• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
31- بَاب مَا جَاءَ فِي صِيَامِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلام
۳۱- باب: داود علیہ السلام کے صیام کا بیان​

1712- حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ الشَّافِعِيُّ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍقَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ أَوْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَأَحَبُّ الصَّلاةِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ صَلاةُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيُصَلِّي ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ >۔
* تخريج: خ/التہجد ۷ (۱۱۳۱)، أحادیث الأنبیاء ۳۸ (۳۴۲۰)، م/الصیام ۳۵ (۱۱۵۹)، د/الصیام ۶۷ (۲۴۴۸)، ن/قیام اللیل ۱۳ (۱۶۳۱)، الصیام ۴۰ (۲۳۴۶)، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۹۷)، وقد أخرجہ: ت/الصوم ۵۷ (۷۷۰)، دي/الصوم ۴۲ (۱۷۹۳) (صحیح)

۱۷۱۲- عمرو بن اوس کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی کے نزدیک صیام میں سب سے زیادہ پسندیدہ صوم داود علیہ السلام کا صوم ہے، وہ ایک دن صوم رکھتے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے، اور اللہ تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ صلاۃ داود علیہ السلام کی صلاۃ ہے، آپ آدھی رات سوتے تھے، پھر تہائی رات تک صلاۃ پڑھتے تھے، پھر رات کے چھٹے حصہ میں سو رہتے''۔

1713- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا غَيْلانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: < وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ >؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ: < ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ >، قَالَ: كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ: < وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ >۔
* تخريج: م/الصیام ۳۶ (۱۱۶۲)، د/الصوم ۵۳ (۲۴۲۵، ۲۴۲۶)، ت/الصوم ۴۶ (۷۴۹)، ۴۸ (۷۵۲)، ۵۶ (۷۶۷)، ن/الصیام ۴۲ (۲۳۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۱۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۹۵، ۲۹۶، ۲۹۹، ۳۰۳، ۳۰۸، ۳۱۰) (صحیح)

۱۷۱۳- ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! جو شخص دو دن صوم رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''بھلا ایسا کرنے کی کسی میں طاقت ہے؟ انہوں نے کہا: وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن صوم رکھے اور ایک دن افطار کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ داود علیہ السلام کا صوم ہے، پھر انہوں نے کہا: وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن صوم رکھے اور دو دن افطار کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''میری تمنا ہے کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی''۱؎۔
وضاحت۱؎: ایک دن صوم، اور دو دن افطار کو آپ ﷺ نے بہت پسند کیا کیونکہ اس میں افطار غالب اور صوم کم ہے، تو کمزوری لاحق ہونے کا بھی ڈر نہیں ہے، اور یہ فرمایا: ''مجھے یہ پسند ہے کہ مجھ کو اس کی طاقت ہوتی، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ کو اس سے زیادہ کی طاقت تھی، آپ صوم وصال رکھا کرتے تھے، مگر آپ کو اپنی بیویوں کے حقوق کا بھی خیال تھا، اور دوسرے کاموں کا بھی، اس لحاظ سے زیادہ صیام نہیں رکھ سکتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
32- بَاب مَا جَاءَ فِي صِيَامِ نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلام
۳۲- باب: نوح علیہ السلام کے صیام کا بیان​

1714- حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < صَامَ نُوحٌ الدَّهْرَ، إِلا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الأَضْحَى >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۴۹، ومصباح الزجاجۃ: ۶۱۶)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۸۰) (ضعیف)
(اس میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ ۴۵۹)
۱۷۱۴- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''نوح علیہ السلام نے عید الفطر اور عید الاضحی کے علاوہ ہمیشہ صوم رکھا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
33 - بَاب صِيَامِ سِتَّةِ أَيَّامٍ مِنْ شَوَّالٍ
۳۳- باب: ماہ شوال کے چھ صیام کا بیان​

1715- حدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذَّمَارِيُّ؛ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أَسْمَاءَ الرَّحَبِيَّ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ صَامَ سِتَّةَ أَيَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ، كَانَ تَمَامَ السَّنَةِ، مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا " ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۱۰۷، ومصباح الزجاجۃ: ۶۱۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۸۰)، دي/الصوم ۴۴ (۱۷۹۶) (صحیح)

