• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری مترجم۔’’ التجرید الصریح لاحادیث الجامع الصحیح ''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابٌ : الْقِرَائَةُ وَالْعَرْضُ عَلَى الْمُحَدِّثِ
(حدیث کا خود) پڑھنا اور (پڑھ کر) محدث کو سنانا​

(57) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي الْمَسْجِدِ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ وَالنَّبِيُّ ﷺ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَقُلْنَا هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ يَا ابْنَ عَبْدِالْمُطَّلِبِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ قَدْ أَجَبْتُكَ فَقَالَ الرَّجُلُ لِلنَّبِيِّ ﷺ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلاَ تَجِدْ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ فَقَالَ سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ فَقَالَ أَسْأَلُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ فَقَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ اللَّهُمَّ نَعَمْ فَقَالَ الرَّجُلُ آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ وَ أَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ *
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نبی ﷺ کے ہمراہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، ایک شخص اونٹ پر (سوار) آیا اور اس نے اپنے اونٹ کو مسجد میں (لا کر) بٹھا کر اس کے پاؤں باندھ دیے، پھر اس نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا تم میں سے محمد( ﷺ ) کون ہیں ؟ اور (اس وقت) نبی ﷺ صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے، تو ہم لوگوں نے کہا یہ مرد صاف رنگ تکیہ لگائے ہوئے (جو بیٹھے ہیں انہی کا نام نامی محمد ﷺ ہے)۔ پھر اس شخص نے آپ سے کہا کہ اے عبدالمطلب کے بیٹے ! نبی ﷺ نے فرمایا :’’(کہہ) میں سن رہا ہوں۔‘‘ اس نے کہا کہ میں آپ سے (کچھ) پوچھنے والا ہوں اور (پوچھنے میں) آپ پر سختی کروں گا تو آپ اپنے دل میں میرے اوپر ناخوش نہ ہونا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو تیری سمجھ میں آئے پوچھ لے۔ وہ بولا کہ میں آپ کو آپ کے پروردگار اور آپ سے پہلے لوگوں کے پروردگار کی قسم دے کر پوچھتا ہوں (سچ بتایے) کہ کیا اللہ نے آپ کو تمام آدمیوں کی طرف (پیغمبر بناکر) بھیجا ہے ؟ آپ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم !ہاں (بیشک مجھے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے)۔‘‘ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں (سچ بتایے) کیا دن رات میں پانچ نمازوں کے پڑھنے کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا :’’اللہ کی قسم! ہاں ۔ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں (سچ بتایے) کیا اس مہینے (یعنی رمضان) کے روزے رکھنے کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا :’’اللہ کی قسم !ہاں ۔ پھر اس نے کہاکہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں (سچ بتایے) کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ یہ صدقہ ہمارے مال داروں سے لیں اور اسے ہمارے مستحقین پر تقسیم کریں؟تو نبی ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ کی قسم !ہاں ۔‘‘ اس کے بعد وہ شخص کہنے لگا کہ میں اس (شریعت) پر ایمان لایا ، جو آپ ﷺ لائے ہیں اور میں اپنی قوم کے ان لوگوں کا جو میرے پیچھے ہیں ، بھیجا ہوا (نمائندہ) ہوں اور میں ضمام بن ثعلبہ ( رضی اللہ عنہ ) ہوں (قبیلہ) بنی سعد بن بکر سے تعلق رکھتا ہوں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي الْمُنَاوَلَةِ وَ كِتَابِ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْعِلْمِ إِلَى الْبُلْدَانِ
’’المناولہ‘‘ کے بارے میں اور اہل علم کا علم یا علم کی باتیں لکھ کر شہر والوں کو دے دینا​

(58) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَعَثَ بِكِتَابِهِ رَجُلاً وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ فَدَفَعَهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى فَلَمَّا قَرَأَهُ مَزَّقَهُ فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ ‘‘
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا ایک خط ایک شخص کے ہاتھ بھیجا اور اسے حکم دیا کہ یہ خط بحرین کے حاکم کو دیدے۔ (چنانچہ اس نے دے دیا) اور بحرین کے حاکم نے اس کو کسریٰ (شاہ ایران) تک پہنچا دیا ۔ پھر جب (کسریٰ نے ) اس کو پڑھا تو (اپنی بدبختی سے) ا س کو چاک کر ڈالا ۔ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (یہ سن کر) ان لوگوں کو بددعا دی کہ ’’وہ (لوگ بھی) بالکل (اسی طرح) ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں۔‘‘

