• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد ١ - (حدیث نمبر ١ تا ٨١٣)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الاذان
باب : فجر کی نماز باجماعت پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں

حدیث نمبر : 648
حدثنا أبو اليمان، قال أخبرنا شعيب، عن الزهري، قال أخبرني سعيد بن المسيب، وأبو سلمة بن عبد الرحمن أن أبا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ تفضل صلاة الجميع صلاة أحدكم وحده بخمس وعشرين جزءا، وتجتمع ملائكة الليل وملائكة النهار في صلاة الفجر‏"‏‏. ‏ ثم يقول أبو هريرة فاقرءوا إن شئتم ‏{‏إن قرآن الفجر كان مشهودا‏}‏
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، ، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعیب نے، انھوں نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جماعت سے نماز اکیلے پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ بہتر ہے۔ اور رات دن کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم پڑھنا چاہو تو ( سورہ بنی اسرائیل ) کی یہ آیت پڑھو ان قرآن الفجر کان مشہودا یعنی فجر میں قرآن پاک کی تلاوت پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔

حدیث نمبر : 649
قال شعيب وحدثني نافع، عن عبد الله بن عمر، قال تفضلها بسبع وعشرين درجة‏.‏
شعیب نے فرمایا کہ مجھ سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے اس طرح حدیث بیان کی کہ جماعت کی نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔

حدیث نمبر : 650
حدثنا عمر بن حفص، قال حدثنا أبي قال، حدثنا الأعمش، قال سمعت سالما، قال سمعت أم الدرداء، تقول دخل على أبو الدرداء وهو مغضب فقلت ما أغضبك فقال والله ما أعرف من أمة محمد صلى الله عليه وسلم شيئا إلا أنهم يصلون جميعا‏.‏
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سالم سے سنا۔ کہا کہ میں نے ام درداء سے سنا، آپ نے فرمایا کہ ( ایک مرتبہ ) ابودرداء آئے، بڑے ہی خفا ہو رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ کیا بات ہوئی، جس نے آپ کو غضبناک بنا دیا۔ فرمایا، خدا کی قسم! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی کوئی بات اب میں نہیں پاتا۔ سوا اس کے کہ جماعت کے ساتھ یہ لوگ نماز پڑھ لیتے ہیں۔

حدیث نمبر : 651
حدثنا محمد بن العلاء، قال حدثنا أبو أسامة، عن بريد بن عبد الله، عن أبي بردة، عن أبي موسى، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أعظم الناس أجرا في الصلاة أبعدهم فأبعدهم ممشى، والذي ينتظر الصلاة حتى يصليها مع الإمام أعظم أجرا من الذي يصلي ثم ينام‏"‏‏. ‏
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے برید بن عبداللہ سے بیان کیا، انھوں نے ابوبردہ سے، انھوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر وہ شخص ہوتا ہے، جو ( مسجد میں نماز کے لیے ) زیادہ سے زیادہ دور سے آئے اور جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے اور پھر امام کے ساتھ پڑھتا ہے اس شخص سے اجر میں بڑھ کر ہے جو ( پہلے ہی ) پڑھ کر سو جائے۔

تشریح : پہلی حدیث میں نماز فجر کی خاص فضیلت کا ذکر ہے کہ اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اورقرات قرآن مجید سنتے ہیں۔ دوسری دوحدیثوں میں مطلق جماعت کی فضیلت کا ذکر ہے۔ جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ فجر کی نماز باجماعت ادا کی جائے تاکہ ستائیس حصہ زیادہ ثواب حاصل کرنے کے علاوہ فرشتوں کی بھی معیت نصیب ہو جو فجر میں تلاوت قرآن سننے کے لیے جماعت میں حاضر ہوتے ہیں، پھرعرش پر جاکر اللہ پاک کے سامنے ان نیک بندوں کا ذکر خیر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان میں شامل فرمادے۔ آمین۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الاذان

باب : ظہر کی نماز کے لیے سویرے جانے کی فضیلت کا بیان

حدیث نمبر : 652
حدثنا قتيبة، عن مالك، عن سمى، مولى أبي بكر عن أبي صالح السمان، عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ بينما رجل يمشي بطريق وجد غصن شوك على الطريق فأخره، فشكر الله له، فغفر له‏"‏‏. ‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے امام مالک سے بیان کیا، انھوں نے ابوبکر بن عبدالرحمن کے غلام سمی نامی سے، انھوں نے ابوصالح سمان سے، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص کہیں جا رہا تھا۔ راستے میں اس نے کانٹوں کی بھری ہوئی ایک ٹہنی دیکھی، پس اسے راستے سے دور کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ( صرف اسی بات پر ) راضی ہو گیا اور اس کی بخشش کر دی۔

حدیث نمبر : 653
ثم قال ‏"‏ الشهداء خمسة المطعون، والمبطون، والغريق، وصاحب الهدم، والشهيد في سبيل الله‏"‏‏. ‏ وقال ‏"‏ لو يعلم الناس ما في النداء والصف الأول ثم لم يجدوا إلا أن يستهموا لاستهموا عليه‏"‏‏. ‏
پھر آپ نے فرمایا کہ شہداء پانچ قسم کے ہوتے ہیں۔ طاعون میں مرنے والے، پیٹ کے عارضے ( ہیضے وغیرہ ) میں مرنے والے اور ڈوب کر مرنے والے اور جو دیوار وغیرہ کسی بھی چیز سے دب کر مر جائے اور خدا کے راستے میں ( جہاد کرتے ہوئے ) شہید ہونے والے اور آپ نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان دینے اور پہلی صف میں شریک ہونے کا ثواب کتنا ہے اور پھر اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو کہ قرعہ ڈالا جائے تو لوگ ان کے لیے قرعہ ہی ڈالا کریں۔

حدیث نمبر : 654
‏"‏ ولو يعلمون ما في التهجير لاستبقوا إليه، ولو يعلمون ما في العتمة والصبح لأتوهما ولو حبوا‏"‏‏. ‏
اور اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ ظہر کی نماز کے لیے سویرے جانے میں کیا ثواب ہے تو اس کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کریں اور اگر یہ جان جائیں کہ عشاء اور صبح کی نماز کے فضائل کتنے ہیں، تو گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے ان کے لیے آئیں۔