۱۷۱۵- رسول اللہ ﷺ کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جس نے عید الفطر کے بعد چھ صوم رکھے تو اس کو پورے سال کے صیام کا ثواب ملے گا، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:{مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} یعنی جو ایک نیکی کرے گا اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۱؎۔
وضاحت۱؎: تو رمضان کے تیس صیام اور ۶ عید کے کل ۳۶ ہوئے، دس سے ضرب دینے میں ۳۶۰ صوم ہوتے ہیں، اور سال کے اتنے ہی دن ہیں، پس گویا اس نے سال بھر صیام رکھے، سبحان اللہ حق تعالی کی اپنے ناتواں بندوں پر کیا عنایت ہے، اب اختلاف ہے کہ یہ صیام عید کے بعد ہی رکھنا شروع کرے اور شوال کی سات تاریخ تک پورے کرلے، یا شوال کے مہینہ میں جب چاہے رکھ لے؟ مسلسل یا الگ الگ دن میں، ہر طرح جائز ہے، ہر حال میں سال بھر کے صیام کا ثواب حاصل ہوجائے گا، ان شاء اللہ۔

1716- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ بِسِتٍّ مِنْ شَوَّالٍ، كَانَ كَصَوْمِ الدَّهْرِ >۔
* تخريج: م/الصوم ۲۹ (۱۱۶۴)، د/الصوم ۵۸ (۲۴۳۳)، ت/الصوم ۵۳ (۷۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۸۲)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۱۷، ۴۱۹)، دي/الصوم ۴۴ (۱۷۹۵) (حسن صحیح)

۱۷۱۶- ابو ایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے رمضان کا صوم رکھا، پھر اس کے بعد شوال کے چھ صوم رکھے، تو وہ پورے سال صوم رکھنے کے برابر ہو گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
34- بَاب فِي صِيَامِ يَوْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۳۴- باب: (فی سبیل اللہ) جہاد میں صیام رکھنے کا بیان​

1717- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلِ ابْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ، بِذَلِكَ الْيَوْمِ، النَّارَ مِنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا۔
* تخريج: خ/الجہاد ۳۶ (۲۸۴۰)، م/الصوم ۳۱ (۱۱۵۳)، ت/فضائل الجہاد ۳ (۱۶۲۳)، ن/الصیام ۲۴ (۲۲۴۷، ۲۲۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۴۳۸۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/ ۲۶،۴۵،۵۹، ۸۳)، دي/الجہاد ۱۰ (۲۴۴۴) (صحیح)

۱۷۱۷- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے جہاد کے سفر میں ایک روز بھی صوم رکھا، تو اللہ اس ایک دن کے صوم کی وجہ سے اس کا چہرہ جہنم سے ستر سال کی مسافت کی مقدار میں دور کر دے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: خریف کی تفسیر میں اختلاف ہے اور دوسری روایت میں ستر سال کا ذکر ہے تو خریف سے وہی سال مراد ہوں گے یعنی جہنم سے وہ شخص ستر برس کے راستے کے بقدر دور ہو جائے گا۔

1718- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ زَحْزَحَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا >۔
* تخريج: ت/فضائل الجہاد ۳ (۱۶۲۲)، ن/الصیام ۲۴ (۲۲۴۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۷۰، ومصباح الزجاجۃ: ۶۱۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۰۰، ۳۵۷) (صحیح)

۱۷۱۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے جہاد کے سفر میں ایک دن بھی صوم رکھا تو اللہ تعالی اس ایک دن کے صوم کی وجہ سے اس کا چہرہ جہنم سے ستر سال کی مسافت کی مقدار میں دور کر دے گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
35- بَاب مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ صِيَامِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ
۳۵- باب: ایام تشریق میں صیام رکھنا منع ہے​

1719- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَيَّامُ مِنًى أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۴۴، ومصباح الزجاجۃ: ۶۱۹)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۲۹، ۳۸۷) (حسن صحیح)
( نیزملاحظہ ہو: الإرواء: ۴/۱۲۹)
۱۷۱۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''منیٰ کے دن ۱؎ کھانے اور پینے کے دن ہیں''۔
وضاحت۱؎: منیٰ کے دن سے مراد تشریق کے دن یعنی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں ذی الحجہ ہے، ایک روایت میں ہے کہ ان دنوں میں صوم مت رکھو، یہ دن کھانے پینے اور جماع کے ہیں، قرآن میں ایام معدودات سے یہی دن مراد ہیں۔

