الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
میں نے کب کہا کہ "وجود" سے احاطہ کیے ہوئے ہے؟
میں نے بھی یہی کہا کہ محیط کیے ہوئے اس طرح کہ "کائنات کا ایک ایک ذرہ ، ایک ایک چیز ، تمام حالات اول تا آخر اسکی نظر میں ہیں اور یہ صفت صرف ایک ذات کی ہے وہ ذات پاک صرف اللہ تعالٰی ہے"
کہ اللہ کے علم کی وسعت اتنی ہے کہ وہ پوری کائنات پر...
جی اس دنیاوی قبر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی زندگی حاصل نہیں ۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت الفردوس (اعلٰی علیین) میں روحانی برزخی حیات کے ساتھ زندہ ہیں ۔۔ اور یہ بات نصوصِ قطعی سے ثابت ہے ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی سماعِ موتٰی کے منکر تھے
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں ھلاک ھونے والوں کو خطاب فرمایا کہ:
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے روز بدر قریش کے چوبیس سربرآوردہ اشخاص کو...
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی سماعِ موتٰی کے منکر تھے
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں ھلاک ھونے والوں کو خطاب فرمایا کہ:
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے روز بدر قریش کے چوبیس سربرآوردہ اشخاص کو...
- حضرت عائشہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حجرہ مبارک میں دفن کے بعد پردہ کر کے جاتی تھیں کہ انہیں عمر سے حیا آتی ہے۔جبکہ ان کے دفن سے پہلے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دفن تھے تب وہ پردہ نہیں کرتی تھیں۔
- دوسری حدیث کی جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دفن کرنے لگے تو قبر...
ہمارا عقیدہ سماعِ موتٰی کے بارے میں: "قدرت کا اصول، ضابظہ اور قانون ہے کہ جو شخص اس دنیا سے چلا گیا اس کا کسی قسم کا رابطہ اس دنیا سے قائم نہیں رہتا،کوئی مردہ دنیا والوں کا کلام ہر وقت نہیں سن سکتا۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو سنوا دے وہ پر چیز پہ قادر ہے لیکن یہ خرقِ عادت ہے قانون نہیں"
آیت نمبر 1...
جی ہاں مجھے بھی لگ رہا ہے کہ غلطی کا شبہ ہے ا س میں ۔۔ کی جن حضرات کا نام ساتھ لکھا ہے اس میں شاید غلطی ہے لیکن کتابوں کے حوالہ جات میرے خیال میں درست ہیں ۔
مجھے بھی معلومات چاہیں اور اس حدیث کی صحت کے بارے میں ۔
اور بات بالکل درست ہے کہ جب صحت اس حدیث کی قابلِ استدلال والی نہیں ہے تو شرح کی کیا ضرورت ہے۔کیونکہ کہ بابِ عقائد میں نصِ قطعیات چلتی ہیں قرآن یا پھر صحیح حدیثِ متواترہ باق سب کا شمار ظنیات میں ہوتا ہے جو عقیدے پر پیش نہیں کی جا سکتیں ۔
میرے علم کے مطابق ا: اس روایت کا راوی حاکم ہے جو کہ کٹڑ رافضی شیعہ تھا۔
اسے امام ابن حجر عسقلانی نے شیعہ رافضی اور متروک الحدیث کہا۔ لسان المیزان جلد 5 صفحہ 223
اسے امام ذھبی بھی شیعہ اور راوفضی مانتے ہیں ۔ میزان الاعتدلال جلد 2 صفحہ 402
مگر میں نے یہ کہیں پڑھا ہے ۔۔۔
باقی اللہ...
حاضر و ناظر کی تعریف سب سے پہلے :
ان دونوں الفاظ کا مطلب ہے " موجود " اور "دیکھنے والا" جب دونوں کو ملا کر استعمال کیا جائے گا تو مراد ہو گی وہ ذات جو ساری کائنات کو بیک وقت محیط کیئے ہوئے ہے کائنات کا ایک ایک ذرہ ، ایک ایک چیز ، تمام حالات اول تا آخر اسکی نظر میں ہیں اور یہ صفت صرف ایک ذات...
صھیح بخاری کتاب التفسیر حدیث نمبر: 4625
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 584
صحیح بخاری:جلد دوم:حدیث نمبر 1769
حدثنا أبو الوليد، حدثنا شعبة، أخبرنا المغيرة بن النعمان، قال سمعت سعيد بن جبير، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " يا أيها الناس إنكم...