تشریح : اس حدیث میں اوّل رفاہ عام کے ثواب پر روشنی ڈالی گئی ہے اوربتلایا گیاہے کہ مخلوق الٰہی کو فائدہ پہنچانے کے لیے اگر کوئی ادنیٰ قدم بھی اٹھایا جائے توعنداللہ اتنی بڑی نیکی ہے کہ نجات اخروی کے لیے صرف وہی ایک کافی ہوسکتی ہے۔ پھر اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کا بیان کیاگیا۔ جن کی پانچ مذکورہ قسمیں ہیں۔ پھر اذان دینا اورپہلی صف میں حاضرہوکر باجماعت نماز ادا کرنا۔ پھر ظہر کی نماز اوّل وقت ادا کرنا۔ پھر صبح اور عشاءکی نمازوں کا خاص خیال رکھنا وغیرہ وغیرہ نیکیوں پر توجہ دلائی گئی۔ ظہر کی نماز گرمیوں میں دیر کرنے کی احادیث ذکر میں آچکی ہیں۔ یہاں گرمیوں کے علاوہ اوّل وقت پڑھنے کی فضیلت مذکور ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الاذان
باب : ( جماعت کے لیے ) ہر ہرقدم پر ثواب ملنے کا بیان

حدیث نمبر : 655
حدثنا محمد بن عبد الله بن حوشب، قال حدثنا عبد الوهاب، قال حدثنا حميد، عن أنس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يا بني سلمة ألا تحتسبون آثاركم‏"‏‏. ‏
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے بنوسلمہ والو! کیا تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے؟

حدیث نمبر : 656
وقال ابن أبي مريم أخبرنا يحيى بن أيوب، حدثني حميد، حدثني أنس، أن بني سلمة، أرادوا أن يتحولوا، عن منازلهم، فينزلوا قريبا من النبي صلى الله عليه وسلم قال فكره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يعروا ‏{‏المدينة‏}‏ فقال ‏"‏ ألا تحتسبون آثاركم‏"‏‏. ‏ قال مجاهد خطاهم آثارهم أن يمشى في الأرض بأرجلهم‏.‏
اور ابن ابی مریم نے بیان میں یہ زیادہ کہا ہے کہ مجھے یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنوسلمہ والوں نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے مکان ( جو مسجد سے دور تھے ) چھوڑ دیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ رہیں۔ ( تا کہ باجماعت کے لیے مسجد نبوی کا ثواب حاصل ہو ) لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کا اجاڑ دینا برا معلوم ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے؟ مجاہد نے کہا ( سورہ یٰسین میں ) وآثارہم سے قدم مراد ہیں۔ یعنی زمین پر چلنے سے پاؤں کے نشانات۔

تشریح : مدینہ کے قرب وجوار میں جومسلمان رہتے تھے ان کی آرزو تھی کہ وہ مسجدنبوی کے قریب شہر میں سکونت اختیار کرلیں۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی اور فرمایا کہ تم لوگ جتنی دور سے چل چل کر آؤ گے اور یہاں نماز باجماعت ادا کرو گے ہر ہرقدم نیکیوں میں شمار کیا جائے گا۔ سورۃ یٰسین کی آیت کریمہ: انانحن نحی الموتیٰ ونکتب ماقدموا و آثارہم میں اللہ نے اسی عام اصول کو بیان فرمایا ہے کہ انسان کا ہروہ قدم بھی لکھا جاتا ہے جو وہ اٹھاتا ہے۔ اگر قدم نیکی کے لیے ہے تو وہ نیکیوں میں لکھا جائے گا اور اگر برائی کے لیے کوئی قدم اٹھا رہا ہے تو وہ برائیوں میں لکھا جائے گا۔ مجاہد کے قول کو عبدبن حمید نے موصولاً روایت کیا ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الاذان
باب : عشاء کی نماز باجماعت کی فضیلت کے بیان میں

حدیث نمبر : 657
حدثنا عمر بن حفص، قال حدثنا أبي قال، حدثنا الأعمش، قال حدثني أبو صالح، عن أبي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ ليس صلاة أثقل على المنافقين من الفجر والعشاء، ولو يعلمون ما فيهما لأتوهما ولو حبوا، لقد هممت أن آمر المؤذن فيقيم، ثم آمر رجلا يؤم الناس، ثم آخذ شعلا من نار فأحرق على من لا يخرج إلى الصلاة بعد‏"‏‏. ‏
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے باپ نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ مجھ سے ابوصالح ذکوان نے بیان کیا، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ منافقوں پر فجر اور عشاء کی نماز سے زیادہ اور کوئی نماز بھاری نہیں اور اگر انھیں معلوم ہوتا کہ ان کا ثواب کتنا زیادہ ہے ( اور چل نہ سکتے ) تو گھٹنوں کے بل گھسیٹ کر آتے اور میرا تو ارادہ ہو گیا تھا کہ مؤذن سے کہوں کہ وہ تکبیر کہے، پھر میں کسی کو نماز پڑھانے کے لیے کہوں اور خود آگ کی چنگاریاں لے کر ان سب کے گھروں کو جلا دوں جو ابھی تک نماز کے لیے نہیں نکلے۔

اس حدیث سے امام بخاری نے یہ نکالا کہ عشاءاورفجر کی جماعت دیگرنمازوں کی جماعت سے زیادہ فضیلت رکھتی ہے اورشریعت میں ان دونمازوں کا بڑا اہتمام ہے۔ جبھی توآپ نے ان لوگوں کے جلانے کا ارادہ کیا جو ان میں شریک نہ ہوں۔ مقصد باب یہی ہے اور باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الاذان
باب : دو یا زیادہ آدمی ہوں تو جماعت ہو سکتی ہے

حدیث نمبر : 658
حدثنا مسدد، قال حدثنا يزيد بن زريع، قال حدثنا خالد، عن أبي قلابة، عن مالك بن الحويرث، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ إذا حضرت الصلاة فأذنا وأقيما، ثم ليؤمكما أكبركما‏"‏‏. ‏
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے، انھوں نے مالک بن حویرث سے، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا جب نماز کا وقت آ جائے تو تم دونوں اذان دو اور اقامت کہو، پھر جو تم میں بڑا ہے وہ امام بنے۔

تشریح : اس سے پہلے بھی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ دوشخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جو سفر کا ارادہ رکھتے تھے۔ انھیں دواصحاب کوآپ نے یہ ہدایت فرمائی تھی۔ اس سے یہ مسئلہ ثابت ہوا کہ اگرصرف دوآدمی ہوں تو بھی نماز کے لیے جماعت کرنی چاہئیے۔

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: المراد بقولہ اذناای من احب منکما ان یوذن فلیوذن وذلک لاستوائہما فی الفضل ولایعتبر فی الاذان السن بخلاف الامامۃ الخ۔ ( فتح الباری ) حافظ ابن حجر لفظ اذنا کی تفسیر کرتے ہیں کہ تم میں سے جو چاہے اذان دے یہ اس لیے کہ وہ دونوں فضیلت میں برابر تھے اوراذان میں عمر کا اعتبار نہیں۔ بخلاف امامت کے کہ اس میں بڑی عمروالے کا لحاظ رکھا گیاہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الاذان
باب : جو شخص مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھے اس کا بیان اور مساجد کی فضیلت

