• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
11- بَاب مَا جَاءَ فِي الإِفْطَارِ فِي السَّفَرِ
۱۱- باب: سفر میں صوم نہ رکھنے کا بیان​

1664- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ >.
* تخريج: ن/الصیام ۲۵ (۲۲۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۰۵)، وقد أخرجہ: حم (۵ /۴۳۴)، دي/الصوم ۱۵ (۱۷۵۱) (صحیح)

۱۶۶۴- کعب بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''سفر میں صوم رکھنا نیکی نہیں ہے''۔

1665- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۱۱۰ ، ومصباح الزجاجۃ: ۶۰۳) (صحیح)

۱۶۶۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''سفر میں صوم رکھنا نیکی نہیں ہے''۔

1666- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ، عَنْ أُسَامَةَ ابْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ < صَائِمُ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ>۔
قَالَ أبُو إسحَاق: هذَا الحَدِيثُ لَيسَ بِشَئ.
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۳۰، ومصباح الزجاجۃ: ۶۰۴) (ضعیف)
(ابوسلمہ کا اپنے والد عبد الرحمن سے سماع نہیں ہے، اور اسامہ بن زید ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۴۹۸)
۱۶۶۶- عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''سفر میں صوم رکھنے والا ایسا ہے جیسے کہ حضر میں صوم نہ رکھنے والا''۔
ابو اسحاق کہتے ہیں: یہ حدیث کچھ نہیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
12- بَاب مَا جَاءَ فِي الإِفْطَارِ لِلْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ
۱۲- باب: حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے صوم نہ رکھنے کا بیان​

1667- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي هِلالٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِالأَشْهَلِ (وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ: مِنْ بَنِي عَبْدِاللَّهِ بْنِ كَعْبٍ) قَالَ: أَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ: < ادْنُ فَكُلْ > قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: <اجْلِسْ أُحَدِّثْكَ عَنِ الصَّوْمِ أَوِ الصِّيَامِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلاةِ وَعَنِ الْمُسَافِرِ وَالْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ أَوِ الصِّيَامَ > وَاللَّهِ! لَقَدْ قَالَهُمَا النَّبِيُّ ﷺ، كِلْتَاهُمَا أَوْ إِحْدَاهُمَا فَيَا لَهْفَ نَفْسِي! فَهَلا كُنْتُ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: د/الصوم ۴۳ (۲۴۰۸)، ت/الصوم ۲۱ (۷۱۵)، ن/الصوم ۲۸ (۲۲۷۶)، ۳۴ (۱۳۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۴۷، ۵/۲۹) (حسن صحیح)

۱۶۶۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ بنی عبد الاشہل کے اور علی بن محمد کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عبد اللہ بن کعب کے ایک شخص نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے سوار ہمارے اوپر حملہ آور ہوئے تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا، اور آپ دوپہر کا کھانا تناول فرما رہے تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا: ''قریب آجاؤ اور کھاؤ،'' میں نے کہا: میں صائم ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''بیٹھو میں تمہیں صیام کے سلسلے میں بتاتا ہوں'' اللہ تعالی نے مسافر سے آدھی صلاۃ معاف کر دی ہے، اور مسافر، حاملہ اور مرضعہ (دودھ پلانے والی) سے صوم معاف کر دیا ہے، قسم اللہ کی نبی اکرم ﷺ نے یہ دونوں باتیں فرمائیں، یا ایک بات فرمائی، اب میں اپنے اوپر افسوس کرتا ہوں کہ میں نے آپ کے کھانے میں سے کیوں نہیں کھایا۱؎۔
وضاحت۱؎: اگر ان کے صوم رکھنے سے پیٹ کے بچہ کو یا دودھ پینے والے بچے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو وہ صوم نہ رکھیں، اور بعد میں ان کی قضا کریں۔

1668- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِلْحُبْلَى الَّتِي تَخَافُ عَلَى نَفْسِهَا أَنْ تُفْطِرَ وَلِلْمُرْضِعِ الَّتِي تَخَافُ عَلَى وَلَدِهَا۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۰) (ضعیف جدا)
(اس کی سند میں ربیع بن بدر متروک راوی ہیں)۔
۱۶۶۸- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حاملہ کو جسے اپنی جان کا ڈر ہو، اور دودھ پلانے والی عورت کو جسے اپنے بچے کا ڈر ہو، رخصت دی کہ وہ دونوں صوم نہ رکھیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
13- بَاب مَا جَاءَ فِي قَضَاءِ رَمَضَانَ
۱۳- باب: صیامِ رمضان کی قضا کا بیان​

