• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منکرین حدیث سے پچاس سوالات

عمران علی

مبتدی
شمولیت
اگست 25، 2012
پیغامات
71
ری ایکشن اسکور
38
پوائنٹ
21
محترم ارسلان صاحب،
یہ چاروں سوالات پوچھنے کا مقصد صرف آپ کو احادیث کی اہمیت واضح کرنا ہے۔
محترم بھائی آپ کے چاروں سوالات پوچھنے کا مقصد احادیث کی اہمیت واضح کرنا تھا، لیکن وہ تو آپ نہ کر پائے، اب کیا کریں، احادیث سے آپ وہ قانون ثابت کریں جو قرآن میں نہ ہو تو آپ کو مانیں گے، آپ تاریخی واقعات کی تاریخیں اگر قرآن کریم سے معلوم کرنے جائيں گے تو وہ ہم آپ کو فراہم نہیں کر سکتے اسکے لیے آپ تاریخ کا مطالعہ کیجیے، کیونکہ قرآن کریم کوئی جنتری یا تاریخ نہیں۔ہاں جہاں اصول اور قانون کی بات ہوتی ہے وہ ہم آپ کو قران کریم سے استخراج کرکے دیں گے، بلکہ وہ قوانین بھی ثابت کر دیں گے جو احادیث سے ثابت نہیں ہوتے، انشاء اللہ۔

والسّلام،،

عمران علی
 

muslim

رکن
شمولیت
ستمبر 29، 2011
پیغامات
467
ری ایکشن اسکور
567
پوائنٹ
86
پاکستان میں یہ فتنہ بہت تیزی سے پیھل رھا ہے اور مولوی صاحبان جھگڑوں سے فارغ نھیں جو حدیث کو نھیں مانے اس کو تو فورا گولی مارنے چاھیے

اور جو بغیر اللہ کی سند کے، رسول پر افتراء کرے اسے کیا ما را جائے گا؟ یہ بھی بتا دیں
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,093
پوائنٹ
1,155
محترم ارسلان صاحب،


محترم بھائی آپ کے چاروں سوالات پوچھنے کا مقصد احادیث کی اہمیت واضح کرنا تھا، لیکن وہ تو آپ نہ کر پائے، اب کیا کریں، احادیث سے آپ وہ قانون ثابت کریں جو قرآن میں نہ ہو تو آپ کو مانیں گے، آپ تاریخی واقعات کی تاریخیں اگر قرآن کریم سے معلوم کرنے جائيں گے تو وہ ہم آپ کو فراہم نہیں کر سکتے اسکے لیے آپ تاریخ کا مطالعہ کیجیے، کیونکہ قرآن کریم کوئی جنتری یا تاریخ نہیں۔ہاں جہاں اصول اور قانون کی بات ہوتی ہے وہ ہم آپ کو قران کریم سے استخراج کرکے دیں گے، بلکہ وہ قوانین بھی ثابت کر دیں گے جو احادیث سے ثابت نہیں ہوتے، انشاء اللہ۔

والسّلام،،

عمران علی
میں نے احادیث کی اہمیت کو واضح کر دیا ہے،آپ نہ سمجھ پائیں تو میرا کیا قصور؟
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,581
پوائنٹ
211
محترم راجا صاحب،

میرے بھائی آپ ہم نے اگر غلط معنی و مفہوم پیش کیا تھا تو آنجناب کا بھی فرض بنتا تھا کہ بندے کی تصیح فرما دیتے، تا کہ سند رہتی، آپ ہی کا جملہ پیش کرتا ہوں، "سانپ کیا روزانہ کینچلی اتارتا ہے؟"، جی ہاں ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ بالکل روزانہ اپنی کینچلی نہیں اتارتا، بلکہ ایک ہی بار اتارتا ہے، لیکن جب اتارتا ہے ایک ساتھ ساری اتارتا ہے، وقفے وقفے سے نہیں، (جیسا کہ آپکے حرمت کے مہینے وقفے وقفے سے وارد ہوتا ہیں)
میرے بھائی لگاتار سے میری مراد وہ والا لگاتار نہیں ہے جو آپ سمجھ رہے ہیں، بلکہ میری مراد "مسلسل بغیر وقفہ کے ہے"
محترم عمران صاحب،
اتنا تو آپ بھی مانتے ہیں کہ ایک زبان سے دوسری میں ترجمہ کرتے وقت اہل زبان ہی کی بات مانی جاتی ہے اور اس میں قیاس وغیرہ کرنا درست نہیں۔ اگر اس سے اختلاف ہے تو بتائیں۔
اب یہ بتائیں کہ س ل خ کے مادے سے جو مفہوم آپ کشید کر کے ہمیں سمجھانا چاہ رہے ہیں، کیا وہ اس سے قبل کسی لغوی نے بھی کشید کیا ہے؟ اگر ہاں تو آپ کا مقدمہ بہت مضبوط، اگر نہیں تو آپ کی بات ردی کے لائق ہے۔
ایک چیز جو لغت میں موجود نہیں، وہ ہم کیسے دکھائیں۔ دعویٰ آپ نے کیا ہے کہ اس لفظ کا یہ معنی ہے تو دلیل آپ کے ذمے ہے نا کہ ہمارے۔

