358- بَاب الدُّعَاءِ
۳۵۸- باب: دعا کا بیان
1479- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ يُسَيْعٍ الْحَضْرَمِيِّ؛ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ {قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ}۔
* تخريج: ت/تفسیر البقرۃ ۳ (۲۹۶۹)، تفسیر المؤمن ۴۱ (۳۲۴۷)، الدعوات ۱ (۳۳۷۲)، ن الکبری/ التفسیر (۱۱۴۶۴)، ق/الدعاء ۱ (۳۸۲۸)، (تحفۃ الأشراف:۱۱۶۴۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۷۱، ۲۷۶) (صحیح)
۱۴۷۹- نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’دعا عبادت ہے۱؎، تمہارا رب فرماتا ہے: مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا‘‘ (سورہ غافر: ۶۰)۔
وضاحت۱؎: دعا جب عبادت ہے تو غیر اللہ سے دعا کرنا شرک ہو گا، کیونکہ عبادت و بندگی کی جملہ قسمیں اللہ ہی کو زیب دیتی ہیں۔
1480- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، عَنِ ابْنٍ لِسَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعَنِي أَبِي [وَأَنَا] أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَنَعِيمَهَا وَبَهْجَتَهَا، وَكَذَا وَكَذَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَسَلاسِلِهَا وَأَغْلالِهَا، وَكَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < سَيَكُونُ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِي الدُّعَاءِ > فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ، إِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَ الْجَنَّةَ أُعْطِيتَهَا وَمَافِيهَا [مِنَ الْخَيْرِ]، وَإِنْ أُعِذْتَ مِنَ النَّارِ أُعِذْتَ مِنْهَا وَمَا فِيهَا مِنَ الشَّرِّ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۳۹۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۷۲، ۱۸۳) (حسن صحیح)
۱۴۸۰- سعد رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھے کہتے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا اور اس کی نعمتوں، لذتوں اور فلاں فلاں چیزوں کا سوال کرتا ہوں اورمیں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم سے، اس کی زنجیروں سے، اس کے طوقوں سے اور فلاں فلاں بلاؤں سے، تو انہوں نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ’’عنقریب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دعاؤں میں مبالغہ اور حد سے تجاوز کریں گے، لہٰذا تم بچو کہ کہیں تم بھی ان میں سے نہ ہو جاؤ جب تمہیں جنت ملے گی تو اس کی ساری نعمتیں خود ہی مل جائیں گی اور اگر تم جہنم سے بچا لئے گئے تو اس کی تمام بلاؤں سے خودبخود بچا لئے جاؤ گے‘‘۔
1481- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ رَجُلا يَدْعُو فِي صَلاتِهِ لَمْ يُمَجِّدِ اللَّهَ تَعَالَى وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < عَجِلَ هَذَا > ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ: < إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِتَمْجِيدِ رَبِّهِ جَلَّ وَعَزَّ وَالثَّنَاءِ عَلَيْهِ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ ﷺ ، ثُمَّ يَدْعُو بَعْدُ بِمَا شَاءَ >۔
* تخريج: ت/الدعوات ۶۵ (۳۴۷۷)، ن/السہو ۴۸ (۱۲۸۵)، (تحفۃ الأشراف:۱۱۰۳۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۸) (صحیح)
۱۴۸۱- صحابی رسول فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صلاۃ میں دعا کرتے سنا، اس نے نہ تو اللہ تعالی کی بزرگی بیان کی اور نہ ہی نبی اکرم ﷺ پر درود (صلاۃ) بھیجا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اس شخص نے جلد بازی سے کام لیا‘‘، پھر اسے بلایا اور اس سے یا کسی اور سے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی صلاۃ پڑھے تو پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی اکرم ﷺ پر درود (صلاۃ) بھیجے، اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے‘‘۔