حدیث نمبر : 659
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن أبي الزناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ الملائكة تصلي على أحدكم ما دام في مصلاه ما لم يحدث اللهم اغفر له، اللهم ارحمه‏.‏ لا يزال أحدكم في صلاة ما دامت الصلاة تحبسه، لا يمنعه أن ينقلب إلى أهله إلا الصلاة‏"‏‏. ‏
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا امام مالک سے، انھوں نے ابوالزناد سے، انھوں نے اعرج سے، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ملائکہ تم میں سے اس نمازی کے لیے اس وقت تک یوں دعا کرتے رہتے ہیں۔ جب تک ( نماز پڑھنے کے بعد ) وہ اپنے مصلے پر بیٹھا رہے کہ اے اللہ! اس کی مغفرت کر۔ اے اللہ! اس پر رحم کر۔ تم میں سے وہ شخص جو صرف نماز کی وجہ سے رکا ہوا ہے۔ گھر جانے سے سوا نماز کے اور کوئی چیز اس کے لیے مانع نہیں، تو اس کا ( یہ سارا وقت ) نماز ہی میں شمار ہو گا۔

حدیث نمبر : 660
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال حدثني خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل إلا ظله الإمام العادل، وشاب نشأ في عبادة ربه، ورجل قلبه معلق في المساجد، ورجلان تحابا في الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه، ورجل طلبته امرأة ذات منصب وجمال فقال إني أخاف الله‏.‏ ورجل تصدق أخفى حتى لا تعلم شماله ما تنفق يمينه، ورجل ذكر الله خاليا ففاضت عيناه‏"‏‏. ‏
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے عبیداللہ بن عمر عمری سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمن نے بیان کیا حفص بن عاصم سے، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا کہ سات طرح کے آدمی ہوں گے۔ جن کو اللہ اس دن اپنے سایہ میں جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ اوّل انصاف کرنے والا بادشاہ، دوسرے وہ نوجوان جو اپنے رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ سے مصروف رہا، تیسرا ایسا شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگا رہتا ہے، چوتھے دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے باہم محبت رکھتے ہیں اور ان کے ملنے اور جدا ہونے کی بنیاد یہی للٰہی ( اللہ کے لیے محبت ) محبت ہے، پانچواں وہ شخص جسے کسی باعزت اور حسین عورت نے ( برے ارادہ سے ) بلایا لیکن اس نے کہہ دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں، چھٹا وہ شخص جس نے صدقہ کیا، مگر اتنے پوشیدہ طور پر کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوئی کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ ساتواں وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور ( بے ساختہ ) آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔

تشریح : علامہ ابوشامہ عبدالرحمن بن اسماعیل نے ان سات خوش نصیبوں کا ذکر ان شعروں میں منظوم فرمایاہے

و قال النبی المصطفی ان سبعۃ
یظلہم اللہ الکریم بظلہ
محب عفیف ناشی متصدق
باک مصل و الامام بعدلہ

ان سات کے علاوہ بھی اوربہت سے نیک اعمال ہیں۔ جن کے بجالانے والوں کو سایہ عرش عظیم کی بشارت دی گئی ہے۔
حدیث کے لفظ قلبہ معلق فی المساجد ( یعنی وہ نمازی جس کا دل مسجد سے لٹکا ہوا رہتاہو ) سے باب کا مقصد ثابت ہوتاہے۔ باقی ان ساتوں پر تبصرہ کیاجائے تو دفاتر بھی ناکافی ہیں۔ متصدق کے بارے میں مسنداحمد میں ایک حدیث مرفوعاً حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں مذکور ہے کہ فرشتوں نے کہا یااللہ! تیری کائنات میں کوئی مخلوق پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہے؟ اللہ نے فرمایا ہاں لوہا ہے۔ پھر پوچھا کہ کوئی مخلوق لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا کہ ہاں آگ ہے جو لوہے کو بھی پانی بنادیتی ہے۔ پھر پوچھا پروردگار کوئی چیز آگ سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ فرمایا ہاں پانی ہے جو آگ کو بھی بجھا دیتا ہے۔ پھر پوچھا الٰہی کوئی چیز پانی سے بھی زیادہ اہم ہے فرمایا ہاں ہوا ہے جو پانی کو بھی خشک کردیتی ہے، پھر پوچھا کہ یااللہ! کوئی چیز ہوا سے بھی زیادہ اہم ہے فرمایا ہاں آدم کا وہ بیٹا جس نے اپنے دائیں ہاتھ سے صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوئی کہ کیاصدقہ کیا۔

حدیث مذکورہ میں جن سات خوش نصیبوں کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے مخصوص طور پر مردوں ہی کو نہ سمجھنا چاہئیے۔ بلکہ عورتیں بھی اس شرف میں داخل ہوسکتی ہیں اورساتوں وصفوںمیں سے ہر ہر وصف اس عور ت پر بھی صادق آسکتاہے جس کے اندر وہ خوبی پیدا ہو۔ مثلاً ساتواں امام عادل ہے۔ اس میں وہ عورت بھی داخل ہے جو اپنے گھر کی ملکہ ہے اور اپنے ماتحتوں پر عدل وانصاف کے ساتھ حکومت کرتی ہے۔ اپنے جملہ متعلقین میں سے کسی کی حق تلفی نہیں کرتی، نہ وہ کسی کی رو رعایت کرتی ہے بلکہ ہمہ وقت عدل و انصاف کو مقدم رکھتی ہے وعلی ہذاالقیاس۔

حدیث نمبر : 661
حدثنا قتيبة، قال حدثنا إسماعيل بن جعفر، عن حميد، قال سئل أنس هل اتخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم خاتما فقال نعم، أخر ليلة صلاة العشاء إلى شطر الليل، ثم أقبل علينا بوجهه بعد ما صلى فقال ‏"‏ صلى الناس ورقدوا ولم تزالوا في صلاة منذ انتظرتموها‏"‏‏. ‏ قال فكأني أنظر إلى وبيص خاتمه‏.‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا حمید طویل سے، انھوں نے کہا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی انگوٹھی پہنی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں! ایک رات عشاء کی نماز میں آپ نے آدھی رات تک دیر کی۔ نماز کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا، لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہوں گے۔ اور تم لوگ اس وقت تک نماز ہی کی حالت میں تھے جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا جیسے اس وقت میں آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں ( یعنی آپ کی انگوٹھی کی چمک کا سماں میری آنکھوں میں ہے
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الاذان
باب : مسجد میں صبح اور شام آنے جانے کی فضیلت کا بیان

حدیث نمبر : 662
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا يزيد بن هارون، قال أخبرنا محمد بن مطرف، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ من غدا إلى المسجد وراح أعد الله له نزله من الجنة كلما غدا أو راح‏"‏‏. ‏
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون واسطی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں محمد بن مطرف نے زید بن اسلم سے خبر دی، انھوں نے عطاء بن یسار سے، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انھوں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا کہ جو شخص مسجد میں صبح شام بار بار حاضری دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جنت میں اس کی مہمانی کا سامان کرے گا۔ وہ صبح شام جب بھی مسجد میں جائے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الاذان

