الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
11 المغني في أصول الفقه - جلال الدين عمر بن محمد الخبازي (المتوفى: 691هـ)
ثم الراوي المعروف بالفقه و الاجتهاد، كالخلفاء الراشدین و العبادلۃ، خبره حجۃ یترك به القیاس، و كذا المعروف بالعدالۃ و الضبط دون الفقه، كأبي هریرۃ و أنس بن مالك رضي الله عنهما فیما وافق القیاس،
و فیما خالف، إن قبلته الأئمۃ و...
بعض اوقات کوئی بات مرجوح نہیں ہوتی لیکن کہنے کا انداز درست نہیں ہوتا اس وجہ سے غلط بن جاتی ہے۔ اور بعض اوقات کوئی بات جزوی طور پر مرجوح یا معارض ہوتی ہے۔
حنفی بھائی کئی ان باتوں پر بھی بوجوہ نکیر نہیں کرتے جو اہل حدیث بھائی ان کے بارے میں غلط فرما رہے ہوتے ہیں۔ بس اکثر خاموش رہتے ہیں۔
میں اس بحث کا کافی حصہ خاموشی سے پڑھتا رہا ہوں اور یہ اکثر تھریڈز میں کرتا ہوں تاکہ علم میں اضافہ رہے۔ اس تھریڈمیں فریقین کا اصل مقصد ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہی لگتا ہے۔
بہرحال فقہ حنفی نہ تو بھٹی صاحب کی آراء کا نام ہے اور نہ میری یا کسی اور کی۔ جب فقہ حنفی کے بارے میں کچھ کہنے لگیں تو ذرا ان...
محترم @عبدالرحمن بھٹی بهائی۔ زبیر علی زئیؒ سے اختلاف رائے اپنی جگہ لیکن وہ عالم تھے۔ ہم زبیر علی زئی رحمہ اللہ سے اختلاف رائے کر سکتے ہیں، ان کی رائے کو تشدد یا تعصب مذہبی قرار دے سکتے ہیں۔ لیکن یہ سب قدیم علماء سے جاری ہے۔
ان کے بارے میں غلط الفاظ یا غلط طرز تخاطب اپنانا کم از کم طلبہ کو زیب...
پہلے محترم علماء کرام @اسحاق سلفی صاحب اور @خضر حیات صاحب یہ بتا دیں کہ کیا امجد صابری کی ہم تکفیر کر سکتے ہیں؟ اسے کافر کہہ سکتے ہیں؟
عامر بھائی! علماء کرام کے سامنے ہم طالب علموں سے کچھ کیوں پوچھتے ہیں؟
07 أصول السرخسي - محمد بن أحمد بن أبي سهل شمس الأئمة السرخسي (المتوفى: 483هـ)
علامہ سرخسیؒ نے اولاً راویوں کی دو قسمیں کی ہیں: معروف اور مجہول۔ پھر معروف کی دو قسمیں کی ہیں۔ معروف بالفقہ والروایۃ اور معروف بالروایۃ غیر معروف بالفقہ۔
قَالَ رَضِي الله عَنهُ اعْلَم بِأَن الروَاة قِسْمَانِ مَعْرُوف...
ہم نے اوپر کلام میں لفظ "قیاس الاصول" کا استعمال کیا ہے لیکن فقہاء و اصولیین کی کتب کو دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس لفظ کا استعمال دو معنی میں ہوا ہے۔ قیاس قسم ثانی کے معنی میں جیسے کہ اوپر "التجرید" کے حوالے میں موجود ہے اور جیسا کہ اس کی صراحت علامہ ظفر احمد عثمانیؒ نے اعلاء السنن...
بھائی جان یہ میں نے اس سے اخذ کیا ہے کہ وہ اپنے دیوتاؤں، بادشاہوں اور معززین کی مناتے تھے۔ تو آج کل جو لوگ اس طرح صوفیاء وغیرہ کی برتھ ڈے یا ڈیتھ ڈے مناتے ہیں اسے میلاد یا عرس کہتے ہیں۔
میں نے یہ کب کہا ہے؟
آپ رضا میاں بھائی کی انگریزی عبارت پڑھیے۔ میں نے اس میں ایک نکتہ کی وضاحت کی ہے۔
یعنی اس زمانے میں جسے سالگرہ کہا جا رہا ہے وہ آج کی سالگرہ کی طرح نہیں ہوتی تھی بلکہ جس طرح آج کل عرس اور میلاد ہوتا ہے اس طرح وہ لوگ اپنے زمانے میں مناتے تھے۔ تاکہ اس کے ذریعے وہ بدروحوں سے...
السلام علیكم
بادشاہوں، دیوتاؤں اور معززین کی سالگرہ وہ ہوتی ہے جسے ہمارے عرف میں میلاد یا عرس کہا جاتا ہے۔ اس کا عوام کی سالگرہ سے تعلق نہیں ہے۔
واللہ اعلم
محدث علامہ احمد علی سہارنپوریؒ علمائے دیوبند کے اساتذہ میں سے ہیں۔ بارہویں صدی ہجری کے محقق محدثین میں ان کا شمار ہوتا ہے اور شاہ اسحاقؒ کے شاگرد ہیں۔ آپ سے صحاح ستہ کا درس حاصل کیا۔ ہندوستان میں انہوں نے "مطبع احمدی" کے نام سے پریس لگایا اور کتب حدیث کی دقیق تحقیق و تصحیح کے بعد ان کو شائع کیا۔...
بعض علمائے احناف جیسے امام عیسی بن ابانؒ اور امام جصاص رازیؒ نے یہ اصول اخذ کیا ہے کہ احناف کے نزدیک اگر راوی حفظ و عدالت میں تو معروف ہو لیکن فقہ میں غیر معروف ہو تو اس کی روایت پر قیاس کو ترجیح دی جائے گی۔ اس سلسلے میں امام ابو حنیفہؒ کا طرز اوپر گزر چکا ہے کہ آپ قیاس معروف کو حدیث پر ترجیح...
5: خبر واحد کو رد کرنے کا حکم:
مذکورہ بالا روایات کو دیکھتے ہوئے درست یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیاس کی قسم اول کے ذریعے خبر واحد کو رد نہیں کیا جا سکتا لیکن قیاس کی قسم ثانی سے اگر خبر واحد کا تعارض ہو جائے تو اسے رد کر دیا جائے گا۔
رد کرنے کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ اس روایت کو بالکلیہ ترک کر دیا...
3: خبر واحد کو کتاب و سنت کی وجہ سے رد کرنا:
اس عنوان میں اور اوپر مذکور قیاس کی قسم ثانی میں ذرا سا فرق ہے۔ قیاس قسم ثانی (جسے قیاس الاصول بھی کہا جاتا ہے) مختلف نصوص سے حاصل کردہ ایک اصول اور قاعدہ ہوتا ہے جس کے خلاف خبر واحد آتی ہے۔ جب کہ یہاں ہم ان مواقع پر بات کریں گے جہاں خبر واحد صراحتاً...
خبر واحد اور قیاس میں تعارض کی صورت میں امام مدینہ مالک بن انسؒ کا اصول مندرجہ ذیل ہے:
و مذهب مالك رحمه الله أن خبر الواحد إذا اجتمع مع القیاس، و لم یمكن استعمالهما جمیعا، قدم القیاس، والحجۃ له أن خبر الواحد لما جاز علیه النسخ و الغلط و السهو والكذب و التخصیص و لم یجز علی القیاس من الفساد إلا...