الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔
مجھے ایک تحقیق کے سلسلے میں کتاب حكم تصوير المشايخ بالفيديو في ضوء الحقائق العلمية الحديثة کی سخت ضرورت ہے۔
یہ کتاب الرد علی القرضاوی و الجدیع و العلوانی کا حصہ ہے لیکن الرد علی القرضاوی و الجدیع کے نام سے دوسری کتاب بھی ملتی ہے اور نیٹ پر وہی ہے۔
میں نے نیٹ پر...
میں نے آپ سے صرف آپ کا مسلک پوچھا ہے۔ سانپ کیوں سونگھ گیا؟
اگر آپ کو ضرورت محسوس نہیں ہوتی مسلک بیان کرنے کی تو کسی اور بھائی کو کہہ دیں۔ ساری آپ کی ہی جماعت یہاں جمع ہے۔
ورنہ آپ کا کیا خیال ہے؟ مجھے کون سی اہم ضرورت پیش آئی ہے کہ آپ کے سوال کا جواب دوں؟؟
@خضر حیات بھائی
ایک بار پھر۔ اب بھی...
ہاتھ کنگن کو آرسی کیا
ناظم آباد نمبر تین بلاک ایچ۔ تشریف لائیے۔
پہل یہاں سے کریں گے اور پھر پورے کراچی میں مختلف مساجد دکھاؤں گا ان شاء اللہ جہاں میں اس چیز کا مشاہدہ کر چکا ہوں۔
لیکن اس طرح تو بدکلامی کرنے والا شخص دوبارہ کر لے گا جیسا کہ یہ بھائی کرتے رہتے ہیں۔
اور اگر دو چار جمع ہو گئے تو انتظامیہ سارا دن ایڈیٹنگ میں ہی لگی رہے گی۔ اس کا بھی کوئی حل نکالیں۔
آپ پہلے صرف اپنا مسلک اس بارے میں بتا دیجیے تاکہ دونوں فریقوں کا مسلک واضح ہو۔ دلیل بے شک نہیں دیجیے گا۔
پھر میں آپ کو دلیل بتا دوں گا اور آپ سے اس کے بعد آپ کے مسلک پر دلیل مانگوں گا۔
میرے محترم یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ہماری غلط فہمی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ آپ کی غلط فہمی ہو۔
اجمال کی توضیح تو حدیث سے ہوتی ہے، تبیین و تشریح بھی ہوتی ہے لیکن عموم میں تخصیص یا استثنا کے بارے میں میں نے اوپر عرض کر دیا ہے جو شاید آپ کی نظر سے نہیں گزرا۔
اگر آپ اس کا رد کر دیں تو واضح ہو جائے...
محترم بھائی۔
تخصیص یا زیادتی کا مطلب ہوتا ہے کسی ایک چیز میں آئے ہوئے اطلاق یا عموم کو ختم کر کے اس میں قید پیدا کرنا۔
اب آپ بتائیں۔ اطلاق آئے تواترا اور قید آئے خبر واحد سے یا اطلاق آئے سب کے لیے عموما تواتر سے اور ایک شخص کا استثنا ہو جائے خبر واحد سے یعنی اس کے بارے میں صرف ایک شخص یہ کہے کہ...
محترم بھائی۔ میں نے اوپر حوالہ بھی لکھا ہے۔ کیا آپ نے وہ دیکھا ہے؟
اگر آپ کو میری بات سے اتفاق نہیں ہے تو آپ اپنی بات کی تائید میں کوئی حوالہ دے دیجیے کہ غد کی ابتدا طلوع شمس سے نہیں بلکہ فلاں وقت سے ہوتی ہے۔ ورنہ بلا حوالہ تو اب ظاہر ہے کچھ نہیں ہو سکتا۔
اور اللیلۃ کے بارے میں آپ کی بات درست...
