- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
بَابٌ : الْقِرَائَةُ وَالْعَرْضُ عَلَى الْمُحَدِّثِ
(حدیث کا خود) پڑھنا اور (پڑھ کر) محدث کو سنانا
(حدیث کا خود) پڑھنا اور (پڑھ کر) محدث کو سنانا
(57) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي الْمَسْجِدِ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ وَالنَّبِيُّ ﷺ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَقُلْنَا هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ يَا ابْنَ عَبْدِالْمُطَّلِبِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ قَدْ أَجَبْتُكَ فَقَالَ الرَّجُلُ لِلنَّبِيِّ ﷺ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلاَ تَجِدْ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ فَقَالَ سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ فَقَالَ أَسْأَلُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ فَقَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ اللَّهُمَّ نَعَمْ فَقَالَ الرَّجُلُ آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ وَ أَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ *
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نبی ﷺ کے ہمراہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، ایک شخص اونٹ پر (سوار) آیا اور اس نے اپنے اونٹ کو مسجد میں (لا کر) بٹھا کر اس کے پاؤں باندھ دیے، پھر اس نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا تم میں سے محمد( ﷺ ) کون ہیں ؟ اور (اس وقت) نبی ﷺ صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان تکیہ لگائے بیٹھے تھے، تو ہم لوگوں نے کہا یہ مرد صاف رنگ تکیہ لگائے ہوئے (جو بیٹھے ہیں انہی کا نام نامی محمد ﷺ ہے)۔ پھر اس شخص نے آپ سے کہا کہ اے عبدالمطلب کے بیٹے ! نبی ﷺ نے فرمایا :’’(کہہ) میں سن رہا ہوں۔‘‘ اس نے کہا کہ میں آپ سے (کچھ) پوچھنے والا ہوں اور (پوچھنے میں) آپ پر سختی کروں گا تو آپ اپنے دل میں میرے اوپر ناخوش نہ ہونا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو تیری سمجھ میں آئے پوچھ لے۔ وہ بولا کہ میں آپ کو آپ کے پروردگار اور آپ سے پہلے لوگوں کے پروردگار کی قسم دے کر پوچھتا ہوں (سچ بتایے) کہ کیا اللہ نے آپ کو تمام آدمیوں کی طرف (پیغمبر بناکر) بھیجا ہے ؟ آپ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم !ہاں (بیشک مجھے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے)۔‘‘ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں (سچ بتایے) کیا دن رات میں پانچ نمازوں کے پڑھنے کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا :’’اللہ کی قسم! ہاں ۔ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں (سچ بتایے) کیا اس مہینے (یعنی رمضان) کے روزے رکھنے کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا :’’اللہ کی قسم !ہاں ۔ پھر اس نے کہاکہ میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں (سچ بتایے) کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ یہ صدقہ ہمارے مال داروں سے لیں اور اسے ہمارے مستحقین پر تقسیم کریں؟تو نبی ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ کی قسم !ہاں ۔‘‘ اس کے بعد وہ شخص کہنے لگا کہ میں اس (شریعت) پر ایمان لایا ، جو آپ ﷺ لائے ہیں اور میں اپنی قوم کے ان لوگوں کا جو میرے پیچھے ہیں ، بھیجا ہوا (نمائندہ) ہوں اور میں ضمام بن ثعلبہ ( رضی اللہ عنہ ) ہوں (قبیلہ) بنی سعد بن بکر سے تعلق رکھتا ہوں۔