• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25- بَاب إِجَابَةِ الدَّاعِي
۲۵- باب: (ولیمہ کی) دعوت قبول کرنے کا بیان​

1913- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ، يُدْعَى لَهَا الأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ، وَمَنْ لَمْ يُجِبْ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ۔
* تخريج: خ/النکاح ۷۳ (۵۱۷۷، ۵۱۷۸)موقوفًا، م/النکاح ۱۶ (۱۴۳۲) مرفوعاً، د/الأطعمۃ ۱(۳۷۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۹۵۵)، وقد أخرجہ: ط/النکاح ۲۱ (۵۰)، حم (۲/۲۴۰)، دي/الأطعمۃ ۲۸ (۲۱۱۰) (صحیح

۱۹۱۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اورغریبوں کو چھوڑ دیا جائے، اور جس نے دعوت قبول نہ کی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۱؎۔
وضاحت۱؎: ولیمہ کا کھانا سنت ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ولیمہ کیا ہے، مگر اس ولیمہ کو برا کہا جس میں مالداروں کی ہی دعوت ہوتی ہے، اور محتاجوں کو کوئی نہیں پوچھتا، معلوم ہوا کہ عمدہ کھانا وہ ہے جس میں غریب و محتاج بھی شریک ہوں، سب سے عمدہ بات یہ ہے کہ محتاجوں اور فقیروں کو دعوت میں زیادہ بلایا جائے، اگر کچھ دوست و احباب اور متعارفین مالدار بھی ہوں تو مضائقہ نہیں، پھر جب یہ فقیر و محتاج آئیں تو ان کو بڑی خاطر داری کے ساتھ عمدہ عمدہ کھانے کھلائے اور اگر ممکن ہو تو خود بھی ان کے ساتھ شریک ہو کر کھائے۔

1914- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةِ عُرْسٍ فَلْيُجِبْ >۔
* تخريج: م/النکاح ۱۶ (۱۴۲۹)، النکاح ۲۳ (۲۲۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۷۹۴۹)، وقد أخرجہ: خ/النکاح ۷۱ (۵۱۷۳)، د/الأطعمۃ ۱ (۳۷۳۶)، ط/النکاح ۲۱ (۴۹)، حم (۲/۲۰)، دي/الأطعمۃ ۴۰ (۲۱۲۷) (صحیح)

۱۹۱۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت دی جائے تو اسے قبول کرے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: بعضوں نے کہا: اس حدیث کی رو سے ولیمہ کی دعوت قبول کرنا واجب ہے، اور بعضوں نے کہا فرض کفایہ ہے، اور بعضوں نے کہا مستحب ہے، یہ جب ہے کہ دعوت متعین طور پر ہو، اگر دعوت عام ہو تو قبول کرنا واجب نہ ہو گا اس لئے کہ اس کے نہ جانے سے میزبان کی دل شکنی نہ ہو گی، اور دعوت قبول کرنا عذر کی وجہ سے ساقط ہو جاتا ہے، مثلاً دعوت کا کھانا مشتبہ ہو، یا وہاں صرف مالدار حاضر ہوتے ہوں، یا صاحب دعوت صحبت اور دوستی کے لائق نہ ہوں، یا دعوت سے مقصود حب جاہ اور کبر و غرور ہو، یا وہاں خلاف شرع کام ہوں جیسے فواحش کا ارتکاب، بے پردگی اور بے حیائی اور ناچ گانا وغیرہ منکر امور۔

1915- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ حُسَيْنٍ أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الْوَلِيمَةُ أَوَّلَ يَوْمٍ حَقٌّ، وَالثَّانِيَ مَعْرُوفٌ، وَالثَّالِثَ رِيَائٌ وَسُمْعَةٌ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۳۳، ومصباح الزجاجۃ: ۶۸۱) (ضعیف)
(ابو مالک نخعی ضعیف ہے)
۱۹۱۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ولیمہ پہلے دن حق ہے، دوسرے دن عرف اور دستور کے موافق، اور تیسرے دن ریاکاری اور شہرت ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
26- بَاب الإِقَامَةِ عَلَى الْبِكْرِ وَالثَّيِّبِ
۲۶- باب: کنواری اور غیر کنواری کے پاس رہنے کی مدت​