1669- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَيَّ الصِّيَامُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَمَا أَقْضِيهِ حَتَّى يَجِيئَ شَعْبَانُ۔
* تخريج: خ/الصوم ۴۰ (۱۹۵۰)، م/الصوم ۲۶ (۱۱۴۶)، د/الصوم ۴۰ (۲۳۹۹)، ن/الصیام ۳۶ (۲۳۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۷۷)، وقد أخرجہ: ط/الصیام ۲۰ (۵۴)، حم (۶/۱۲۴، ۱۷۹) (صحیح)

۱۶۶۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اوپر رمضان کے صوم ہوتے تھے میں ان کی قضا نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان کا مہینہ آجاتا ۱؎۔
وضاحت۱؎: جب شعبان کا مہینہ آتا تو نبی اکرم ﷺ بھی اس مہینہ میں بہت صوم رکھتے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا بھی قضا کرتیں، اور قضا میں دیر کرنے کی وجہ یہ ہوتی کہ نبی کریم ﷺ کو عائشہ رضی اللہ عنہا کی محبت بہت تھی، پہلے صوم رکھنے سے اندیشہ تھا کہ نبی کریم ﷺ کو تکلیف ہو گی۔

1670- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ، فَيَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّوْمِ۔
* تخريج: ت/الطہارۃ ۹۷ (۱۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۷۴)، وقد أخرجہ: خ/الحیض۲۰ (۳۲۱)، م/الحیض ۱۵ (۳۳۵)، د/الطہارۃ ۱۰۵ (۲۶۳)، ن/الحیض ۱۷ (۳۸۲)، الصیام ۳۶ (۲۳۲۰)، حم (۶/۳۲، ۹۷، ۱۲۰) (صحیح)

۱۶۷۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمیں نبی اکرم ﷺ کے پاس حیض آتا تھا تو آپ ہمیں صیام کی قضا کا حکم دیتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
14- بَاب مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ
۱۴- باب: جو شخص رمضان کے کسی ایک دن کا صوم چھوڑ دے تو اس کے کفارے کا بیان​

1671- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ ﷺ رَجُلٌ، فَقَالَ هَلَكْتُ قَالَ: < وَمَا أَهْلَكَكَ؟ > قَالَ وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < أَعْتِقْ رَقَبَةً > قَالَ لاأَجِدُ، قَالَ: < صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ> قَالَ: لا أُطِيقُ قَالَ: <أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا>، قَالَ: لاأَجِدُ، قَالَ: <اجْلِسْ> فَجَلَسَ، فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أُتِيَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى الْعَرَقَ، فَقَالَ: <اذْهَبْ فَتَصَدَّقْ بِهِ > قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا بَيْنَ لابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنَّا، قَالَ < فَانْطَلِقْ فَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ >.
* تخريج: خ/الصوم ۳۰ (۱۹۳۶)، الہبۃ ۲۰ (۲۶۰۰)، النفقات ۱۳ (۵۳۶۸)، الأدب ۶۸ (۶۰۸۷)، ۹۵ (۶۱۶۴)، کفارات الأیمان ۲ (۶۷۰۹)، ۳ (۶۷۱۰)، ۴ (۶۷۱۱)، م/الصوم ۱۴ (۱۱۱۱)، د/الصوم ۳۷ (۲۳۹۰)، ت/الصوم ۲۸ (۷۲۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۷۵)، وقد أخرجہ: ط/الصیام ۹ (۲۸)، حم (۲/۲۰۸، ۲۴۱، ۲۷۳، ۲۸۱، ۵۱۶)، دي/الصوم ۸ (۱۷۵۷) (صحیح)