1482- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي نَوْفَلٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَسْتَحِبُّ الْجَوَامِعَ مِنَ الدُّعَاءِ وَيَدَعُ مَا سِوَى ذَلِكَ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۱۷۸۰۵)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۴۸، ۱۸۸، ۱۸۹) (صحیح)
۱۴۸۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جامع دعائیں۱؎ پسند فرماتے اور جو دعا جامع نہ ہوتی اسے چھوڑ دیتے۔
وضاحت۱؎: جامع دعائیں یعنی جن کے الفاظ مختصر اور معانی زیادہ ہوں، یا جو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی کی جامع ہو، جیسے:
’’ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار‘‘ وغیرہ دعائیں۔
1483- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ، لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ فَإِنَّهُ لا مُكْرِهَ لَهُ >۔
* تخريج: خ/الدعوات ۲۱ (۶۳۳۹)، والتوحید ۳۱ (۷۴۷۷)، ت/الدعوات ۷۸ (۳۴۹۷)، (تحفۃ الأشراف:۱۳۸۷۲، ۱۳۸۱۳)، وقد أخرجہ: م/الذکر والدعا ۳ (۲۶۷۹)، ق/الدعاء ۸ (۳۸۵۴)، ط/ القرآن ۸ (۲۸)، حم (۲/۲۴۳، ۴۵۷، ۲۸۶) (صحیح)
۱۴۸۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی اس طرح دعا نہ مانگے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، بلکہ جزم کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں‘‘۔
1484- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ: قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي >۔
* تخريج: خ/الدعوات ۲۲ (۶۳۴۰)، م/الذکر والدعاء ۲۵ (۲۷۳۵)، ت/الدعوات ۱۲ (۳۳۸۷)، ق/الدعاء ۸ (۳۸۵۳)، (تحفۃ الأشراف:۱۲۹۳۰)، وقد أخرجہ: ط/القرآن ۸ (۲۹)، حم (۲/۴۸۷، ۳۹۶) (صحیح)
۱۴۸۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور یہ کہنے نہیں لگتا کہ میں نے تو دعا مانگی لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوئی‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: دعا میں جلد بازی بے ادبی ہے، اور اس کا نتیجہ محرومی ہے۔
1485- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا تَسْتُرُوا الْجُدُرَ، مَنْ نَظَرَ فِي كِتَابِ أَخِيهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، فَإِنَّمَا يَنْظُرُ فِي النَّارِ، سَلُوا اللَّهَ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ، وَلا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا، فَإِذَا فَرَغْتُمْ فَامْسَحُوا بِهَا وُجُوهَكُمْ >.
قَالَ أَبودَاود: رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ كُلُّهَا وَاهِيَةٌ، وَهَذَا الطَّرِيقُ أَمْثَلُهَا، وَهُوَ ضَعِيفٌ أَيْضًا۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۱۹ (۳۸۶۶)، (تحفۃ الأشراف:۶۴۴۸) (ضعیف) (عبد اللہ بن یعقوب کے شیخ مبہم ہیں)
۱۴۸۵- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’دیواروں پر پردہ نہ ڈالو، جو شخص اپنے بھائی کا خط اس کی اجازت کے بغیر دیکھتا ہے تو وہ جہنم میں دیکھ رہا ہے، اللہ سے سیدھی ہتھیلیوں سے دعا مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو اور جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھ اپنے چہروں پر پھیر لو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن کعب سے کئی سندوں سے مروی ہے۔ ساری سندیں ضعیف ہیں اور یہ طریق (سند) سب سے بہتر ہے اور یہ بھی ضعیف ہے۔
1486- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِالْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ قَالَ: قَرَأْتُهُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيلَ -يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ- حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ، عَنْ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَةَ أَنَّ أَبَا بَحْرِيَّةَ السَّكُونِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ مَالِكِ ابْنِ يَسَارٍ السَّكُونِيِّ ثُمَّ الْعَوْفِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <إِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلاتَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا >.
