الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
تقلید کے متوالوں سے گزارش ہے کہ یہ اصول انھوں نے کیوں بنایا ہے ؟ کیا یہ شریعت کے منافی نہیں ہے ؟ کیا یہ لوگ اس فقہ کو اب بھی قرآن و حدیث کا نچوڑ قرار دیں گے ؟ کیا یہ اصول احادیث رسول سے کھلی بغاوت نہیں ہےؕ؟
اپنے اس اصول کے تحت انھوں نے بہت سی ان احادیث کو رد کر دیا ہے جن کے راوی حضرت ابو ہریرہ ، حضرت انس ،سلمان فارسی ،حضرت بلال یا جابر ابن سمرہ ہیں اسی طرح انھوں نے صحیح بخاری میں حضرت انس سے مروی یہ حدیث رد کر دی ہے کہ کچھ لوگ مدینہ منورہ آے لیکن انہیں وہاں کی آب و ہوا راس نہ آئی اور ان کے پیٹ...
میں اب تک یہ دعوی نہین کیا ہے میں تو طالب علم ہوں اور شاید عمر میں بھی آپ سے چھوٹا ہوں اس لیے ترجمہ آپ ہی کریں مجھ جیسے طالب علم سے نہ کروائیں جزاک اللہ
فقہ حنفی کو ماننے والے خواص و عوام کی حالت یہ ہے کہ جب کسی صحابی کا فتوٰ ی یا قول امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کے موافق ہو تو اُ س کی تعریف و توصیف میں زمین وآسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں اور اگر مخالف ہو تو غیر فقیہ و غیر مجتہد اور اعرابی کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ اِ س لئے حنفیوں نے یہ اصول بنایا...
اس طرح کی واضح اور دو ٹوک بات کرو :وان الحکم والفتیا بالقول المرجوح جہل و خرق لا جماع
اور یہ کہ قاضی کا حکم اور مفتی کا فتویٰ دینا مرجوح قول پر جہالت ہے اور اجماع کا پھاڑنا ہے یعنی حرام اور باطل ہے (در مختار ج ۱ /ص۱۴
کیا اس میں شک کی کوئی گنجائش باقی ہے؟؟؟
جناب تقلید کی وجہ سے آپ کے علم کو زنگ...