- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
361-بَاب فِي الاسْتِغْفَارِ
۳۶۱- باب: توبہ و استغفار کا بیان
۳۶۱- باب: توبہ و استغفار کا بیان
1514- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ، عَنْ مَوْلًى لأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ -رَضِي اللَّه عَنْه- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَا أَصَرَّ مَنِ اسْتَغْفَرَ وَإِنْ عَادَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةٍ >۔
* تخريج: ت/الدعوات ۱۰۷ (۳۵۵۹)، (تحفۃ الأشراف:۶۶۲۸) (ضعیف) (اس کے ایک راوی ’’مولی لابی بکر‘‘ مبہم مجہول آدمی ہیں)
۱۵۱۴- ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو استغفار کرتا رہا اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا گرچہ وہ دن بھر میں ستر بار اس گناہ کو دہرائے‘‘۱؎ ۔
وضاحت۱؎: صغیرہ گناہوں پر اصرار سے وہ کبیرہ ہو جاتے ہیں، اور کبیرہ پر اصرار کرنے سے آدمی کفر تک پہنچ جاتا ہے، لیکن اگر ہر گناہ کے بعد صدق دل سے توبہ و استغفار کر لے اور اسے دوبارہ نہ کرنے کی پختہ نیت کرے، مگر بد قسمتی سے پھر اس میں مبتلا ہو جائے تو یہ اصرار نہ ہو گا، اس طرح اس حدیث سے استغفار کی فضیلت ثابت ہوئی۔
1515- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ الأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ -قَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ: وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي، وَإِنِّي لأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي كُلِّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ >۔
* تخريج: م/الذکر والدعاء ۱۲ (۲۷۰۲)، ن/ فی الیوم واللیلۃ (۴۴۲)، (تحفۃ الأشراف:۲۱۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۱۱، ۲۶۰، ۵/۴۱۱) (صحیح)
۱۵۱۵- اغرمزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے دل پر غفلت کا پردہ آ جاتا ہے، حالانکہ میں اپنے پرورد گار سے ہر روز سو بار استغفار کرتا ہوں‘‘۔
1516- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي الْمَجْلِسِ الْوَاحِدِ مِائَةَ مَرَّةٍ: < رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ >۔
* تخريج: ت/الدعوات ۳۹ (۳۴۳۴)، ن/ الیوم واللیلۃ (۴۵۸)، ق/الأدب ۵۷ (۳۸۱۴)، (تحفۃ الأشراف:۸۴۲۲) وقد أخرجہ: حم (۲/۲۱) (صحیح)
۱۵۱۶- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں رسول اللہ ﷺ کے سو بار: ’’رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ‘‘(اے میرے رب! مجھے بخش دے، میری توبہ قبول کر، تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے) کہنے کو شمار کرتے تھے۔
1517- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ [بْنِ مُرَّةَ] الشَّنِّيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي عُمَرُ ابْنُ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ [بِلالَ] بْنَ يَسَارِ بْنِ زَيْدٍ، مَوْلَى النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُنِيهِ؛ عَنْ جَدِّي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنْ قَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ غُفِرَ لَهُ وَإِنْ كَانَ [قَدْ] فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ >۔
* تخريج: ت/الدعوات ۱۱۸ (۳۵۷۷)، (تحفۃ الأشراف:۳۷۸۵) (صحیح)
۱۵۱۷- نبی اکرم ﷺ کے غلام زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا:’’ جس نے ’’أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيَّ الْقَيُّومَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ‘‘ کہا تو اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اگرچہ وہ میدان جنگ سے بھاگ گیا ہو‘‘۱؎ ۔
وضاحت۱؎: جب کفار کی تعداد دوگنی سے زیادہ نہ ہو تو ان کے مقابلے سے میدان جہاد سے بھاگنا گناہ کبیرہ ہے، لیکن استغفار سے یہ گناہ بھی معاف ہو جاتا ہے، تو اور گناہوں کی معافی تو اور ہی سہل ہے۔
1518- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ لَزِمَ الاسْتِغْفَارَ جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَمِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ >۔
* تخريج: ن/الیوم واللیلۃ (۴۵۶)، ق/الأدب ۵۷ (۳۸۱۹)، (تحفۃ الأشراف:۶۲۸۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۴۸) (ضعیف)(اس کے راوی ’’حکم بن مصعب‘‘ مجہول ہیں)
۱۵۱۸- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو کوئی استغفارکا التزام کر لے۱؎ تو اللہ اس کے لئے ہر تنگی سے نکلنے اور ہر رنج سے نجا ت پانے کی راہ ہموار کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا‘‘۔
وضاحت۱؎: استغفار یعنی اللہ تعالی سے عفو و درگزر کی پابندی وہی کرے گا جو اس سے ڈرے گا اور تقویٰ اختیار کرے گا، ارشاد باری ہے {وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبْ} (جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جس کا وہ گمان بھی نہیں رکھتاہوگا)۔