ویسے ایک بات بتائیے کہ آپ کی حد تحریف کو پہنچی ہوئی معنوی تشریحات کا حق حاصل ہے تو کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حق حاصل نہیں تھا؟ کیا وجہ ہے کہ آپ تو قرآن کی تشریحات کرتے پھرتے ہیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ حق تسلیم نہیں کرتے؟
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,581
پوائنٹ
211
اور جو بغیر اللہ کی سند کے، رسول پر افتراء کرے اسے کیا ما را جائے گا؟ یہ بھی بتا دیں
کیا آپ اللہ کی سند کے ساتھ قرآن ثابت کر سکتے ہیں؟
آپ پر آج تک ایک سوال کا جواب ادھار ہے، علی عمران صاحب بھی کوشش کریں اس کا جواب مہیا کرنے کی ، کہ سورہ روم آیت 54 میں جو تین دفعہ لفظ "ضعف" آیا ہے۔ اس میں حرف ض پر پیش ہے یا زبر۔ ذرا اللہ کی سند کے ساتھ ثابت کر دیجئے کہ درست قراءت کیا ہے۔ اور یا پھر یہ مان لیں کہ آپ کے سند کے معیارات درست نہیں۔ اور آخری حل یہ ہے کہ قرآن میں تحریف کو مان لیں۔ چوتھی صورت کوئی نہیں۔ ہے تو بتائین۔
 

muslim

رکن
شمولیت
ستمبر 29، 2011
پیغامات
467
ری ایکشن اسکور
567
پوائنٹ
86
کیا آپ اللہ کی سند کے ساتھ قرآن ثابت کر سکتے ہیں؟
آپ پر آج تک ایک سوال کا جواب ادھار ہے، علی عمران صاحب بھی کوشش کریں اس کا جواب مہیا کرنے کی ، کہ سورہ روم آیت 54 میں جو تین دفعہ لفظ "ضعف" آیا ہے۔ اس میں حرف ض پر پیش ہے یا زبر۔ ذرا اللہ کی سند کے ساتھ ثابت کر دیجئے کہ درست قراءت کیا ہے۔ اور یا پھر یہ مان لیں کہ آپ کے سند کے معیارات درست نہیں۔ اور آخری حل یہ ہے کہ قرآن میں تحریف کو مان لیں۔ چوتھی صورت کوئی نہیں۔ ہے تو بتائین۔

ایک مسلمان یہ تحریر جو آپ نے لکھی ھے بہت افسوسناک ھے۔

آپ زبر سے پڑھیں یا پیش سے دونوں صورتوں میں نہ ہی آیت کا معنٰی تبدیل ہوگا اور نہ ہی اس کی روح۔ یہ صرف لہجہ کا فرق ھے۔ اگر میں غلط کہہ رہا ہوں تو، اللہ کو گواہ کر کہ
شہادت دیں کہ اس فرق سے معنٰی اور روح تبدیل ہورہی ھے، بصورت دیگر آپ کا اعتراض باطل ھے۔

قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَـٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا ﴿٨٨-١٧﴾

کہہ دو کہ اگر انسان اور جن اس بات پر مجتمع ہوں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہ لاسکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کو مددگار ہوں

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّـهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا ﴿٨٢-٤﴾

تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر وہ غیر کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے




اس قسم کے فضول اعتراضات سے قرآن کو مشکوک کرنے کی سازش نہ کبھی کامیاب ہوئی تھی اور نہ کبھی ہوگی، جن کو آگ پر صبر ھے وہ مذموم کوشش کر کہ دیکھ لیں۔


وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿٢٣﴾ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَن تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ ﴿٢٤-٢﴾

اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے (اس خاص) بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ اور اللہ کے سوا، اپنے سب حمایتیوں کو بلالو، اگر تم سچے ہو۔ (23) پھر اگر نہ لا سکو اور ہم فرمائے دیتے ہیں کہ ہر گز نہ لا سکو گے تو ڈرو اس آگ سے، جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں تیار رکھی ہے کافروں کے لئے -


إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلَ اللَّـهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۙ أُولَـٰئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّـهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿١٧٤﴾ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ ۚ فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ ﴿١٧٥-٢﴾


