• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مشرک کی نجاست کا حکم

رفیق طاھر

رکن مجلس شوریٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 04، 2011
پیغامات
790
ری ایکشن اسکور
3,978
پوائنٹ
323
محترم رفیق طاھر بھائی ان انڈرلائن فقرے کی وضاحت فرما دیں آپ کیا بتانا چاہتےہیں میں آپکی بات کوپوری طرح سمجھ نہیں سکا
مجھے کوئی عبارت خط کشیدہ نظر نہیں آرہی ۔
کہیں آپ ملون عبارت تو مراد نہیں لے رہے ؟!
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
مجھے کوئی عبارت خط کشیدہ نظر نہیں آرہی ۔
کہیں آپ ملون عبارت تو مراد نہیں لے رہے ؟!
محترم شیخ صاحب وہ شاہد نشان زدہ کو انڈر لائن کہ گئے نشان زدہ یہ تھے


رفیق طاھر نے کہا ہے:
اس حدیث میں نجاست حسی کی نفی ہے
اور یہ نفی اس وقت تک کے لیے ہے جب کوئی مؤمن نجاست حکمی کو نجاست حسی سمجھنے لگے۔ اور یہی کچھ یہاں بھی ہوا ہے ۔
نجاست ظاہری کے لگ جانے سے بھی "مؤمن نجس نہیں ہوتا" ہاں مؤمن کا بعض حصہ یا جہاں جہاں نجاست لگی ہے وہ حسی طور پر نجس ہو جاتا ہے ۔ اور ان المسلم لا ینجس میں اسکی نفی نہیں ہے ۔​
محترم شیخ صاحب اوپر شرخ الفاظ کی دونوں بھائیوں کو سمجھ نہیں آئی میرے خیال میں آپ شاید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ چونکہ نجاست حکمی والے کے ساتھ پیار محبت سے ہاتھ پکڑ کر نہیں بیٹھا جا سکتا تو یہ تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو پتا تھا مگر وہ اس حکمی نجاست کے حکم پر حسی نجاست کے حکم کو قیاس کر رہے تھے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے قیاس کی غلطی کو واضح کرنے کی بجائے الزامی جواب کے تحت یہ کہا کہ جب تم حکمی نجاست کے حکم ایک حکم (قربت نہ کرنا) پر حسی نجاست کو قیاس کر رہے ہو تو پھر اسی حکمی نجاست کے دوسرے حکم یا مفہوم مخالف (یعنی مومن حکمی نجس نہیں ہوتا) پر بھی حسی نجاست کو قیاس کر کے عمل کر لیتے​
 

رفیق طاھر

رکن مجلس شوریٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 04، 2011
پیغامات
790
ری ایکشن اسکور
3,978
پوائنٹ
323
چونکہ نجاست حکمی والے کے ساتھ پیار محبت سے ہاتھ پکڑ کر نہیں بیٹھا جا سکتا تو یہ تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو پتا تھا
هي أكبر من أختها -- فالله المستعان !
معاملہ یہ نہیں ۔
بلکہ معاملہ یوں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حکمی نجاست کو حسی نجاست پر قیاس کرکے یہ سمجھا کہ شاید نجاست حکمی اور حسی کا حکم ایک ہی ہے لہذا حکمی نجاست والے کو چھونا بھی درست نہیں ۔ تو اس خیال کی نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے اصلاح فرمائی ۔کہ نجاست حکمی کو نجاست حسی نہ سمجھا جائے۔
 
شمولیت
مئی 01، 2014
پیغامات
257
ری ایکشن اسکور
67
پوائنٹ
77
شیخین نے بہت اچھی وضاحت فرمائی.
جزاکم اللہ خیرا.
محترمی اسکا مطلب یہ ہوا کہ مشرک میں نجاست حکمی ھے.اور جس طرح نجاست حسی کے لگنے سے مسلم پورا کا پورا نجس نہیں ھوتا اس طرح مشرک بھی نھیں ھوتا.کیا خیال ھے؟
 