1916- حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ لِلثَّيِّبِ ثَلاثًا وَلِلْبِكْرِ سَبْعًا >۔
* تخريج: خ/النکاح ۱۰۰ (۵۲۱۴)، م/الرضاع ۱۲ (۱۴۶۱)، د/النکاح ۳۵ (۲۱۲۴)، ت/النکاح ۴۰ (۱۱۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۴)، وقد أخرجہ: ط/النکاح ۵ (۱۵)، دي/النکاح ۲۷ (۲۲۵۵) (حسن)
(اصل حدیث دوسرے طرق سے ثابت ہے کما فی التخریج)
۱۹۱۶- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''غیر کنواری (شوہر دیدہ) کے لیے تین دن، اور کنواری کے لیے سات دن ہیں، (پھر باری تقسیم کر دیں)''۱؎۔
وضاحت۱؎: باب کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص کے پاس پہلے سے بیوی ہو، اب ایک نئی شادی اور کر لے تو اگر نئی بیوی کنواری ہو تو سات دن تک اس کے پاس رہے، اور اگر ثیبہ ہو تو تین دن تک، پھر دونوں بیویوں کے پاس باری باری ایک ایک روز رہا کرے، اور اس سے غرض یہ ہے کہ نئی دلہن کا دل ملانا ضروری ہے، اگر پہلے سے ہی باری باری رہے تو اس کو وحشت ہو جانے کا ڈر ہے، اور کنواری کا دل ذرا دیر میں ملتا ہے، اس لئے سات دن اس کے لئے رکھے، اور ثیبہ کا دل جلدی مل جاتا ہے، تین دن اس کے لئے رکھے، اور اس باب میں صحیح حدیثیں وارد ہیں۔

1917- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاثًا، وَقَالَ: < لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي >۔
* تخريج:م/الرضاع ۱۲(۱۴۶۰)، د/النکاح ۳۵ (۲۱۲۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۲۹)، وقد أخرجہ: ط/النکاح ۵ (۱۴)، حم (۶/۲۹۲،۲۹۵، ۳۰۷)، دي/النکاح ۲۷(۲۲۵۶) (صحیح)

۱۹۱۷- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن رہے، اور فرمایا: ''تم میرے نزدیک کم تر نہیں ہو اگر تم چاہتی ہو میں سات روز تک تمہارے پاس رہ سکتا ہوں، اس صورت میں میں سب عورتوں کے پاس سات سات روز تک رہوں گا ''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس تربیت میں بہت عرصہ ہوتا تھا، لہذا ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس کو قبول نہیں کیا، اور کہا کہ بس تین دن آپ کا رہنا میرے پاس کافی ہے، اب باری باری ایک ایک روز سب کے پاس رہ کر میرے پاس آئیے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
27- بَاب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ أَهْلُهُ
۲۷- باب: بیوی سے پہلی ملاقات پر کون سی دعا پڑھے؟​

1918- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْقَطَّانُ، قَالا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ ابْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: < إِذَا أَفَادَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً أَوْ خَادِمًا، أَوْ دَابَّةً، فَلْيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا وَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ! إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ "۔
* تخريج: د/النکاح ۴۶ (۲۱۶۰)، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۹۹) (حسن)

۱۹۱۸- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی شخص کوئی بیوی، خادم یا جانور حاصل کرے، تو اس کی پیشانی پکڑ کر یہ دعا پڑھے ''اللَّهُمَّ! إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِهَا وَخَيْرِ مَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ'' اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کی خلقت اور طبیعت کی بھلائی مانگتا ہوں، اور اس کے شر اور اس کی خلقت اور طبیعت کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں''۔

1919- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتَى امْرَأَتَهُ قَالَ: اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي، ثُمَّ كَانَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ، لَمْ يُسَلِّطِ اللَّهُ عَلَيْهِ الشَّيْطَانَ، أَوْ لَمْ يَضُرَّهُ >۔
* تخريج: خ/الوضوء ۸ (۱۴۱)، بدء الخلق ۱ (۳۲۷۱، ۳۲۸۳)، النکاح ۶۶ (۵۱۶۵)، الدعوات ۵۵ (۶۳۸۸)، التوحید ۱۳(۷۳۹۶)، م/النکاح ۱۸ (۱۴۳۴)، د/النکاح ۴۶ (۲۱۶۱)، ت/النکاح ۸ (۱۰۹۲)، (تحفۃ الأشراف: ۶۳۴۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۱۷، ۲۲۰، ۲۴۳، ۲۸۳، ۲۸۶)، دي/النکاح ۲۹ (۲۲۵۸) (صحیح)
۱۹۱۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے تو یہ دعا پڑھے ''اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنِي'' (اے اللہ! تو مجھے شیطان سے بچا، اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھ) پھر اس ملاپ سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچّے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا، یا شیطان اسے نقصان نہ پہنچا سکے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: شیطان کا نقصان کئی صورت سے ہوتا ہے، ایک یہ کہ بچے کو بڑا ہونے پر گمراہ کرے، اور کفر اور فسق اور عقوق والدین میں مبتلا کرے، دوسرے جب وہ پیدا ہو تو اس کی کوکھ میں کونچے، تیسرے اس کو مرگی کا عارضہ لگا دے، چوتھی یہ کہ باپ کے ساتھ خود بھی جماع میں شریک ہو تاکہ بچے کے نطفے میں اپنا اثر ہو جائے، اور امید ہے کہ یہ دعا پڑھنے سے سب نقصانوں سے حفاظت ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
28- بَاب التَّسَتُّرِ عِنْدَ الْجِمَاعِ
۲۸- باب: جماع کے وقت پردہ کرنے کا بیان​