۱۶۷۱ - ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا، اس نے عرض کیا: میں ہلاک ہو گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں کس چیز نے ہلاک کر دیا؟ اس نے کہا: میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم ایک غلام آزاد کرو''، اس نے کہا: میرے پاس غلام آزاد کرنے کی طاقت نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اچھا تو دو مہینے لگاتار صوم رکھو''، اس نے کہا: میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ''اس نے کہا: مجھے اس کی بھی طاقت نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''بیٹھ جاؤ'' وہ بیٹھ گیا، اسی دوران آپ کے پاس کھجور کا ایک ٹوکرا آگیا، اس ٹوکرے کو عرق کہتے تھے، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ''جاؤ اسے صدقہ کر دو''، اس نے کہا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ کوئی اور گھر والا ہم سے زیادہ محتاج نہیں ہے، یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا: ''جاؤ اپنے گھر والوں کو کھلا دو'' ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ رمضان کا صیام قصداً توڑنے سے ظہار کا سا کفارہ لازم ہے، سبحان اللہ اس شخص کی بھی کیا قسمت تھی کہ صیام کا کفارہ بھی ساقط اور کھجور کا ٹوکرہ مفت ہاتھ آیا، علماء نے کہا ہے کہ یہ اس شخص کے ساتھ خاص تھا اگر دوسرا کوئی رمضان کا صیام قصداً توڑے تو غلام آزاد کرے، اگر یہ نہ ہو سکے تو دو مہینے لگاتار صوم رکھے، اگر یہ نہ ہو سکے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے، اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ٹھہرا رہے جب صوم کی طاقت آجائے یا مال ملے تو کفارہ ادا کرے، بہرحال اپنے بال بچوں کے کھلا دینے سے کفارے کا ادا ہو جانا اس شخص کے ساتھ خاص تھا، واللہ اعلم۔

1671/أ- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِذَلِكَ فَقَالَ: < وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۳۷۶، ومصباح الزجاجۃ: ۶۰۵)، حم (۲/۲۰۸) (صحیح)

۱۶۷۱/أ- اس سند سے بھی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے واسطے سے ایسے ہی بیان کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس کی جگہ پر ایک دن کا صوم رکھ لو''۔

1672- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ الْمُطَوِّسِ، عَنْ أَبِيهِ الْمُطَوِّسِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ لَمْ يُجْزِهِ صِيَامُ الدَّهْرِ>۔
* تخريج: د/الصوم ۳۸ (۲۳۹۶)، ت/الصوم ۲۷ (۷۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۱۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۸۶، ۴۴۲، ۴۵۸)، دي/الصوم ۱۸(۱۷۵۶) (ضعیف)
(اس کے راوی ابن المطوس لین الحدیث اور والد مطوس مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ۴۱۳)
۱۶۷۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص رمضان کا ایک صوم بغیر کسی رخصت کے چھوڑ دے تو اُسے پورے سال کے صیام (بھی) کافی نہ ہوں گے۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ مبالغہ کے طور پر فرمایا ورنہ دو مہینہ کے صیام لگاتار اس کے بدلے میں کافی ہیں، بعض نے کہا: مطلب یہ ہے کہ اتنا ثواب حاصل نہ ہو گا جتنا اس مہینہ کے ایک صوم سے حاصل ہوتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15- بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ أَفْطَرَ نَاسِيًا
۱۵- باب: صیام میں بھول کر کھا پی لے تو اس کے حکم کا بیان
1673- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ خِلاسٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا، وَهُوَ صَائِمٌ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ "۔
* تخريج: خ/الصوم ۲۶ (۱۹۳۳)، ت/الصوم ۲۶ (۷۲۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۳۰۳، ۱۴۴۷۹)، وقد أخرجہ: م/الصوم ۳۳ (۱۱۵۵)، د/الصوم ۳۹ (۲۳۹۸)، حم (۲/۳۹۵،۴۲۵،۴۹۱،۵۱۳)، دي/الصوم ۲۳ (۱۷۶۷) (صحیح)

۱۶۷۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے بھول کر کھا لیا اور وہ صائم ہو تو اپنا صوم پورا کرلے (توڑے نہیں) اس لیے کہ اسے اللہ تعالی نے کھلایا اور پلایا ہے''۔

1674- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ؛ قَالَتْ: أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي يَوْمِ غَيْمٍ، ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ قُلْتُ لِهِشَامٍ: أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ؟ قَالَ: فَلا بُدَّ مِنْ ذَلِكَ۔
* تخريج: خ/الصوم ۴۶ (۱۹۵۹)، د/الصوم ۲۳ (۲۳۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۴۹)، حم (۶/۳۴۶) (صحیح)

