• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منکرین حدیث سے پچاس سوالات

عمران علی

مبتدی
شمولیت
اگست 25، 2012
پیغامات
71
ری ایکشن اسکور
38
پوائنٹ
21
کیا آپ اللہ کی سند کے ساتھ قرآن ثابت کر سکتے ہیں؟
آپ پر آج تک ایک سوال کا جواب ادھار ہے، علی عمران صاحب بھی کوشش کریں اس کا جواب مہیا کرنے کی ، کہ سورہ روم آیت 54 میں جو تین دفعہ لفظ "ضعف" آیا ہے۔ اس میں حرف ض پر پیش ہے یا زبر۔ ذرا اللہ کی سند کے ساتھ ثابت کر دیجئے کہ درست قراءت کیا ہے۔ اور یا پھر یہ مان لیں کہ آپ کے سند کے معیارات درست نہیں۔ اور آخری حل یہ ہے کہ قرآن میں تحریف کو مان لیں۔ چوتھی صورت کوئی نہیں۔ ہے تو بتائین۔
بسمہ اللہ الرحمان الرحیم:محترم برادر راجا صاحب
آپ کیا بچگانوں والی حرکتیں کررہے ہیں؟اس سے آپ ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں، حرف "ض " پر "ضمہ" ہو یا "فتح"اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا، کیونکہ یہ لفظ یہاں بطور اسم آیا ہے ، ویسے یہاں تینوں مقامات پر لفظ "ضعف" کی حرف "ض" پر "فتح یعنی زبر" ہے۔ اور ضعف کے ض اور ع حروف پر حرکات ہیں اور آخری حرف یعنی ف پر اعراب لگے گا، یاد رہے کہ اعرابی حالت تبدیل ہونے سے بھی معنی تبدیل نہیں ہوتے ، محض اس کی حالت (Case) تبدیل ہوتی ہے۔ اس آیت میں پہلی دو جگہوں پر لفظ ضعف بطور اسم مجرور (زیر کے اعراب) کے ساتھ آیا ہے، اور تیسری جگہ بطور اسم منصوب "زبر کے اعراب" کے ساتھ ہے، لیکن معنی ہر جگہ کمزور ہی ہیں۔
 

عمران علی

مبتدی
شمولیت
اگست 25، 2012
پیغامات
71
ری ایکشن اسکور
38
پوائنٹ
21
محترم عمران صاحب،
اتنا تو آپ بھی مانتے ہیں کہ ایک زبان سے دوسری میں ترجمہ کرتے وقت اہل زبان ہی کی بات مانی جاتی ہے اور اس میں قیاس وغیرہ کرنا درست نہیں۔ اگر اس سے اختلاف ہے تو بتائیں۔
اب یہ بتائیں کہ س ل خ کے مادے سے جو مفہوم آپ کشید کر کے ہمیں سمجھانا چاہ رہے ہیں، کیا وہ اس سے قبل کسی لغوی نے بھی کشید کیا ہے؟ اگر ہاں تو آپ کا مقدمہ بہت مضبوط، اگر نہیں تو آپ کی بات ردی کے لائق ہے۔
ایک چیز جو لغت میں موجود نہیں، وہ ہم کیسے دکھائیں۔ دعویٰ آپ نے کیا ہے کہ اس لفظ کا یہ معنی ہے تو دلیل آپ کے ذمے ہے نا کہ ہمارے۔

ویسے ایک بات بتائیے کہ آپ کی حد تحریف کو پہنچی ہوئی معنوی تشریحات کا حق حاصل ہے تو کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حق حاصل نہیں تھا؟ کیا وجہ ہے کہ آپ تو قرآن کی تشریحات کرتے پھرتے ہیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ حق تسلیم نہیں کرتے؟
جناب راجا صاحب
حضرت ہم خدانخواستہ معنی میں تحریف نہیں کررہے ، جیسا کہ آپ غلطی سے سمجھ رہے ہیں، مذکورہ بالا آیت میں انسلخ کا معنی "(مہینوں کا )گزرنا "ہی ہے، ہم فقط یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ یہ مہینے متواتر ہیں، وقفہ وقفہ سے نہیں۔ جیسا کہ عام طورپر مذہبی حضرات دعوی کرتے ہیں۔
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,581
پوائنٹ
211
جناب راجا صاحب
حضرت ہم خدانخواستہ معنی میں تحریف نہیں کررہے ، جیسا کہ آپ غلطی سے سمجھ رہے ہیں، مذکورہ بالا آیت میں انسلخ کا معنی "(مہینوں کا )گزرنا "ہی ہے، ہم فقط یہ ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ یہ مہینے متواتر ہیں، وقفہ وقفہ سے نہیں۔ جیسا کہ عام طورپر مذہبی حضرات دعوی کرتے ہیں۔
جناب عمران صاحب
اسی دلیل کے تو ہم طلبگار ہیں کہ متواتر کی دلیل عنایت کیجئے۔ اگر آپ کے پاس دلیل موجود نہیں، اور یقیناً نہیں ہے۔ تب تو یہ تحریف ہی کہلائی جا سکتی ہے۔ کوئی تیسرا راستہ آپ کے پاس ہے تو بتائیں؟
نیز اب تک آپ نے یہ بھی نہیں بتایا کہ جو آپ نے یہ لکھا:

چونکہ جب "حج اکبر" کے دن اس بات کا فیصلہ ہوگیا کہ ان مجرموں کے خلاف کاروائی کرنی ہے تو چونکہ اس وقت حرمت کا کوئی مہینہ چل رہا تھا،
تو آپ کو کس وحی نے بتایا کہ حرمت کا پہلا مہینہ ہی چل رہا تھا؟
آپ اپنے قیاس کو قرآن قرار دے ڈالیں تو عین متبع قرآن ٹھہریں۔ اور ہم قرآن کی وہ تشریح مانیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تو عین مشرک۔ کیا خوب دو رنگی ہے۔
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,581
پوائنٹ
211
بسمہ اللہ الرحمان الرحیم:محترم برادر راجا صاحب
آپ کیا بچگانوں والی حرکتیں کررہے ہیں؟اس سے آپ ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں، حرف "ض " پر "ضمہ" ہو یا "فتح"اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا، کیونکہ یہ لفظ یہاں بطور اسم آیا ہے ، ویسے یہاں تینوں مقامات پر لفظ "ضعف" کی حرف "ض" پر "فتح یعنی زبر" ہے۔ اور ضعف کے ض اور ع حروف پر حرکات ہیں اور آخری حرف یعنی ف پر اعراب لگے گا، یاد رہے کہ اعرابی حالت تبدیل ہونے سے بھی معنی تبدیل نہیں ہوتے ، محض اس کی حالت (Case) تبدیل ہوتی ہے۔ اس آیت میں پہلی دو جگہوں پر لفظ ضعف بطور اسم مجرور (زیر کے اعراب) کے ساتھ آیا ہے، اور تیسری جگہ بطور اسم منصوب "زبر کے اعراب" کے ساتھ ہے، لیکن معنی ہر جگہ کمزور ہی ہیں۔
محترم عمران صاحب
اوپر ہائی لائٹ کردہ اپنے الفاظ ملاحظہ کیجئے۔ کیا آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ قرآن میں جو الفاظ بطور اسم آئے ہیں، ان میں اپنی مرضی سے حرکات تبدیل کی جا سکتی ہیں؟
یا آپ مسلم صاحب کی طرح یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب تک معنی تبدیل نہ ہوں تو قرآن میں اپنی مرضی سے متبادل الفاظ استعمال کئے جا سکتے ہیں؟
میں نے ایک مثال پیش کی تھی کہ اگر میں سورہ فاتحہ میں مٰلک یوم الدین کو مَلک یوم الدین پڑھوں تو کیا یہ قابل قبول ہوگا؟ جب کہ یہاں بھی معنی نہیں بدلے۔
پھر یہ بھی واضح طور پر بتا دیں کہ اگر ایک ہی آیت میں قرآن کے ایک نسخے میں کوئی اور لفظ ہو، اور دوسرے نسخے میں اس کی جگہ کوئی دوسرا ایسا لفظ ہو، کہ جس سے معنی بدل جائیں، تو آپ کیسے ثابت کریں گے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام پر کیا لفظ تلاوت کیا
 

راجا

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 19، 2011
پیغامات
734
ری ایکشن اسکور
2,581
پوائنٹ
211
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا قرآن سننا چاہتے ہیں تو ہر سال مسجد الحرام میں رمضان المبارک میں اس کی مکمل تلاوت ہوتی ھے اور یہ ہمارے لیئے حجّت اور دلیل
ھے، ثبوت کے لیئے آیت دیکھیں۔

إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ ﴿٩٦-٣﴾
بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما

اللہ کے گھر سے ہدایت لینی ھے۔ رسول کے بتائے ہوئے قرآن سے ہٹ کر اگر وہاں کچھ اور تلاوت ہو رہا ہوتا تو اللہ اس کو مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ نہ کہتا۔
بہت خوب۔ مسلم صاحب، قرآن کی حفاظت کا وعدہ الٰہی کیا ہوا؟ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آج دنیا بھر میں جو قرآن تلاوت کیا جا رہا ہے۔ اس میں تحریف ہو چکی ہے اور فقط مسجد الحرام میں اصل قرآن باقی رہ گیا ہے؟
پھر یہ بھی ضرور بتائیں کہ اللہ کے گھر سے ہدایت لینی ہے تو کیا فقط قرآن کی تلاوت ہی ہدایت ہے۔ مسجد الحرام سے ہی وہ فتاویٰ شائع ہوئے ہیں کہ جو حجیت حدیث کا انکار کرے وہ کافر ہے۔ کیا آپ اسے بھی ہدایت والا فتویٰ مانتے ہیں۔ یا اس معاملے میں مسجد الحرام میں گمراہی ہے۔ کیونکہ مسجد الحرام میں تو آپ کو ایک بھی امام ایسا نہیں ملے گا جو احادیث پر وہ اعتراضات کرتا ہو جو آپ کرتے ہیں۔ بلکہ یہ ائمہ کرام تو آپ حضرات کو مبادیات دین کے واضح انکار کی وجہ سے کافر قرار دیتے ہیں۔ فتاویٰ چاہئیں تو وہ بھی پیش ہو جائیں گے۔
آپ آگے بڑھیں تو آپ کو مسجد الحرام سے بھی مختلف الفاظ والی قراءت کی تلاوت سنا دیں گے۔ لیکن وہ ابھی بعد کا مرحلہ ہے۔ پہلے درج بالا سوالات کے جوابات عنایت کیجئے۔
 

عمران علی

مبتدی
شمولیت
اگست 25، 2012
پیغامات
71
ری ایکشن اسکور
38
پوائنٹ
21
محترم راجا صاحب،
اب ہم اتنے طفل مکتب بھی نہیں کہ آپ ہمیں کچی کے قاعدے پڑھانے لگے ہیں۔ میں نے جو کچھ بھی کہا تھا صرف ضعف کے بار ےمیں کہا تھا، آپ اس کا اطلاق دیگر الفاظ پر نہ کریں۔دوسری بات یہ کہ نبی اکرم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر یہ قرآن نازل ہوا تھا، اور وہ عرب بھی تھے،فلہذا آپ سے التماس ہے کہ عربوں کو براہ مہربانی حرکات اور اعراب نہ سکھائیں۔آج بھی عرب ممالک میں جو اخبار چھپتا ہے ، اس میں حرکات اور اعراب نہیں ہوتے، لیکن پڑھنے والوں کو کبھی بھی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، اور نہ ہی وہ فضول کی ان بحثوں میں پڑتے ہیں ، جن میں آپ اور آپکے دیگر "اہل سنت" حضرات فضول میں اپنا سر کھپاتے رہتے ہیں۔

ایک بات بتائیے، اس جملہ میں "ان " پر کونسی حرکت ہے۔ "وہ ان پڑھ ہے"، ظاہر ہے ہر اردو پڑھنے اور سمجھنے والا بتا دے گا کہ لفظ "ان" کے حرف "ا" پر زبر کی حرکت ہے، جس طرح آپ کو اور تمام اردو سمجھنے والوں کو پتہ ہے کہ اس جملہ میں ان پر "زبر" کی حرکت ہے، اسی طرح عربوں کو بھی پتہ ہے کہ "ضعف" پر کونسی حرکت ہے یا تھی۔ فلہذا اپنا یہ بیکار کا فلسفہ اپنے پاس رکھیے اور فضول کے بحث مباحثہ میں نہ الجھیں ۔

والسّلام،

عمران علی
 

عمران علی

مبتدی
شمولیت
اگست 25، 2012
پیغامات
71
ری ایکشن اسکور
38
پوائنٹ
21
جناب عمران صاحب
اسی دلیل کے تو ہم طلبگار ہیں کہ متواتر کی دلیل عنایت کیجئے۔ اگر آپ کے پاس دلیل موجود نہیں، اور یقیناً نہیں ہے۔ تب تو یہ تحریف ہی کہلائی جا سکتی ہے۔ کوئی تیسرا راستہ آپ کے پاس ہے تو بتائیں؟
نیز اب تک آپ نے یہ بھی نہیں بتایا کہ جو آپ نے یہ لکھا:



