الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
ویسے یہبات ضروری ہے کہ اس مسلے کی تنقیح کی جائے کیوں کہ اصل مسئلہ وسیلہ ہے اور غیر اللہکی طرف نسبت بھی مجازی ہے اس سے مراد وسیلہ ہی ہوتا ہے۔یہی بات اعلی حضرت سے لیکر تمام علمائے اہلسنت نے لکھی ہے انشا اللہ عنقریب ان کے حوالہجات بھی پیش کیئے جائیں گے
سبحان اللہ جناب دوبارہ کچھ عرض ہے اگر سمجھنے کی کوشش فرمائے
1۔واجب الوجود کا مطلب ہوتا ہے جس کا وجود ذاتی ہو اور وہ اپنے وجود کے قائم رکھنے میں کسی کا محتاج نہ ہو۔(یہ تعریف مبشر ربانی صاحب نے کی ہے)
اب اس میں دو باتیں ہیں ایک وجود ذاتی اور ایک صمدیت ۔تو واجب الوجود کی زات کی صفات بھی ذاتی اور...
دیکھیں یہ بات مجھے تسلیم ہے کہ عوام کا عقیدہ غلط ہوتا ہے اس کی اصلاح کی کوشش بھی کی جاتی ہے مگر دھڑ سے اس پر شرک کا فتوی نہیں لگے گا۔بالفرض اگر کوئی ڈائریکٹ کے عقیدے سے مانگے مگر کیونکہ وہ عطائی مان رہا ہے یہ چیز حرام یا لزوم کفر تو ہو سکتی ہے مگر شرک نہیں
قرآن میں نسبت مجازی کی جب مثال آ گئی تو پھر ادھر ادھرکی باتیں کیا معنی؟یہ کہنا کہ حضرت عمر کے نزدیک فوت شدہ کا وسیلہ جائز نہیں اس پر حدیث کے کونسے الفاظ دلالت کرتے ہیں۔اگلی بات حضرت ربیعہ سے حضور کا کہنا سل ربیعہ مانگ کیا مانگتا ہے اور انہوں نے جنت مانگی اب یہ نسبت مجازی ہے کہ نہیں جنت دینی...
بحث یہ ہے کہ معیار الوہیت کیا ہے؟ہمارے نزدیک مدد کرنا معیار الوہیت نہیں مدد گار مجازی ہو سکتا ہے۔مگر فرق یہ ہے کہ
اللہ مددگار حقیقی زاتی اور اس کی مدد لامحدود جبکہ انبیا کی مدد عطائی ،مجازی،اور محدود۔اگلی بات مدد شرک تب ہوگی جب کسی کو مستقل بالذات سمجھ کر پکارا جائے اور مشرکین یا عیسائی وغیرہ...
جناب بہت دیر کی مہربان آتے آتے میرے پیپرز ہیں ان سے فارغ ہو کر انشا اللہ بحث کا آغاز کریں گے۔فی الحال کوئی نہیں آگے بحث شروع کریں کچھ نہ کچھ حصہ میں بھی ڈالتا رہوں گا تفصیلا گفتگو 11 تاریخ سے ہوگی
باقی عامر صاحب نے جو کچھ شیئر کیا ہے وہ سب خرافات عوام ہے جس کا رد خود علمائے اہلسنت نے بھی کیا ہے ۔باقی اس تھریڈ کے اندر ہم نے قرآن بھی پیش کیا ہے اور حدیث بھی اگر ان پر کسی کو اعتراض ہے تو کرے ۔اگر کسی کی سند پر بات کرنی ہے تو کرے۔انشا اللہ ہم حاضر ہیں۔
یعنی آپ لوگوں کے نزدیک ماڈل بنا کر توڑنا تو گستاخی ہے مگر گبند خضری کو توڑنا یا مزرات صحابہ کو گرانا گستاخی نہیں واہ نجدیوں کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا۔اور جناب کسی بھی عالم کی کتاب بطور دلیل پیش نہیں کی جاتی بلکہ بطور الزام پیش کی جاتی ہے۔
اللہ کا قرآن کہتا ہے کہ جبرئیل نے کہا حضرت مر یم کو میں تجھے بیٹا دینے آیا ہوں اب مفسریں نے یہاں تصریح کی کہ یہ نسبت مجازی ہے دینے والا اللہ ہے کیوں کے وہ وسیلہ تھے اس لئے ان کی طرف نسبت کی گئی امید ہے کہ بات سمجھ آ گئی ہو گی۔اور ایک نہیں بلکہ بہت سی کتابوں میں اسی نظریے کی علما نے تصریح کی...
جناب عامر یونس صاحب ہم نے کوئی شریعت سازی نہیں کی۔عید میلاد کی اصل ثابت ہے اور انداز بدلتے رہتے ہیں اور ہم نے اس فارم پر موجود تھریڈ میں بڑی تفصیل سے بحث کی ہے جو اب تک آپ لوگوں پر ادھار ہے۔