(59) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَتَبَ النَّبِيُّ ﷺ كِتَابًا أَوْ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُمْ لاَ يَقْرَئُونَ كِتَابًا إِلاَّ مَخْتُومًا فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ *

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک خط (شاہ روم یا ایران) کو لکھا یا لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ سے یہ کہا گیا کہ وہ لوگ بے مہر کا خط نہیں پڑھتے، (یعنی اس کو وقعت نہیں دیتے) ۔چنانچہ آپ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ کندہ تھا۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایسا محسوس ہو رہا ہے) گویا میں (اب بھی) آپ ﷺ کے ہاتھ مبارک میں اس کی سفیدی کی طرف دیکھ رہا ہوں ۔

(60) عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ ثَلاَثَةُ نَفَرٍ فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَذَهَبَ وَاحِدٌ قَالَ فَوَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا وَأَمَّا الآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَالَ أَلاَ أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلاَثَةِ أَمَّا أَحَدُهُمْ فَـآوَى إِلَى اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا الآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ وَأَمَّا الآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ *

سیدنا ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن) اس حالت میں کہ رسول ا للہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اور لوگ آپ ﷺ کے پاس (بغرض استفادہ) بیٹھے ہوئے تھے، تین اشخاص آئے تو (ان میں سے) دو رسول اللہ ﷺ کے سامنے آگئے اور ایک چلا گیا (ابو واقد رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں کہ وہ دونوں (کچھ دیر) رسول اللہ ﷺ کے پاس کھڑے رہے پھر ان میں سے ایک نے حلقہ میں گنجائش دیکھی تو وہ وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا سب کے پیچھے (جہاں مجلس ختم ہوتی تھی) بیٹھ گیا اور تیسرا تو واپس ہی چلا گیا۔ پس جب رسول اللہ ﷺ نے (وعظ سے) فراغت پائی تو (صحابہ رضی اللہ عنہم سے مخاطب ہو کر) فرمایا :’’ کیا میں تمہیں تین آدمیوں کی حالت نہ بتاؤں کہ ان میں سے ایک نے اللہ کی طرف رجوع کیا اور اللہ نے اس کو جگہ دی او ر دوسرا شرمایا تو اللہ نے (بھی) اس سے حیا کی اور تیسرے نے منہ پھیرا تو اللہ نے (بھی) اس سے اعراض فرمایا ۔‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ رُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ
نبی ﷺ کا فرمانا کہ بسا اوقات وہ شخص جسے (بالواسطہ) حدیث پہنچائی جائے، (براہ راست) سننے والے کی بہ نسبت زیادہ یاد رکھنے والا ہوتا ہے​