تحقیق وہ لوگ جو چھپاتے ہیں اس کو جو اللہ نے الکتاب میں نازل کیا ۔ اور اس کو تھوڑی قیمت میں بیچ دیتے ہیں، وہی تو ہیں جو صرف انگاروں سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں، اور اللہ ان سے قیامت کے دن نہ تو کلام کرے گا اور نہ (ہی) ان کا تزکیہ کرے گا، اور ان کے لیئے دردناک عذاب ھے۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی اور بخشش چھوڑ کر عذاب خریدا۔ یہ (آتش) جہنم کی کیسی برداشت کرنے والے ہیں!
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,581
پوائنٹ
211
ایک مسلمان یہ تحریر جو آپ نے لکھی ھے بہت افسوسناک ھے۔
ایک مسلمان ہو کر آپ احادیث پر جو اعتراضات کرتے ہیں، بہت افسوسناک ہے۔ ہماری تحریر الزامی ہے۔ لہٰذا اسے اسی رنگ میں لیجئے۔جذباتی نہ ہوں۔

آپ زبر سے پڑھیں یا پیش سے دونوں صورتوں میں نہ ہی آیت کا معنٰی تبدیل ہوگا اور نہ ہی اس کی روح۔ یہ صرف لہجہ کا فرق ھے۔ اگر میں غلط کہہ رہا ہوں تو، اللہ کو گواہ کر کہ
شہادت دیں کہ اس فرق سے معنٰی اور روح تبدیل ہورہی ھے، بصورت دیگر آپ کا اعتراض باطل ھے۔
کیا خوب جواب ہے۔ گویا قرآن میں ہر شخص اپنی مرضی سے اس وقت تک تبدیلی کر سکتا ہے جب تک آیت کا معنیٰ یا روح تبدیل نہ ہو۔ کیا آپ واقعی یہی کہنا چاہتے ہیں، تصدیق یا تردید کر دیں تاکہ بات آگے بڑھے۔
تھوڑی دیر کو فرض کر لیں کہ اگر اس قسم کی کسی تبدیلی سے آیت کے معنیٰ پر فرق پڑ رہا ہو ، تو آپ کیسے ثابت کریں گے کہ اس مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کن الفاظ میں تلاوت کی تھی؟
 

muslim

رکن
شمولیت
ستمبر 29، 2011
پیغامات
467
ری ایکشن اسکور
567
پوائنٹ
86
ایک مسلمان ہو کر آپ احادیث پر جو اعتراضات کرتے ہیں، بہت افسوسناک ہے۔ ہماری تحریر الزامی ہے۔ لہٰذا اسے اسی رنگ میں لیجئے۔جذباتی نہ ہوں۔
الزامی تحریر کا نشانہ قرآن کو ہی کیوں بنایا جاتا ھے؟ جبکہ قرآن کے معا ملہ میں آپ اور مجھ میں کچھ بھی اختلاف نہیں ھے۔

کیا خوب جواب ہے۔ گویا قرآن میں ہر شخص اپنی مرضی سے اس وقت تک تبدیلی کر سکتا ہے جب تک آیت کا معنیٰ یا روح تبدیل نہ ہو۔ کیا آپ واقعی یہی کہنا چاہتے ہیں، تصدیق یا تردید کر دیں تاکہ بات آگے بڑھے۔
ہرگز نہیں۔ آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔


تھوڑی دیر کو فرض کر لیں کہ اگر اس قسم کی کسی تبدیلی سے آیت کے معنیٰ پر فرق پڑ رہا ہو ، تو آپ کیسے ثابت کریں گے کہ اس مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کن الفاظ میں تلاوت کی تھی؟

آپ حوالہ دے کر ثابت کریں کہ آیت کے معنٰی اور روح کہاں تبدیل ہورہی ھے۔ حق بیان کریں، مفروضوں کا کوئی فائدہ نہیں ھے۔
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,581
پوائنٹ
211
الزامی تحریر کا نشانہ قرآن کو ہی کیوں بنایا جاتا ھے؟ جبکہ قرآن کے معا ملہ میں آپ اور مجھ میں کچھ بھی اختلاف نہیں ھے۔
جب آپ حدیث کو نشانہ بناتے ہیں تو ہمیں بھی تکلیف ہوتی ہے۔ حجیت حدیث میں چودہ صدیوں میں اتفاق ہی رہا ہے۔ آج بیسویں صدی میں آپ اختلاف کرنے نکلے ہیں۔