تو آپ کو کس وحی نے بتایا کہ حرمت کا پہلا مہینہ ہی چل رہا تھا؟
آپ اپنے قیاس کو قرآن قرار دے ڈالیں تو عین متبع قرآن ٹھہریں۔ اور ہم قرآن کی وہ تشریح مانیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تو عین مشرک۔ کیا خوب دو رنگی ہے۔
جناب راجا صاحب،
اس سے پہلے کہ میں اس آیت میں وارد لفظ "انسلخ" پر روشنی ڈالوں، بہتر یہ ہوگا کہ ہم سورۃ توبہ کی مذکورہ آیات کا سیاق و سباق کے ساتھ مطالعہ کرلیں

بَرَاءَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ٩:١

ترجمہ (فتح محمد جالندھری):

(اے اہل اسلام اب) خدا اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری (اور جنگ کی تیاری) ہے ٩:١
فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ ۙ وَأَنَّ اللَّهَ مُخْزِي الْكَافِرِينَ ٩:٢

تو (مشرکو تم) زمین میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہ کرسکو گے۔ اور یہ بھی کہ خدا کافروں کو رسوا کرنے والا ہے ٩:٢

وَأَذَانٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُ ۚ فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ ۗ وَبَشِّرِ الَّذِينَ كَفَرُوا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ٩:٣

اور حج اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی (ان سے دستبردار ہے)۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکو گے اور (اے پیغمبر) کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو ٩:٣

إِلَّا الَّذِينَ عَاهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنقُصُوكُمْ شَيْئًا وَلَمْ يُظَاهِرُوا عَلَيْكُمْ أَحَدًا فَأَتِمُّوا إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَىٰ مُدَّتِهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ ٩:٤
البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور انہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو۔ (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے ٩:٤

فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ٩:٥
جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو اور پکڑلو اور گھیرلو اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے ٩:٥
محترم یہ ترجمہ میرا نہیں ہے یہ فتح محمد جالندھری صاحب کا ہے۔ فتح محمد جالندھری صاحب یہاں انسلخ کا ترجمہ کر رہے ہیں "گزر جائیں " ۔

چلیے ٹھیک ہے ہم غلط ہیں جو مہینوں کا گزرنا "متواتر گزرنا" کہہ رہے ہیں، لیکن آپ تو سمجھدار ہیں، آپ یہ بتائیے کہ یہ چار مہینے کیسے گزریں گے، کیونکہ ان چار مہینوں کے گزرنے کے بعد "مشرکین کے ساتھ " جنگ کا اعلان ہے۔آپ کے مفروضہ کے مطابق ہی فرض کرتے ہیں کہ "حج اکبر" ذوالحجہ" میں ہوا، اسکے بعد "محرم" آ گیا، یہ ہوئے دو مہینے، اور چلیے ذالقعدہ کا مہینہ ملا کر یہ بنے تین مہینے۔اب اسکے بعد کا اگلا حرمت کا مہینہ آپ حضرات کے بقول "رجب" آتا ہے، نعوذ باللہ کیا اللہ کو پتہ نہیں تھا کہ حج اکبر کے بعد تو حرمت کے صرف دو مہینے بچے ہیں، لہذا آیت میں چار مہینوں کی بجائے، دو مہینوں کی مہلت دینی چاہیے؟اسی سورۃ کی آیت نمبر ٢ ملاحظہ کیجیے اور تر جمہ بھی آپکے اپنے عالم "مولانا فتح محمد جالندھری " کا ہے، "تو (مشرکو تم) زمین میں چار مہینے چل پھر لو "۔چار مہینے کی مہلت دینے کا مطلب لگاتار چار مہینے ہے اور اگر لگاتار چار مہینے نہیں ہے تو یہ بتائیے کہ مشرکین کے ساتھ جنگ کب کی جائے گی، کیونکہ ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم تو تینوں لگاتار ہیں، اسکے بعد صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی ، جمادی الاول، اور جمادی الثانی پورے پانچ مہینے کے وقفہ سے اگلا حرمت کا مہینہ "رجب" آتا ہے، تو یوں آپ کے مطابق چار حرمت کے مہینے مکمل ہوتے ہیں۔ یعنی آپ کے بقول مشرکین کے ساتھ، ذوالقعدہ سے لیکر رجب تک جنگ نہیں کی جا سکتی، فلہذا یہ جنگ بہرحال، شعبان، رمضان اور شوال میں ہی کی جائے گی۔اب صورتحال کا موازنہ کیجیے، اللہ نے چار مہینے حرمت کے کہے جو آپ نے بڑھا کر "نو" کردیے، تو تحریف قرآن کا مرتکب کون ہوا؟ آپ جو چار کے نو مہینے بنا رہے ہیں، یا ہم جو چار مہینے ہی کہتے ہیں۔