باب : جب نماز کی تکبیر ہونے لگے تو فرض نماز کے سوا اور کوئی نماز نہیں پڑھ سکتا

حدیث نمبر : 663
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثنا إبراهيم بن سعد، عن أبيه، عن حفص بن عاصم، عن عبد الله بن مالك ابن بحينة، قال مر النبي صلى الله عليه وسلم برجل‏. قال: وحدثني عبد الرحمن قال: حدثنا بهز بن أسد قال: حدثنا شعبة قال: أخبرني سعد بن إبراهيم قال: سمعت حفص بن عاصم قال: سمعت رجلا من الأزد، يقال له مالك ابن بحينة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى رجلا وقد أقيمت الصلاة، يصلي ركعتين، فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم لاث به الناس، وقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: (الصبح أربعا، الصبح أربعا). تابعه غندر ومعاذ، عن شعبة في مالك. وقال ابن إسحق، عن سعد، عن حفص، عن عبد الله بن بحينة. وقال حماد: أخبرنا سعد، عن حفص، عن مالك.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے اپنے باپ سعد بن ابراہیم سے بیان کیا، انھوں نے حفص بن عاصم سے، انھوں نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے، کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص پر ہوا ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمن بن بشر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بہز بن اسد نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سعد بن ابراہیم نے خبر دی، کہا کہ میں نے حفص بن عاصم سے سنا، کہا کہ میں نے قبیلہ ازد کے ایک صاحب سے جن کا نام مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ تھا، سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک ایسے نمازی پر پڑی جو تکبیر کے بعد دو رکعت نماز پڑھ رہا تھا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو گئے تو لوگ اس شخص کے ارد گرد جمع ہو گئے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا صبح کی چار رکعتیں پڑھتا ہے؟ کیا صبح کی چار رکعتیں ہو گئیں؟ اس حدیث کی متابعت غندر اور معاذ نے شعبہ سے کی ہے جو مالک سے روایت کرتے ہیں۔ ابن اسحاق نے سعد سے، انھوں نے حفص سے، وہ عبداللہ بن بحینہ سے اور حماد نے کہا کہ ہمیں سعد نے حفص کے واسطہ سے خبر دی اور وہ مالک کے واسطہ سے۔

تشریح : حضرت سیدنا امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں جن لفظوں میں باب منعقد کیاہے یہ لفظ خود اس حدیث میں وارد ہوئے ہیں۔ جسے امام مسلم اور سنن والوں نے نکالاہے۔ مسلم بن خالد کی روایت میں اتنا زیادہ اورہے کہ فجر کی سنتیں بھی نہ پڑھے۔

حضرت مولانا وحیدالزماں صاحب محدث حیدرآبادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہمارے امام احمدبن حنبل اوراہل حدیث کا یہی قول ہے کہ جب فرض نماز کی تکبیر شروع ہوجائے توپھر کوئی نماز نہ پڑھے نہ فجر کی سنتیں نہ اور کوئی سنت یا فرض، بس اسی فرض میں شریک ہوجائے جس کی تکبیر ہورہی ہے۔
اوربیہقی کی روایت میں جو یہ مذکور ہے الارکعتی الفجر اور حنفیہ نے اس سے دلیل پکڑی کہ فجر کی جماعت ہوتے بھی سنت پڑھنی ضروری ہے، صحیح نہیں ہے۔ اس کی سند میں حجاج بن نصیرمتروک اورعباد بن کثیرمردودہے۔ اہل حدیث کایہ بھی قول ہے کہ اگرکوئی فجر کی سنتیں شروع کرچکا ہو اورفرض کی تکبیر ہو توسنت کو توڑدے اور فرض میں شریک ہوجائے۔
علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے نیل الاوطار میں اس حدیث بخاری کی شرح میں نواقوال ذکر کئے ہیں۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک ان لفظوں میں بیان فرمایاہے:انہ ان خشی فوت الرکعتین معا وانہ لایدرک الامام قبل رفعہ من الرکوع فی الثانیۃ دخل معہ والا فلیرکعہما یعنی رکعتی الفجر خارج المسجد ثم یدخل مع الامام اگریہ خطرہ ہو کہ فرض کی ہردو رکعت ہاتھ سے نکل جائیں گی توفجر کی سنتوں کو نہ پڑھے بلکہ امام کے ساتھ مل جائے اوراگراتنا بھی احتمال ہے کہ دوسری رکعت کے رکوع میں امام کے ساتھ مل سکے گا توان دو رکعت سنت فجر کو پڑھ لے پھر فرضوں میں مل جائے۔ اس سلسلہ میں امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی دلیل یہ ہے جو بیہقی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: اذااقیمت الصلوٰۃ فلا صلوٰۃ الا المکتوبۃ الا رکعتی الصبح یعنی تکبیر ہوچکنے کے بعد سوائے اس فرض نماز کے اورکوئی نماز جائز نہیں مگر صبح کی دو رکعت سنت۔

امام بیہقی اس حدیث کو نقل کرکے خود فرماتے ہیں: ہذہ الزیادۃ لااصل لہا وفی اسنادہا حجاج بن نصیر وعباد بن کثیر وہما ضعیفان۔ یعنی یہ الارکعتی الفجر والی زیادتی بالکل بے اصل ہے۔ جس کا کوئی ثبوت نہیں اوراس کی سند میں حجاج بن نصیر اورعبادبن کثیرہیں اوریہ دونوں ضعیف ہیں۔ اس لیے یہ زیادتی قطعاً ناقابل اعتبار ہے۔ برخلاف اس کے خود امام بیہقی ہی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحیح روایت ان لفظوں میں نقل کی ہے: عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا اقیمت الصلوٰۃ فلا صلوٰۃ الا المکتوبۃ قیل یارسول اللہ ولارکعتی الفجر قال ولا رکعتی الفجر فی اسنادہ مسلم بن خالد الزنجی وہو متکلم فیہ وقد وثقہ ابن حبان واحتج بہ فی صحیحہ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جب نماز فرض کی تکبیر ہوجائے تو پھرکوئی اورنماز جائز نہیں۔ کہا گیا کہ فجر کی سنتوں کے بارے میں کیا ارشاد ہے۔ فرمایاکہ وہ بھی جائز نہیں۔ اس حدیث کی سند میں مسلم بن خالد زنجی ہے۔ جس میں کلام کیاگیا ہے۔ مگرامام ابن حبان نے اس کی توثیق کی ہے اور اس کے ساتھ حجت پکڑی ہے۔ علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس بحث میں آخری نواں قول ان لفظوں میں نقل کیاہے:
انہ اذا سمع الاقامۃ لم یحل لہ الدخول فی رکعتی الفجرولا فی غیرہا من النوافل سواءکان فی المسجد اوخارجہ فان فعل فقد عصی وہو قول اہل الظاہر ونقلہ ابن حزم عن الشافعی وجمہور السلف۔ ( نیل الاوطار )
یعنی تکبیرسن لینے کے بعد نمازی کے لیے فجر کی سنت پڑھنا یااورکسی نماز نفل میں داخل ہونا حلال نہیں ہے۔ وہ مسجد میں ہو یا باہر اگرایسا کیاتووہ خدا اور رسول کا نافرمان ٹھہرا۔ اہل ظاہر کا یہی فتویٰ ہے اورعلامہ ابن حزم نے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اورجمہور سلف سے اسی مسلک کو نقل کیاہے۔