کیا خوب جواب ہے۔ گویا قرآن میں ہر شخص اپنی مرضی سے اس وقت تک تبدیلی کر سکتا ہے جب تک آیت کا معنیٰ یا روح تبدیل نہ ہو۔ کیا آپ واقعی یہی کہنا چاہتے ہیں، تصدیق یا تردید کر دیں تاکہ بات آگے بڑھے۔
ہرگز نہیں۔ آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔
تو درست بات کیا ہے وہ بتا دیجئے۔ آپ ہی نے کہا تھا کہ ضعف میں ض پر پیش ہو یا زبر فرق نہیں پڑتا؟ تو بتائیے کہ وہاں کیوں فرق نہیں پڑتا اور اگر مثلاً میں سورہ فاتحہ میں مٰلک یوم الدین کو مَلک یوم الدین پڑھوں تو کیوں فرق پڑے گا؟ دونوں صورتوں میں معنی تبدیل نہیں ہوتے۔

آپ حوالہ دے کر ثابت کریں کہ آیت کے معنٰی اور روح کہاں تبدیل ہورہی ھے۔ حق بیان کریں، مفروضوں کا کوئی فائدہ نہیں ھے۔
یہ مفروضہ نہیں ہے۔ میں حوالہ بھی دوں گا۔ فی الحال آپ مجھے بتائیں کہ اگر میں قرآن کی ایسی آیت کی دو قراءات کا حوالہ دوں ، جن میں دو مختلف الفاظ ہوں اور جن سے معانی بھی بدل رہے ہوں تو آپ کیسے ثابت کریں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام پر کیا الفاظ تلاوت فرمائے تھے؟

میں واضح کر دوں کہ آپ جو احادیث پر اعتراضات کرتے ہیں، وہ اس لئے کہ آپ نے آج تک چودہ صدیوں قبل کی کوئی چیز "ثابت" کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اگر آپ ایسی کوشش کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ راویان اور اسناد اور علوم الحدیث کے قواعد کی کیا اہمیت ہے۔ لیکن اس پر بعد میں آتے ہیں۔ پہلے درج بالا باتوں کا جواب دیجئے۔
 

muslim

رکن
شمولیت
ستمبر 29، 2011
پیغامات
467
ری ایکشن اسکور
567
پوائنٹ
86
اگر مثلاً میں سورہ فاتحہ میں مٰلک یوم الدین کو مَلک یوم الدین پڑھوں تو کیوں فرق پڑے گا؟ دونوں صورتوں میں معنی تبدیل نہیں ہوتے۔
یہ سراسر کج بحثی ھے۔

یہ مفروضہ نہیں ہے۔ میں حوالہ بھی دوں گا۔ فی الحال آپ مجھے بتائیں کہ اگر میں قرآن کی ایسی آیت کی دو قراءات کا حوالہ دوں ، جن میں دو مختلف الفاظ ہوں اور جن سے معانی بھی بدل رہے ہوں تو آپ کیسے ثابت کریں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام پر کیا الفاظ تلاوت فرمائے تھے؟

قرآن اللہ کی طرف سے ھے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ھے، مگر آپ اختلاف ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّـهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا ﴿٨٢-٤﴾




فی الحال آپ مجھے بتائیں کہ اگر میں قرآن کی ایسی آیت کی دو قراءات کا حوالہ دوں ، جن میں دو مختلف الفاظ ہوں اور جن سے معانی بھی بدل رہے ہوں تو آپ کیسے ثابت کریں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام پر کیا الفاظ تلاوت فرمائے تھے؟
قرآن فرقان ھے وہ آپ کو بتا دے گا کہ حق کیا ھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا قرآن سننا چاہتے ہیں تو ہر سال مسجد الحرام میں رمضان المبارک میں اس کی مکمل تلاوت ہوتی ھے اور یہ ہمارے لیئے حجّت اور دلیل
ھے، ثبوت کے لیئے آیت دیکھیں۔


إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ ﴿٩٦-٣﴾
بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما


اللہ کے گھر سے ہدایت لینی ھے۔ رسول کے بتائے ہوئے قرآن سے ہٹ کر اگر وہاں کچھ اور تلاوت ہو رہا ہوتا تو اللہ اس کو مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ نہ کہتا۔



میں واضح کر دوں کہ آپ جو احادیث پر اعتراضات کرتے ہیں، وہ اس لئے کہ آپ نے آج تک چودہ صدیوں قبل کی کوئی چیز "ثابت" کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اگر آپ ایسی کوشش کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ راویان اور اسناد اور علوم الحدیث کے قواعد کی کیا اہمیت ہے۔ لیکن اس پر بعد میں آتے ہیں۔ پہلے درج بالا باتوں کا جواب دیجئے۔

یہ آپ نے صحیح لکھا ھے۔راویان اور اسناد اور علوم الحدیث کے قواعد کی کیا اہمیت ہے۔
مجھے اس بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ھے۔
 
Top