1519- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ (ح) وَحَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -الْمَعْنَى- عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ قَالَ: سَأَلَ قَتَادَةُ أَنَسًا: أَيُّ دَعْوَةٍ كَانَ يَدْعُو بِهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَكْثَرُ؟ قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا: < اللَّهُمَّ [رَبَّنَا] آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ >، وَزَادَ زِيَادٌ: وَكَانَ أَنَسٌ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدَعْوَةٍ دَعَا بِهَا، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدُعَائٍ دَعَا بِهَا فِيهَا۔
* تخريج: م/الذکر والدعاء ۷ (۲۶۹۰)، ن/عمل الیوم واللیلۃ ۳۰۷ (۱۰۵۶) ، (تحفۃ الأشراف:۹۹۶، ۱۰۴۲)، وقد أخرجہ: خ/تفسیر البقرۃ ۳۶ (۴۵۲۲)، والدعوات ۵۵ (۶۳۸۹)، حم (۳/۱۰۱) (صحیح)
۱۵۱۹- عبد العزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پو چھا: رسول اللہ ﷺ کون سی دعا زیادہ مانگا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ ﷺ سب سے زیادہ یہ دعا مانگا کر تے تھے:’’اللَّهُمَّ [رَبَّنَا] آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‘‘ (اے ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی عطا کر اور جہنم کے عذاب سے بچا لے) ( البقرۃ : ۲۰۱)۔
زیاد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: انس جب دعا کا قصد کرتے تو یہی دعا مانگتے اور جب کوئی اور دعا مانگنا چاہتے تو اسے بھی اس میں شامل کر لیتے ۔
1520- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ سَأَلَ [اللَّهَ] الشَّهَادَةَ [صَادِقًا] بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ >۔
* تخريج: م/الإمارۃ ۴۶ (۱۹۰۹)، ت/الجہاد (۱۶۵۳)، ن/الجہاد ۳۶ (۳۱۶۲)، ق/الجہاد ۱۵ (۲۷۹۷)، (تحفۃ الأشراف:۴۶۵۵)، وقد أخرجہ: دي/الجہاد ۱۶(۲۴۵۱) (صحیح)
۱۵۲۰- سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو اللہ سے سچے دل سے شہادت مانگے گا، اللہ اسے شہداء کے مرتبوں تک پہنچا دے گا، اگرچہ اسے اپنے بستر پر موت آئے‘‘۔
1521- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الأَسَدِيِّ؛ عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ [الْفَزَارِيِّ]، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِي اللَّه عَنْه يَقُولُ: كُنْتُ رَجُلا إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَدِيثًا نَفَعَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِمَا شَاءَ أَنْ يَنْفَعَنِي، وَإِذَا حَدَّثَنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اسْتَحْلَفْتُهُ فَإِذَا حَلَفَ لِي صَدَّقْتُهُ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ رَضِي اللَّه عَنْه أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَا مِنْ عَبْدٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ إِلا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ >، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ: {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۸۲ (۴۰۶)، وتفسیر آل عمران ۴ (۳۰۰۶)، ن/ الیوم واللیلۃ (۴۱۴، ۴۱۵، ۴۱۶)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۹۳ (۱۳۹۵)، (تحفۃ الأشراف:۶۶۱۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲، ۸، ۹، ۱۰) (صحیح)
۱۵۲۱- اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: میں ایسا آدمی تھا کہ جب میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث سنتا تو جس قدر اللہ کو منظور ہوتا اتنی وہ میرے لئے نفع بخش ہوتی اور جب میں کسی صحابی سے کوئی حدیث سنتا تو میں اسے قسم دلاتا، جب وہ قسم کھا لیتا تومیں اس کی بات مان لیتا، مجھ سے ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جو گناہ کرے پھر اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں ادا کرے، پھر استغفار کرے تو اللہ اس کے گناہ معاف نہ کر دے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی {وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ....} إلى آخر الآية۱؎ (جو لوگ برا کام کرتے ہیں یا اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں پھر اللہ کو یاد کرتے ہیں ۔۔۔آیت کے اخیر تک)‘‘۔
وضاحت۱؎: سورة آل عمران: (۱۳۵) پوری آیت اس طرح ہے: {فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرِ الذُّنُوْبَ إِلا الله، وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلَىْ مَاْ فَعَلُوْا وَهُمْ يَعْلَمُوْنَ}۔
1522- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِءُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ابْنُ شُرَيْحٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِالرَّحْمَانِ الْحُبُلِيُّ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَخَذَ بِيَدِهِ وَقَالَ: < يَا مُعَاذُ، وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ [وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ] >، فَقَالَ: < أُوصِيكَ يَا مُعَاذُ! لا تَدَعَنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ >.
