمایا :''تو اب سن لو کہ تمہارے آپس کے (مسلمانوں کے) خون اور تمہارے مال اور راوی کہتا ہے کہ میں گمان کرتا ہوں کہ (ابوبکرؓ نے) یہ بھی کہا کہ تمہاری آبروئیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے اس دن کی حرمت اس شہر اس مہینے میں ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے ، وہ تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس کرے گا۔ دیکھو ! ذرا خبر دار ہو جاؤ ! میرے بعد تم پھر گمراہ نہ ہو جانا (اس طرح) کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ جو یہاں موجود ہے اس کو چاہیے کہ وہ (ان باتوں کو) اس تک پہچا دے جو یہاں موجود نہیں ہے۔ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس کو بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ اس کو یاد رکھتا ہے۔ ''(پھر فرمایا):'' خبردار ہو جاؤ! کیا میں نے تمہیں اللہ تعالیٰ کے احکامات پہنچا نہیں دیے ؟'' دو مرتبہ آپﷺ نے یہی فرمایا۔ (امام بخاری رحمہ اللہ جب یہ حدیث بیان کرتے تو فرماتے کہ اللہ کے نبیﷺ نے سچ فرمایا ہے)

(۱۶۹۶)۔ سیدنا ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈوایا اور بعض اصحاب نے قصر کیا (یعنی سر نہیں منڈوایا بلکہ کچھ بال کٹوائے)۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ غزوہ تبوک جس کو غزوۂ عسرۃ بھی کہتے ہیں۔
(۱۶۹۷)۔ سیدنا ابوموسیٰؓ کہتے ہیں کہ میرے دوستوں نے ، جو رسول اللہﷺ کے ساتھ اس غزوہ میں آئے تھے ، مجھے آپﷺ کے پاس سواریاں مانگنے کے لیے بھیجا، میں نے آپﷺ کے پاس آ کر عرض کی کہ یا رسول اللہ ! میرے ساتھیوں نے مجھے سواریاں لینے کے لیے بھیجا ہے تو آپﷺ نے منع فرما دیا اور یہ فرمایا :'' اللہ کی قسم ! میں ان کو کسی چیز پر سوار نہ کروں گا۔ ''آپﷺ پہلے سے غصہ میں تھے لیکن میں نہ سمجھا۔ میں بہت رنجیدہ ہو کر لوٹا۔ مجھے ایک رنج تو یہ تھا کہ نبیﷺ نے سواری نہیں دی اور دوسرا یہ کہ کہیں میرے سواری مانگنے سے تو آپﷺ ناراض نہیں ہوئے۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور رسول اللہﷺ نے جو کہا تھا ان سے بیان کر دیا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میں نے سنا کہ سیدنا بلالؓ آواز دے رہے ہیں کہ اے عبداللہ بن قیس ! (سیدنا ابوموسیٰ کا نام ہے)۔ میں ان کے پاس گیا تو انھوں نے کہا کہ تمہیں رسول اللہﷺ یاد فرماتے ہیں۔ میں نبیﷺ کے پاس گیا تو آپﷺ نے فرمایا :'' یہ دو اونٹ اور یہ دو اونٹ اور یہ دو اونٹ (یعنی) چھ اونٹ لے جا۔ ''آپﷺ نے یہ دو اونٹ اسی وقت سیدنا سعدبن عبادہؓ سے خریدے تھے پھر فرمایا :'' یہ اونٹ اپنے ساتھیوں کے پاس لے جا اور ان سے کہہ کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ اللہ کے رسول اللہﷺ نے تمہیں یہ اونٹ سواری کے لیے دیے ہیں پس ان پر سوار ہو جانا۔ '' میں وہ اونٹ لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا کہ رسول اللہﷺ نے تمہیں یہ اونٹ سواری کے لیے دیئے ہیں۔ لیکن اللہ کی قسم ! میں تمہیں ہر گز نہ چھوڑوں گا جب تک تم میں سے چند آدمی میرے ساتھ اس شخص کے پاس نہ چلیں جس نے آپﷺ کا (سواری دینے سے) منع کرنا سنا ہے ، کہیں یہ نہ سمجھنا کہ میں نے تم لوگوں سے ایک ایسی بات کہہ دی جو کہ رسول اللہﷺ نے تمہیں کہی تھی۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ ہم تمہیں سچا سمجھتے ہیں اور اگر تم (تصدیق کرانا) اچھا سمجھتے ہو تو ہم ایسا ہی کریں گے۔ پھر سیدنا ابوموسیٰؓ ان میں سے چند آدمی ساتھ لے کر ان لوگوں کے پاس آئے جنہوں نے رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد سنا تھا کہ پہلے آپﷺ نے انھیں سواری دینے سے انکار کیا تھا اور پھر اس کے بعد سواری عنایت فرمائی ، تو انھوں نے وہی بیان کیا جو سیدنا ابوموسیٰؓ نے اپنے ساتھیوں سے بیان کیا تھا۔