1920- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَبُو أُسَامَةَ، قَالا: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَوْرَاتُنَا، مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: < احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلا مِنْ زَوْجَتِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ > قُلْتُ: يَارَسُولَ اللَّهِ! أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ؟ قَالَ: < فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لا تُرِيَهَا أَحَدًا، فَلا تُرِيَنَّهَا > قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَإِنْ كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا؟ قَالَ : < فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَا مِنْهُ مِنَ النَّاسِ >۔
* تخريج: د/الحمام ۲ (۴۰۱۷)، ت/الأدب ۲۶ (۲۷۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳،۴) (حسن)

۱۹۲۰- معاویہ بن حیدۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''بیوی یا لونڈی کے علاوہ ہمیشہ اپنی شرمگاہ چھپائے رکھو''، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر لوگ ملے جلے رہتے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اگر تم ایسا کر سکو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھے تو ایسا ہی کرو''، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اکیلا ہو؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''لوگوں سے اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم کی جائے''۱؎۔
وضاحت۱؎: آپ ﷺ نے کسی طرح کشف ستر کی اجازت نہ دی، اب جو لوگ حمام میں نہلانے والوں یا حجام کے سامنے ننگے ہو جاتے ہیں، یا عورتیں ایک دوسری کے سامنے، یہ شرعی نقطہ نظر سے بالکل منع ہے، بوقت ضرورت تنہائی میں ننگے ہونا درست ہے، جیسے نہاتے وقت یہ نہیں کہ بلا ضرورت ننگے ہو کر بیٹھے، اللہ تعالی سے اور فرشتوں سے شرم کرنا چاہئے، سبحان اللہ جیسا شرم و حیا کا اعتبار دین اسلام میں ہے ویسا کسی دین میں نہیں ہے، یہود اور نصاری ایک دوسرے کے سامنے ننگے نہاتے ہیں، اور مشرکین عہد جاہلیت میں جاہلیت کے وقت ننگے ہو کر طواف اور عبادت کیا کرتے تھے، اور اب بھی یہ رسم ہندوؤں میں موجود ہے، مگر اسلام نے ان سب ہی باتوں کو رد کر دیا، تہذیب اور حیاء اور شرم سکھائی۔

1921- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا الأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ وَرَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَدِيٍّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍالسُّلَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَلْيَسْتَتِرْ، وَلايَتَجَرَّدْ تَجَرُّدَ الْعَيْرَيْنِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۵۵، ومصباح الزجاجۃ: ۶۸۲) (ضعیف)
(الاحوص بن حکیم ضعیف ہے)۔
۱۹۲۱- عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی شخص اپنی بیوی سے صحبت کرے تو کپڑا اوڑھ لے، اور گدھا گدھی کی طرح ننگا نہ ہو جائے''۔

1922- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مَوْلًى لِعَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا نَظَرْتُ، أَوْ مَا رَأَيْتُ فَرْجَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَطُّ.
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: عَنْ مَوْلاةٍ لِعَائِشَةَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۱۶، ومصباح الزجاجۃ: ۶۸۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۶۳، ۱۹۰) (ضعیف)
(ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی مولاۃ ''یا مولیٰ'' ضعیف ہے)
۱۹۲۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی شرمگاہ کبھی نہیں دیکھی۔
ابو بکر بن ابو شیبہ کہتے ہیں کہ ابو نعیم کی روایت میں عن مولیٰ لعائشۃ کے بجائے عن مولاۃ لعائشۃ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
29-بَاب النَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ
۲۹- باب: عورتوں سے دُبر میں جماع کرنے کی ممانعت​

1923- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُخَلَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < لايَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى رَجُلٍ جَامَعَ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۳۷، ومصباح الزجاجۃ: ۶۸۴)، وقد أخرجہ: د/النکاح ۴۶ (۲۱۶۲)، حم (۲/۲۷۲، ۳۴۴، ۴۴۴، ۴۷۹)، دي/الطہارۃ ۱۱۳ (۱۱۷۶) (صحیح)

۱۹۲۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جو کسی عورت سے اس کے دبر (پچھلی شرمگاہ ) میں جماع کرے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ''عورت سے دبر میں جماع کرنا لواطت صغری ہے'' اور اس باب میں کئی حدیثیں ہیں جو ایک دوسرے کو قوی کرتی ہیں، اور ائمہ اربعہ اور تمام علماء حدیث نے اس کی حرمت پر اتفاق کیا، اس لئے کہ اللہ تعالی فرماتا: {فَأْتُواْ حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ}[سورة البقرة : ۲۲۳] اور حرث کہتے ہیں کھیتی کو یعنی جہاں سے پیدا ہو وہ کھیتی ہے، اور وہ قبل ہے اور دبر فرث ہے یعنی نجاست۔