(61) عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَعَدَ النَّبِيُّ ﷺ عَلَى بَعِيرِهِ وَأَمْسَكَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ أَوْ بِزِمَامِهِ قَالَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَى اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ قُلْنَا بَلَى قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا فَسَكَتْنَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ فَقَالَ أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ قُلْنَا بَلَى قَالَ فَإِنَّ دِمَائَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ بَيْنَكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَإِنَّ الشَّاهِدَ عَسَى أَنْ يُبَلِّغَ مَنْ هُوَ أَوْعَى لَهُ مِنْهُ*
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آپ ﷺ اپنے اونٹ پر بیٹھے تھے اورایک شخص اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھا، آپ نے (صحابہ رضی اللہ عنہم سے مخاطب ہو کر) فرمایا :’’یہ کونسا دن ہے؟‘‘ تو ہم چپ رہے ، یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ عنقریب آپ ﷺ اس کے (اصلی) نام کے سوا کچھ اور (نام اس کا) بتائیں گے تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’ کیا یہ قربانی کا دن نہیں ہے ؟‘‘ ہم نے عرض کی کہ ہاں ۔ پھر آپ نے پوچھا :’’یہ کونسا مہینہ ہے؟ ‘‘تو ہم نے پھر سکوت کیا یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ شاید آپ ﷺ اس کا نام بدل کر بتائیں گے تو آپ نے فرمایا :’’کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے؟‘‘ ہم نے عرض کی ہاں۔ (اس کے بعد) آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یقینا تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں آپس میں ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن میں ،تمہارے اس مہینہ میں، تمہارے اس شہر میں حرام (سمجھے جاتے) ہیں، چاہیے کہ(جو لوگ) حاضر (ہیں وہ) ان کو یہ خبر پہنچا دیں جویہاں موجود نہیں اس لیے کہ شاید اس وقت سننے والا ایسے شخص کو یہ حدیث پہنچائے جو اس سے کہیں زیادہ اس کو یاد رکھے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَتَخَوَّلُهُمْ بِالْمَوْعِظَةِ وَالْعِلْمِ كَيْ لاَ يَنْفِرُوا
نبی ﷺ کا لوگوں کے وعظ اور علم کے لیے وقت اور موقع کا لحاظ رکھنا (ہر وقت اس طرف مشغول نہ رکھنا) تاکہ وہ بیزار نہ ہوجائیں​

(62) عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَتَخَوَّلُنَا بِالْمَوْعِظَةِ فِي الْأَيَّامِ كَرَاهَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا *
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ ہمیں نصیحت کرنے کے لیے وقت اور موقع کی رعایت فرماتے تھے، ہمارے ا کتا جانے کے خیال سے (ہر روز وعظ نہ فرماتے تھے)۔
(63) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ ‘‘ يَسِّرُوا وَلاَ تُعَسِّرُوا وَبَشِّرُوا وَلاَ تُنَفِّرُوا ‘‘
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :’’ (دین میں) آسانی کرو اور سختی نہ کرو اور (لوگوں کو) خوشخبری سناؤ اور (زیادہ تر ڈرا ڈرا کر انھیں) متنفر نہ کرو۔‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ
اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے​

(64) عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي وَلَنْ تَزَالَ هَذِهِ الأُمَّةُ قَائِمَةً عَلَى أَمْرِ اللَّهِ لاَ يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ *
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :’’اللہ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اس کو دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے اور (نبی ﷺ نے فرمایاکہ) میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا تو اللہ ہی ہے اور یاد رکھو کہ یہ امت ہمیشہ اللہ کے حکم(دین) پر قائم رہے گی تو جو شخص ان کا مخالف ہو گا ان کو نقصان نہ پہنچا سکے گا یہاں تک کہ قیامت آ جائے ۔ ‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ الْفَهْمِ فِي الْعِلْمِ
(حصول ) علم میں سمجھداری (بہت اعلیٰ چیز ہے)​

(65) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ فَأُتِيَ بِجُمَّارٍ فَقَالَ إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً وَ ذَكَرَ الْحَدِيْثَ وَزَادَ فِي ھٰذِہِ الرِّوَايَةِ فَإِذَا أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ فَسَكَتُّ*
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے پاس تھے کہ آپ کے پاس ایک کھجور کا گابھہ لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے …‘‘الخ اور پوری حدیث بیان کی۔(دیکھیے حدیث نمبر :56) اور اس روایت میں (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے) اتنا زیادہ کہا کہ میں سب سے چھوٹا تھا اس لیے چپ رہا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ الإِغْتِبَاطِ فِي الْعِلْمِ وَالْحِكْمَةِ
علم اور حکمت میں غبطہ (رشک) کرنا (درست ہے)​

(66) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ لاَ حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا *
سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’حسد (رشک) جائز نہیں مگر دو شخصوں(کی عادتوں) پر ۔(۱) اس شخص (کی عادت) پر جس کو اللہ نے مال دیا ہو اور اس بات کی توفیق و ہمت بھی کہ اسے (راہ) حق میں صرف کرے (۲) اس شخص (کی عادت) پر جس کو اللہ نے علم و حکمت عنایت کی ہو اور وہ اسکے ذریعہ سے فیصلے (اور عمل) کرتا ہو اور (لوگوں)کو اس کی تعلیم کرتا ہو ۔‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ
نبی ﷺ کا فرمانا کہ ’’اے اللہ! اس کو کتاب (قرآن) کا علم (فہم و فراست) عنایت فرما۔‘‘​