1720- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ خَطَبَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ فَقَالَ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَإِنَّ هَذِهِ الأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۱۹، ومصباح الزجاجۃ: ۶۲۰)، وقد أخرجہ: ن/الإیمان وشرائعہ ۷ (۴۹۹۷)، حم (۳/۴۱۵،۴/۳۳۵)، دي/الصوم ۴۸ (۱۸۰۷) (صحیح)

۱۷۲۰- بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایام تشریق کا خطبہ دیا تو فرمایا: ''جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو گا اور یہ (ایام تشریق) کھانے اور پینے کے دن ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
36- بَاب فِي النَّهْيِ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَالأَضْحَى
۳۶- باب: عید الفطر اور عید الاضحی کے دن صیام رکھنا منع ہے​

1721- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى التَّيْمِيُّ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَزَعَةَ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ نَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الأَضْحَى۔
* تخريج: خ/الصوم ۶۶ (۱۹۹۵)، م/الصوم ۲۲ (۸۲۷)،(تحفۃ الأشراف: ۴۲۷۹)، وقد أخرجہ: د/الصوم ۴۸ (۲۴۱۷)، ت/الصوم ۵۸ (۷۷۲)، حم (۳/ ۷، ۳۴، ۴۵، ۵۱، ۵۹، ۶۲، ۷۱، ۷۷)، دي/الصوم ۴۳ (۱۹۴) (صحیح)

۱۷۲۱- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عید الفطر اورعید الاضحی کو صوم رکھنے سے منع فرمایا ہے۔

1722- حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَبَدَأَ بِالصَّلاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ: يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الأَضْحَى، أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ، فَيَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَيَوْمُ الأَضْحَى تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ۔
* تخريج: خ/الصوم ۶۶ (۱۹۹۰)، م/الصوم ۲۲ (۱۱۳۷)، د/الصوم ۴۸ (۲۴۱۶)، ت/الصوم ۵۸ (۷۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۳۰،۱۰۶۶۲)، وقد أخرجہ: ط/العیدین ۲ (۵)، حم (۱/۲۴، ۳۴، ۴۰) (صحیح)

۱۷۲۲- ابو عبید (سعد بن عبید الزہری) کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا تو انہوں نے خطبہ سے پہلے صلاۃِ عید شروع کی اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے ان دو دنوں میں صوم رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک تو عید الفطر، دوسرے عید الاضحی، رہا عید الفطر کا دن تو وہ تمہارے صیام سے افطار کا دن ہے، اور رہا عید الاضحی کا دن تو اس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
37- بَاب فِي صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
۳۷- باب: جمعہ کے دن کا صیام​

1723- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلا بِيَوْمٍ قَبْلَهُ، أَوْ يَوْمٍ بَعْدَهُ۔
* تخريج: حدیث أبي بکر بن أبي شیبہ عن حفص أخرجہ: خ/الصوم ۶۳( ۱۹۸۵)، م/الصوم ۲۴ (۱۱۴۴)، وحدیث أبي بکر بن أبي شیبہ عن أبي معاویہ قد أخرجہ: م/الصوم ۲۴ (۱۱۴۴)، د/الصوم ۵۰ (۲۴۲۰)، ت/الصوم ۴۲ (۷۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۰۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۵۸) (صحیح)

۱۷۲۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن صوم رکھنے سے منع فرمایا، الا یہ کہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد میں رکھا جائے۔

1724- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِالْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللَّهِ، وَأَنَا أَطُوفُ بِالْبَيْتِ: أَنَهَى النَّبِيُّ ﷺ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ۔
* تخريج: خ/الصوم ۶۳ (۱۹۸۴)، م/الصوم ۲۴ (۱۱۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۲۵۸۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۹۶، ۳۱۲)، دي/الصوم ۳۹ (۱۷۸۹) (صحیح)

۱۷۲۴- محمد بن عباد بن جعفر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے خانۂ کعبہ کے طواف کے دوران پوچھا: کیا نبی اکرم ﷺ نے جمعہ کے دن صوم رکھنے سے منع فرمایاہے؟ کہا: ہاں، اس گھر کے رب کی قسم!۔

1725- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَلَّمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ۔
* تخريج: د/الصوم ۶۸ (۲۴۵۰)، ت/الصوم ۴۱ (۷۴۲)، ن/الکبری/الصوم۹۰ (۲۷۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۰۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۰۶) (حسن)