1924- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ هَرَمِيٍّ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ > ثَلاثَ مَرَّاتٍ < لا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الاشراف: ۳۵۳۰، ومصباح الزجاجۃ: ۶۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۱۳، ۲۱۷)، دي/الطہارۃ ۱۱۴ (۱۱۸۳) (صحیح)
(اس کی سند میں حجاج بن أرطاہ مدلس و ضعیف ہیں، عنعنہ سے روایت کی ہے، اور عبد اللہ بن ہرمی یا ہرمی بن عبد اللہ مستور ہیں، لیکن متابعت اور شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : ۲۰۰۵)
۱۹۲۴- خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی حق بات سے شرم نہیں کرتا'' آپ ﷺ نے یہ جملہ تین بار فرمایا، اور فرمایا: ''عورتوں کی دبر میں جماع نہ کرو''۔

1925- حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ وَجَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللَّهِ يَقُولُ: كَانَتْ يَهُودُ تَقُولُ: مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي قُبُلِهَا، مِنْ دُبُرِهَا، كَانَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ)۔
* تخريج: م/النکاح ۱۹ (۱۴۳۵)، ت/التفسیر ۳ (۲۹۷۸)، (تحفۃ الأشراف: ۳۰۳۰)، وقد أخر جہ: خ/تفسیر سورۃ البقرۃ ۳۹ (۴۵۲۸)، دي/الطہارۃ ۱۱۳ (۱۱۷۲)، النکاح ۳۰ (۲۲۶۰) (صحیح)

۱۹۲۵- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ جس نے بیوی کی اگلی شرمگاہ میں پیچھے سے جماع کیا تو لڑکا بھینگا ہو گا، چنانچہ اللہ سبحانہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ}[سورة البقرة: ۲۲۳] (تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، لہٰذا تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ)۱؎۔
وضاحت۱؎: انصار بھی یہود کی پیروی کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ جو کوئی دبر کی طرف سے قبل میں جماع کرے تو لڑکا بھینگا (احول) ہو گا، اللہ تعالی نے اس کو باطل کیا، اور اگلی شرمگاہ میں ہر طرح سے جماع کو جائز رکھا، مسند احمد میں ہے کہ انصار کی ایک عورت نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: عورت سے اگلی شرمگاہ میں پیچھے سے کوئی جماع کرے تو کیا حکم ہے؟ تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی، اور عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: میں ہلاک ہو گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیوں''؟ انہوں نے کہا میں نے رات کو اپنے پالان (عورت) کو الٹا کیا، آپ ﷺ نے جواب نہ دیا، تب یہ آیت اتری، یعنی اختیار ہے آگے سے جماع کرو یا پیچھے سے، لیکن دخول ضروری ہے کہ قبل (اگلی شرمگاہ) میں ہو، اور فرمایا: ''بچو حیض سے اور دبر سے'' لہذا آیت کا یہ مطلب نہیں کہ دبر (پاخانہ کا مقام) میں دخول کرنا جائز ہے، طیبی نے کہا: اجنبی عورت سے اگر دبر میں جماع کیا تو وہ زنا کے مثل ہے، اور جو اپنی عورت یا لونڈی سے کیا تو حرام کام کا مرتکب ہوا، لیکن اس پر حد نہ جاری ہو گی، اور امام نووی کہتے ہیں کہ مفعول (جس کے ساتھ غلط کام کیا گیا) اگر چھوٹا یا پاگل ہو یا اس کے ساتھ زبردستی کی گئی ہو تو ایسا فعل کرنے والے پر حد جاری ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
30- بَاب الْعَزْلِ
۳۰- باب: عزل کا بیان​

1926- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْعَزْلِ؟ فَقَالَ: < أَوَ تَفْعَلُونَ؟ لا عَلَيْكُمْ أَنْ لا تَفْعَلُوا، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَسَمَةٍ، قَضَى اللَّهُ لَهَا أَنْ تَكُونَ، إِلا هِيَ كَائِنَةٌ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۴۱)، وقد أخرجہ: خ/البیوع ۱۰۹ (۲۲۲۹)، العتق ۱۳ (۲۵۴۲)، المغازي ۳۲ (۴۱۳۸)، النکاح ۹۶ (۵۲۱۰)، القدر ۶ (۶۶۰۳)، التوحید ۱۸ (۷۴۰۹)، م/النکاح ۲۲ (۱۴۳۸)، د/النکاح ۴۹ (۲۱۷۰)، ت/النکاح ۴۰ (۱۱۳۸)، ن/النکاح ۵۵ (۳۳۲۹)، ط/الطلاق ۳۴ (۹۵)، حم (۲/۲۲، ۲۶، ۴۷، ۴۹، ۵۱، ۵۳، ۵۹، ۶۸، ۷۲، ۷۸، ۸۸، ۹۳)، دي/النکاح ۳۶ (۲۲۶) (صحیح)