قَالَ أَبودَاود: وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِالْحَمِيدِ: لَهُ عِنْدَنَا صُحْبَةٌ -يَعْنِي مَالِكَ بْنَ يَسَارٍ-۔
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۱۱۲۰۹) (حسن صحیح)
۱۴۸۶- مالک بن یسار سکونی عوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم اللہ سے مانگو تو اپنی سیدھی ہتھیلیوں سے مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: سلیمان بن عبد الحمید نے کہا: ہمارے نزدیک انہیں یعنی مالک بن یسار کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے۔
1487- حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَبْهَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَدْعُو هَكَذَا بِبَاطِنِ كَفَّيْهِ وَظَاهِرِهِمَا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۱۳۱۷) (صحیح)
۱۴۸۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دونوں طرح سے دعا مانگتے دیکھا اپنی دونوں ہتھیلیاں سیدھی کر کے بھی اور ان کی پشت اوپر کر کے بھی۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی عام حالات میں ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ چہرہ کی طرف اور استسقاء میں اندرونی حصہ زمین کی طرف اور پشت چہرہ کی طرف کرکے۔
1488- حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ-، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ -يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ صَاحِبَ الأَنْمَاطِ-، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا >۔
* تخريج: ت/الدعوات ۱۰۵ (۳۵۵۶)، ق/الدعاء ۱۳ (۳۸۶۵)، (تحفۃ الأشراف:۴۴۹۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۳۸) (صحیح)
۱۴۸۸- سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہارا رب بہت باحیا اور کریم (کرم والا) ہے، جب اس کا بندہ اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو انہیں خالی لوٹاتے ہوئے اسے اپنے بندے سے شرم آتی ہے‘‘۔
1489- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ -يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ- حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: الْمَسْأَلَةُ أَنْ تَرْفَعَ يَدَيْكَ حَذْوَ مَنْكِبَيْكَ، أَوْ نَحْوَهُمَا، وَالاسْتِغْفَارُ أَنْ تُشِيرَ بِأُصْبُعٍ وَاحِدَةٍ، وَالابْتِهَالُ أَنْ تَمُدَّ يَدَيْكَ جَمِيعًا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۵۳۵۶) (صحیح)
۱۴۸۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مانگنا یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل یا ان کے قریب اٹھاؤ، اور استغفار یہ ہے کہ تم صرف ایک انگلی سے اشارہ کرو اور ابتہال (عاجزی و گریہ و زاری سے دعا مانگنا) یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ پوری طرح پھیلا دو۔
1490- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: وَالابْتِهَالُ هَكَذَا، وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ ظُهُورَهُمَا مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۵۳۵۶) (صحیح)
۱۴۹۰- اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے:’’ابتہال اس طرح ہے‘‘ اور انہوں نے دونوں ہاتھ اتنے بلند کئے کہ ہتھیلیوں کی پشت اپنے چہرے کے قریب کر دی۔
1491- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حدثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ؛ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۵۳۵۶، ۱۸۸۸۰) (صحیح)
۱۴۹۱- اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
1492- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا دَعَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۱۱۸۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۲۱) (ضعیف)(اس کے راوی ’’ابن لھیعہ‘‘ ضعیف ہیں اور ’’حفص بن ہاشم‘‘ مجہول ہیں)
۱۴۹۲- یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب دعا مانگتے تو اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے۔
1493- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ؛ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سَمِعَ رَجُلا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ: < لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ بِالاسْمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ > ۔
* تخريج: ت/الدعوات ۶۴ (۳۴۷۵)، ق/الدعاء ۹ (۳۸۵۷)، (تحفۃ الأشراف:۱۹۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۴۹، ۳۵۰، ۳۶۰) (صحیح)
۱۴۹۳- بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو کہتے سنا:
’’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ‘‘ (اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اِس وسیلے سے کہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو تنہا اور ایسا بے نیاز ہے جس نے نہ تو جنا ہے اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے) یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو نے اللہ سے اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے تو عطا کرتا ہے اور جب کوئی دعا کرتا ہے تو قبول فرماتا ہے‘‘۔
1494- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَانِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيِّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف:۱۹۹۸) (صحیح)
۱۴۹۴- اس سند سے بھی بریدہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے:
’’لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ‘‘ ( تو نے اللہ سے اس کے اسم اعظم (عظیم نام) کا حوالہ دے کر سوال کیا)۔
