الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
عہد رسالت کے حوالے سے متعدد اقسام کے کھیل کود اور مختلف تفریحات کا پتا چلتا ہے اور ان کا ذکر بہت زیادہ روایات میں ملتا ہے ان میں سے چند معروف کا ذکر سطور ذیل میں کیا جائے گا ان میں سے کچھ حربی کھیل ہیں جو صرف مرد حضرات کھیلتے تھے بچوں کے لیے الگ مردانہ قسم کے کھیل کود تھے بعض روایات میں لڑکوں...
ذ) اسٹیج ڈرامہ: موجودہ زمانے میں جو ”اسٹیج شو“ کے نام سے ڈرامے مروّج ہیں، وہ مفاسد سے پُرہوتے ہیں۔ اس لیے ممنوع ہیں۔ البتہ مدارس میں منعقد ہونے والے مکالمے، محادثے بالعموم اصلاحی تذکیری ہوتے ہیں اور مذکورہ مفاسد سے پاک ہوتے ہیں؛ اس لیے ان کی گنجائش ہے۔ تمام تفریحات اور کھیل کود میں...
د) تعلیم وتذکیر کے لیے فلموں کا استعمال: فلم درحقیقت عکس بندی کا نام ہے۔ یہ عکس بندی جاندارچیزوں کی بھی ہوتی ہے اور بے جان چیزوں کی بھی۔ کسی بھی جاندار کی تصویر کھینچنا اور کھینچوانا کسی حال میں بھی درست نہیں ہے۔ خواہ ہاتھ کے ذریعہ ہو، یا قلم سے یا کیمرہ کے ذریعہ ہو یا پریس پر چھاپ کر۔...
معلوم ہوا کہ موجودہ دور میں مروّج کھیل مثلاً: ہاکی، فٹ بال، والی بال، ٹینس، بیڈ منٹن، کشتی، کرکٹ کی بعض شکلیں وغیرہ، جس میں بھرپور ورزش کا امکان ہوتا ہے، فی نفسہ ان کاکھیل درست ہے؛ لیکن چوں کہ عام طور پر ان کھیلوں میں اور ان کے لیے منعقد ہونے والے مقابلوں میں مندرجہ ذیل خرابیاں درآئی ہیں: (۱)...
ت) بل فائٹنگ : اسی طرح بیلوں کے ساتھ کشتی جس میں تربیت یافتہ مسلح افراد اپنی مہارت سے بیل کو موت کے گھاٹ اتاردیتے ہیں، یہ بھی حرام ہے؛ کیوں کہ اس میں جانور کو ایذا پہنچاکر اور جسم میں نیزے بھونک کر قتل کیاجاتا ہے اور بعض اوقات بیل بھی مدِمقابل انسان کو ختم کردیتا ہے یہ عمل کسی بھی حال...
پ) باکسنگ، فائٹنگ: موجودہ زمانہ میں باکسنگ مُکّا بازی، فری اسٹائل فائٹنگ کے جو مقابلے منعقد ہوتے ہیں، وہ شریعتِ اسلامی میں بالکل حرام ہیں، اسے جائز ورزش کا نام نہیں دیا جاسکتا، ایسے باکسنگ مقابلوں کو ٹی․وی پر براہِ راست نشر کرنا بھی جائز نہیں؛ کیوں کہ اس میں فریق مقابل کو شدید جسمانی...
ب) تاش بازی: یہ کھیل بھی شرعی نقطئہ نظر سے ممنوع ہے؛ اس لیے کہ تاش عام طور پر باتصویر ہوا کرتے ہیں۔ تاش کھیلنا عام طور پر فاسق وفاجر لوگوں کا معمول ہے۔ بالعموم جوا اور قمار کی شمولیت ہوتی ہے۔ اس کھیل میں تفریح کی جگہ پرالٹا ذہنی تکان ہوتی ہے۔ اگر جوے کے بغیر بھی کھیلاجائے، تو شطرنج کے...
البتہ موجودہ زمانے کے چند معروف کھیلوں کے حوالے سے مقاصدشریعت اور اھداف شریعت کی طرف دیکھا جائے گا اور بنیادی اصول و ضوابط کو مدنظر رکھا جائے گا
ا) مثلا پتنگ بازی جوکہ کبوتر بازی کے حکم کے ذیل میں آتی ہے یعنی ناجائز۔ اس میں بھی اور ناجائز کھیلوں کی طرح متعدد مفاسد ومضرتیں پائی...
۴۔ ناپسندیدہ کھیل: ان کے علاوہ جو کھیل کود رائج ہیں ان کی شرعی حیثیت کے بارے میں یہ تفصیل ہے کہ جن کھیلوں کی ممانعت کی گئی ہے، وہ سب ناجائز ہیں: جیسے نرد، شطرنج، کبوتربازی، اور جانوروں کو لڑانا۔
۳۔ پسندیدہ کھیل: تیراندازی اور نشانہ بازی، سواری کی مشق، دوڑلگانا، بیوی کے ساتھ بے تکلّفانہ کھیل، نیزہ بازی، تیراکی، کُشتی اورکبڈی۔ مذکورہ تمام کھیل چوں کہ احادیث وآثار سے ثابت ہیں؛ اس لیے ان کے جواز؛ بلکہ استحباب میں کوئی کلام نہیں ہوسکتا، اورکبڈی کا حکم بھی کشتی کی طرح ہے۔
۲۔ لباس وپوشاک سے متعلق: لباس اور پوشاک کے سلسلے میں یہ ضروری ہے کہ کھلاڑی کھیل کے درمیان ایسا لباس پہنے، جو ساتر ہو یعنی جسم کا وہ حصہ چھپ جائے، جن کا چھپانا واجب ہے، یعنی مرد کے لیے ناف سے لے کر گھٹنے تک اور عورت کے لیے ہتھیلی اور چہرہ کو چھوڑ کر پورا جسم ستر میں داخل ہے، ان کا ڈھکا...