۱۷۲۵- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو جمعہ کے دن بہت ہی کم صوم چھوڑتے ہوئے دیکھا۱؎۔
وضاحت۱؎: اوپر کی روایتوں میں جمعہ کے دن صوم رکھنے کی صراحت سے ممانعت آئی ہے، اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن اکثر صوم سے رہتے تھے، اس میں تطبیق اس طرح سے دی گئی ہے کہ جمعہ کے دن صوم رکھنا نبی اکرم ﷺ کی خصوصیت تھی، اور خاص کر جمعہ کے دن صوم رکھنے کی ممانعت امت کے لیے ہے، یا یہ کہا جائے کہ ایّام بیض میں جمعہ آپڑے تو آپ جمعہ کو بھی صوم رکھ لیتے تھے، یا آپ جمعہ کو ایک دن آگے یا پیچھے ملا کر صوم رکھتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
38- بَاب مَا جَاءَ فِي صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ
۳۸- باب: سنیچر کے دن صیام رکھنے کا بیان​

1726- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ ابْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُسْرٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلا عُودَ عِنَبٍ، أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ، فَلْيَمُصَّهُ ".
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۹۱، ومصباح الزجاجۃ: ۶۲۰)، وقد أخرجہ: د/الصوم ۵۱ (۲۴۲۱)، ت/الصوم ۴۳ (۷۴۴)، حم (۶/۳۶۸)، دي/الصوم ۴۰ (۱۷۹۰) (صحیح)

۱۷۲۶- عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''سنیچر کے دن صوم نہ رکھو، سوائے فرض صیام کے، اگر تم میں سے کسی کو انگور کی شاخ یا کسی درخت کی چھال کے علاوہ کوئی اور چیز کھانے کو نہ ملے تو اسی کو چوس لے''، (لیکن صوم نہ رکھے)۱؎۔
وضاحت۱؎: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے، اور اس میں کراہت کا مطلب یہ ہے آدمی سنیچر کو صوم کے لیے مخصوص کردے کیونکہ یہود اس دن کی تعظیم کرتے ہیں، رہی وہ روایتیں جن میں سنیچرکے دن صوم رکھنے کا ذکر ہے تو ان دونوں میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ ممانعت اس صورت میں ہے جب اسے صوم کے لیے خاص کر لے۔

1726/أ- حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ ابْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ أُخْتِهِ؛ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ۔
۱۷۲۶/أ-عبد اللہ بن بسرکی بہن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، پھر اسی جیسی روایت بیان کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
39- بَاب صِيَامِ الْعَشْرِ
۳۹- باب: عشرہ ذی الحجہ کا صیام​

1727- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَا مِنْ أَيَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِيهَا أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الأَيَّامِ > يَعْنِي الْعَشْرَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَلا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ: < وَلاالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِلا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْئٍ >۔
* تخريج: خ/العیدین ۱۱ (۹۶۹)، د/الصوم ۶۱ (۲۴۳۸)، ت/الصوم ۵۲ (۷۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۵۶۱۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۴، ۳۳۸، ۳۴۶)، دي/الصوم ۵۲ (۱۸۱۴) (صحیح)

۲۷ ۱۷- عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ان دنوں یعنی ذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی بھی دن ایسا نہیں کہ جس میں نیک عمل کرنا اللہ تعالی کے نزدیک ان دنوں کے نیک عمل سے زیادہ پسندیدہ ہو''، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں؟! آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی اتنا پسند نہیں، مگر جو شخص اپنی جان اور مال لے کر نکلے، اور پھر لوٹ کر نہ آئے''۔

1728- حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ بْنِ عَبِيدَةَ، حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنِ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <مَا مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا أَيَّامٌ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَهُ أَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ أَيَّامِ الْعَشْرِ، وَإِنَّ صِيَامَ يَوْمٍ فِيهَا لَيَعْدِلُ صِيَامَ سَنَةٍ وَلَيْلَةٍ فِيهَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ >۔
* تخريج: ت/الصوم ۵۲ (۷۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۹۸) (ضعیف)
(نہاس بن قہم قوی نہیں ہے)
۱۷۲۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''دنیا کے کسی دن میں عبادت کرنا اللہ تعالی کو اتنا پسند نہیں جتنا کہ ان دس دنوں میں ہے ،اور ان میں ایک دن کا صوم سال بھر کے صیام کے برابر ہے، اور ان میں ایک رات شب قدر (قد ر کی رات) کے برابر ہے''۔

