الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
کاش یہ حضرت جنہوں نے ”وھابیہ کا کارنامہ“ اہلِ حدیث حضرات کے سر منڈ نے کی ناکام و نامکمل جسارت کی ہے کبھی لفظ ” وبابی“ کی حقیقت بھی جاننے کی کوشش کریں۔ مزید یہ کہ وہ جھوٹے الزامات اور خرافات جو طبقۂ خاص، اہلِ حدیث سے منسوب کرتا ہے ، ان حضرت کو ان کی بھی تحقیق کرنی چاہیے ۔
سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر 229 کے تحت ( جو آپ کے مطابق فدیہ والے معاملے سے الگ اور منفرد حیثیت رکھتا ہے ) مردا ورعورت کے درمیان طلاق واقع ہو جانے کی صورت میں ،کیا مردا ور عورت دوبارہ نئے سرےسے نکاح کر سکتے ہیں ؟
اگر دو طلاقوں کے بعد مرد و عورت میں جدائی ہو جاتی ہے تواللہ تعالٰی نے او تسریح باحسان کیوں فرمایا ؟
سورۃ البقرۃ ، آیت نمبر 230 میں فان طلقھا کیا تیسری طلاق کی تصریح نہیں کرتی؟
براہِ کرم ان سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں تاکہ ہم اپنا نقطہ ٔ نظر بیان کر سکیں!
میں آپ کی بات سے متفق ہوں کہ ہمیں کسی کو پورے وثوق و ایقان کے ساتھ منکرِ حدیث نہیں کہنا چاہیے بلکہ اس کے اختلافی نظریات پر اچھے اور سلجھے ہوئے اسلوب میں تنقید کرنی چاہیے اور کسی کو جہنمی کہنے کا تو کسی کو کوئی حق نہیں۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
مکرمی و محترمی !
آپ کو اتنا کچھ لکھنے کی اس لیے نوبت آئی کیونکہ غالباً آپ نےادارہ ٔطلوعِ اسلام یا بلاغ القرآن کے لٹریچر کا مطالعہ نہیں کیا ۔ ورنہ آپ دیکھتے کہ ان دونوں اداروں کا دعویٰ یہی رہا ہے کہ اس زمین پر دین کا تنہا ماخذ صرف قرآن مجید ہے، سنت و...
گویا آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ البقرۃ ، آیت نمبر 229 میں فقط دو طلاقوں پر مبنی معاملہ زیرِ بحث ہے جبکہ البقرۃ ، آیت نمبر 230 ایک نئے معاملے پر روشنی ڈالی رہی ہے اور وہ ہے عورت کا فدیہ لے کر طلاق حاصل کرنا۔ یعنی البقرۃ آیت نمبر 229 اور 230 ایک نہیں بلکہ ،دو الگ الگ معاملات پر روشنی ڈال رہی ہیں۔
آپ سے بھی گزارش ہے کہ جس طرح محترمی خضر حیات صاحب نے قرآن مجید سے اپنا استدلال پیش کیا ہے اسی طرح آپ بھی اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کر کے ان کے استدلال کی تصحیح یا تضعیف واضح فرمائیں، شکریہ !
محترمی !
میں نے یہ اس بات اس لیے کہی تھی کہ موصوف صرف قرآن مجید سے تین طلاقوں کے ثبوت کی دلیل طلب کر رہے ہیں لہذا آپ پر لازم ہوا کہ ان کو صرف قرآن مجید سے ثبوت فراہم کریں کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ فقط دو طلاقوں کے مشروع ہونے میں قرآن مجید بالکل واضح ہے، اس لیے حدیث کی طرف رجوع کی حاجت نہیں ۔...
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ
آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔
قرآن ،سورۃ...
میرا خیال ہے کہ جس طرح محترم رانا محمد عاشق صاحب نے اپنی فہم کے مطابق قرآنی آیات کے ذریعے فقط دو طلاقوں کا مشروع ہونا بتلایا ہے اس کا رد بھی قرآنی آیات کے ذریعے ہو جائے تو بہت بہتر ہوگا تاکہ موصوف کے نقطۂ نظر کی کمزوری اور علمائے کرام ؒ کے تین طلاقوں کا مؤقف اوردلیل واضح ہو جائے۔ شکریہ !
کاش آپ اتنی ہی بات کہتے تو بہت مختصر تو ہوتا مگر جامع ہوتا ۔ کیونکہ یہی بات تو ہم آپ کو سمجھانے میں لگے ہیں ۔ مگر آپ کی باتوں سے ہمیں یہی تاثر ملتا ہے کہ آپ کے نزدیک امام ابو حنیفہ ؒ کے اور کوئی فقیہ یا مجتہد ہے ہی نہیں یا امام ابو حنیفہ ؒ نے اپنی فقہ نبیﷺ کے سامنے بیٹھ کر مدون فرمائی ہے ۔
کسی شخص کو ایسے بہیمانہ طریقے سے قتل کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ معاملہ کوئی سیاسی یا ذاتی رنجش نہیں بلکہ دینی و مذہبی نوعیت کا لگتا ہے ۔ کیونکہ کسی ردِ عمل کو دیکھنے سے پہلے اس کے عمل کو دیکھنا لازم ہوتا ہے ۔ لیکن ہمارا لبرل اور ملحد طبقہ عمل ِ خاص کو عمداً نظر انداز کر کے بس...
اگر امام ابو حنیفہ ؒ کا مسلک ہی ”مسلک ِ حق“ اور رسول اللہ ﷺ کے ”عین مطابق “ تھا تو دوسرے ائمہ ثلاثہ ؒ ( امام مالک ؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبل ؒ ) نے اپنی ”فقہ“ کی بنیاد کیوں رکھی اور” لوگوں“ کی ایک ”تعداد“ نے ”امام ابو حنیفہؒ “کی بجائے ان کی” تقلید“ کیوں اختیار کی؟
تو گویا آپ کا اشارہ طبقۂ اہلِ حدیث کی طرف ہی ہے ۔اگر ایسا ہے تو حنفی حضرات ایمانی گروہ ( مسلک ِ دیوبند و بریلوی )چھوڑ کر غیر ایمانی گروہ ( اہلِ حدیث ) میں کیوں داخل ہو رہے ہیں ؟ بہرحال آپ کی پیش کی گئی روایت قطعاً طبقۂ اہلِ حدیث پر صادق نہیں آتی۔