ایک تاریخی مکتوب مبارک: کون اہل علم ہے جو حضرت مولانا احمدعلی صاحب مرحوم سہارن پوری کے نام نامی سے واقف نہیں۔ آپ نے بخاری شریف کے حواشی تحریر فرماکر اہل علم پر ایک احسان عظیم فرمایاہے۔ مگراس بحث کے موقع پر آپ کا قلم بھی جادئہ اعتدال سے ہٹ گیا۔ یعنی آپ نے اسی بےہقی والی روایت کو بطوردلیل نقل کیاہے۔ اوراسے علامہ مولانا محمداسحاق صاحب دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب فرمایاہے۔ انصاف کا تقاضاتھا کہ اس روایت پر روایت نقل کرنے والے بزرگ یعنی خود علامہ بیہقی کا فیصلہ بھی نقل کردیا جاتا، مگر ایسا نہیں کیا جس سے متاثرہوکر استاذالاساتذہ شیخ الکل فی الکل حضرت مولانا واستاذنا سیدمحمد نذیرحسین صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے نام ایک خط تحریر فرمایاتھا۔ چونکہ یہ خط ایک علمی دستاویز ہے جس سے روشن خیال نوجوان کوبہت سے امور معلوم ہوسکیں گے۔ اس لیے اس کا پورا متن درج ذیل کیاجاتاہے۔ امید کہ قارئین کرام و علمائے عظام اس کے مطالعہ سے محظوظ ہوں گے:
من العاجز النحیف السید محمدنذیر حسین الی المولوی احمدعلی سلمہ اللہ القوی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ وبعد فاتباعا بحدیث خیرالانام علیہ افضل التحیۃ والسلام الدین النصیحۃ وابتغاءتاس باحسن القول کفی بالمرءاثما ان یحدث بکل ما سمع اظہر بخدمتکم الشریفۃ ان ما وقع من ذلک المکرم فی الحاشیۃ علی صحیح البخاری تحت حدیث اذا اقیمت الصلوٰۃ فلا صلوٰۃ الاالمکتوبۃ سمعت استاذی مولانا محمداسحاق رحمہ اللہ تعالیٰ یقول ورد فی روایۃ البیہقی اذا اقیمت الصلوٰۃ فلا صلوٰۃ الا رکعتی الفجر انتہیٰ۔ جعلہ اکثر طلبۃ العلم بل بعض اکابر زماننا الذین یعتمدون علی قولکم بمروۃ انفسہم یصلون السنۃ ولایبالون فوت الجماعۃ وہذہ الزیادۃ الاستنثناء الاخیرالا رکعتی الفجر لااصل لہا بل مردودۃ مطرودۃ عندالمحققین ولاسیما عندالبیہقی الامین وآفۃ الوضع علی ہذا الحدیث الصحیح انما طرءعن عباد بن کثیر وحجاج بن نصیر بالحاق ہذہ الزیادۃ الاستثناءالاخیر وظنی انکم ایہا الممجد ماسمعتم نقل کلام استاذی العلامۃ البحر الفہامۃ المشتہربین الافآق مولانا محمد اسحاق رحمہ اللہ تعالیٰ خیررحمۃ فی یوم التلاق من البیہقی بالتمام والکمال فان البیہقی قال لا اصل لہا او تسامح من المولانا المرحوم لضعف مزاجہ فی نقلہا والا فلا کلام عند الثقاۃ المحدثین فی بطلان الارکعتی الفجر کما ہو مکتوب الیکم ومعارضہ معروض علیکم قال الشیخ سلام اللہ فی المحلی شرح المؤطا زاد مسلم بن خالد عن عمرو بن دینار فی قولہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا اقیمت الصلوٰۃ فلا صلوٰۃ الا المکتوبۃ قیل یارسول اللہ ولارکعتی الفجر قال ولا رکعتی الفجر اخرجہ ابن عدی وسندہ حسن واما زیادۃ الارکعتی الصبح فی الحدیث فقال البیہقی ہذہ الزیادۃ لااصل لہا انتہی مختصرا وقال التورپشتی وزاد احمدبلفظ فلاصلوٰۃ الاالتی اقیمت وہو اخص وزاد ابن عدی بسند حسن قیل یارسول اللہ ولارکعتی الفجرقال ولارکعتی الفجر وقال الشوکانی وحدیث اذا اقیمت الصلوٰۃ فلاصلوٰۃ الاالمکتوبۃ الارکعتی الصبح قال البیہقی ہذہ الزیادۃ لااصل لہا وقال الشیخ نورالدین فی موضوعاتہ حدیث اذااقیمت الصلوٰۃ فلا صلوٰۃ الاالمکتوبۃ الارکعتی الفجر روی البیہقی عن ابی ہریرۃ وقال ہذہ الزیادۃ لااصل لہا وہکذا فی کتب الموضوعات الاخریٰ فعلیکم والحالۃ ہذہ بصیانۃ الدین اما ان تصححوا الجملۃ الاخیرۃ من کتب ثقات المحققین اوترجعوا وتعلموا طلبتکم ان ہذہ الزیادۃ مردودۃ ولایلیق العمل بہا ولا یعتقد بسنیتہما وہااناارجو الجواب بالصواب فانہ ینبہ الغفلۃ ویوقظ الجہلۃ والسلام مع الاکرام۔ ( اعلام اہل العصر باحکام رکعتی الفجر، ص:36 )
ترجمہ: یہ مراسلہ عاجز نحیف سیّدمحمدنذیرحسین کی طرف سے مولوی احمدعلی سلمہ اللہ القوی کے نام ہے۔ بعد سلام مسنون حدیث خیرالانام علیہ التحیۃ والسلام الدین النصیحۃ ( دین خیرخواہی کا نام ہے ) کی اتباع اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: کفی بالمرءاثما الحدیث ( انسان کو گنہگار بنانے کے لیے یہی کافی ہے کہ بغیر تحقیق کامل ہرسنی سنائی بات کونقل کردے ) کے پیش نظرآپ کی خدمت شریف میں لکھ رہاہوں کہ آپ مکرم نے بخاری شریف کی حدیث اذا اقیمت الصلوٰۃ الحدیث کے حاشیہ پربیہقی کے حوالہ سے حضرت الاستاذ مولانا محمداسحاق صاحب کا قول نقل فرمایاہے جس سے سنت فجر کا جماعت فرض کی حالت میں پڑھنے کا جواز نکلتاہے۔ آپ کے اس قول پر بھروسا کرکے بہت سے طلبہ بلکہ بعض اکابر عصر حاضر کا یہ عمل ہوگیاہے کہ فرض نماز فجر کی جماعت ہوتی رہتی ہے اور وہ سنتیں پڑھتے رہتے ہیں۔ سوواضح ہو کہ روایت مذکورہ میں بیہقی کے حوالہ سے الارکعتی الفجر والی زیادتی محققین علماءخاص طور پر حضرت علامہ بیہقی کے نزدیک بالکل مردود اورمطرود ہے۔ اورحدیث صحیح روایت کردہ حضرت ابوہریرہ پر یہ اضافہ عبادبن کثیر وحجاج بن نصیر کا وضع کردہ ہے۔ اوراے محترم فاضل! میرا گمان ہے کہ آپ نے حضرت مولانا واستاذناعلامہ فہامہ مولانا محمداسحاق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا بیہقی سے نقل کردہ قول پورے طور پر نہیں سنا۔ حالانکہ خودامام بیہقی وہاں فرمارہے ہیں کہ یہ قول بالکل بے اصل ہے۔ یاپھر حضرت مولانا ( محمداسحاق مرحوم ) کی طرف سے اس کے نقل میں ان کے ضعف مزاج کی وجہ سے تسامح ہواہے۔ ورنہ الارکعتی الفجر کے لفظوں کے بطلان میں ثقات محدثین کی طرف سے کوئی کلام ہی نہیں۔ جیسا کہ شیخ سلام اللہ صاحب نے محلّی شرح مؤطا میں فرمایاہے کہ مسلم بن خالد نے عمروبن دینار سے نقل کیاہے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: اذا اقیمت الصلوٰۃ فلاصلوٰۃ الاالمکتوبۃ توآپ سے پوچھا گیا کہ فجر کی دوسنتوں کے بارے میں کیاارشاد ہے۔ آپ نے فرمایاہاں ولارکعتی الفجر یعنی جب فرض نماز کی تکبیر ہوگئی تواب کوئی نماز حتیٰ کہ دوسنتوں کا پڑھنا بھی جائز نہیں۔ اس کو ابن عدی نے سند حسن کے ساتھ روایت کیاہے۔