وَأَوْصَى بِذَلِكَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِيَّ، وَأَوْصَى بِهِ الصُّنَابِحِيُّ أَبَاعَبْدِالرَّحْمَانِ۔
* تخريج: ن/السہو۶۰ (۱۳۰۴)، وعمل الیوم واللیلۃ ۴۶ (۱۰۹)، (تحفۃ الأشراف:۱۱۳۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۴۴، ۲۴۵، ۲۴۷) (صحیح)
۱۵۲۲- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ’’اے معاذ! قسم اللہ کی، میں تم سے محبت کرتا ہوں، قسم اللہ کی میں تم سے محبت کرتا ہوں‘‘، پھر فرمایا: ’’اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں: ہر صلاۃ کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا: ’’اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ‘‘(اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبا دت کے سلسلہ میں میری مدد فرما)‘‘۔
معاذ رضی اللہ عنہ نے صنا بحی کو اور صنابحی نے ابو عبد الرحمن کو اس کی وصیت کی۔
1523- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ حُنَيْنَ بْنَ أَبِي حَكِيمٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيِّ؛ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلاةٍ۔
* تخريج: ت/فضائل القرآن ۱۲ (۲۹۰۳)، ن/السہو۸۰ (۱۳۳۷)، (تحفۃ الأشراف:۹۹۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۵۵، ۲۰۱) (صحیح)
۱۵۲۳- عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ میں ہر صلاۃ کے بعد معوّذات ۱؎ پڑھا کروں۔
وضاحت۱؎: معوّذات سے مراد دو سورتیں { قل أعوذ برب الفلق}ِ اور {قل أعوذ برب الناس} ہیں، کیونکہ جمع کا اطلاق دو پر بھی ہوتا ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس میں سورہ اخلاص اور {قل يا أيها الكافرون} بھی شامل ہیں، یا تو تغلیباً انہیں معوذات کہا گیا ہے، یا ان دونوں میں بھی تعوذ کا معنی پایا جاتا ہے، کیونکہ یہ دونوں سورتیں اخلاص و للہیت، شرک سے براءت، اور التجاء الی اللہ کے مفہوم پر مشتمل ہیں۔
1524- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدٍ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلاثًا وَيَسْتَغْفِرَ ثَلاثًا .
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۹۴۸۵)، وقد أخرجہ: ن/ الیوم واللیلۃ (۴۵۷)، حم (۱/۳۹۴، ۳۹۷)، (ضعیف)(ابو اسحاق سبیعی مدلس اور مختلط ہیں، روایت عنعنہ سے کی ہے، ان کے پوتے اسرائیل نے آپ سے اختلاط طاری ہونے کے بعد روایت کی ہے)
۱۵۲۴- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تین تین بار دعا مانگنا اور تین تین بار استغفار کرنا اچھا لگتا تھا۔
1525- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ هِلالٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَلا أُعَلِّمُكِ كَلِمَاتٍ تَقُولِينَهُنَّ عِنْدَ الْكَرْبِ، أَوْ فِي الْكَرْبِ، أَللَّهُ أَللَّهُ رَبِّي لا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا >.
قَالَ أَبودَاود: هَذَا هِلالٌ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ، وَابْنُ جَعْفَرٍ هُوَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ۔
* تخريج: ن/ الیوم واللیلۃ (۶۴۷، ۶۴۹، ۶۵۰)، ق/الدعاء ۱۷ (۳۸۸۲)، (تحفۃ الأشراف:۱۵۷۵۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/ ۳۶۹) (صحیح) (الصحيحة 2755 وتراجع الألباني 119)
۱۵۲۵- اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں چند ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم مصیبت کے وقت یا مصیبت میں کہا کرو’’الله الله ربي لا أشرك به شيئًا‘‘ (یعنی اللہ ہی میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی) ‘‘ ۔
ابو داود کہتے ہیں: ہلال، عمر بن عبد العزیزکے غلام ہیں، اور ابن جعفر سے مراد عبد اللہ بن جعفر ہیں۔
1526- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَسَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ أَنَّ أَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ كَبَّرَ النَّاسُ وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلا غَائِبًا، إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ بَيْنَكُمْ، وَبَيْنَ أَعْنَاقِ رِكَابِكُمْ > ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < يَا أَبَا مُوسَى! أَلا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ > فَقُلْتُ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: < لا حَوْلَ وَلاقُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ > ۔
* تخريج: خ/الجہاد ۱۳۱ (۲۹۹۲)، والمغازي ۳۸ (۴۲۰۵)، والدعوات ۵۰ (۶۳۸۴)، ۶۶ (۶۴۰۹)، والقدر ۷ (۶۶۱۰)، والتوحید ۹ (۷۳۸۶)، م/الذکر والدعاء ۱۳ (۲۷۰۴)، ت/الدعوات ۳ (۳۳۷۴)، ۵۸ (۳۴۶۱)، ن/الیوم واللیلۃ (۵۳۶، ۵۳۷، ۵۳۸)، ق/الأدب ۵۹ (۳۸۲۴)، (تحفۃ الأشراف:۹۰۱۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۹۴، ۳۹۹، ۴۰۰، ۴۰۲، ۴۰۷، ۴۱۷، ۴۱۸) (صحیح)