۱۹۲۶- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عزل ۱؎ کے بارے میں پوچھا: تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیا تم لوگ ایسا کرتے ہو؟ ایسا نہ کرنے میں تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے، اس لیے کہ جس جان کو اللہ تعالی نے پیدا ہونا مقدر کیا ہے وہ ضرور پیدا ہو گی''۔
وضاحت۱؎: عزل: شرمگاہ سے باہرمنی نکالنے کو عزل کہتے ہیں۔

1927- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ۔
* تخريج: خ/النکاح ۹۶ (۵۲۰۸)، م/النکاح ۲۲ (۱۴۴۰)، ت/النکاح ۳۸ (۱۱۳۷)، (تحفۃ الأشراف: ۲۴۶۸) (صحیح)

۱۹۲۷- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے، اور قرآن اترا کرتا تھا۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اگر عزل منع ہوتا تو اللہ تعالی اس کی ممانعت نازل کر دیتا، البتہ لونڈی سے اس کی اجازت کے بغیر بھی عزل درست ہے، اہل حدیث کا مذہب یہ ہے کہ عزل مکروہ ہے، لیکن حرام نہیں ہے، اور بہت صحابہ اور تابعین سے اس کی اجازت منقول ہے۔

1928- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَرَّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُعْزَلَ عَنِ الْحُرَّةِ إِلا بِإِذْنِهَا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۷۱، ومصباح الزجاجۃ: ۶۸۶) (ضعیف)
(ابن لہیعہ ضعیف راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۲۰۰۷)
۱۹۲۸- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آزاد عورت سے اس کی اجازت کے بغیرعزل کرنے سے منع فرمایا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
31- بَاب لا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلا عَلَى خَالَتِهَا
۳۱- باب: بھتیجی اور پھوپھی یا بھانجی اور خالہ کو نکاح میں جمع کرنے کی حرمت​

1929- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِبْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < لا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلا عَلَى خَالَتِهَا >۔
* تخريج: م/النکاح ۴ (۱۴۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۶۲)، وقد أخرجہ: خ/النکاح ۲۷ (۵۱۰۹)، د/النکاح ۱۳ (۲۰۶۵)، ت/النکاح ۳۱ (۱۱۲۶)، ن/النکاح ۴۸ (۳۲۹۸)، ط/النکاح ۸ (۲۰)، حم (۲/۲۲۹، ۲۵۵، ۳۹۴، ۴۰۱، ۴۲۳، ۴۲۶، ۴۳۲، ۴۵۲، ۴۶۲، ۴۶۵، ۴۷۴، ۴۸۹، ۵۰۸، ۵۱۶، ۵۱۸، ۵۲۹، ۵۳۲) دي/النکاح ۸ (۲۲۲۵) (صحیح)

۱۹۲۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''کوئی مرد اس عورت سے نکاح نہ کرے جس کی پھوپھی یا خالہ اس کے نکاح میں ہو''۱؎۔
وضاحت۱؎: البتہ اگر ایک مر جائے یا اسے طلاق دے دے تو دوسری سے شادی کر سکتا ہے۔

1930- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: < سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَنْهَى عَنْ نِكَاحَيْنِ، أَنْ يَجْمَعَ الرَّجُلُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۷۰، ومصباح الزجاجۃ: ۶۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۶۷) (صحیح)
(سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہے، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن حدیث دوسرے طرق سے صحیح ہے، کما تقدم)
۱۹۳۰- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دو نکاحوں سے منع فرماتے ہوئے سنا، ایک یہ کہ کوئی شخص بھتیجی اور پھوپھی دونوں کو نکاح میں جمع کرے، دوسرے یہ کہ خالہ اور بھانجی کو جمع کرے۔

1931- حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى،عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلا عَلَى خَالَتِهَا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۴۳، ومصباح الزجاجۃ: ۶۸۸) (صحیح)
(جبارہ بن مغلس ضعیف ہے، لیکن سابقہ احادیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
۱۹۳۱- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' عورت سے اس کی پھوپھی کے عقد میں ہوتے ہوئے نکاح نہ کیا جائے، اور نہ ہی اس کی خالہ کے عقد میں ہوتے ہوئے اس سے نکاح کیا جائے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
32- بَاب الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا فَتَتَزَوَّجُ فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَتَرْجِعُ إِلَى الأَوَّلِ
۳۲- باب: ایک آدمی نے اپنی عورت کو تین طلاق دی، اس نے دوسرے سے شادی کر لی پھر دوسرے شوہر نے جماع سے پہلے اسے طلاق دیدی تو کیا اب وہ پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے؟​