اورنقل کردہ زیادتی الارکعتی الفجر کے بارے میں امام بیہقی فرماتے ہیں کہ اس زیادتی کی کوئی اصل نہیں ہے۔ تورپشتی نے کہا کہ احمدنے زیادہ کیا فلا صلوٰۃ الاالتی اقیمتیعنی اس وقت خصوصاً وہی نماز پڑھی جائے گی، جس کی تکبیر کہی گئی ہے۔

اورابن عدی نے سند حسن کے ساتھ زیادہ کیاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا، کیا نماز فجر کی سنتوں کے بارے میں بھی یہی ارشاد ہے۔ آپ نے فرمایاہاں بوقت جماعت ان کا پڑھنا بھی جائز نہیں۔
امام شوکانی حضرت امام بیہقی سے تحت حدیث اذااقیمت الصلوٰۃ الخمیں زیادتی الارکعتی الفجر کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ یہ زیادتی بالکل من گھڑت اوربے اصل ہے۔ شیخ نورالدین نے بھی ان لفظوں کو موضوعات میں شمار کیاہے اوردوسری کتب موضوعات میں بھی یہ صراحت موجود ہے۔

ان حالات میں دین کی حفاظت کے لیے آپ پر لازم ہوجاتاہے کہ یاتوثقات محققین کی کتابوں سے اس کی صحت ثابت فرمائیں۔ یا پھر رجوع فرماکر اپنے طلبا کو آگاہ فرمادیں کہ یہ زیادتی ناقابل عمل اور مردود ہے، ان کے سنت ہونے کا عقیدہ بالکل نہ رکھا جائے۔ میں جواب باصواب کے لیے اُمیدوار ہوں جس سے غافلوں کو تنبیہ ہوگی۔ اوربہت سے جاہلوں کے لیے آگاہی۔ والسلام مع الاکرام۔

جہاں تک بعد کی معلومات ہیں حضرت مولانااحمدعلی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس مکتوب کا کوئی جواب نہیں دیا نہ ہی اس غلطی کی اصلاح کی۔ بلکہ آج تک جملہ مطبوعہ بخاری معہ حواشی مولانا مرحوم میں یہ غلط بیانی موجود ہے۔

پس خلاصہ المرام یہ کہ فجر کی جماعت ہوتے ہوئے فرض نماز چھوڑ کر سنتوں میں مشغول ہونا جائز نہیں ہے۔ پھر ان سنتوں کو کب ادا کیا جائے اس کے بارے میں حضرت امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی سنن میں یوں باب منعقد کیاہے:
“ باب ما جاءفیمن تفوتہ الرکعتان قبل الفجر یصلیہما بعد صلوٰۃ الصبح ” باب اس بارے میں جس کی فجر کی یہ دوسنتیں رہ جائیں وہ ان کو نماز فرض کی جماعت کے بعد ادا کرے، اس پر امام ترمذی نے یہ حدیث دلیل میں پیش کی ہے:
عن محمدبن ابراہیم عن جدہ قیس قال خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاقیمت الصلوٰۃ فصلیت معہ الصبح ثم انصرف النبی صلی اللہ علیہ وسلم فوجدنی اصلی فقال مہلا یاقیس اصلاتان معا قلت یارسول اللہ انی لم اکن رکعت رکعتی الفجر قال فلا اذن۔ یعنی محمدبن ابراہیم اپنے دادا قیس کا واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک دن میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز فرض باجماعت ادا کی۔ سلام پھیرنے کے بعد میں نماز میں پھر مشغول ہوگیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے دیکھا توفرمایا کہ اے قیس! کیا دو نمازیں پڑھ رہے ہو؟ میں نے عرض کی۔ حضورمجھ سے فجر کی سنت رہ گئی تھیں ان کو ادا کررہاہوں آپ نے فرمایا۔ پھر کچھ مضائقہ نہیں ہے۔

حضرت امام ترمذی فرماتے ہیں: وقدقال قوم من اہل مکۃ بہذاالحدیث لم یروا باسا ان یصلی الرجل الرکعتین بعد المکتوبۃ قبل ان تطلع الشمس۔ یعنی مکہ والوں میں سے ایک قوم نے اس حدیث کے پیش نظر فتویٰ دیاہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ جس کی فجر کی سنتیں رہ جائیں وہ نماز جماعت کے بعد سورج نکلنے سے پہلے ہی ان کو پڑھ لے۔