۱۶۷۴- اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک دن بدلی میں صوم افطار کر لیا، پھر سورج نکل آیا، ابو اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام سے کہا: پھر تو لوگوں کو صوم کے قضاء کا حکم دیا گیا ہو گا؟ انہوں نے کہا: یہ تو ضروری ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی قضا تو کرنا ضروری ہے ایسی حالت میں اس پر سب کا اتفاق ہے کہ جب دھوکہ سے صوم کھول ڈالے بعد میں معلوم ہو کہ دن باقی تھا اور سورج نہیں ڈوبا تھا تو قضا لازم آئے گی، لیکن کفارہ لازم نہ ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- بَاب مَا جَاءَ فِي الصَّائِم يَقِيئُ
۱۶- باب: صائم قے کر دے تو اس کے حکم کا بیان
1675- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى، وَمُحَمَّدُ ابْنَا عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيِّ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ؛ قَالَ: سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فِي يَوْمٍ كَانَ يَصُومُهُ، فَدَعَا بِإِنَائٍ فَشَرِبَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنَّ هَذَا يَوْمٌ كُنْتَ تَصُومُهُ، قَالَ: " أَجَلْ، وَلَكِنِّي قِئْتُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۴۱، ومصباح الزجاجۃ: ۶۰۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۸، ۱۹، ۲۱، ۲۲) (ضعیف)
(اس میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں ،اور عنعنہ سے روایت کی ہے ، نیز ابو مرزوق کا سماع فضالہ رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے، اس لئے اس کی سند میں انقطاع بھی ہے)
۱۶۷۵- فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس ایک ایسے دن میں آئے جس میں آپ صوم رکھا کرتے تھے، آپ نے ایک برتن منگوایا اور پانی پیا، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دن تو آپ کے صیام کا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں، لیکن آج میں نے قے کی ہے''۔

1676- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عَبْدِالْكَرِيمِ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ (ح) وحَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ، أَبُوالشَعْثَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: < مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْئُ فَلاقَضَاءَ عَلَيْهِ، وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ >۔
* تخريج: حدیث عبید اللہ عن علی قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۱۹) وحدیث عبید اللہ عن الحکم قد أخرجہ: د/الصوم ۳۲ (۲۳۸۰)، ت/الصوم ۲۵ (۷۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۴۲)،وقد أخرجہ: حم (۲/۴۹۸)، دي/الصوم ۲۵ (۱۷۷۰) (صحیح)

۱۶۷۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جسے خود بہ خود قے آجائے اس پر صیام کی قضا نہیں، اور جس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس پر صیام کی قضا ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
17- بَاب مَا جَاءَ فِي السِّوَاكِ وَالْكُحْلِ لِلصَّائِمِ
۱۷- باب: صائم کے مسواک کرنے اور سرمہ لگانے کا بیان​

1677- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مِنْ خَيْرِ خِصَالِ الصَّائِمِ السِّوَاكُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۳۰، ومصباح الزجاجۃ: ۶۰۷) (ضعیف)
(اس کی سند میں مجالد ضعیف ہیں)
۱۶۷۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''صائم کی اچھی عادتوں میں سے مسواک کرنا ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: صائم کے لئے مسواک کرنا مکروہ نہیں ہے، کسی بھی وقت میں ہو، شروع دن میں یا اخیر دن میں، بلکہ سنت ہے، اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، بعض لوگوں نے زوال کے بعد مسواک کرنا مکروہ سمجھا ہے اس وجہ سے کہ اس کے ذریعہ منہ کی بو ختم ہو جائے گی، جس کی فضیلت حدیث میں آئی ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ اس بو کا تعلق منہ سے نہیں، بلکہ معدہ سے ہے، جو معدہ کے خالی ہونے کی حالت میں پیدا ہوتی ہے اسی کو عربی میں خلوف کہتے ہیں جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔

1678- حَدَّثَنَا أَبُو التَّقِيِّ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتِ: اكْتَحَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ صَائِمٌ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۹۰۶، ومصباح الزجاجۃ: ۶۰۸) (ضعیف)

۱۶۷۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سرمہ لگایا ،اور آپ ﷺ صوم سے تھے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
18- بَاب مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ
۱۸- باب: صائم کے پچھنا لگوانے کا بیان​