1729- حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَامَ الْعَشْرَ قَطُّ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۰۱)، وقد أخرجہ: م/الاعتکاف ۴ (۱۱۷۶)، د/الصوم ۶۲ (۲۴۳۹)، ت/الصوم ۵۱ (۷۵۶)، حم (۶/ ۴۲، ۱۲۴، ۱۹۰) (صحیح)

۱۷۲۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان دس دنوں میں کبھی صیام رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۱؎۔
وضاحت۱؎: اس سے مراد ذی الحجہ کے ابتدائی نودن ہیں، یہ حدیث ان روایات میں سے ہے جن کی تاویل کی جاتی ہے کیونکہ ان نو دنوں میں صوم رکھنا مکروہ نہیں بلکہ مستحب ہے، خاص کر عرفہ کے دن کے صوم کی بڑی فضیلت آئی ہے، ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کسی بیماری یا سفرکی وجہ سے کبھی صوم نہ رکھا ہو، نیز ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے نہ دیکھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ صیام نہ رکھتے رہے ہوں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
40- بَاب صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ
۴۰- باب: عرفہ کے دن کا صیام​

1730- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا غَيْلانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ وَالَّتِي بَعْدَهُ >۔
* تخريج: انظر حدیث رقم: (۱۳۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۱۷) (صحیح)

۱۷۳۰- ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میں سمجھتا ہوں کہ عرفہ ۱؎ کے دن صوم رکھنے کا ثواب اللہ تعالی یہ دے گا کہ اگلے پچھلے ایک سال کے گناہ بخش دے گا ''۲؎۔
وضاحت۱؎: یوم عرفہ: سعودی عرب کے کلنڈر کے حساب سے ۹ ذی الحجہ کے دن کا صیام جس دن حج ہوتا ہے، یہ عرفات میں حجاج کے اجتماع کے دن کا صیام ہے، اختلاف مطالع کی وجہ سے تاریخوں کے فرق میں عام مسلمان مکہ کی تاریخ کا خیال رکھیں، اور حجاج کے عرفات میں اجتماع والے حج کے دن کا صیام رکھیں، اس دن کے صیام سے دو سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں البتہ جو حجاج کرام اس دن عرفات میں ہوتے ہیں ان کے لیے صیام رکھنا منع ہے کیونکہ یہ ذکر و دعا میں مشغولیت کا دن ہوتا ہے، اس دن ان کے لیے یہی سب سے بڑی عبادت ہے۔
وضاحت۲؎: یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے، وہ یہ کہ ابھی جو سال نہیں آیا، اس کے گناہ بندہ پر نہیں لکھے گئے تو ان کی معافی کے کیا معنی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ عزوجل کے علم میں وہ گناہ موجود ہیں، پس ان کی معافی ہو سکتی ہے جیسے فرمایا ''ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك وما تاخر'' اور ممکن ہے کہ بعد کی معافی سے یہ غرض ہو کہ اللہ تعالی اپنی رحمت سے اس کو گناہ کرنے سے بچا لے گا، یا اس کا ثواب اتنا دے گا جو دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہو سکے گا۔ واللہ اعلم۔

1731- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ؛ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنْ صَامَ يَوْمَ عَرَفَةَ غُفِرَ لَهُ سَنَةٌ أَمَامَهُ وَسَنَةٌ بَعْدَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۷۶، ومصباح الزجاجۃ: ۶۲۱) (صحیح)
(سند میں اسحاق بن عبداللہ بن أبی فردہ ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ شاہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، نیزملاحظہ ہو: الإرواء: ۴/۰۹ ۱- ۱۱۰)
۳۱ ۱۷- قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''جس نے عرفہ کے دن صیام رکھا تو اس کے ایک سال کے اگلے اور ایک سال کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے''۔

1732- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ،قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي حَوْشَبُ ابْنُ عَقِيلٍ، حَدَّثَنِي مَهْدِيٌّ الْعَبْدِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِهِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ۔
* تخريج: د/الصوم ۶۳ (۲۴۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۲۵۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۰۴، ۴۴۶) (ضعیف)
(نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ۴۲۱)
۱۷۳۲- عکرمہ کہتے ہیں کہ میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے گھر ملنے گیا تو ان سے عرفات میں عرفہ کے صیام کے سلسلے میں پوچھا؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مقام عرفات میں عرفہ کے دن صیام رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
 
Top