محمد علی جواد
سینئر رکن
- شمولیت
- جولائی 18، 2012
- پیغامات
- 1,986
- ری ایکشن اسکور
- 1,553
- پوائنٹ
- 304
---
جن حکمرانوں کا ذکر کیا ہے وہ فاسق و فاجر نہیں تھے ۔اگر ان میں سے کچھ ہیں بھی بہت قلیل قسم کے کے فاجر و فاسق ہیںپس فسق و فجور یا کم از کم کچھ نہ کچھ گناہوں کا معاملہ عوام میں تو آ ہی گیا تھا حکمرانوں میں بھی یہ معاملہ تھا پس کوئی اگر یہ کہے کہ چونکہ حکمران زیادہ تر غیر عادل یا غیر ثقہ تھے تبھی علماء و محدثین انکے پاس جانے سے کتراتے تھے پس اسکا مطلب ہے کہ وہی کردار والے یعنی فاسق و فاجر یا گناہ گار ہی لوگ درست تھے کیونکہ صحیح مومنوں کو تو حکومت ملی ہی نہیں
خلافت اور نبوت یا حق کا ایک جگہ جمع ہونا کوئی لازمی نہیں سلام کے وارث علماء ہیں نہ کہ حکمران پس حکمران جو رہے وہ جس طرح عدالت میں یا ایمان میں کمزور ایمان والے یا پھر فاسق و فاجر کبھی رہے ہیں اسی طرح وہ عقائد یا فروعات میں بھی غلط کیوں نہ رہے ہوں گے جہاں انکو آسانیاں ملتی ہوں اس میں کون سا مشکل سمجھنے کا معاملہ ہے
میرے خیال سے اس وقت پورے عالم میں کہیں بھی لوگوں کو حنفی ہونے کی دعوت نہیں دی جارہی ہے ،ہاں حنفیوں کو جوکچھ لوگ ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں ،ادھر ادھر کی من مانی عبارتیں جیسے یوسف جے پوری کی حقیقۃ الفقہ اوردیگرغیرمقلدین کی کتابوں میں ہے اورکچھ ان کی فریب کاریاں،ان کا جواب ضرور دیتے ہیں اوردیناچاہئے کیونکہ یہ ان کاحق ہے،جیسے غیرمقلدین کو اپنی بات کہنے کاحق ہے۔محترم -
احناف کے ساتھ اصل مسلہ ہی یہی ہے کہ ان کا اصل مذموم مقصد "حنفیت کی ترویج اور اشاعت اور رہے نام اپنے امام کا" ہے-
میری کون سی بات غلط ہے؟کیاصدیوں سے چارائمہ کرام پر امت مسلمہ کااتفاق نہیں ہوچکاہے، ایک چھوٹافرقہ اختلاف اگراس سے رکھتاہے تو رکھتارہے، دنیا میں کسی بھی مسئلے میں کہیں ایسانہیں ہوتاکہ ہرفرد اس سے اتفاق رکھے،لیکن اکثریت کا یہی کہنااورمانناہے(اوراکثریت کا حکم کل کا حکم ہے،)کہ ائمہ اربعہ کی امامت پر امت کا اتفاق ہے اورصدیوں سے امت مسلمہ انہی چاروں میں سے کسی ایک کی پیروی کرتی چلی آرہی ہے۔رنہ کون کہتا ہے کہ قرآنی آیات اور احادیث نبوی کے مفاہیم کو براہ راست سمجھنا عقلمندی ہے- لیکن احناف کا یہ پرانا وطیرہ ہے کہ لوگوں کو اس دھوکہ فریب میں رکھا ہوا ہے کہ " صدیوں سے چارائمہ کرام پر امت کا اتفاق ہوچکا ہے اس لئے ان میں سے کسی ایک کی ہی پیروی کرنی چاہئے" -