1679- حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍالرَّقِّيُّ، وَدَاوُدُ بْنُ رَشِيدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ بِشْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۱۷، ومصباح الزجاجۃ: ۶۰۹) (صحیح)
(عبد اللہ بن بشر کا سماع اعمش سے ثابت نہیں ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے)
۱۶۷۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''پچھنا لگانے والے، اور لگوانے والے دونوں کا صوم ٹوٹ گیا''۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ حدیث تواتر کے درجے کو پہنچی ہوئی ہے، اور اس بارے میں نص ہے کہ پچھنا (سینگی) لگانے اور لگوانے والے دونوں کا صوم ٹوٹ جاتا ہے، اکثر فقہائے حدیث جیسے احمد، اسحاق بن راہویہ، ابن خزیمہ اور ابن المنذر کا یہی مذہب ہے، اور اسی کو محققین علماء جیسے شیخ الإسلام ابن تیمیہ اور ابن القیم نے اختیار کیا ہے، اور یہ مذہب صحیح اور قیاس کے موافق ہے، حجامت قے کی طرح ہے، اور جب کوئی عمداً قے کرے تو قے سے صوم ٹوٹ جاتا ہے، لیکن مالک، ابو حنیفہ، شافعی اور جمہور علماء اس کے جواز کے قائل ہیں اور اس حدیث کی تاویل میں ان کے مختلف اقوال ہیں ایک قول یہ ہے کہ ''أفطر الحاجم والمحجوم'' کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں نے اپنے آپ کو افطار کے لیے پیش کر دیا ہے بلکہ قریب پہنچ گئے ہیں، جسے سینگی لگائی گئی وہ ضعف و کمزوری کی وجہ سے اور سینگی لگانے والا اس لیے کہ اس سے بچنا مشکل ہے کہ جب وہ خون چوس رہا ہو تو خون کا قطرہ حلق میں چلا جائے اور صوم ٹوٹ جائے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے اور ناسخ انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جسے دارقطنی نے روایت کیا ہے :''رخص النبي بعد في الحجامة للصائم وكان أنس يحتجم وهو صائم''۔

1680- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو قِلابَةَ أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ حَدَّثَهُ عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: <أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ >۔
* تخريج: د/الصوم ۲۸ (۲۳۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۲۱۰۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۷۷، ۲۸۰، ۲۸۲، ۲۸۳)، دي/الصیام ۳۶ (۱۷۷۴) (صحیح)

۱۶۸۰- ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: ''پچھنا لگانے والے، اور لگوانے والے دونوں کا صوم ٹوٹ گیا''۔

1681- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلابَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ بَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِالْبَقِيعِ، فَمَرَّ عَلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ، بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ الشَّهْرِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ ۔
* تخريج:د/الصوم ۲۸ (۲۳۶۸)، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۲۳،۱۲۴،۱۲۵)، دي/الصوم ۲۶ (۱۷۷۱) (صحیح)
(سند میں یحییٰ بن أبی کثیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن سابقہ حدیث تقویت پاکر صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۴/۶۸/۷۰ و صحیح أبی داود: ۲۰۵۰- ۲۰۵۱ )
۱۶۸۱- ابو قلابہ سے روایت ہے کہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بقیع میں چل رہے تھے کہ اسی دوران آپ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو چاند کی اٹھارہویں رات گزر جانے کے بعد پچھنا لگوا رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا صوم ٹوٹ گیا'' ۔

1682- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ۔
* تخريج: د/الحج ۳۶ (۱۸۳۵)، ت/الحج ۲۲ (۸۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۶۴۹۵)، وقد أخرجہ: خ/جزاء الصید ۱۱ (۱۸۳۵)، الصوم ۳۲ (۱۹۳۸)، الطب ۱۲ (۵۶۹۵)، ۱۵ (۵۷۰۰)، م/الحج ۱۱ (۱۲۰۲)، ن/الحج ۹۲ (۲۸۴۹)، حم (۱/۲۱۵، ۲۲۱، ۲۳۶، ۲۴۸، ۲۴۹، ۲۶۰، ۲۸۳، ۲۸۶، ۲۹۲، ۳۰۶، ۳۱۵، ۳۳۳، ۳۴۶، ۳۵۱، ۳۷۲،۳۷۴)، دي/المناسک ۲۰ (۱۸۶۰)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۳۰۸۱) (صحیح)

۱۶۸۲- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنا لگوایا جب کہ آپ صائم تھے، اور احرام باندھے ہوئے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: صوم اور احرام دونوں حالتوں میں نبی اکرم ﷺ سے بچھنا لگوانا ثابت ہے، صحیح بخاری کے الفاظ ہیں: ''احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ وَاحْتَجَمَ وَ هُوَ محْرِمٌ '' (نبی اکرم ﷺ نے صیام کی حالت میں پچھنا لگوایا اور احرام کی حالت میں سینگی لگوائی)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
19- بَاب مَا جَاءَ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ
۱۹- باب: صائم بیوی کا بوسہ لے لے تو اس کے حکم کا بیان​