1932- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَتْ: إِنِّي كُنْتُ عِنْدَرِفَاعَةَ، فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلاقِي، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ ﷺ، فَقَالَ: < أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ >۔
* تخريج: خ/الشہادات ۳ (۲۶۳۹)، الطلاق ۴ (۵۲۶۰)، الطلاق ۳۷ (۵۳۱۷)، اللباس ۶ (۵۷۹۲)، الأدب ۶۸ (۶۰۸۴)، م/النکاح ۱۷ (۱۴۳۳)، ت/النکاح ۲۷ (۱۱۱۸)، ن/النکاح ۴۳ (۳۲۸۵)، الطلاق ۹ (۳۴۳۷)، ۱۰ (۳۴۳۸)، ۱۲ (۳۴۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۳۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۴، ۳۷، ۱۹۲، ۲۲۶، ۲۲۹)، دي/الطلاق ۴ (۲۳۱۳) (صحیح)

۱۹۳۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی (رضی اللہ عنہا) نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر عرض کیا کہ میں رفاعہ کے پاس تھی، انہوں نے مجھے تین طلاق دے دی، تو میں نے عبد الرحمن بن زَبیر سے شادی کر لی، اور ان کے پاس جو ہے وہ ایسا ہے جیسے کپڑے کا جھالر۱؎ نبی اکرم ﷺ مسکرائے، اور فرمایا: ''کیا تم پھر رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ نہیں، یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم عبد الرحمن کا مزہ نہ چکھو، اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھیں'' ۲؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی انہیں جماع کی قدرت نہیں ہے۔
وضاحت۲؎: ''حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ'' سے کنایہ جماع کی طرف ہے، اور جماع کو شہد سے تشبیہ دینے سے مقصود یہ ہے کہ جس طرح شہد کے استعمال سے لذت و حلاوت حاصل ہوتی ہے اسی طرح جماع سے بھی لذت و حلاوت حاصل ہوتی ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی اپنی بیوی کو تین طلاق دیدے تو وہ عورت دوسرے مرد سے نکاح کرے، اور شوہر اس سے جماع کر لے، اگراس کے بعد یہ دوسرا اس کو طلاق دے دیتا ہے تو یہ عورت اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نیا نکاح کر سکتی ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ دوسرے شوہر کا یہ نکاح حلالہ کی نیت سے نہ ہو اور نہ حلالہ کی شرط لگائی جائے کہ اس حیلہ سے عورت اپنے شوہر کے پاس پہنچ جائے، آگے آرہا ہے کہ حلالہ کا نکاح حرام اور ناجائز ہے، اور ایسا کرنے والا اور جس کے لیے کیا جائے دونوں ملعون ہیں۔

1933- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ؛ قَالَ: سَمِعْتُ سَلَم بْنَ زَِرِيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ فَيُطَلِّقُهَا، فَيَتَزَوَّجُهَا رَجُلٌ فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، أَتَرْجِعُ إِلَى الأَوَّلِ؟ قَالَ: < لا،حَتَّى يَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ >۔
* تخريج: ن/الطلاق ۱۲ (۳۴۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۷۰۸۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۵، ۶۲، ۸۵) (صحیح)

۱۹۳۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں، جو اپنی بیوی کو طلاق دے دے، پھر دوسرا شخص اس سے شادی کرے اور دخول سے پہلے اسے طلاق دے، تو کیا وہ پہلے شوہر کے پاس لوٹ سکتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''نہیں جب تک کہ دوسرا شوہر اس کا مزہ نہ چکھ لے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
33- بَاب الْمُحَلِّلِ وَالْمُحَلَّلِ لَهُ
۳۳- باب: حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے دونوں پر وارد وعید کا بیان​

1934- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۰۹۸، ومصباح الزجاجۃ: ۶۸۹) (صحیح)
(سند میں زمعہ بن صالح ضعیف ہے، لیکن دوسرے طریق سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۱۸۹۷)
۱۹۳۴- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر لعنت کی ہے۔

1935- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ وَمُجالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ۔
* تخريج: د/النکاح ۱۵ (۲۰۷۶، ۲۰۷۷)، ت/النکاح ۲۷ (۱۱۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۸۳، ۸۷، ۱۰۷، ۱۲۱، ۱۵۰، ۱۵۸) (صحیح)

۱۹۳۵- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے والے اور حلالہ کرانے والے پر لعنت کی ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: محلل (حلالہ کرنے والا) وہ شخص ہے جو طلاق دینے کی نیت سے مطلقہ ثلاثہ سے نکاح و مباشرت کرے اور محلل لہ (جس کے لیے حلالہ کیا جائے) سے پہلا شوہر مراد ہے جس نے تین طلاقیں دیں، یہ حدیث دلیل ہے کہ حلالہ کی نیت سے نکاح باطل اور حرام ہے کیونکہ لعنت حرام فعل ہی پر کی جاتی ہے، جمہور اس کی حرمت کے قائل ہیں۔