۱۔ اصولی ہدایت: اسلام انسان کو ایک بامقصد زندگی گزارنے کی ہدایت دیتا ہے اور کھیل وکود اور لہوولعب پرمشتمل زندگی کی مذمت کرتا ہے۔ بامقصد زندگی جس کی اساس ہمہ وقت اللہ کی خوشنودی کی جستجو، تعمیر آخرت کی فکر مندی اور لہولعب سے اِعراض ہو؛ وہ زندگی اہل ایمان کی پہچان ہے اور جس کی بنیاد...
اسی لیے اسلام نے تفریح اور کھیل میں سے صرف انھیں کی اجازت دی ہے جو جسمانی یا روحانی فوائد کے حامل ہوںاورجو محض تضیعِ اوقات کا ذریعہ ہوں، فکرِ آخرت سے غافل کرنے والے ہوںیا دوسروں کے ساتھ دھوکہ فریب یا ضررسانی پر مبنی ہوں،ان کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلامی نظام کوئی خشک نظام نہیں؛ جس میں تفریحِ طبع...
بہ تکلف قہقہہ لگانے کی مجلسوں میں شرکت:
ہنسی کے مواقع پر ہنسنا اور مسکرانا بھی انسانی فطرت کا تقاضا ہے اور بلا موقع اور محل تکلف سے ہنسنا اور قہقہہ لگانا فطرت کے خلاف عمل ہے۔ موجودہ دور میں ڈاکٹروں کی رائے میں اگرچہ ہنسنا انسانی صحت کی برقراری اور اس کو چست ونشیط رکھنے کے لیے معاون فعل ہے، اس...
لطیفہ گوئی اور مزاح کو ذریعہٴ معاش بنانا: کبھی کبھار لطیفہ کہہ دینے یا مزاح اور تفریح کرلینے کی تو گنجائش ہے؛ لیکن مستقل لطیفہ گوئی کرنا اور کو ذریعہٴ معاش بنالینا، یہ اس مقصد حیات کے برخلاف ہے، جو اسلام افراد اورمعاشرے میں پیدا کرنا چاہتا ہے اور مستقل لطیفہ گوئی اور مزاح وتفریح میں مشغول رہنا...
ذا ایسی مجالس کا انعقاد کراہت سے خالی نہیں اور اگر عملی طور پر ایسی مجالس میں محرمات وناجائز امور کا ارتکاب ہو؛ تو اس کے ناجائز ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا ہے۔ حضرت حسن سے روایت ہے کہ حضرت عثمان بن ابی العاص کسی ختنہ میں بلائے گئے، آپ نے انکار فرمادیا، کسی نے وجہ دریافت کی؛ تو آپ نے فرمایا...
مسلمانوں کو تکلیف دینے، ان کا مذاق اڑانے، ان کی تحقیر کے سلسلے میں سخت ممانعت احادیث میں وارد ہوئی ہے۔ ارشاد نبوی ہے: اَلْمُسْلِمُ أخُو الْمُسْلِمِ لاَ یَظْلِمُہ وَلاَ یَخْذُلُہ وَلاَ یُحَقِّرُہ․ (صحیح مسلم) ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے،اس پر کوئی ظلم وزیادتی نہ کرے۔ اس کو بے مدد نہ چھوڑے...
مزاح اور زندہ دلی وخوش طبعی انسانی زندگی کا ایک خوش کن عنصر ہے، اور جس طرح اس کا حد سے متجاوز ہوجانا نازیبا اور مضر ہے،اسی طرح اس لطیف احساس سے آدمی کا بالکل خالی ہونا بھی ایک نقص ہے۔ جو بسا اوقات انسان کو خشک محض بنادیتی ہے۔ بسا اوقات ہمجولیوں اور ہمنشینوں اور ماتحتوں کے ساتھ لطیف ظرافت و مزاح...
اسلام کا تصور تفریح کی اساس قرآنی تعلیمات اور احادیثِ نبوی پر ہے۔ جس میں حلال و حرام، شرم و حیا اور اخلاقی پابندیوں کو اہم مقام حاصل ہے۔ ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی نمونہ ہے۔آپ جہاں ایک طرف اتنی نمازیں پڑھتے تھے کہ قدمِ مبارک پرورم آجاتا تھا وہیں آپ صحابہ کرام سے ہنسی...
اسلام صرف عقائد کے باب میں ہی میانہ روی یا اعتدال پرستی کا قائل نہیں ہے بلکہ تمام شعبہ حیات میں اس کا یہی میزہ ہے اور اس کی دوسری سب سے بڑی خوبی اس کے کسی بھی ضابطے کا تعلق غیر فطری یا غیر عقلی تصورات سے نہیں یعنی کہیں بھی اس نے انسان کی جائز ضروریات پر کوئی قدغن نہیں لگائی البتہ کچھ اصول و...