1683- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُوالأَحْوَصِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاقَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُقَبِّلُ فِي شَهْرِ الصَّوْمِ۔
* تخريج: م/الصوم ۱۲ (۱۱۰۶)، د/الصوم ۳۳ (۲۳۸۳)، ت/الصوم ۳۱ (۷۲۷)، الصوم ۲۱ (۱۷۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۲۳)، وقد أخرجہ: خ/الصوم ۲۴ (۱۹۲۸)، ط/الصیام ۶ (۱۸)، حم (۶/۳۰)، دي/المقدمۃ ۵۳ (۶۹۸) (صحیح)

۱۶۸۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ صیام کے مہینے میں بوسہ لیتے تھے۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے صوم کی حالت میں بیوی کا بوسہ لینے کا جواز ثابت ہوتا ہے لیکن یہ ایسے شخص کے لیے ہے جو اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو اورجسے اپنے نفس پر قابو نہ ہو اس کے لیے یہ رعایت نہیں۔

1684- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَمْلِكُ إِرْبَهُ ؟۔
* تخريج: م/الصوم ۱۲ (۱۱۰۶)، الصوم ۲۱ (۱۷۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۴۰)، وقد أخرجہ: خ/الصوم ۲۳ (۱۹۲۷)، د/الصوم ۳۳ (۲۳۸۳)، ت/الصوم۳۲ (۷۲۹)، ط/الصیام ۶ (۱۸)، حم (۶/۴۴)، دي/المقدمہ ۵۳ (۶۹۸) (صحیح)

۱۶۸۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ صیام کی حالت میں بوسہ لیتے تھے، اور تم میں سے کون اپنی خواہش پہ ایسا اختیار رکھتا ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ رکھتے تھے؟

1685- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ حَفْصَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ۔
* تخريج:م/الصوم ۱۲ (۱۱۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۸۶) (صحیح)

۱۶۸۵- ام المومنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ صیام کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔

1686- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضِّنِّيِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ مَوْلاةِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ: سُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ عَنْ رَجُلٍ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُمَا صَائِمَانِ، قَالَ: < قَدْ أَفْطَرَا >۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۹۰، ومصباح الزجاجۃ: ۶۱۰) وقد أخرجہ: حم (۶/۴۶۳) (ضعیف جدا)
(سند میں زید بن جبیر ضعیف اور ان کے شیخ ابو یزید الضنی مجہول ہیں)
۱۶۸۶- نبی اکرم ﷺ کی لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کا بوسہ لیا اس حال میں کہ دونوں صوم سے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''ان دونوں کا صوم ٹوٹ گیا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
20- باب مَا جَاءَ فِي الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ
۲۰- باب: صائم کا بیوی سے مباشرت (چمٹ کر سونے) کا بیان​

1687- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا، إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ دَخَلَ الأَسْوَدُ وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ؛ فَقَالا: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ؟ قَالَتْ: كَانَ يَفْعَلُ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لإِرْبِهِ۔
* تخريج: م/الصوم ۱۲ (۱۱۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۷۲)، وقد أخرجہ: خ/الصوم ۲۳ (۱۹۲۷)، ت/الصوم ۳۲ (۷۲۸)، دي/الطہارۃ ۸۱ (۷۹۶) (صحیح)

۱۶۸۷- اسود اور مسروق ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، اور پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ صوم کی حالت میں مباشرت کرتے (چمٹ کر سوتے) تھے؟ ، انہوں نے کہا: ہاں، آپ ایسا کرتے تھے، اور آپ تم سب سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے آدمی تھے۔

1688- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: رُخِّصَ لِلْكَبِيرِ الصَّائِمِ فِي الْمُبَاشَرَةِ وَكُرِهَ لِلشَّابِّ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۷۸، ومصباح الزجاجۃ: ۶۱۱) (صحیح)

(محمد بن خالد ضعیف ہے، اور عطاء بن سائب اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، خالد واسطی نے ان سے اختلاط کے بعد روایت کی، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ۲۰۶۵)
۱۶۸۸- عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بوڑھے صائم کو بیوی سے چمٹ کر سونے کی رخصت دی گئی ہے، لیکن نوجوانوں کے لئے مکروہ قرار دی گئی ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس میں خطرہ ہے کہ کہیں وہ جماع نہ کر بیٹھیں۔
 
Top