(67) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ضَمَّنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَقَالَ اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ *
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے (ایک مرتبہ) اپنے سینے سے لپٹا لیا اور فرمایا :’’ اے اللہ! اس کو (اپنی) کتاب کا علم عنایت فرما ۔ ‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ مَتَى يَصِحُّ سِمَاعُ الصَّغِيرِ
لڑکے کا سماع حدیث کس (کتنی) عمر سے درست ہے ؟​

(68) عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الْاِحْتِلاَمَ وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ وَأَرْسَلْتُ الْـأَتَانَ تَرْتَعُ فَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْكَرْ ذَلِكَ عَلَيَّ *
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں (ایک مرتبہ) ایک گدھی پر سوار ہو کرچلا اور اس وقت میں بلوغت کے قریب تھا اور رسول اللہ ﷺ منیٰ میں بغیر کسی دیوار (سترہ) کے نماز پڑھ رہے تھے تو میں صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزرا اور میں نے گدھی کو چھوڑ دیا تاکہ وہ چرلے اور میں صف میں شامل ہوگیا، مجھے (کسی نے) اس بات سے منع نہیں کیا ۔
(69) عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَقَلْتُ مِنَ النَّبِيِّ ﷺ مَجَّةً مَجَّهَا فِي وَجْهِي وَأَنَا ابْنُ خَمْسِ سِنِينَ مِنْ دَلْوٍ *
سیدنا محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی ایک کلی یاد ہے ، جو آپ ﷺ نے ایک ڈول سے (پانی) لے کر میرے منہ پہ ماری تھی اورمیں اس وقت پانچ برس کا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ فَضْلِ مَنْ عَلِمَ وَعَلَّمَ
اس شخص کی فضیلت (کا بیان) جو (دین کا علم) پڑھے اور (دوسروں کو) پڑھائے​

(70) عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَثَلُ مَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيرِ أَصَابَ أَرْضًا فَكَانَ مِنْهَا نَقِيَّةٌ قَبِلَتِ الْمَائَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلَـأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ وَكَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَائَ فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوا وَسَقَوْا وَزَرَعُوا وَأَصَابَ مِنْهَا طَائِفَةً أُخْرَى إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لاَ تُمْسِكُ مَائً وَلاَ تُنْبِتُ كَلَـأً فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللَّهِ وَنَفَعَهُ مَا بَعَثَنِي اللَّهُ بِهِ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ *
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :’’ اس ہدایت اور علم کی مثال، جس کے ساتھ مجھے اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے، مثل تیز بارش کے ہے جوزمین پر برس ۔ تو جو زمین صاف ہوتی ہے، وہ پانی کو جذب کر لیتی ہے پھر اس سے بہت سارا چارا اور گھاس اگتی ہے اور جو زمین سخت ہوتی ہے، وہ پانی کو روک لیتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے، وہ (اس کو) پیتے ہیں اور (اپنے جانوروں کو) پلاتے ہیں اور زراعت (کو سیراب) کرتے ہیں اور کچھ بارش (زمین کے) دوسرے حصہ کوپہنچی کہ جو بالکل چٹیل میدان ہے، نہ پانی کو روکتا ہے اور نہ سبزہ اگاتا ہے۔ پس یہی مثال ہے اس شخص کی جو اللہ کے دین کی سمجھ حاصل کی اور جس چیز کے ساتھ مجھے اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا ہے، اس کو فائدہ دے اور وہ (اس کو) پڑھے او رپڑھائے اور مثال اس شخص کی جس نے اس کی طرف سر (تک) نہ اٹھایا اور اللہ کی اس ہدایت کو ، جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ، قبول نہ کیا ۔ (بے آب و گیاہ بنجر زمین اور چٹیل میدان کی ہے)۔‘‘
 
Top