• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مشرک کی نجاست کا حکم

شمولیت
مئی 01، 2014
پیغامات
257
ری ایکشن اسکور
67
پوائنٹ
77
لیکن محترمی جو دو اشکال ھیں انکا ازالہ بھی تو ضروری ھے.
کیا فرماتے ھیں؟
 
شمولیت
مئی 01، 2014
پیغامات
257
ری ایکشن اسکور
67
پوائنٹ
77
جزاک اللہ خیرا.
محترمی جو دو اشکا ل ھیں انکی طرف توجہ دی جائے.
 

رفیق طاھر

رکن مجلس شوریٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 04، 2011
پیغامات
790
ری ایکشن اسکور
3,978
پوائنٹ
323
کون سے دو اشکال ہیں ؟
 

ahmed

رکن
شمولیت
جنوری 01، 2012
پیغامات
37
ری ایکشن اسکور
32
پوائنٹ
38
مشرک کی نجاست سے نجاست حکمی مراد ہے ۔
اسکی دلیل نبی مکرم صلى اللہ علیہ وسلم کا ثمامہ بن اثال کو مسجد میں قید کرنا ہے جبکہ وہ ابھی مشرک تھے ۔
 
شمولیت
مئی 01، 2014
پیغامات
257
ری ایکشن اسکور
67
پوائنٹ
77
محترم. حدیث "ان المسلم لا ینجس "میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلم سے کس نجاست کی نفی کی ھے؟
۱ اگر آ پ یہ فرمائیں کہ "حسی نجاست " کی نفی کی ھے.
تو پھلی بات یہ ہے کہ "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جنابت کی حالت میں خود میں کون سی نجاست محسوس کر رھے تھے؟ بظاھر تو یھی معلوم ہوتا ہے(جیسا کہ "فتح الباری میں" حافظ الدنیا ابن حجر نے کھا ہے )کہ وہ حسی نجاست ہی محسوس کررہے تھ تو اس پریہ اعتراض وارد ھوتا ھے
کہ مسلم بسا اوقات نجاست کے لگ جانے سے نجس بھی ھوجاتا ھے.
تو "ان المسلم لا ینجس "کا کیا ھوگا؟
۲ اور اگر آپ یہ فرمائیں کہ "آپ صلی اللہ علیہ وسلم "نے مسلم سے حکمی نجاست کی نفی کی ہے تو یہ عجیب تر نہ ہوگا ک ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ تو خودمیں نجاست حسی سمجھ رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اس شک کے ازالے کے لئے اس سے نجاست حکمی کی نفی کررہے ھوں.محترم اب بتائیں اتحاد نیت کھاں ھے؟
باقی قرآن مجید کی تلاوت کے حوالے سے(جو کہ اس موضوع کو ذکر کرنے کا بنیادی مقصد ھی یہی ہے )ان شاء اللہ آگے بحث کرینگے.کہ حدیث "ان لا یمس القرآن الا طاہر" سے کون مراد ھے؟
مسلم یا کافر؟
لیکن یہ بنیادی باتیں ذرا حل ھوجائیں تا کے بحث کو سمجھنے میں آسانی رہے.
اس لئے کہ اس مسئلے کا سارا دارو مدار انہی باتوں پر منحصر ھے.ان کے حل سے ان شاءاللہ مسئلہ حل ھوجائیگا.
مزید فورم پر موجود علماء کرام کی آراء کا بھی انتظار ہے.
 

رفیق طاھر

رکن مجلس شوریٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 04، 2011
پیغامات
790
ری ایکشن اسکور
3,978
پوائنٹ
323
اس حدیث میں نجاست حسی کی نفی ہے
اور یہ نفی اس وقت تک کے لیے ہے جب کوئی مؤمن نجاست حکمی کو نجاست حسی سمجھنے لگے۔ اور یہی کچھ یہاں بھی ہوا ہے ۔
نجاست ظاہری کے لگ جانے سے بھی "مؤمن نجس نہیں ہوتا" ہاں مؤمن کا بعض حصہ یا جہاں جہاں نجاست لگی ہے وہ حسی طور پر نجس ہو جاتا ہے ۔ اور ان المسلم لا ینجس میں اسکی نفی نہیں ہے ۔
 

ahmed

رکن
شمولیت
جنوری 01، 2012
پیغامات
37
ری ایکشن اسکور
32
پوائنٹ
38
اس حدیث میں نجاست حسی کی نفی ہے
اور یہ نفی اس وقت تک کے لیے ہے جب کوئی مؤمن نجاست حکمی کو نجاست حسی سمجھنے لگے۔ اور یہی کچھ یہاں بھی ہوا ہے ۔
نجاست ظاہری کے لگ جانے سے بھی "مؤمن نجس نہیں ہوتا" ہاں مؤمن کا بعض حصہ یا جہاں جہاں نجاست لگی ہے وہ حسی طور پر نجس ہو جاتا ہے ۔ اور ان المسلم لا ینجس میں اسکی نفی نہیں ہے ۔
محترم رفیق طاھر بھائی ان انڈرلائن فقرے کی وضاحت فرما دیں آپ کیا بتانا چاہتےہیں میں آپکی بات کوپوری طرح سمجھ نہیں سکا
 
Top