(۱۶۹۸)۔ فاتح ایران سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ جب نبیﷺ غزوۂ تبوک میں تشریف لے جانے لگے تو مدینہ میں سیدنا علیؓ کو اپنی جانشین چھوڑا تو انھوں نے عرض کی کہ کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جاتے ہیں ؟آپﷺ نے فرمایا :'' کیا تم اس بات سے راضی نہیں کہ میرے پاس تمہارا وہ درجہ ہو جو موسیٰؑ کے پاس ہارونؑ کا تھا مگر صرف اتنا فرق ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ سیدنا کعب بن مالک کی حدیث اور اللہ کے اس قول '' اور تین شخصوں کے حال پر بھی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا تھا۔۔۔ '' (سورۃ التوبہ :۱۱۸)کے بیان میں
(۱۶۹۹)۔ سیدنا کعب بن مالکؓ نے کہا کہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ ان تمام لڑائیوں میں شریک رہا جو آپﷺ نے لڑیں ، فقط ایک غزوۂ تبوک میں نہ تھا۔ ہاں ایک غزوۂ بدر میں بھی شریک نہ تھا ، لیکن اس میں شریک نہ ہونے والوں میں سے کسی پر بھی عتاب نہیں ہوا۔ غزوۂ بدر میں نبیﷺ قریش کا قافلہ لوٹنے کی نیت سے تشریف لے گئے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کو اچانک ، بغیر کسی طے شدہ منصوبے کے ، آمنے سامنے کر دیا (اور لڑائی ہو گئی) اور بے شک میں لیلۃ العقبہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھا کہ جب ہم نے اسلام پر قائم رہنے کا مضبوط قول و قرار کیا تھا اور میں لیلۃ العقبہ پر جنگ بدر کو ہر گز ترجیح نہ دوں گا اگر چہ لوگوں میں اس کی فضیلت زیادہ مشہور ہے غزوۂ وتبوک میں شرکت نہ کرنے کا یہ قصہ ہوا کہ میں ایسا تندرست و طاقتور اور مالدار کبھی نہ تھا (جیسا میں اس وقت تھا) جبکہ میں اس غزوہ میں رسول اللہﷺ سے پیچھے رہ گیا اور اللہ کی قسم ! اس سے پہلے میرے پاس کبھی دو اونٹنیاں جمع نہیں ہوئی لیکن اس غزوہ کے وقت میرے پاس دو اونٹنیاں موجود تھیں اور نبیﷺ کا قاعدہ یہ تھا کہ جب کسی جنگ کا ارادہ کرتے تو اس کو صاف نہ بیان فرماتے بلکہ گول گول ایسا فرماتے کہ لوگ کوئی دوسرا مقام سمجھیں۔ جب اس لڑائی کا وقت آیا تو اتفاق سے سخت گرمی تھی اور دور دراز سفر کا سامنا تھا۔ صحرائی راستے کا سفر اور دشمنوں کی تعداد کثیر تھی اس لیے آپﷺ نے مسلمانوں کو صاف صاف بتا دیا کہ ہم تبوک جانا چاہتے ہیں تا کہ وہ اچھی طرح لڑائی اور سفر کا سامان درست کر لیں۔ پس رسول اللہﷺ نے صاف صاف اپنا ارادہ مسلمانوں سے بیان کر دیا اور رسول اللہﷺ کے ساتھ مسلمان بکثرت تھے اور کوئی رجسٹر وغیرہ نہ تھا کہ جس میں ان کے نام محفوظ ہوتے۔ سیدنا کعبؓ کہتے ہیں کہ کوئی مسلمان ایسا نہ تھا جو اس لڑائی میں غیر حاضر رہنا چاہتا مگر وہ یہ گمان کرتا تھا کہ اس کا غیر حاضر رہنا نبیﷺ کو اس وقت تک معلوم نہ ہو گا جب تک کہ اس کے بار ے کوئی وحی نہ اترے۔ رسول اللہﷺ نے اس لڑائی کا اس وقت قصد کیا جب درختوں کا میوہ پک گیا تھا اور سا یہ اچھا معلوم ہوتا تھا (یعنی سخت گرمی تھی) خیر رسول اللہﷺ نے اور آپﷺ کے ساتھ اور مسلمانوں نے اس لڑائی کا سامان تیار کرنا شروع کیا ، میں بھی ہر صبح کو جاتا کہ ان کے ساتھ سفر کا سامان تیار کروں پھر خالی لوٹ آتا اور کچھ تیاری نہ کرتا، میں اپنے دل میں کہتا کہ میں تو کسی بھی وقت اپنا سامان تیار کر سکتاہوں (جلدی کیا ہے)۔ اسی طرح دن گزرتے رہے اور لوگوں نے محنت مشقت اٹھا کر اپنا اپنا سامان تیار کر لیا اور نبیﷺ اور مسلمان ایک صبح کو روانہ ہو گئے اور میں نے ابھی تک کچھ سامان نہ کیا تھا تو میں نے کہا کہ میں ان کے بعد ایک دو روز میں سامان تیار کر لوں گا پھر ان سے راستہ میں جاملوں گا۔ جب وہ روانہ ہو گئے تو دوسری صبح کو میں نے سامان تیار کر نا چاہا لیکن اس روز بھی خالی لوٹ آیا اور کوئی تیاری نہ کی پھر تیسری صبح کو بھی ایسا ہی ہوا کہ خالی لوٹ آیا اور کوئی تیاری نہ کی۔ میرا برابر یہی حال رہا (کہ آج نکلتا ہوں کل نکلتا ہوں) اور ادھر سب لوگ جلدی جلدی سفرکرتے دور نکل گئے۔ میرا کئی بار ارادہ ہوا کہ میں بھی کوچ کروں اور ان سے مل جاؤں اور کاش! میں ایسا کرتا مگر تقدیر میں نہ تھا۔ پھر رسول اللہﷺ کے کوچ کر جانے کے بعد مدینہ میں جب میں گھر سے نکلتا اور لوگوں سے ملتا تو میں منافقوں ، معذور اور ضعیف و ناتواں آدمیوں سے ملتا اور مجھے اس سے رنج ہوتا۔ نبیﷺ نے مجھے راستہ میں کہیں یاد نہ کیا یہاں تک کہ تبوک میں پہنچ گئے پھر تبوک پہنچ کر (ایک مرتبہ) لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے فرمایا :'' یہ کعب نے کیا کیا جو نہیں آیا؟'' بنی سلمہ کے ایک شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ ! اس کو اس کے اچھے لباس اور حسن و جمال پر غرور نے آنے سے روکا۔ یہ سن کر سیدنا معاذ بن جبلؓ نے کہا کہ اے شخص ! تو نے بہت برا کہا ، اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! ہم اس کی سوائے بہتر ی کے اور کوئی بات نہیں جانتے۔ رسول اللہﷺ خاموش ہو گئے۔ سیدنا کعب بن مالکؓ کہتے ہیں کہ جب یہ خبر ملی کہ آپﷺ واپس آرہے ہیں تو میرا غم تازہ ہو گیا اور مجھے خیال ہوا کہ کوئی ایسا حیلہ سوچنا چاہیے کہ جس سے آپﷺ کے غصہ سے بچ جاؤں اور اس بات پر عزیزوں میں سے عقلمند لوگوں سے مشورہ بھی لیا۔ جب یہ خبر ہوئی کہ رسول اللہﷺ مدینہ کے قریب آ گئے تو یہ سارے جھوٹے خیالات میرے دل سے جاتے رہے اور میں نے یقین کر لیا کہ میں جھوٹ بولنے سے آپﷺ کے غصہ سے نہ بچ سکوں گا تو میں نے سچ بولنے کا فیصلہ کر لیا۔ صبح کو رسول اللہﷺ مدینہ میں داخل ہوئے اور آپﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب سفر سے تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور دو رکعت نماز پڑھتے۔ پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھتے ، اس عمل سے جب آپﷺ فارغ ہو چکے تو اس وقت جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے ، انھوں نے آنا شروع کیا اور (جھوٹے) عذر (حیلے بہانے) بہانے کیے اور قسمیں اٹھائیں ، یہ لوگ تقریباً اسی (۸۰) سے کچھ زائد تھے ، رسول اللہﷺ نے ان کے حیلوں اور بہانوں کو تسلیم کر لیا اور ان سے بیعت لی اور اللہ سے ان کی مغفرت چاہی اور ان کے دل کے بھیدوں کو اللہ کے سپرد کر دیا۔ میں بھی حاضر ہوا اور السلام علیکم کہا تو آپﷺ مسکرائے مگر جیسے غصہ میں کوئی آدمی مسکراتا ہے پھر فرمایا :'' یہاں آؤ۔ '' میں سامنے جا کر بیٹھا تو فرمایا :'' تو کیوں پیچھے رہ گیا تو نے تو سواری بھی خرید لی تھی ؟'' میں نے عرض کی کہ کیوں نہیں (بے شک میرے پاس سواری موجود تھی) اللہ کی قسم ! بے شک اس وقت اگر میں کسی اور دنیا دار شخص کے سامنے بیٹھا ہوتا تو باتیں بنا کر اس کے غصے سے بچ جاتا، کیونکہ میں اچھا مقرر بھی ہوں مگر اللہ کی قسم ! میں یہ سمجھتاہوں کہ اگر آج میں جھوٹ بول کر آپ کو خوش کر لوں گا تو کل اللہ تعالیٰ (اصل حقیقت کھول کر) پھر آپ کو مجھ پر غصہ کر دے گا مگر آئندہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی مجھ کو امید تو رہے گی ، اللہ کی قسم ! میرے پاس کوئی بہانہ ،عذر نہیں ہے ، اللہ کی قسم ! زور ،طاقت ،قوت ، دولت سب میں کوئی میرے برابر نہ تھا اور میں یہ سب چیزیں ہوتے ہوئے پیچھے رہ گیا۔ یہ سن کر آپﷺ نے فرمایا :'' اس نے بالکل سچ کہا۔ '' اور مجھے حکم دیا :'' جاؤ جب تک تیرے بارہ میں اللہ کوئی حکم نہ دے۔ '' میں اٹھ کر چلا تو میرے ساتھ قبیلہ بنی سلمہ کے چند آدمی بھی اٹھ کر میرے پیچھے آئے اور مجھ سے کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ! ہم نے تم سے ایسا کوئی قصور سر زد ہوتے نہیں دیکھا اور دیگر منافقوں کی طرح اگر تو بھی کوئی بہانہ کرنا تو رسول اللہﷺ کی دعا تیرے قصور کے لیے کافی ہوتی۔ اللہ کی قسم ! وہ برابر مجھے لعنت ملامت کرتے رہے یہاں تک کہ ان کی باتوں سے میرے دل میں آیا کہ نبیﷺ کے پاس لوٹ کر چلوں اور اپنی اگلی بات (گناہ کے اقرار)کو جھٹلا کر کوئی بہانہ نکالوں ، پھر میں نے ان سے پوچھا کہ اور بھی کوئی ہے جس نے میری طرح گناہ کا اقرار کیا ہو ؟ انھوں نے کہا ہاں دو آدمی ہیں جنہوں نے تیری طرح اقرار کیا ہے اور ان سے بھی رسول اللہﷺ نے یہی فرمایا جو تجھ سے فرمایا ہے۔ میں پوچھا کہ وہ دو شخص کون کون سے ہیں ؟ انھوں نے ایسے دو نیک شخصوں کا بیان کیا جو بدر ،کی لڑائی میں شریک ہو چکے تھے اور جن کے ساتھ رہنا مجھے اچھا معلوم ہو ا۔ جب انھوں نے ان دو شخصوں کا بھی نام لیا تو (مجھے تسلی ہو گئی اور) میں چل دیا۔ رسول اللہﷺ نے پیچھے رہ جانے والوں میں ، خاص کر ہم تینوں سے دوسرے آدمیوں کو بولنے سے منع فرمایا تو ہم سے سب آدمی بچنے لگے (کوئی بات تک نہ کرتا) اور بالکل نا آشنا سے ہو گئے۔ ایسا معلوم ہوا جیسے زمین (آسمان) بدل گئے ، وہ زمین ہی نہ رہی (جس پر ہم رہتے تھے)۔ اسی حالت میں پچاس راتیں گزریں۔ مرارہ اور ہلالؓ دونوں اپنے اپنے گھروں میں پڑے روتے رہے اور میں ایک جوان اور مضبوط آدمی تھا ، میں باہر نکلتا اور مسلمانوں کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھتا اور بازاروں میں برابر آ جاتا تھا لیکن مجھ سے کوئی بات نہ کرتا اور جب نبیﷺ نماز سے فارغ ہو کر بیٹھتے تو میں جا کر سلام کرتا اور غور سے دیکھتا کہ آپﷺ میرے سلام کے جواب میں کچھ لب مبارک ہلے یا نہیں اور پھر آپﷺ کے قریب نماز پڑھنے لگتا اور اچھی نظروں سے دیکھتا تو نماز کے وقت آپﷺ میری طرف متوجہ ہو تے اور (نماز کے بعد) جب میں آپﷺ کی طرف دیکھتا تو منہ پھیر لیتے۔ اسی طرح ایک مدت گزری اور لوگوں کی اجنبیت زیادہ بڑھ گئی تو ایک روز میں چلا اور ابوقتادہؓ کے باغ کی دیوار پر چڑھا ، وہ میرے چچازاد بھائی تھے اور اس سے مجھے بہت محبت تھی۔ میں نے انھیں سلام کیا تو اللہ کی قسم ! انھوں نے بھی جواب نہ دیا۔ میں نے کہا اے ابوقتادہ ! تجھے اللہ کی قسم ! کیا تو نہیں جانتا کہ مجھے اللہ ورسولﷺ کے ساتھ کتنی محبت ہے ؟ وہ خاموش ہو رہے۔ میں نے پھر قسم دے کر دوبارہ یہی کہا لیکن وہ خاموش رہے پھر تیسری بار قسم دے کر یہی کہا تو اس نے یہ کہا کہ اللہ اور اس کا رسولﷺ خوب جانتے ہیں۔ اس وقت میرے آنسو ٹپک پڑے اور میں پیٹھ موڑ کر دیوار پر چڑھ کر وہاں سے چلا آیا۔ (سیدنا کعبؓ) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب میں بازار میں جا رہا تھا تو اتنے میں ملک شام کا ایک عیسائی کسان ملا جو مدینہ میں اناج فروخت کرنے لایا تھا ، وہ کہہ رہا تھا کہ لوگو! مجھے کعب بن مالک کا بتلاؤ۔ لوگوں نے اسے بتلانے کو میری طرف اشارہ کیا ، جب وہ میرے پاس آیا تو اس نے غسان کے بادشاہ کا ایک خط مجھے دیا ، اس میں لکھا تھا :'' اما بعد ! ہم نے سنا ہے کہ تمہارے پیغمبر (محمدﷺ) نے تم سے بد سلوکی کی ہے اور اللہ نے تمہیں ایسا ذلیل نہیں بنایا ہے اور نہ ہی بے کار (تم تو کام کے آدمی ہو) تم ہمارے پاس چلے آؤ ، ہم بڑی خاطر سے پیش آئیں گے۔ '' میں نے پڑھ کر خیال کیا کہ یہ بھی اللہ کی طرف سے امتحان ہے۔ میں نے اسی وقت اس خط کو آگ کے تنور میں جھونک دیا (اور جلا دیا)۔ ابھی پچاس راتوں میں سے چالیس راتیں گزری تھیں کہ ناگہاں نبیﷺ کا بھیجا ہوا ایک آدمی آیا اور کہا کہ نبیﷺ نے حکم دیا ہے کہ تم اپنی بیوی سے الگ رہو۔ میں نے پوچھا کہ کیا اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں ؟ اس نے کہا نہیں ، اس سے الگ رہو۔ تعلقات زوجیت ادا نہ کرو۔ میرے دونوں ساتھیوں کو بھی یہی حکم دیا گیا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ ، اور وہیں رہو جب تک کہ اللہ کی طرف سے کوئی حکم نازل نہ ہو۔ (وہ چلی گئی)۔ سیدنا کعبؓ کہتے ہیں کہ سیدنا ہلال بن امیہؓ کی بیوی آپﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ!ہلال بن امیہ(رضی اللہ عنہ) بہت ضعیف ہے اور اس کی خدمت کرنے والا کوئی نہیں ، اگر میں اس کی خدمت کروں تو کیا آپ اس کو برا سمجھتے ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا :''نہیں ! بلکہ تعلقات زوجیت نہ کرنا۔ '' تو اس نے کہا کہ اللہ کی قسم ! جس روز سے آپ کا عتاب ہوا ہے ، سوائے رونے کے اور کچھ کرتا ہی نہیں۔ (پھر کہتے ہیں کہ) مجھ سے بھی میرے بعض عزیزوں نے کہا کہ اگر تم بھی اپنی بیوی کے بارے میں نبیﷺ سے اجازت مانگو (کہ وہ تمہاری خدمت کرتی رہے) تو مناسب ہے جیسے نبیﷺ نے ہلال بن امیہ کی بیوی کو اجازت دی (تمہیں بھی اجازت دیں گے)۔ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں تو کبھی رسول اللہﷺ سے اس بات کی اجازت نہ مانگو ں گا کیونکہ مجھے معلوم نہیں کہ نبیﷺ کیا فرمائیں (اجازت دیں یا نہ دیں) اور میں تو جوان آدمی ہوں۔ اس کے بعد دس راتیں اور گزریں اب پچاس راتیں پوری ہو گئیں ، اس وقت سے جب سے آپﷺ نے لوگوں کو ہم سے کلام کرنے کی ممانعت فرما دی تھی ، پچاسویں رات کی صبح کو جب میں فجر کی نماز پڑھ کر اپنے گھر کی چھت پر تھا ، اسی حالت میں کہ میں بیٹھا ہوا تھا او ر جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بھی (سورۂ توبہ :۱۱۷میں) کہا ہے۔ میں اپنی زندگی سے تنگ آگیا اور زمین بھی اتنی کشادہ ہونے کے باوجود میرے اوپر تنگ ہو گئی ، اتنے میں میں نے ایک پکارنے والے (سیدنا ابو بکرؓ) کی آواز سنی جو سلع (نامی) پہاڑ پر چڑ ھ کر بلند کر بلند آواز سے پکار رہے تھے کہ کعب بن مالک ! خوش ہو جاؤ۔ پھر کہتے ہیں کہ یہ سنتے ہی سجدہ میں گر پڑا اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب میری مشکل دور ہو گئی ہو اور نبیﷺ نے فجر کی نماز کے بعد لوگوں کو اطلاع دی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا قصور معاف کر دیا ہے تو اب لوگ بشارت دینے کے لیے (جو ق در جوق) میرے پاس اور میرے دونوں ساتھیوں (مرارہ اور ہلالؓ) کے پاس جانے لگے۔ ایک شخص (سیدنا زبیر بن عوامؓ) گھوڑا دوڑاتے ہوئے میرے پاس آئے اور اسلم قبیلے کا ایک شخص دوڑتا ہوا پہاڑ پر چڑھ گیا اور پہاڑ والے کی آواز مجھے گھوڑے والے کی آواز سے جلد پہنچتی ، جب یہ شخص جس کی بشارت دینے کی آواز مجھے پہنچی تھی میرے پاس آیا تو میں نے (خوشی میں) اپنے کپڑے اتار کر اسے پہنا دیے۔ واللہ ! اس روز کپڑوں کی قسم سے میرے پاس یہی دو کپڑے تھے اور میں نے (ابی قتادہ) سے دو کپڑے مانگ کر پہنے اور رسول اللہﷺ کی طرف چلا۔ راستہ میں لوگ جو ق در جوق ملتے اور مجھے تو بہ قبول ہو جانے کی مبارکباد دیتے اور کہتے کہ اللہ کی معافی تم کو مبارک ہو۔ سیدنا کعبؓ کہتے ہیں کہ جب میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہﷺ بیٹھے ہیں ، لوگ آپﷺ کے گرد ہیں ، پس مجھے دیکھتے ہی سیدنا طلحہ بن عبید اللہﷺ جلدی سے اٹھے اور مصافحہ کیا اور مبارکباد دی۔ اللہ کی قسم ! ان کے سوا مہاجرین میں سے اور کسی نے اٹھ کر مجھے مبارکباد نہیں دی اور میں نے ان کا یہ احسان کبھی بھولنے والا نہیں۔ سیدنا کعبؓ کہتے ہیں کہ جب میں نے رسول اللہﷺ کو سلام کیا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' اور (میں نے دیکھا کہ) آپﷺ کا چہرۂ مبارک خوشی سے جگمگا رہا تھا :'' کعب تجھے اس دن کی بشارت ہو جو ان سب دنوں میں سے بہتر ہے ، جب سے تیری ماں نے تجھ کو جنا۔ ''(آگے) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! یہ بشارت آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے ؟ تو فرمایا :'' نہیں ، بلکہ اللہ کی طرف سے۔ '' اور نبیﷺ جب خوش ہوتے تو آپﷺ کا چہرہ چاند کی طرح روشن ہو جاتا اور ہم لوگ اس کو پہچان لیتے۔ جب میں آپﷺ کے سامنے بیٹھا تو میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! میں چاہتا ہوں کہ اپنی توبہ کی قبولیت کے شکر یہ میں اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خیرات کر کے اللہ اور اس کے رسول کو دے دوں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' کچھ مال خیرات کرو اور کچھ اپنے لیے رہنے دو، وہ تمہارے لیے بہتری کا ذریعہ ہے '' میں نے عرض کی کہ میں اپنا خیبر کا حصہ اپنے لیے رہنے دیتا ہوں اور باقی خیرات کرتا ہوں پھر عرض کی کہ یا رسول اللہ!بے شک میرے سچ کی ہی وجہ سے اللہ نے مجھے نجات دی اور میری توبہ میں یہ بھی ہے کہ جب تک زندہ ہوں کبھی جھوٹ نہ بولوں گا۔ اور اللہ کی قسم!میں نہیں سمجھتا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی آزمائش میں سچ بولنے کی وجہ سے کسی مسلمان پر اتنا فضل کیا ہو جتنا مجھ پر کیا ہے۔ جب سے میں نے رسول اللہﷺ سے اس معاملہ میں سچ سچ عرض کر دیا اس وقت سے آج کے دن تک میں نے کبھی قصداً جھوٹ نہیں بولا اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ باقی زندگی میں بھی مجھے جھوٹ سے محفوظ رکھے گا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہﷺ پر سورۂ توبہ کی یہ آیات (۱۱۷،۱۱۸اور) نازل کیں '' اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کے حال پر توجہ فرمائی۔۔۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور سچ بولنے والوں کے ساتھ رہو۔ '' اللہ کی قسم میں تو اسلام لانے کے بعد سے اللہ تعالیٰ کا کوئی احسان اپنے اوپر اس سے بڑھ کر نہیں سمجھتا کہ اس نے مجھے رسول اللہﷺ کے سامنے سچ بولنے کی توفیق دی اور جھوٹ سے بچا یا۔ اگر میں جھوٹ بولتا تو دوسرے لوگوں (منافقوں) کی طرح جنہوں نے جھوٹ بولا ، تباہ ہو جاتا۔ پس اللہ تعالیٰ نے جب وحی نازل کی تو ان جھوٹوں کے لیے ایسا برا لفظ اتارا کہ ویسا برا لفظ کسی کے لیے نہیں اتارا۔ فرمایا :'' اب جب تم لوٹ کر آئے تو یہ لو گ اللہ کی (جھوٹی) قسمیں کھوئیں گے۔۔۔۔ '' آیت تک (سورۂ توبہ :۹۵۔ ۹۶)۔ سیدنا کعبؓ نے کہا کہ ہم تینوں آدمیوں کا حکم ان لوگوں کے حکم سے ملتوی رکھا گیا جنہوں نے جھوٹی قسمیں کھائیں اور رسول اللہﷺ نے ہمارے بارے میں تاخیر کی یہاں تک کہ اللہ نے حکم کیا۔ اسی لیے اللہ نے (قرآن میں) یہ فرمایا :'' اور ان تین شخصوں کو (معاف کیا) جو (جنگ سے) پیچھے رہ گئے۔ ''(سورۂ توبہ :۱۱۸)اور اس آیت میں پیچھے رہ جانے والوں سے یہی مراد ہے کہ ہمارے بارے میں تاخیر کی گئی اور ہم ڈھیل میں ڈال دیے گئے ، یہ مراد نہیں کہ جہاد سے پیچھے رہ گئے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے پیچھے رہے جنہوں نے قسمیں کھا کر عذر بیان کیے اور رسول اللہﷺ نے ان کے عذر قبول کر لیے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ کا قیصر (شاہ روم) اور کسریٰ (شاہ ایران) کو خط لکھنا۔
(۱۷۰۰)۔ سیدنا ابو بکرؓ کہتے ہیں کہ اللہ نے یام (جنگ) جمل میں مجھے اس بات سے فائدہ دیا جو میں نے رسول اللہﷺ سے سنی تھی ، ورنہ قریب تھا کہ میں جمل والوں میں شریک ہو کر لڑتا ،(انھوں نے) کہا کہ وہ بات یہ تھی کہ جب رسول اللہﷺ کو یہ خبر پہنچی کہ ایران والوں نے کسریٰ کی بیٹی (بوران بنت مشیرویہ) کو اپنا حکمران بنا لیا ہے تو فرمایا :'' جو قوم اپنے اوپر عورت کو حکمران بنائے گی وہ ہر گز فلاح حاصل نہ کر سکے گی۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ کی بیماری اور وفات کا بیان۔
(۱۷۰۱)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ نبیﷺ نے مرض الموت میں سیدہ فاطمہؓ کو بلایا اور کچھ آہستہ سے فرمایا تو وہ رونے لگیں۔ پھر دوبارہ بلایا اور کچھ آہستہ سے فرمایا تو وہ ہنسنے لگیں۔ ہم نے (سیدہ فاطمہؓ سے رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد) پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ اول یہ فرمایا تھا ؟'' اسی مرض میں میری روح قبض ہو گی۔ '' یہ سن کر رونے لگی ، دوسری مرتبہ یہ فرمایا :'' میں اہل بیت میں سے سب سے پہلے آپﷺ سے ملوں گی۔ '' تو یہ سن کر میں خوش ہوئی۔

(۱۷۰۲)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ میں (نبیﷺ سے اس مرض کی حالت سے پہلے) سنا کرتی تھی کہ کوئی نبی اس وقت تک وفات نہیں پاتا جب تک اس کو (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) دنیاو آخرت (میں سے ایک کو پسند کرنے) کا اختیار نہ دیا جائے۔ پھر میں نے رسول اللہﷺ سے آپ کی اس بیماری میں جس میں آپﷺ نے وفات پائی یہ سنا ،آپﷺ کا گلا بیٹھ گیا تھا ، آپﷺ یہ آیت پڑھتے ہیں :''ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے اپنے احسانات کیے ہیں ''پوری آیت (سورۃ النساء :۶۹)تو اس سے سمجھ لیا کہ آپﷺ نے آخرت میں رہنا پسند کیا۔