1936- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍيَقُولُ: قَالَ لي أَبُو مُصْعَبٍ مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ، قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَلا أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ؟ " قَالُوا: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: < هُوَ الْمُحَلِّلُ، لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۶۸، ومصباح الزجاجۃ: ۶۹۰) (حسن)
(ابو مصعب میں کلام ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۶/ ۳۰۹- ۳۱۰)
۱۹۳۶- عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کیا میں تم کو مستعار (مانگے ہوئے) بکرے کے بارے میں نہ بتاؤں''؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ضرور بتائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''وہ حلالہ کرنے والا ہے، اللہ نے حلالہ کرنے اور کرانے والے دونوں پر لعنت کی ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس باب میں ''إقامة الدليل على إبطال التحليل'' نامی کتاب تصنیف فرمائی ہے، علامہ ابن القیم فرماتے ہیں: نکاح حلالہ کسی ملت میں مباح نہیں ہوا، اور نہ اسے کسی صحابی نے کیا اور نہ اس کا فتوی دیا، افسوس ہے اس زمانہ میں لوگ حلالہ کا نکاح کرتے ہیں، اور وہ عورت جو حلالہ کراتی ہے گویا دو آدمیوں سے زنا کراتی ہے، ایک حلالہ کرنے والے سے، دوسرے پھر اپنے پہلے شوہر سے، اللہ تعالی اس آفت سے پناہ میں رکھے۔ آمین
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
34- بَاب يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ
۳۴- باب: رضاعت (دودھ پلانے) سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں​

1937- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۶۹أ)، وقد أخرجہ: خ/الشہادات ۷ (۶۲۴۴) تفسیر سورۃ السجدۃ ۹ (۴۷۹۲)، النکاح ۲۲ (۵۱۰۳)، ۱۱۷ (۵۲۳۹)، الأدب ۹۳ (۶۱۵۶)، م/الرضاع ۲ (۱۴۴۵)، د/النکاح ۸ (۲۰۵۷)، ت/الرضاع ۲ (۱۱۴۷)، ن/النکاح ۴۹ (۳۳۰۳)، ط/الرضاع ۱ (۳)، حم (۶/۱۹۴، ۲۷۱)، دي/ النکاح ۴۸ (۲۲۹۵) (صحیح)

۱۹۳۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''رضاعت سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: جیسے ماں بہن وغیرہ، لیکن رضاعت میں چار عورتیں حرام نہیں ہیں جو نسب میں حرام ہیں: ۱- ایک تو اپنے بھائی کی رضاعی ماں جب کہ بھائی کی نسبی ماں حرام ہے، اس لئے کہ وہ یا تو اپنی بھی ماں ہو گی یا باپ کی بیوی ہو گی، اس لئے کہ وہ بہو ہو گی، اور دونوں محرم ہیں، ۲- دوسرے پوتے یا نواسے کی رضاعی ماں جب کہ پوتے یا نواسے کی نسبی ماں حرام ہو گی اس لئے کہ وہ بہو ہو گی یا بیٹی، ۳- تیسری اپنی اولاد کی رضاعی نانی یا دادی جب کہ اولاد کی نسبی نانی یا دادی حرام ہے، کیونکہ وہ اپنی ساس ہو گی یا ماں، ۴- چوتھی اپنی اولاد کی رضاعی بہن جب کہ نسبی بہن اپنی اولاد کی حرام ہے کیونکہ وہ اپنی بیٹی ہو گی یا ربیبہ، اور بعض علماء نے مزید کچھ عورتوں کو بیان کیا ہے جو رضاع میں حرام نہیں ہیں جیسے چچا کی رضاعی ماں یا پھوپھی کی رضاعی ماں یا ماموں کی رضاعی ماں یا خالہ کی رضاعی ماں، مگر نسب میں یہ سب حرام ہیں، اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو رشتہ محرمات کی اس آیت میں مذکور ہے {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ} [سورة النساء: ۲۳] تک، وہ سب رضاع کی وجہ سے بھی محرم ہو جاتی ہیں، اور جن عورتوں کا اوپر بیان ہوا وہ اس آیت میں مذکور نہیں ہیں۔

1938- حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، قَالا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أُرِيدَ عَلَى بِنْتِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ، فَقَالَ: < إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ >۔
* تخريج: خ/الشہادات ۷ (۲۶۴۵)، النکاح ۲۰ (۵۱۰۰)، م/الرضاع ۳ (۱۴۴۷)، ن/النکاح ۵۰ (۳۳۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۷۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۷۵)، ۲۹۰، ۳۲۹، ۳۳۹، ۳۴۶) (صحیح)