المحدث الکبیر مولانا عبدالرحمن مبارک پوری مرحوم فرماتے ہیں: اعلم ان قولہ صلی اللہ علیہ وسلم فلا اذن معناہ فلاباس علیک ان تصلیہما حینئذ کماذکرتہ ویدل علیہ روایۃ ابی داؤد فسکت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( الی ان ) فاذا عرفت ہذا کلہ ظہرلک بطلان قول صاحب العرف الشذی فی تفسیر قولہ فلااذن معناہ فلا تصلی مع ہذا العذر ایضا ای فلااذن للانکار۔ ( تحفۃ الاحوذی ) یعنی جان لے کہ فرمان نبوی فلااذن کا مطلب یہ کہ کوئی حرج نہیں کہ توان کواب پڑھ رہاہے، ابوداؤد میں صراحت یوں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔ اس تفصیل کے بعد صاحب عرف الشذی کے قول کا بطلان تجھ پر ظاہر ہوگیا۔ جنھوں نے فلا اذنکے معنی انکار کے بتلائے ہیں۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ سے اس کو ان سنتوں کے پڑھنے سے روک دیا۔ حالانکہ یہ معنی بالکل غلط ہیں۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قال ابن عبدالبر وغیرہ الحجۃ عندالتنازع السنۃ فمن ادلی بہا فقد افلح وترک التنفل عنداقامۃ الصلوٰۃ وتدارکھا بعد قضاءالفرض اقرب الی اتباع السنۃ ویتایدذلک من حیث المعنی بان قولہ فی الاقامۃ حی علی الصلوٰۃ معناہ ہلموا الی الصلوٰہ ای التی یقام لہا فاسعد الناس بامتثال ہذاالامر من لم یتشاغل عنہ بغیرہ واللہ اعلم۔ یعنی ابن عبدالبر وغیرہ فرماتے ہیں کہ تنازع کے وقت فیصلہ کن چیز سنت رسول ہے۔ جس نے اس کو لازم پکڑا وہ کامیاب ہوگیا اورتکبیر ہوتے ہی نفل نمازوں کو چھوڑدینا ( جن میں فجر کی سنتیں بھی داخل ہیں ) اوران کو فرضوں سے فارغ ہونے کے بعد ادا کرلینا اتباع سنت کے یہی قریب ہے اوراقامت میں جوحی علی الصلوٰۃ کہا جاتاہے معنوی طور پر اس سے بھی اسی امر کی تائید ہوتی ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نماز کے لیے آؤ جس کے لیے اقامت کہی جارہی ہے۔ پس خوش نصیب وہی ہے جو اس امر پر فوراً عامل ہواوراس کے سوا اورکسی غیرعمل میں مشغول نہ ہو۔

خلاصہ یہ کہ فجر کی نماز فرض کی جماعت ہوتے ہوئے سنتیں پڑھتے رہنا اور جماعت کو چھوڑ دینا عقلاً و نقلاً کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔ پھر بھی ہدایت اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الاذان
باب : بیمار کو کس حد تک جماعت میں آنا چاہیے

حدیث نمبر : 664
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، قال حدثني أبي قال، حدثنا الأعمش، عن إبراهيم، قال الأسود قال كنا عند عائشة ـ رضى الله عنها ـ فذكرنا المواظبة على الصلاة والتعظيم لها، قالت لما مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم مرضه الذي مات فيه، فحضرت الصلاة فأذن، فقال ‏"‏ مروا أبا بكر فليصل بالناس‏"‏‏. ‏ فقيل له إن أبا بكر رجل أسيف، إذا قام في مقامك لم يستطع أن يصلي بالناس، وأعاد فأعادوا له، فأعاد الثالثة فقال ‏"‏ إنكن صواحب يوسف، مروا أبا بكر فليصل بالناس‏"‏‏. ‏ فخرج أبو بكر فصلى، فوجد النبي صلى الله عليه وسلم من نفسه خفة، فخرج يهادى بين رجلين كأني أنظر رجليه تخطان من الوجع، فأراد أبو بكر أن يتأخر، فأومأ إليه النبي صلى الله عليه وسلم أن مكانك، ثم أتي به حتى جلس إلى جنبه‏.‏ قيل للأعمش وكان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي وأبو بكر يصلي بصلاته، والناس يصلون بصلاة أبي بكر فقال برأسه نعم‏.‏ رواه أبو داود عن شعبة عن الأعمش بعضه‏.‏ وزاد أبو معاوية جلس عن يسار أبي بكر فكان أبو بكر يصلي قائما‏.‏
ہم سے عمرو بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے ابراہیم نخعی سے بیان کیا کہ حضرت اسود بن یزید نخعی نے کہا کہ ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھے۔ ہم نے نماز میں ہمیشگی اور اس کی تعظیم کا ذکر کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الموت میں جب نماز کا وقت آیا اور اذان دی گئی تو فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ اس وقت آپ سے کہا گیا کہ ابوبکر بڑے نرم دل ہیں۔ اگر وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو نماز پڑھانا ان کے لیے مشکل ہو جائے گی۔ آپ نے پھر وہی حکم فرمایا، اور آپ کے سامنے پھر وہی بات دہرا دی گئی۔ تیسری مرتبہ آپ نے فرمایا کہ تم تو بالکل یوسف کی ساتھ والی عورتوں کی طرح ہو۔ ( کہ دل میں کچھ ہے اور ظاہر کچھ اور کر رہی ہو ) ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لیے تشریف لائے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض میں کچھ کمی محسوس کی اور دو آدمیوں کا سہارا لے کر باہر تشریف لے گئے۔ گویا میں اس وقت آپ کے قدموں کو دیکھ رہی ہوں کہ تکلیف کی وجہ سے زمین پر لکیر کرتے جاتے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر چاہا کہ پیچھے ہٹ جائیں۔ لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے انھیں اپنی جگہ رہنے کے لیے کہا۔ پھر ان کے قریب آئے اور بازو میں بیٹھ گئے۔ جب اعمش نے یہ حدیث بیان کی، ان سے پوچھا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی اقتدا کی اور لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز کی اقتدا کی؟ حضرت اعمش نے سر کے اشارہ سے بتلایا کہ ہاں۔ ابوداؤد طیالسی نے اس حدیث کا ایک ٹکڑا شعبہ سے روایت کیا ہے اور شعبہ نے اعمش سے اور ابومعاویہ نے اس روایت میں یہ زیادہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بائیں طرف بیٹھے۔ پس ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے۔