(۱۷۰۳)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ نبیﷺ نے صحت کی حالت میں فرمایا تھا :''کوئی نبی اس وقت تک میں فوت نہیں ہوا جب تک جنت میں اس کو اس مقام نہیں دکھلایا گیا پھر (جب تک) اس کو یہ اختیار نہیں دیا گیا ہے کہ چاہے (تو دنیا میں) زندہ رہے یا آخرت کو اختیار کرے۔ '' جب آپﷺ بیمار ہوئے اور آپﷺ کا وقت قریب آیا اور آپﷺ کا سر مبارک میری ران پر تھا ، اول تو آپﷺ پر غشی طاری ہوئی ، پھر جب افاقہ ہوا تو نگاہ گھر کی چھت کی طرف لگائی اور فرمایا :'' اے اللہ ! بلند رفیقوں میں رکھ۔ '' (یعنی آخرت کو پسند کیا)۔ اس وقت میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ اب آپﷺ ہمارے ساتھ رہنا پسند نہیں کرتے اور مجھے اس حدیث کی تصدیق ہو گئی کہ آپﷺ جو فرمایا کرتے تھے کہ نبی کو اختیاردیا جاتا ہے (پھر وفات ہوتی ہے) وہ صحیح ہے۔
(۱۷۰۴)۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ نبیﷺ جب بیمار ہوتے تو معوذات (سورۂ اخلاص،الفلق اور الناس) پڑھ کر اپنے اوپر دم کیا کرتے اور ہاتھ اپنے بدن پر پھیرتے تو جب آپﷺ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو میں نے یہ سورتیں پڑھ کر ان کے ہاتھوں پر دم کر کے ان کو نبیﷺ کے جسم اطہر پر پھیرا کرتی۔
(۱۷۰۵)۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ جب نبیﷺ کی وفات قریب ہوئی اور آپﷺ مجھ سے کمر لگائے بیٹھے تھے تو میں نے بغور سنا کہ آپﷺ یہ فرماتے ہیں ''اے اللہ ! مجھے بخش دے ،مجھ پر رحم فرما اور مجھے (بلند) رفیقوں سے ملا دے۔ ''

(۱۷۰۶)۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا سرمبارک وفات کے وقت میرے سینہ پر تھا۔ جب سے میں نے رسول اللہﷺ پر موت کی سختی دیکھی ،اس کے بعد سے میں موت کی سختی کو کسی کے لئے برا نہیں سمجھتی۔
(۱۷۰۷)۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کی موت کی بیماری میں ایک روز سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے پاس سے باہر نکلے تو لوگوں نے پوچھا :۔۔ ''اے ابو الحسن! آج رسول اللہﷺ کیسے ہیں ؟'' انہوں نے کہا۔ ''اللہ کا شکر ہے ،آج اچھے ہیں۔ '' یہ سن کر سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ اللہ کی قسم ! تم تین دن کے بعد لاٹھی کے آدمی رہ جاؤ گے (کہ جو چاہے ہنکا لے جائے) اور اللہ کی قسم ! میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ رسول اللہﷺ اس بیماری میں عنقریب گزر جائیں گے،میں بنی عبد المطلب کی موت کے وقت کی علامتوں کو خوب پہچانتا ہوں ،تو آؤ نبیﷺ سے خلافت کے بارے میں دریافت کر لیں ، اگر آپﷺ ہمیں (یعنی بنی ہاشم کو) خلافت دیں تو بھی ہمیں معلوم ہو جائے اور اگر آپﷺ کسی دوسرے کو خلیفہ کریں تو بھی ہمیں معلوم ہو جائے اور آپﷺ اس کو بھی ہمارے بار ے(اچھے سلوک کی بابت) میں فرما جائیں گے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم ! اگر ہم نے رسول اللہﷺ سے خلافت کا سوال کیا اور آپﷺ نے منع فرما دیا تو پھر لوگ کبھی بھی ہمیں خلیفہ نہ بنائیں گے اور میں تو رسول اللہﷺ سے کبھی بھی خلافت کا سوال نہیں کروں گا۔

(۱۷۰۸)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ یہ بھی اللہ کی نعمتوں میں سے ہے کہ رسول اللہﷺ نے میرے گھر میں اور میری باری کے روز میری ٹھوڑی اور سینہ کے درمیان (سر رکھے ہوئے) وفات پائی اور اللہ نے آپﷺ کی وفات کے وقت میرا اور آپﷺ کا لعاب دہن ملا دیا (اس طرح) کہ ایک روز میرے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکرؓ ہاتھ میں مسواک لیے ہوئے آئے میں رسول اللہﷺ کو اپنے اوپر ٹیکا دیے ہوئے تھی۔ میں نے دیکھا کہ آپﷺ مسواک کو دیکھ رہے ہیں اور مجھے معلوم تھا آپﷺ مسواک کو جیسا پسند کرتے تھے ، میں نے عرض کی کہ کیا یہ مسواک آپ کے لیے لے لوں ؟تو آپﷺ نے سر کے اشارہ سے فرمایا :'' ہاں۔ '' میں نے وہ مسواک (ان سے لے کر) آپﷺ کو دی لیکن آپﷺ پر بیماری سخت تھی تو میں نے کہا کہ میں نرم کر دوں ؟ آپﷺ نے سرکے اشارے سے فرمایا :''ہاں۔ '' میں نے چبا کر نرم کر دی تو آپﷺ نے وہ مسواک دانتوں پر پھیری اور آپﷺ کے سامنے پانی کی ایک چھاگل یا پانی کا ایک کٹورا (راوی عمر کو شک ہے) رکھا تھا ، آپﷺ اپنے دونوں ہاتھ میں پانی ڈالتے اور چہرۂ مبارک پر پھیرتے اور فرماتے :'' لا الہٰ الا اللہ ! موت میں بڑی سختیاں ہوتی ہیں۔ '' پھر آپﷺ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور فرمایا :'' (اللہ) بلند رفیقوں میں (رکھ)۔ '' یہاں تک کہ آپﷺ کی روح مبارک نکل گئی اور آپﷺ کا ہاتھ گر گیا۔