رفیق طاھر

رکن مجلس شوریٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 04، 2011
پیغامات
790
ری ایکشن اسکور
3,978
پوائنٹ
323
جی ہاں مشرک کی نجاست بھی حکمی ہی ہے حسی نہیں !
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
هي أكبر من أختها -- فالله المستعان !
معاملہ یہ نہیں ۔
بلکہ معاملہ یوں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حکمی نجاست کو حسی نجاست پر قیاس کرکے یہ سمجھا کہ شاید نجاست حکمی اور حسی کا حکم ایک ہی ہے لہذا حکمی نجاست والے کو چھونا بھی درست نہیں ۔ تو اس خیال کی نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے اصلاح فرمائی ۔کہ نجاست حکمی کو نجاست حسی نہ سمجھا جائے۔
جزاک اللہ محترم شیخ صاحب مگر مجھے اوپر دو باتوں کی سمجھ نہیں آئی
1-سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے کون سی حکمی نجاست کی مثال تھی جس کو حسی نجاست پر قیاس کیا اگر یہاں اگر اصل (مقیس علیہ)، فرع (مقیس) اور علت کا پتا چل جائے تو شاید کچھ سمجھنے میں آسانی ہو جائے
2-اوپر آپ نے ایک جگہ کہا کہ حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسی نجاست کی نفی کی ہے اور دوسری جگہ کہا کہ جو تھوڑی بہت جسم پر نجاست ظاہری یا حسی لگ جاتی ہے اسکی اس حدیث میں نفی نہیں ہے تو کیا نجاست حسی کی بھی تقسیم ہے
جزاک اللہ خیرا
 

رفیق طاھر

رکن مجلس شوریٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 04، 2011
پیغامات
790
ری ایکشن اسکور
3,978
پوائنٹ
323
وه حديث یہ ہے :
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ بَكْرٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ فَقَالَ أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هِرٍّ فَقُلْتُ لَهُ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أَبَا هِرٍّ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ
صحیح مسلم : ۲۸۵​
یعنی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جنبی تھے ۔ اور انہوں نے اس جنابت کی نجاست حکمی کو نجاست حسی کی طرح سمجھ لیا تھا ۔ تو اس کی نفی رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ۔
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
محترمی اسکا مطلب یہ ہوا کہ مشرک میں نجاست حکمی ھے.اور جس طرح نجاست حسی کے لگنے سے مسلم پورا کا پورا نجس نہیں ھوتا اس طرح مشرک بھی نھیں ھوتا.کیا خیال ھے؟
محترم بھائی آپ نے اوپر کہا ہے کہ
اس طرح مشرک بھی نہیں ہوتا
مگر کیا نہیں ہوتا وہ حذف ہے اسکو اگر قرینہ سے نکالیں تو یہ بنتا ہے کہ
مشرک بھی نجاست حکمی سے پورا کا پورا نجس نہیں ہوتا
کیا ایسے ہی آپ کہنا چاہتے ہیں
اگر ایسے ہے تو اوپر بتایا گیا ہے مشرک کی نجاست حکمی ہوتی ہے تو اس سے یہ سمجھ آتی ہے کہ
حکمی نجاست بھی حسی نجاست کی طرح پوری بھی ہو سکتی ہے اور کم بھی ہو سکتی ہے کیا ایسا ہی ہے


دوسرا یہ پوچھنا تھا کہ آپ کی اوپر بات کا جواب نیچے شیخ صاحب نے یہ دیا ہے

جی ہاں مشرک کی نجاست بھی حکمی ہی ہے حسی نہیں !
اس پر مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ کیا آپ یہی پوچھنا چاہتے تھے یا آپ درست بات نہیں سمجھا سکے
جزاکم اللہ خیرا
 

رفیق طاھر

رکن مجلس شوریٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 04، 2011
پیغامات
790
ری ایکشن اسکور
3,978
پوائنٹ
323
جزاک اللہ محترم شیخ صاحب مگر مجھے اوپر دو باتوں کی سمجھ نہیں آئی
2-اوپر آپ نے ایک جگہ کہا کہ حدیث میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسی نجاست کی نفی کی ہے اور دوسری جگہ کہا کہ جو تھوڑی بہت جسم پر نجاست ظاہری یا حسی لگ جاتی ہے اسکی اس حدیث میں نفی نہیں ہے تو کیا نجاست حسی کی بھی تقسیم ہے
جزاک اللہ خیرا
میں نے لکھأ ہے :
نجاست ظاہری کے لگ جانے سے بھی "مؤمن نجس نہیں ہوتا" ہاں مؤمن کا بعض حصہ یا جہاں جہاں نجاست لگی ہے وہ حسی طور پر نجس ہو جاتا ہے ۔ اور ان المسلم لا ینجس میں اسکی نفی نہیں ہے ۔
نجاست حسی کی اگر کوئی تقسیم کرنا چاہے تو کر لے لیکن ہمیں فی الحال اسکی ضرورت نہیں ہے ۔
جہاں لکھا کہ نجاست حسی کی نفی کر رہے ہیں وہ جنبی سے متعلق روایت میں ہے۔
اور جو نجاست حسی کے جسم پر لگ جانے کی بات ہے کہ جسم پر جہاں وہ لگی جسم کا وہ حصہ نجس ہو گیا تو اسکے نجس ہونے کی مذکورہ حدیث میں نفی نہیں ۔
 
Top