۱۵۲۶- ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، جب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور اپنی آوازیں بلند کیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگو! تم کسی بہرے یا غائب کو آواز نہیں دے رہے ہو، بلکہ جسے تم پکار رہے ہو وہ تمہارے اور تمہاری سواریوں کی گردنوں کے درمیان۱؎ ہے‘‘، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اے ابو موسیٰ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟‘‘، میں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’وہ لاحَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللهِ ہے‘‘۔
وضاحت۱؎: یہ اللہ رب العزت کے علم و قدرت اور سمع کی رو سے ہے، رہی اس کی ذات تو وہ عرش کے اوپر مستوی اور بلند و بالا ہے، نیز اس حدیث سے ذکر سرّی کی ذکر جہری پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
1527- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ وَهُمْ يَتَصَعَّدُونَ فِي ثَنِيَّةٍ فَجَعَلَ رَجُلٌ كُلَّمَا عَلا الثَّنِيَّةَ نَادَى لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ: <إِنَّكُمْ لا تُنَادُونَ أَصَمَّ وَلا غَائِبًا >، ثُمَّ قَالَ: < يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ > فَذَكَرَ مَعْنَاهُ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف:۹۰۱۷) (صحیح)
۱۵۲۷- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے اور ایک پہاڑی پر چڑھ رہے تھے، ایک شخص تھا، وہ جب بھی پہاڑی پر چڑھتا تو ’’لا إله إلا الله والله أكبر‘‘ پکارتا، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’تم لوگ کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو‘‘۔
پھر فرمایا: اے عبد اللہ بن قیس! پھرراوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
1528- حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ فِيهِ: فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : <يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم : ۱۵۲۶، (تحفۃ الأشراف:۹۰۱۷) (صحیح)
۱۵۲۸- اس سند سے بھی ابو موسی رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث روایت کی ہے، البتہ اس میں یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’لوگو! اپنے اوپر آسانی کرو‘‘۔
1529- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَانِ بْنُ شُرَيْحٍ الإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ؛ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ قَالَ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولا، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابوداود ، (تحفۃ الأشراف:۴۲۶۸)، وقد أخرجہ: م/الإمارۃ ۳۱ (۱۸۸۴)، ن/الجہاد ۱۸ (۳۱۳۳) (صحیح)
۱۵۲۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص کہے:’’رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولا‘‘(میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہوا) تو جنت اس کے لئے واجب گئی‘‘۔
1530- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَانِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا >۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۱۷ (۴۰۸)، ت/الصلاۃ ۲۳۵ (الوتر ۲۰) (۴۸۵)، ن/السہو۵۵ (۱۲۹۷)، (تحفۃ الأشراف:۱۳۹۷۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۷۳، ۳۷۵، ۴۸۵)، دي/الرقاق ۵۸ (۲۸۱۴) (صحیح)
۱۵۳۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو مجھ پر ایک بار درود (صلاۃ) بھیجے گا اللہ اس پر دس رحمت نازل کرے گا‘‘۔
1531- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ [الْجُعْفِيُّ]، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَانِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلاةِ فِيهِ، فَإِنَّ صَلاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ >، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: بَلِيتَ، قَالَ: < إِنَّ اللَّهَ [تَبَارَكَ وَتَعَالَى] حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ >۔
* تخريج: انظرحدیث رقم : ۱۰۴۷، (تحفۃ الأشراف:۱۷۳۶) (صحیح)
۱۵۳۱- اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود (صلاۃ) بھیجا کرو، اس لئے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں‘‘، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول! آپ قبر میں بوسیدہ ہو چکے ہوں گے تو ہمارے درود (صلاۃ) آپ پر کیسے پیش کئے جائیں گے؟آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالی نے زمین پر انبیاء کرام کے جسم حرام کر دیئے ہیں‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انبیاء کے اجسام گلتے سڑتے نہیں، خواہ ان پر کتنی ہی مدت کیوں نہ گزر جائے، نیز نبی اکرم ﷺ قبر مبارک میں زندہ ہیں، اس زندگی کو برزخ کی زندگی کہا جاتا ہے، لیکن یہ زندگی دنیا کی زندگی کی طرح نہیں دونوں میں بہت فرق ہے، اور آپ ﷺ کا جسم بالکل صحیح سالم ہے۔