20- بَاب مَنْ رَوَى نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ
۲۰- باب: گیہوں میں آدھا صاع صدقہء فطر دینے کے قائلین کی دلیل کا بیان
1619- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ النُّعْمَانِ ابْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ مُسَدَّدٌ، عَنْ ثَعْلَبَةَ [بْنِ عَبْدِاللَّهِ] بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ: عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ -أَوْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ- بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < صَاعٌ مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ عَلَى كُلِّ اثْنَيْنِ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، أَمَّا غَنِيُّكُمْ فَيُزَكِّيهِ اللَّهُ، وَأَمَّا فَقِيرُكُمْ فَيَرُدُّ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى >، زَادَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ غَنِيٍّ أَوْ فَقِيرٍ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۲۰۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۳۲) (ضعیف) (نعمان بن راشد کے سبب یہ روایت ضعیف ہے)
۱۶۱۹- عبد اللہ بن ابو صعیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’گیہوں کا ایک صاع ہر دو آدمیوں پر لازم ہے (ہر ایک کی طرف سے آدھا صاع) چھوٹے ہوں یا بڑے، آزاد ہوں یا غلام، مرد ہوں یا عورت، رہا تم میں جو غنی ہے، اللہ اسے پاک کر دے گا، اور جو فقیر ہے اللہ اسے اس سے زیادہ لوٹا دے گا، جتنا اس نے دیا ہے‘‘۔
سلیمان نے اپنی روایت میں ’’غنيٍ أو فقيرٍ‘‘ کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔
1620- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابِجِرْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ -هُوَ ابْنُ وَائِلٍ- عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، أَوْ قَالَ: عَبْدِاللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ بَكْرٍ الْكُوفِيِّ، قَالَ [مُحَمَّدُ] بْنُ يَحْيَى: هُوَ بَكْرُ بْنُ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ أَنَّ الزُّهْرِيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ؛ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ خَطِيبًا فَأَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعِ تَمْرٍ أَوْ صَاعِ شَعِيرٍ، عَنْ كُلِّ رَأْسٍ، زَادَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ: أَوْ صَاعِ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ثُمَّ اتَّفَقَا: عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، ( تحفۃ الأشراف :۲۰۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۳۲) (صحیح)
۱۶۲۰- ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے صدقہء فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جوَ ہر شخص کی جانب سے نکالنے کا حکم دیا۔
علی بن حسین نے اپنی روایت میں ’’أو صاع بر أو قمح بين اثنين‘‘ کا اضافہ کیا ہے (یعنی دو آدمیوں کی طرف سے گیہوں کا ایک صاع نکالنے کا)، پھر دونوں کی روایتیں متفق ہیں: ’’چھوٹے بڑے آزاد اور غلام ہرایک کی طرف سے‘‘۔
1621- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ: قَالَ ابْنُ صَالِحٍ: قَالَ الْعَدَوِيُّ: [قَالَ اَبُوْدَاود: قَالَ اَحْمَدُ بْنُ صَالِح:] وَإِنَّمَا هُوَ الْعُذْرِيُّ، خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الْمُقْرِءِ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، ( تحفۃ الأشراف :۲۰۷۳) (صحیح)
۱۶۲۱- عبد الرزاق کہتے ہیں ابن جریج نے ہمیں خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے اپنی روایت میں عبد اللہ بن ثعلبہ (جزم کے ساتھ بغیر شک کے) کہا۱؎ ۔
احمد بن صالح کہتے ہیں کہ عبد الرزاق نے عبد اللہ بن ثعلبہ کے تعلق سے کہا ہے کہ وہ عدوی ہیں۔
ابو داود کہتے ہیں کہ احمد بن صالح نے عبد اللہ صالح کو عذری کہا ہے۲؎، رسول اللہ ﷺ نے عید کے دو دن پہلے لوگوں کو خطبہ دیا، یہ خطبہ مقری (عبد اللہ بن یزید) کی روایت کے مفہوم پر مشتمل تھا۔
وضاحت۱؎: نعمان بن راشد اور بکر بن وائل کی جو روایت زہری سے اوپر گزری ہے اس میں شک کے ساتھ آیا ہے۔
وضاحت۲؎: عدوی تصحیف ہے۔
1622- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حُمَيْدٌ أَخْبَرَنَا، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي آخِرِ رَمَضَانَ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ أَخْرِجُوا صَدَقَةَ صَوْمِكُمْ، فَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا، فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ؟ قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ فَإِنَّهُمْ لا يَعْلَمُونَ، فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ هَذِهِ الصَّدَقَةَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ شَعِيرٍ، أَوْ نِصْفَ صَاعٍ [مِنْ] قَمْحٍ، عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِي اللَّه عَنْه رَأَى رُخْصَ السِّعْرِ قَالَ: قَدْ أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ، فَلَوْ جَعَلْتُمُوهُ صَاعًا مِنْ كُلِّ شَيْئٍ، قَالَ حُمَيْدٌ: وَكَانَ الْحَسَنُ يَرَى صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى مَنْ صَامَ۔
* تخريج: ن/الزکاۃ ۳۶ (۲۵۱۰)، ( تحفۃ الأشراف :۵۳۹۴) (ضعیف) (حسن بصری کا سماع ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نہیں ہے)
۱۶۲۲- حسن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رمضان کے اخیر میں بصرہ کے منبر پر خطبہ دیا اور کہا: ’’اپنے صیام کا صدقہ نکالو‘‘، لوگ نہیں سمجھ سکے تو انہوں نے کہا: ’’اہل مدینہ میں سے کون کون لوگ یہاں موجود ہیں؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سمجھاؤ، -اس لئے کہ وہ نہیں جانتے- رسول اللہ ﷺ نے یہ صدقہ فرض کیا کھجور یا جَو سے ایک صاع، اور گیہوں سے آدھا صاع ہر آزاد اور غلام، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے پر‘‘، پھر جب علی رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے ارزانی دیکھی اور کہنے لگے: ’’اللہ تعالی نے تمہارے لئے کشادگی کر دی ہے، اب اسے ہر شئی میں سے ایک صاع کر لو ۱؎ تو بہتر ہے‘‘۔
حمید کہتے ہیں: حسن کا خیال تھا کہ صدقۂ فطر اس شخص پر ہے جس نے رمضان کے صیام رکھے ہوں۔
وضاحت ۱؎ : یعنی گیہوں بھی ایک صاع دو۔