(۱۷۰۹)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ ہم نے نبیﷺ کو بیماری کی حالت میں دوا پلائی ، آپﷺ نے منع فرمایا :'' ہم نے سمجھا کہ دوا بری معلوم ہونے کی وجہ سے مریض تو منع کیا ہی کرتا ہے۔ جب آپﷺ کو افاقہ ہوا تو فرمایا :' کیا میں نے دوا پلانے سے منع نہیں کیا تھا (پھر کیوں پلائی ؟)۔ '' ہم نے کہا کہ مریض تو دوا سے منع کیا ہی کرتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا :''میں نے سب کو دیکھا کہ مجھے زبر دستی دوا پلاتے تھے۔ مگر عباس (رضی اللہ عنہ) شریک نہ تھے۔ (تو پوچھا اب تم لوگوں کی یہ سزا ہے کہ) گھر میں کوئی آدمی باقی نہ رہے ، سب کے منہ میں دوا ڈالی جائے ، ایک عباسؓ کو چھوڑ دو کیونکہ وہ موجودنہ تھے۔ ''

(۱۷۱۰)۔ سیدنا انس بن مالکؓ نے کہا کہ جب نبیﷺ پر مرض کی شدت ہوئی تو بے ہوش ہو گئے ،سیدہ فاطمہ الزہراءؓ روکر کہنے لگیں کہ ہائے میرے باپ کی تکلیف ! آپﷺ نے فرمایا :'' تیرے باپ پر اس روز کے بعد پھر کوئی تکلیف نہ ہو گی۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ نبیﷺ کا وفات کا بیان۔
(۱۷۱۱)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات ُٰٓٗپائی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
تفسیر قرآن کے بیان میں

تفسیر سورۂ فاتحہ
(۱۸۱۲)۔ سیدنا ابو سعید بن معلیؓ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہﷺ نے مجھے بلایا ، میں اسی وقت حاضر نہ ہوا (بلکہ نماز پڑھ کر گیا) اور عرض کی کہ یا رسول اللہ !میں نماز پڑھ رہا تھا (اس وجہ سے دیر ہوئی) تو آپﷺ نے فرمایا :'' کیا اللہ نے یہ نہیں کہا کہ '' تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لاؤ ، جب کہ رسول تم کو اس حیات بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں۔ '(الا نفال :۲۴)پھر مجھ سے فرمایا :'' مسجد سے باہر جانے سے پہلے میں تجھے قرآن کی ایک ایسی سورت بتاؤں گا جو (اجرو ثواب میں) ساری سورتوں سے بڑھ کر ہے۔ '' پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ جب باہر آنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض نے کہ یا رسول اللہ ! کیا آپ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ میں تم کو ایک سورت بتلاؤں گا جو قرآن کی سب سورتوں سے بڑھ کر ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' وہ سورۃ ﴿الَحَمْدُالِلّٰہِ رَب ّالْعَالَمِیْنَ﴾ ہے ، اس میں سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں بار بار دہرائی جاتی ہیں اور یہی سورۃ وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
تفسیر سورۂ بقرہ
اللہ تعالیٰ کے قول ''اللہ کا شریک کسی کو مت بناؤ!حالانکہ تم جانتے ہوَ''(البقرہ:۲۲)
(۱۷۱۳)۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کونسا ہے؟ تو آپ نے فرمایا :''یہ کہ تو کسی کو اللہ کا شریک بنائے حالانکہ اس (اللہ) نے تجھے پیدا کیا ہے۔ '' میں نے کہا بیشک یہ بڑا گناہ ہے۔ میں نے پوچھا پھر اس کے بعد کونسا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا :'' اپنی اولاد کو اس خوف سے قتل کرنا کہ اس کو کھلانا پڑے گا۔ ''(یہیں سے فیملی پلاننگ کا رد ہو تا ہے)میں نے پوچھا پھر اس کے بعد کونسا ؟فرمایا :'' اپنے پڑوسی کی بیوی سے بدکاری کرنا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کے قول '' اور ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور تم پر من وسلویٰ اتارا ''کے بیان میں۔
(۱۷۲۴)۔ سیدنا سعید بن زیدؓ سے مروی ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا:''کھنبی(جو خود رو ہوتی ہے)''من''کی قسم میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لیے دوا ہے۔ ''
 
Top