اس طرح کی باتیں اسی وقت صادر ہوتی ہیں جب انسان بغیر علم کے بولناشروع کرتاہے اور حق کے خود ساختہ ٹھیکیداروں کو معلوم ہوناچاہئے کہ قرآن کریم میں اللہ نے بغیر علم کے کسی بات کے کہنے پرسخت وعید فرمائی ہے۔- تو سوال ہے کہ احناف کسی مسلے میں صرف امام ابو حنیفہ کے مسلک پر فتویٰ کیوں صادرکرتے ہیں ؟؟- کیوں کہ کچھ احناف کے علماء کہتے ہیں کہ ان کے امام معصوم عن الخطاء نہیں ہیں - تو جس معاملے میں وہ سمجھتے ہیں کہ فلاں مسلے میں دوسرے آئمہ کی راے زیادہ قابل اعتماد یا احادیث نبوی کے مفہوم سے زیادہ نزدیک ترین ہے اس میں وہ باقی آئمہ کی راے کو فوقیت کیوں نہیں دیتے -
میں نے ماقبل میں کہاہے کہ اہل حدیث بغیر سوچے سمجھے بولنے کے عادی ہوچکے ہیں،لایشعرمایخرج من راسہ،کیاکوئی سروے کرایاہے کہ مالکیہ ،شافعیہ اورحنابلہ میں سب سےزیادہ احناف بدعتی ہوتے ہیں ،کیاکہیں کوئی رپورٹ پڑھی ہے کہ سب سے زیادہ احناف میں بدعتی موجود ہیں، کیاکسی غیرمقلد نے اس پر کوئی تحقیق کی ہے،یاغیرمقلدوں کوسپورٹ کرنے والوں نے اس پر کوئی تحقیق کی ہے، جب ایساکچھ نہیں ہے توپھر کس بنیاد پر یہ بات کہی گئی ہے، حدیث میں تواس کو جھوٹابتایاگیاہے جو بلاتحقیق باتوں کو نقل کرے لیکن جوشخص کسی گروہ پر کوئی بہتان لگائے ،جھوٹی الزام تراشی کرے،اس کو کیاکہاجائے گا۔پاکستان میں توخیرسے شافعی موجود نہیں ہیں، اگرکبھی خداتوفیق دے تومغرب یعنی مراکش ،تونس ،لیبیاجہاں مالکیہ کثرت سے ہیں، دیکھناکہ ان کاکیاحال ہے،کبھی مصراورشافعیہ کے علاقوں میں جاکر دیکھناکہ ان کا کیاحال ہے۔تو پھر سوال ہے کہ آج سب سے زیادہ احناف ہی بدعتی کیوں ہیں -
کیاچلہ،چالیسواں،دوئم سوئم منانے والوں نے کبھی کہاہے کہ ہم اس لئے یہ منارہے ہیں کہ ہمیں فقہ حنفی مین ایسی تعلیمات ملتی ہیں، اگریہ بات نہیں ہے توپھراس کا الزام فقہ حنفی اوراحناف پر کیسے رکھاجاسکتاہے،کسی غلطی کی ذمہ داری فقہ حنفی پر اسی وقت عائد ہوسکتی ہے جب اس میں وہ بات موجود ہو،اگراس میں کوئی بات موجود نہ ہو تواس کی ذمہ داری فقہ حنفی پر کیسے ہوسکتی ہے،یہ توایساہی ہے جیسے کوئی دشمن خدا مسلمانوں کی بداعمالیاں دیکھ کر اسلام کومتہم کرناشروع کردے ،اگر مسلمانوں کی بداعمالیاں اسلام کے کھاتے میں میں نہیں ڈالی جاسکتی، غیرمقلدوں کی برائیاں اوربداعمالیاں حدیث کے ذمہ نہیں تھوپی جاسکتیں توپھر کچھ لوگوں کے اعمال کو فقہ احناف کی جانب کیسے منسوب کیاجاسکتاہے؟یہ چلہ ، چالیسواں ،سوئم دوئم ، قرآن خوانی ، قبر پرستی ،وسیلے کا شرک ،عقیدہ وحدت الوجود ، دین تصوف ، عید میلاد وغیرہ - ان میں سے کوئی ایک بھی عمل ان کے امام (ابو حنیفہ ) سے ثابت نہیں - تو پھر آخر مقلدیت کا اتنا زعم کیوں ؟؟؟ اب کدھر گئی وہ آیت " کہ اگر تمہیں معلوم نہیں تو اہل علم (بقول احناف کے امام ابو حنیفہ) سے پوچھ لو- سوره النحل ٤٣ ؟؟