1495- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَانِ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ الْحَلَبِيُّ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَفْصٍ -يَعْنِي ابْنَ أَخِي أَنَسٍ- عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ جَالِسًا وَرَجُلٌ يُصَلِّي،ثُمَّ دَعَا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، يَا ذَا الجَلالِ وَالإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى >۔
* تخريج: ن/السہو ۵۸ (۱۲۹۹)، (تحفۃ الأشراف:۵۵۱)، وقد أخرجہ: ت/الدعوات ۱۰۰ (۳۵۴۴)، ق/الدعاء ۹ (۳۸۵۸)، حم (۳/۱۲۰، ۱۵۸، ۲۴۵) (صحیح)
۱۴۹۵- انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص صلاۃ پڑھ رہا تھا، (صلاۃ سے فارغ ہو کر) اس نے دعا مانگی:
’’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدُ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، يَا ذَا الجَلالِ وَالإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ‘‘(اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ: ساری و حمد تیرے لئے ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو ہی احسان کرنے والا اور آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، اے جلال اور عطاء و بخشش والے، اے زندۂ جاوید اے آسمانوں اور زمینوں کو تھامنے والے!) یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم (عظیم نام) کے حوالے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے حوالے سے دعا مانگی جاتی ہے تو وہ دعا قبول فرماتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے‘‘۔
1496- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < اسْمُ اللَّهِ الأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِ > {وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَانُ الرَّحِيمُ} وَفَاتِحَةِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ: {الم اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ}۔
* تخريج: ت/الدعوات ۶۵ (۳۴۷۸)، ق/الدعاء ۹ (۳۸۵۵)، (تحفۃ الأشراف:۱۵۷۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۶۱) (حسن لغیرہ)
(اس کے راوی ’’عبید اللہ القدَّاح‘‘ ضعیف ہیں، نیز ’’شہر بن حوشب‘‘ میں بھی کلام ہے، ترمذی نے حدیث کو صحیح کہا ہے، اس کی شاہد ابو امامۃ کی حدیث ہے، جس سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن ہوئی) (ملاحظہ ہو: سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: ۷۴۶ و صحیح ابی داود: ۵؍ ۲۳۴)
۱۴۹۶- اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کا اسم اعظم (عظیم نام) ان دونوں آیتوں
{وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَانُ الرَّحِيمُ}۱؎ اور سورہ اٰل عمران کی ابتدائی آیت
{الم اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ}۲؎ میں ہے‘‘۔
وضاحت۱؎: سورة البقرة: (۱۶۳)
وضاحت۲؎: سورة آل عمران: (۱،۲)
1497- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُرِقَتْ مِلْحَفَةٌ لَهَا، فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى مَنْ سَرَقَهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ ﷺ يَقُولُ: < لا تُسَبِّخِي عَنْهُ >.
قَالَ أَبودَاود: لا تُسَبِّخِي أَيْ لا تُخَفِّفِي عَنْهُ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۱۷۳۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۵، ۱۳۶)، ویأتي برقم (۴۹۰۹) (حسن)(ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود۲/۹۰، والصحیحۃ: ۳۴۱۳)
۱۴۹۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا ایک لحاف چُرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بددعا کرنے لگیں تو رسول اللہ ﷺ فرمانے لگے: ’’تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں:
’’لا تسبخي‘‘ کا مطلب ہے
’’لا تخففي عنه‘‘ یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو۔
1498- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِي اللَّه عَنْه قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ ﷺ فِي الْعُمْرَةِ، فَأَذِنَ لِي وَقَالَ: < لا تَنْسَنَا يَا أُخَيَّ مِنْ دُعَائِكَ > فَقَالَ: كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا الدُّنْيَا، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ لَقِيتُ عَاصِمًا بَعْدُ بِالْمَدِينَةِ فَحَدَّثَنِيهِ، وَقَالَ: < أَشْرِكْنَا يَاأُخَيَّ فِي دُعَائِكَ >۔
* تخريج: ت/الدعوات ۱۱۰ (۳۵۶۲)، ق/المناسک ۵ (۲۸۹۴)، (تحفۃ الأشراف:۱۰۵۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۹) (ضعیف)(اس کے راوی’’عاصم‘‘ ضعیف ہیں)
۱۴۹۸- عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا: ’’میرے بھائی! مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا‘‘، آپ نے یہ ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔
(راوی حدیث) شعبہ کہتے ہیں: پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا۔ انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقت
’’لا تَنْسَنَا يَاْ أُخَيَّ فِيْ دُعَاْئِكَ‘‘ کے بجائے
’’أَشْرِكْنَا يَاْ أُخَيَّ فِيْ دُعَاْئِكَ‘‘ کے الفاظ کہے (اے میرے بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا)۔
1499- حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ النَّبِيُّ ﷺ وَأَنَا أَدْعُو بِأُصْبُعَيَّ، فَقَالَ: <أَحِّدْ أَحِّدْ >، وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ۔
* تخريج: ن/السہو ۳۷ (۱۲۷۴)، (تحفۃ الأشراف:۳۸۵۰)، وقد أخرجہ: ت/الدعوات (۳۵۵۲) (صحیح)
۱۴۹۹- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دعا مانگ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ایک انگلی سے کرو، ایک انگلی سے کرو‘‘ اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