چچ چچ چچ۔ میرے خیال میں ابن تیمیہ، ذہبی، ابن حجر وغیرہ کے جو اقوال میں نے آپ کو "بتائے" تھے وہ بھول گئے ہیں۔
چلیں خیر یہ موضوع سے متعلق نہیں ہے۔ پھر کبھی اس پر بات کریں گے۔
اگر نعیم بھائی نے اسے علمی ریٹنگ نہ دی ہوتی تو میں اس کا جواب نہ دیتا۔ حیرت ہے۔ اس میں علمی کیا چیز ہے؟ خیر پسند اپنی اپنی۔
خبر واحد کے قطعی الثبوت نہ ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے رواۃ اگرچہ ثقہ ہیں اور یہ درست ہے لیکن پھر بھی اس میں یہ امکان بھی موجود ہے کہ کسی راوی سے غلطی ہو گئی ہو۔ اس...
محترم بھائی آپ کی پہلی بات کا جواب یہ ہے کہ میں نے عربی لفظ "غد" کے بارے میں عرض کیا ہے کہ اس کا اطلاق طلوع صبح پر ہوتا ہے۔ اس سے پہلے کے وقت کو غد نہیں بلکہ "اللیلۃ" کہا جاتا ہے۔ اس لیے یہ لفظ استعمال کرنا عربیت کے لحاظ سے تو درست ہے۔
دوسری بات کے بارے میں عرض یہ ہے کہ اوپر فتاوی کبری کے مطابق...
میرے بھائی یہی میں نے بھی عرض کیا ہے کہ اگر ایسا سمجھا جائے تو یہ بدعت ہے۔
ہر کوئی اپنے سامنے موجود احوال کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔ میں کراچی میں رہتا ہوں اور میرے ارد گرد جو لوگ ہیں وہ یہ نہیں سمجھتے نہ کرتے ہیں۔ امام رکوع میں ہو تو جلدی سے تحریمہ کہہ کر شریک ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح روزے کی نیت کے...
جزاک اللہ خیرا یا اخی۔
یہ نظریہ اپنے کمال کے ساتھ درحقیقت اباضیہ کا ہے اور علماء امت نے اس پر سختی سے رد کیا ہے۔
عند الاحناف مطلقا روایت کو رد نہیں کیا جاتا بلکہ ہر ممکن تطبیق کی جاتی ہے۔ اس کی مثالیں بے شمار ہیں جیسے کتاب اللہ سے فرضیت اور خبر واحد سے وجوب ثابت کرنا۔
البتہ جب یہ تطبیق بھی ممکن...
اوپر دئیے گئے حوالہ جات ڈھونڈنے میں تو کافی وقت لگ جائے گا۔ اگر ممکن ہو تو عربی عبارات بھی لکھ دیجیے تا کہ میں خود دیکھ سکوں۔
باقی فتاوی کبری میں علماء کی دونوں قسم کی آراء واضح ہیں۔ خود ہی پڑھ لیجیے۔
ویسے عامر بھائی ایک عجیب سی بات ہے۔
اس سائٹ کے اردو فتوی میں یہ لکھا ہے:۔
"اورنیت کا تعلق دل ہے جوکہ ایک قلبی عمل ہے اس کا زبان سے کوئي تعلق نہیں اس لیے مسلمان کو دل سے ارادہ کرنا چاہیے کہ وہ کل روزہ رکھےگا ، اس کے لیے مشروع نہیں کہ وہ زبان سے یہ کہتا رہے میں روزے کی نیت کرتا ہوں یا میں حقیقتا...
اس میں باقی سب باتیں درست ہیں اور خود میں بھی زبان سے نیت نہیں کرتا۔ البتہ زبان سے نیت کرنے کو بدعت کہنا درست نہیں۔ اور اس کی وجہ اوپر بیان کر چکا ہوں کیوں کہ اس کو عبادت یا ثواب نہیں سمجھا جاتا۔ بدعت کی تعریف پر پورا اترنا چاہیے۔
ہاں اگر اسے مشروع یا ضروری یا ثواب سمجھا جائے تو یہ بدعت ہو جائے...
محترم بهائی!
میں ویڈیو تو نہیں دیكھ سکتا کیوں کہ اس کے لیے وقت بھی چاہیے ہوتا ہے اور ویڈیو کی باتوں کو نوٹ بھی کرنا پڑتا ہے اور یہ مشکل ہے۔
البتہ جو بات آپ کو معلوم کرنی ہو وہ لکھ کر معلوم کر لیجیے۔
غد کا معنی ہے آنے والا کل۔ اور اس کی ابتدا صبح طلوع ہونے سے ہوتی ہے۔
فمثال الإضافة إلى الزمان...