وما علینا الا البلاغ
ثم تتفکروا،

عمران علی
 

muslim

رکن
شمولیت
ستمبر 29، 2011
پیغامات
467
ری ایکشن اسکور
567
پوائنٹ
86
بہت خوب۔ مسلم صاحب، قرآن کی حفاظت کا وعدہ الٰہی کیا ہوا؟ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آج دنیا بھر میں جو قرآن تلاوت کیا جا رہا ہے۔ اس میں تحریف ہو چکی ہے اور فقط مسجد الحرام میں اصل قرآن باقی رہ گیا ہے؟
پھر یہ بھی ضرور بتائیں کہ اللہ کے گھر سے ہدایت لینی ہے تو کیا فقط قرآن کی تلاوت ہی ہدایت ہے۔ مسجد الحرام سے ہی وہ فتاویٰ شائع ہوئے ہیں کہ جو حجیت حدیث کا انکار کرے وہ کافر ہے۔ کیا آپ اسے بھی ہدایت والا فتویٰ مانتے ہیں۔ یا اس معاملے میں مسجد الحرام میں گمراہی ہے۔ کیونکہ مسجد الحرام میں تو آپ کو ایک بھی امام ایسا نہیں ملے گا جو احادیث پر وہ اعتراضات کرتا ہو جو آپ کرتے ہیں۔ بلکہ یہ ائمہ کرام تو آپ حضرات کو مبادیات دین کے واضح انکار کی وجہ سے کافر قرار دیتے ہیں۔ فتاویٰ چاہئیں تو وہ بھی پیش ہو جائیں گے۔
آپ آگے بڑھیں تو آپ کو مسجد الحرام سے بھی مختلف الفاظ والی قراءت کی تلاوت سنا دیں گے۔ لیکن وہ ابھی بعد کا مرحلہ ہے۔ پہلے درج بالا سوالات کے جوابات عنایت کیجئے۔


بہت خوب۔ مسلم صاحب، قرآن کی حفاظت کا وعدہ الٰہی کیا ہوا؟ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آج دنیا بھر میں جو قرآن تلاوت کیا جا رہا ہے۔ اس میں تحریف ہو چکی ہے اور فقط مسجد الحرام میں اصل قرآن باقی رہ گیا ہے؟
میں نے یہ کہاں کہا ھے کہ فقط مسجد الحرام میں تلاوت کیا جانے والا قرآن کریم ہی صحیح ھے؟ بھائی صاحب قرآن کی جتنی بھی قرات ہیں درست ہیں، اور ان میں کوئی
اختلاف نہیں ھے۔ آپ نہ جانے کیوں اختلاف ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ تمام مسلمانوں کا ایمان ھے کہ قرآن میں کوئی اختلاف نہیں ھے ۔

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّـهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا ﴿٨٢-٤﴾

تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے

اس آیت کے بعد اب اس موضوع پر بحث کی کوئی گنجائش نہیں ھے۔

پھر یہ بھی ضرور بتائیں کہ اللہ کے گھر سے ہدایت لینی ہے تو کیا فقط قرآن کی تلاوت ہی ہدایت ہے۔ مسجد الحرام سے ہی وہ فتاویٰ شائع ہوئے ہیں کہ جو حجیت حدیث کا انکار کرے وہ کافر ہے۔ کیا آپ اسے بھی ہدایت والا فتویٰ مانتے ہیں۔ یا اس معاملے میں مسجد الحرام میں گمراہی ہے۔ کیونکہ مسجد الحرام میں تو آپ کو ایک بھی امام ایسا نہیں ملے گا جو احادیث پر وہ اعتراضات کرتا ہو جو آپ کرتے ہیں۔ بلکہ یہ ائمہ کرام تو آپ حضرات کو مبادیات دین کے واضح انکار کی وجہ سے کافر قرار دیتے ہیں۔ فتاویٰ چاہئیں تو وہ بھی پیش ہو جائیں گے۔
آپ آگے بڑھیں تو آپ کو مسجد الحرام سے بھی مختلف الفاظ والی قراءت کی تلاوت سنا دیں گے۔ لیکن وہ ابھی بعد کا مرحلہ ہے۔ پہلے درج بالا سوالات کے جوابات عنایت کیجئے۔
وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ ﴿١٢٤﴾ وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ۖ وَعَهِدْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ ﴿١٢٥-٢﴾

اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے کلمات کے ساتھ آزمایا تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں عرض کی اور میری اولاد سے فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا- (124) اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایا اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل ؑ کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف کرنے والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے -


إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ ﴿٩٦﴾ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ ۖ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا ۗ وَلِلَّـهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ۚ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ اللَّـهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ ﴿٩٧-٣﴾

بیشک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما (96) اس میں کھلی نشانیاں ہیں ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور جو اس میں آئے امان میں ہو اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے



کیا مسجد الحرام سے شائع ہونے والے فتویٰ میں ہدایت ھے اور ان پر عمل کرنا فرض ھے؟ کیا اس بات کی کوئی قرانی دلیل ھے؟ اگر ھے تو حوالہ دیں۔


مسجد الحرام میں تو آپ کو ایک بھی امام ایسا نہیں ملے گا جو احادیث پر وہ اعتراضات کرتا ہو جو آپ کرتے ہیں۔ بلکہ یہ ائمہ کرام تو آپ حضرات کو مبادیات دین کے واضح انکار کی وجہ سے کافر قرار دیتے ہیں۔ فتاویٰ چاہئیں تو وہ بھی پیش ہو جائیں گے۔
یہ سوال میں اپنے آپ سے بھی کرتا ہوں اور مجھے اب تک اس کا جواب نہیں ملا۔ کیونکہ مسجد الحرام کے متولّین کو متّقین کہا گیا ھے۔


يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا ۚ وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ إِن شَاءَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿٢٨-٩﴾
اے ایمان والو! مشرک نرے ناپاک ہیں تو اس برس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں اور اگر تمہاری محتاجی کا ڈر ہے تو عنقریب اللہ تمہیں دولت مند کردے گا اپنے فضل سے اگر چاہے بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے،

وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّـهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا كَانُوا أَوْلِيَاءَهُ ۚ إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٣٤-٨﴾

اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ کرے وہ تو مسجد حرام سے روک رہے ہیں اور وہ اس کے اہل نہیں اس کے اولیاء تو پرہیزگار ہی ہیں مگر ان میں اکثر کو علم نہیں،



اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا صرف حق ہی فرمایا۔
اب صرف اللہ کی کتاب ہی وہ واحد کسوٹی ھے جس سے ہم قول رسول کو پہچان سکتے ہیں اور اس افتراء کو بھی جو رسول کے نام مبارک کے ساتھ کیا گیا ھے۔
اللہ ہر طرح کے شرک سے محفوظ رکھے۔
آمین یا رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
 
شمولیت
فروری 19، 2014
پیغامات
91
ری ایکشن اسکور
47
پوائنٹ
83
اس تھریڈ کو آگے چلنا چاہیے کیونکہ منکرین حدیث کا فتنہ اب عام شہروں تک پہنچ چکا ہے،،،
اور اس میں عام آدمی بیشک ملوث نہ ہو،،،،،بہت بڑی سازش کے تحت چست و چلاق بندوں کا انتخاب کیا جاتا ہے
جو چرپ زبانی رکھتے ہوں
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
اس تھریڈ کو آگے چلنا چاہیے کیونکہ منکرین حدیث کا فتنہ اب عام شہروں تک پہنچ چکا ہے،،،
اور اس میں عام آدمی بیشک ملوث نہ ہو،،،،،بہت بڑی سازش کے تحت چست و چلاق بندوں کا انتخاب کیا جاتا ہے
جو چرپ زبانی رکھتے ہوں
جزاک اللہ خیرا محترم بھائی مگر کوئی سامنے بات کرنے والا موجود ہو تو بات کی جائے اور پھر سامنے والا جواب بھی دینے کا حوصلہ رکھتا ہو
ان مسلم صاحب سے مندرجہ ذیل لنک پر بات ہو چکی ہے مگر وہ پہلے تو جوابات کو ٹالتے رہے اور پھر معاملہ ہی ختم ہو گیا
لنک
 
Top