۱۹۳۸- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کا مشورہ دیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، اور رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں سات ہیں۔
۱- مائیں: ان میں ماں کی مائیں (نانیاں) اور ان کی دادیاں اور باپ کی مائیں (دادیاں پردادیاں) اور ان سے آگے تک) شامل ہیں۔
۲- بیٹیاں: ان میں پوتیاں، نواسیاں، اور پوتیوں، اور نواسیوں کی بیٹیاں نیچے تک شامل ہیں، زنا سے پیدا ہونے والی لڑکی بیٹی میں شامل ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے، ائمہ ثلاثہ اسے بیٹی میں شامل کرتے ہیں، اور اس نکاح کو حرام سمجھتے ہیں، البتہ امام شافعی کہتے ہیں کہ وہ شرعی بیٹی نہیں ہے، پس جس طرح {يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ} [سورة النساء: ۱۱] میں داخل نہیں ہے اور بالاجماع وہ وارث نہیں ہے اسی طرح وہ {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ}[ سورة النساء: ۲۳] والی آیت: ''وَبَنَاتُكُمْ'' میں داخل نہیں۔
۳- بہنیں: حقیقی ہوں یا اخیافی (وہ بھائی بہن جن کے باپ الگ الگ اور ماں ایک ہو) یا علاتی (ماں کی طرف سے سوتیلا بھائی یا سوتیلی بہن)۔
۴- پھوپھیاں: اس میں باپ کی سب مذکر اصول یعنی نانی دادی کی تینوں قسموں کی بہنیں شامل ہیں۔
۵- خالائیں: اس میں ماں کی سب مونث اصول یعنی نانی دادی کی تینوں قسموں کی بہنیں شامل ہیں۔
۶- بھتیجیاں: اس میں تینوں قسم کے بھائیوں کی اولاد بواسطہ اور بلاواسطہ (یا صلبی و فروعی) شامل ہیں۔
۷- بھانجیاں: اس میں تینوں قسموں کی بہنوں کی اولاد۔
مذکورہ بالا رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی یہ سارے رشتے حرام ہو جاتے ہیں۔
رضاعی محرمات کی بھی سات قسمیں ہیں:
۱- رضاعی مائیں ۲- رضاعی بیٹیاں ۳- رضاعی بہنیں ۴- رضاعی پھوپھیاں ۵- رضاعی خالائیں ۶- رضاعی بھتیجیاں ۷- رضاعی بھانجیاں۔

1939- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِأَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ، انْكِحْ أُخْتِي عَزَّةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَتُحِبِّينَ ذَلِكِ؟ > قَالَتْ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَلَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ، وَأَحَقُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < فَإِنَّ ذَلِكَ لا يَحِلُّ لِي > قَالَتْ: فَإِنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <فَإِنَّهَا لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حَجْرِي مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا لابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ فَلا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ أَخَوَاتِكُنَّ وَلا بَنَاتِكُنَّ >
* تخريج: خ/النکاح ۲۰ (۵۱۰۱)، ۲۵ (۵۱۰۶)، ۲۶ (۵۱۰۷)، ۳۵ (۵۱۲۳)، النفقات ۱۶ (۵۳۷۲) ، م/الرضاع ۴ (۱۴۴۹)، ن/النکاح ۴۴ (۳۳۸۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۷۵)، وقد أخرجہ: د/النکاح ۷ (۲۰۵۶)، حم (۶/۲۹،۳۰۹،۴۲۸) (صحیح)

۱۹۳۹- ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ میری بہن عزّہ سے نکاح کر لیجیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کیا تم اس کو پسند کرتی ہو''؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں آپ کے پاس اکیلی نہیں ہوں (کہ سوکن کا ہونا پسند نہ کروں) خیر میں میرے ساتھ شریک ہونے کی سب سے زیادہ حق دار میری بہن ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''یہ میرے لیے حلال نہیں ہے'' انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں باتیں ہو رہی تھیں کہ آپ درہ بنت ابی سلمہ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''ام سلمہ کی بیٹی سے''؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اگر وہ میری ربیبہ بھی نہ ہوتی تب بھی میرے لیے اس سے نکاح درست نہ ہوتا، اس لیے کہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھ کو اور اس کے والد (ابو سلمہ) کو ثویبہ نے دودھ پلایا تھا، لہٰذا تم اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو مجھ پر نکاح کے لیے نہ پیش کیا کرو''۱؎۔
وضاحت۱؎: کیونکہ وہ میرے لئے جائز نہیں ہو سکتیں، اس لیے کہ دو بہنوں کو نکاح میں ایک ساتھ جمع کرنا جائز نہیں، اور بیٹیاں اس لئے کہ وہ میری ربیبہ ہوئیں، ربیبہ قرآن کی دلیل سے حرام ہے، ربیبہ وہ لڑکی ہے جو بیوی کے پہلے شوہر سے ہو۔

1939/أ- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَهُ۔
۱۹۳۹/أ- اس سند سے بھی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح مروی ہے۔
 
Top