حدیث نمبر : 665
حدثنا إبراهيم بن موسى، قال أخبرنا هشام بن يوسف، عن معمر، عن الزهري، قال أخبرني عبيد الله بن عبد الله، قال قالت عائشة لما ثقل النبي صلى الله عليه وسلم واشتد وجعه استأذن أزواجه أن يمرض في بيتي فأذن له، فخرج بين رجلين تخط رجلاه الأرض، وكان بين العباس ورجل آخر‏.‏ قال عبيد الله فذكرت ذلك لابن عباس ما قالت عائشة فقال لي وهل تدري من الرجل الذي لم تسم عائشة قلت لا‏.‏ قال هو علي بن أبي طالب‏.‏
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ہشام بن یوسف نے خبر دی معمر سے، انھوں نے زہری سے، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہو گئے اور تکلیف زیادہ بڑھ گئی تو آپ نے اپنی بیویوں سے اس کی اجازت لی کہ بیماری کے دن میرے گھر میں گزاریں۔ انھوں نے اس کی آپ کو اجازت دے دی۔ پھر آپ باہر تشریف لے گئے۔ آپ کے قدم زمین پر لکیر کر رہے تھے۔ آپ اس وقت عباس رضی اللہ عنہ اور ایک اور شخص کے بیچ میں تھے ( یعنی دونوں حضرات کا سہارا لیے ہوئے تھے ) عبیداللہ راوی نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کی، تو آپ نے فرمایا اس شخص کو بھی جانتے ہو، جن کا نام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے نہیں لیا۔ میں نے کہا کہ نہیں! آپ نے فرمایا کہ وہ دوسرے آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔

تشریح : حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد باب منعقد کرنے اور یہ حدیث لانے سے ظاہر ہے کہ جب تک مریض کسی نہ کسی طرح سے مسجد میں پہنچ سکے حتی کہ کسی دوسرے آدمی کے سہارے سے جاسکے تو جانا ہی چاہئے۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کے سہارے مسجد میں تشریف لے گئے۔

علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: و مناسبۃ ذلک من الحدیث خروجہ صلی اللہ علیہ وسلم متوکنا علی غیرہ من شدۃ الضعف فکانہ یشیر الی انہ من بلغ الی تلک الحال لا یستحب لہ تکلف الخروج للجماعۃ الا اذا وجد من یتوکاءعلیہ ( فتح الباری ) یعنی حدیث سے اس کی مناسبت بایں طور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر سے نکل کر مسجد میں تشریف لانا شدت ضعف کے باوجود دوسرے کے سہارے ممکن ہوا۔ گویا یہ ا س طرف اشارہ ہے کہ جس مریض کا حال یہاں تک پہنچ جائے اس کے لیے جماعت میں حاضری کا تکلف مناسب نہیں۔ ہاں اگر وہ کوئی ایسا آدمی پالے جو اسے سہارا دے کر پہنچا سکے تو مناسب ہے۔

حدیث سے روز روشن کی طرح واضح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری وقت میں دیکھ لیا تھا کہ امت کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے زیادہ موزوں کوئی دوسرا شخص اس وقت نہیں ہے۔ اس لیے آپ نے بار بار تاکید فرما کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی کو مصلے پر بڑھایا۔ خلافت صدیقی کی حقانیت پر اس سے زیادہ واضح اور دلیل نہیں ہو سکتی بلکہ جب ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس سلسلے میں کچھ معذرت پیش کی اور اشارہ کیا کہ محترم والد ماجد بے حد رقیق القلب ہیں۔ وہ مصلے پر جا کر رونا شروع کردیں گے لہٰذا آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو امامت کا حکم فرمائیے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کا ایسا خیال بھی نقل کیا گیا ہے کہ اگر والد ماجد مصلے پر تشریف لائے اور بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو عوام حضرت والد ماجد کے متعلق قسم قسم کی بدگمانیاں پیدا کریں گے۔ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر کہ تم یوسف علیہ السلام کی ساتھ والیوں جیسی ہو سب کو خاموش کردیا۔ جیسا کہ زلیخا کی سہیلیوں کا حال تھا کہ ظاہر میں کچھ کہتی تھیں اور دل میں کچھ اور ہی تھا۔ یہی حال تمہارا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس واقعہ سے بہت سے مسائل ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاً( 1 ) ایسے شخص کی اس کے سامنے تعریف کرنا جس کی طرف سے امن ہو کہ وہ خود پسندی میں مبتلا نہ ہوگا۔
  • ( 2 ) اپنی بیویوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا۔
  • ( 3 ) چھوٹے آدمی کو حق حاصل ہے کہ کسی اہم امر میں اپنے بڑوں کی طرف مراجعت کرے۔
  • ( 4 ) کسی عمومی مسئلہ پر باہمی مشورہ کرنا۔
  • ( 5 ) بڑوں کا ادب بہرحال بجا لانا جیسا کہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کو دیکھ کر پیچھے ہٹنے لگے۔
  • ( 6 ) نماز میں بکثرت رونا۔
  • ( 7 ) بعض اوقات محض اشارے کا بولنے کے قائم مقام ہو جانا۔
  • ( 8 ) نماز باجماعت کی تاکید شدید وغیرہ وغیرہ۔ ( فتح الباری )
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
صحیح بخاری -> کتاب الاذان
باب : بارش اور کسی عذر کی وجہ سے گھر میں نماز پڑھ لینے کی اجازت کا بیان

حدیث نمبر : 666
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال أخبرنا مالك، عن نافع، أن ابن عمر، أذن بالصلاة في ليلة ذات برد وريح ثم قال ألا صلوا في الرحال‏.‏ ثم قال إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأمر المؤذن إذا كانت ليلة ذات برد ومطر يقول ألا صلوا في الرحال‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے نافع سے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک ٹھنڈی اور برسات کی رات میں اذان دی، پھر یوں پکار کر کہہ دیا کہ لوگو! اپنی قیام گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو۔ پھر فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سردی و بارش کی راتوں میں مؤذن کو حکم دیتے تھے کہ وہ اعلان کر دے کہ لوگو اپنی قیام گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو۔

حدیث نمبر : 667
حدثنا إسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن محمود بن الربيع الأنصاري، أن عتبان بن مالك، كان يؤم قومه وهو أعمى، وأنه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم يا رسول الله، إنها تكون الظلمة والسيل وأنا رجل ضرير البصر، فصل يا رسول الله في بيتي مكانا أتخذه مصلى، فجاءه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ‏"‏ أين تحب أن أصلي‏"‏‏. ‏ فأشار إلى مكان من البيت، فصلى فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے محمود بن ربیع انصاری سے کہ بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نابینا تھے اور وہ اپنی قوم کے امام تھے۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اندھیری اور سیلاب کی راتیں ہوتی ہیں اور میں اندھا ہوں، اس لیے آپ میرے گھر میں کسی جگہ نماز پڑھ لیجیئے تا کہ میں وہیں اپنی نماز کی جگہ بنا لوں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے اور پوچھا کہ تم کہاں نماز پڑھنا پسند کرو گے۔ انھوں نے گھر میں ایک جگہ بتلا دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں نماز پڑھی۔

مقصد یہ ہے کہ جہاں نماز باجماعت کی شدید تاکید ہے وہاں شریعت نے معقول عذروں کی بنا پر ترک جماعت کی اجازت بھی دی ہے۔ جیسا کہ احادیث بالا سے ظاہر ہے۔
 
Top